آواز دوست
محمد صديق بخاری
گستاخی اور بدتميزی كا سفر
وہ ايك زميندار گھرانے كی سگھڑ خاتون تھيں –كثير العيال ہونے كے باوجودانہوں نے بھر پور كوشش كی كہ ان كے سب بچوں كی تعليم و تربيت بہت اچھی ہو اور وہ اس ميں كافی حد تك كامياب بھی رہيں-وہ يقيناً سو فيصد كامياب قرار پاتيں اگر ان كی دوسرے نمبر كی بيٹی ان كی تربيت پہ پانی نہ پھيرتی – يہ بيٹی بچپن ہی سے باقی سب سے الگ تھی- وہ نہ صرف دوسرے بچوں سے لڑنےكی ماہرتھی بلكہ اسے دوسروں سے چھين كر كھانے ميں بھی مزہ آتا تھا - گھر ميں دھونس دھاندلی سے كام لينے ميں بھی اسے كوئی عار نہ تھی والدين سمجھے كہ ابھی بچپن ہے، بڑی ہو گی تو مزاج ميں ٹھہراؤ آ جائے گا مگرايسانہ ہو سكا پھر انہوں نے سوچا كہ شادی ہو گی تو بہتری آ جائے گی چنانچہ شادی كر دی گئی مگر رزلٹ وہی ڈھاك كے تين پات- اس كا شوہر بہت ہی دھيمے مزاج كا ايك شريف النفس انسان تھا-پيشے كے اعتبار سے ٹيچر اور مزاجاً شاعر- يعنی دونوں كے مزاج ميں بعد المشرقين تھا- بات بے بات پہ شوہر كو ڈانٹنا اور اس سے بدتميزی كرنا اس كا معمول تھا- ليكن وہ اللہ كا بندہ نہايت تحمل سے اس كے ساتھ نبھاہ كر تا رہا – اللہ نے اس جوڑے كو دو بيٹيوں سے نوازا جن كے درميان صرف دو سال كاوقفہ تھا- اس كا شوہر صرف بيوی نہيں بلكہ بيٹيوں كے بارے ميں بھی ايسا ہی نرم مزاج ، حليم اور برد بار تھا- ايك بار بڑی بيٹی نے ضد كی كہ اُ س نے تو وہی روٹی لينی ہے جو چھوٹی كو دے دی گئی تھی – جب ضد حد سے بڑھی توماں نے وہی روٹی نصف نصف بانٹ دی – بڑی كی ضد برقرار رہی كہ اس نے تو وہی روٹی لينی ہے اور لينی بھی ہے سالم حالت ميں – اس پہ ماں نے لكڑی اٹھائی كہ بيٹی كی خبر لوں اور باپ نے سوئی دھاگہ – باپ نے روٹی كے ان دونوں ٹكڑوں كو سی كر بيٹی كی فرمايش پوری كر دی- ايسا شخص ،ايسی بيوی اور بيٹيوں كے ساتھ بھلا كتنا عرصہ جی سكتا تھا چنانچہ وہی ہوا كہ جس كا ڈر تھا – وہ بھلا انسان شادی كے چند سال بعد ہی اللہ كو پيارا ہو گيا-
اُ س سگھڑ خاتون كی يہ تيز مزاج بيٹی ، دو بيٹيوں كا بوجھ ليے عين جوانی ميں بيوہ ہو گئی- اور پھر اپنی تمام تر تندی اورتلخی كے باوجود اس نے پہاڑ جيسی جوانی جس عزت ، عصمت اور وقار كے ساتھ گزاری ، وہ الگ سے ايك داستان ہے اور اميد ہے كہ اللہ كريم اسی مجاہدے كے صدقے اس كی بخشش كر دے گا-ماں نے بھرپوركوشش كی كہ بيٹی پھر سے شادی كر لے مگر اُس نے اِس خيال كو سختی سے رد كر ديا اور يہ تسليم كيا كہ جانے والے شوہر كی طرح كا، اب كہاں ملے گا---- ماں پھر ماں ہوتی ہے ، اس نے سوچا كہ اگر يہ شادی نہيں كرتی تو كم از كم كوئی ايسا بندوبست تو ہونا چاہيے كہ يہ مالی طور پر كسی كی محتاج نہ رہے - اس كے ليے اس نے سركاری ہيلتھ سنٹر ميں اسے مڈ وائفری كا كورس كروا ديا اور اللہ كا كرم ہوا كہ اسے وہاں سركاری جاب بھی مل گئی- اس طرح وہ سارا دن وہاں مصروف رہتی اور اكثر راتوں كو بھی اپنے كام كے لئے چلے جايا كرتی -يوں عملاً يہ ہوا كہ اس كی دو بيٹياں بھی اُس سگھڑ خاتون كے سپرد ہو كر رہ گئيں- اس كے ذمہ گھر كا كوئی كام نہ تھا مگر پھر بھی ذرا ذرا سی بات پہ وہ ماں كے سامنے زبان دراز كرتی اور بعض اوقات تو ماں كی گستاخی ميں بھی كوئی كسر اٹھا نہ ركھتی –
يہ كہانی بتانے والا بيان كرتا ہے كہ اس نے اكثر اپنے كانوں سے سنا كہ اُس كی ماں يعنی وہ سگھڑ خاتون اس كی گستاخيوں سے تنگ آ كر كہا كرتی كہ ديكھ لينا ايك دن آئے گا كہ تمہاری بيٹياں بھی تمہارے ساتھ ايسے ہی بد تميزی كيا كريں گی-اورپھر واقعتاً ايسے ہی ہوا كہ اس كی بيٹياں جوں ہی جوان ہو ئيں انہوں نے بھی وہی كام سنبھال ليا جو ماں كا تھا يعنی زبان درازی اور بدتميزی –
كم از كم چاليس برس اُ س نے سركاری ملازمت كر كے اور اپنا پرائيويٹ كام كر كے خوب پيسے كمائے اور سارے كے سارے اپنی دونوں بيٹيوں پہ لُٹائے مگر بيٹيوں كی طرف سے صلہ ملا تو كيا-- وہی بدتميزی اور گستاخی-اب اس ماں نے بھی اپنی بيٹيوں كو يہ كہنا شروع كر ديا كہ تمہار ی اولاد بھی تمہارے ساتھ يہی كيا كرے گی چنانچہ ايسے ہی ہوا – ان دونوں بيٹيوں كی شادی ہوئی تو دونوں كے ہاں جو اولاد پيدا ہو ئی، چاہے وہ لڑكے تھے يا لڑكياں ، ان كے ہاں ايك قدر مشترك تھی كہ وہ اولاد اپنی ماؤں كے ساتھ ايسے ہی بد تميزی كيا كرتی تھی جيسے يہ دونوں بيٹياں اپنی ماں كے ساتھ كرتی تھيں اور يا جيسے ان كی ماں ،ان لڑكيوں كی نانی سے كيا كرتی تھی-
مجھے كہانی سنانے والے چشم ديد گواہ نے بڑے ہی تاسف سے بيان كيا كہ اُ س نے اپنے سامنے تين نسلوںميں گستاخی اور بد تميزی كو منتقل ہوتے ديكھا ہے – ابھی آگے كہاں تك اس سفر نے جاری رہنا ہے ، يہ اللہ ہی جانتا ہے – پھر اس نے آنكھوں ميں آنسو ليے مجھ سے پوچھا كہ كيا گستاخی كے منتقل ہونے كايہ سفر ختم نہيں ہو سكتا – ميں نے عرض كيا بالكل ہو سكتا ہے بشرطيكہ" توبہ" كا بڑا مضبوط بيرئير لگا ديا جائے – ليكن ياد ركھنا كہ گستاخی ،بے ادبی اوربد تميزی متعدی بيماری كی طرح پھيلتی ہيں– اس ليے جتنا جلد ہو سكے توبہ كی اينٹی بائيوٹك لے لينی چاہيے اور وہ بھی ہيوی ڈوز ميں، ورنہ گستاخی اور بد تميزی متعدی سے موروثی بيماری بن كر كئی نسلوں تك سفر كيا كرتی ہے -