غزہ كی تازہ صورت حال - سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی

مصنف : نواز كمال

سلسلہ : عالم اسلام

شمارہ : ستمبر 2025

عالم اسلام

غزہ كی تازہ صورت حال

سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی

نواز كمال

بالآخر غزہ جنگ کا فیصلہ کن مرحلہ آ پہنچا ۔ ابھی تک تو اہلِ غزہ کی مشکیں کسی جارہی تھیں ۔ گاہے محاصرہ کرکے ۔ کبھی بھوک اور پیاس کو ہتھیار بنا کر ۔ کبھی بےدریغ آہن و آتش برسا کر ۔ کبھی اپنے بھائی، یعنی برادرانِ یوسف یا یوں کہیے کہ اہلِ عرب کی جانب سے قافلہء سرفروشاں سے اظہارِ لاتعلقی کرا کر ۔ کماں بدست حریف جان چکا کہ مسلم امہ ڈھلتی چھایا ہے، سب مایا ہے۔ اس قتل گاہ میں اب جتنی بھی دہائی مچے کوئی مدد کو نہ آئے گا ۔ اب چاہِ کنعاں میں یوسف کی صدا بےثمر ہی رہے گی ۔

ہم نے غزہ پہ لکھی گزشتہ تحریر میں عرض کیا تھا کہ صورت حال سے لگتا ہے کہ حما۔س کو خواہی نہ خواہی آخری اور جان توڑ معرکہ لڑنا ہی پڑے گا ۔ اس مرحلے کو ٹالنے کی اس نے حمیت بھری کوشش کی بھی ۔ پچھلی بار اس لئے مذاکرات کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی تھی کہ حماس چاہتی تھی کہ اسرائیلی فوجی غزہ کی سرحدوں تک پیچھے ہٹ جائیں ۔ مخصوص تعداد میں فلسطینی رہا کیے جائیں، بدلے میں کچھ زندہ قیدی اور کچھ لا شیں سپرد کی جائیں گی، مگر اس بار حما۔س اپنے مطالبے سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار ہے ۔ وہ اس بات پہ راضی ہے کہ غاصب افواج سرحدوں تک پیچھے نہ ہٹیں، بلکہ مرکزی علاقوں کے مضافات میں ہی رہیں ۔ دیگر شرائط میں بھی لچک دکھا رہی ہے مگر اژدھے کو معلوم ہے کہ بھرے پُرے عالمِ اسلام میں سرفروش اکیلے ہیں اور ایسا سنہری موقع پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔ قطر اور مصر مذاکرات کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں مگر اسرائیل نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ آئندہ مذاکرات کے لئے کوئی وفد نہیں بھیجا جائے گا ۔

اسرائیلی افواج اب غزہ پہ قبضے کی طرف بڑھ رہی ہیں ۔اگست کی ابتدا میں اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر میں طویل مشاورت کی گئی ۔ نیتن یاہو سارے غزہ پہ قبضے کی بات کر رہے تھے جبکہ چیف آف اسٹاف ایال زامیر اس منصوبے سے متفق نہيں تھے ۔ ان کے بقول غزہ پہ قبضے کے لئے دو لاکھ افواج ہونی چاہئیں ،جبکہ اسرائیل کے پلے اتنی کثیر سپاہ نہیں ہے ۔ بالآخر نیتن یاہو کے منصوبے ہی کو آنے بڑھانے پہ اتفاق کیا گیا ۔ اس بات پہ اتفاق کیا گیا کہ سب سے پہلے غزہ کے قلب غزہ سٹی پہ قبضہ کیا جائے ۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں چاہنے کے باوجود بھی ابھی تک صہیونی افواج داخل نہ ہوسکیں ۔ غزہ سٹی پہ قبضے کے لئے ترتیب دیے جانے والے آپریشن کا نام عربات جدعون 2 رکھا گیا ۔ طے یہ ہوا کہ غزہ سٹی کے شمال مشرق میں واقع جبالیا اور مشرق میں واقع حی الزیتون سے معرکے کا آغاز کیا جائے ۔اس فیصلہ کن نبرد آزمائی کے لئے پانچ ڈویژن فوج تیار کی جارہی ہے ۔ پانچ ڈویژن یعنی ساٹھ ہزار سپاہیوں پہ مشتمل بھاری بھرکم لشکر، جس کی مدد کے لئے بیس ہزار وہ افواج بھی ہوں گی جو پہلے سے میدانِ کارزار میں موجود ہیں ۔ یعنی اسی ہزار افواج ایک ننھی سی حما۔س کو گرانے کے لئے ، وہ حما۔س جو لڑتے لڑتے تھک چکی ہے ۔ جس کے بازو شل اور بدن زخموں سے گلزار ہے، مگر اپنی مٹی کے لئے مر مٹنے کے جذبے سے سرشار ہے ۔ شوقِ شہادت سے قلزمِ جذبات میں طغیانی ہے ۔ بس یہی ایک شے ہے جو دونوں لشکروں کے مابین فرق بن رہی ہے ۔

حما۔س کے بارے میں اسرائیل کا خیال ہے کہ اس کے پاس دو بریگیڈ فورس بچی ہے ۔ یعنی آٹھ سے دس ہزار سپاہ ۔ مگر شاید یہ اندازہ درست نہیں ۔ غزہ میں صرف حماس محوِ مزاحمت نہیں، بلکہ دیگر تنظیمیں بھی دادِ شجاعت دے رہی ہیں ۔ حما۔س نے دورانِ جنگ بھی بھرتیوں اور ٹریننگ کا سلسلہ بحال رکھا ۔ اس لئے محتاط اندازے کے مطابق غزہ کے دامن میں اب بھی بیس ہزار کے لگ بھگ سرفروش موجود ہیں، جو آخری گولی اور آخری سانس تک لڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔

اسرائیل 28 اکتوبر 2023 کو بہت امیدیں اور آرزوئیں لے کر غزہ کی حدود میں داخل ہوا تھا ۔ دنیا کے ساتھ ساتھ خود اس کا بھی خیال تھا کہ پہلے ہی ہلے میں مزاحمتی قلعہ مسمار ہو جائے گا اور پہلی ہی پھونک سے چراغِ امید ہمیشہ کے لئے گل ہو جائے گا ، مگر دو سال ہونے کو ہیں ، دشمن ہانپ اور کانپ رہا ہے ۔ مزاحمت اپنے قدموں پہ کھڑی ہے ۔ بلاشبہ حالات آتش خیز اور سفر مشکل تر ہے مگر اطمینان سے دل بھرے ہوئے کہ اپنی دھرتی کے لئے اور اپنے لوگوں کی خاطر سر بہ کف اور کفن بہ دوش ہیں ۔ سرفروشوں نے بہت پہلے دیے بجھا کر اپنے ساتھیوں کو مخاطب کیا تھا-

صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن --راتوں رات چلا جائے جس جس کو جانا ہے

مگر جب چراغ جلائے گئے تو تمام چمکتے دمکتے چہرے اپنی اپنی جگہوں پہ موجود تھے ۔

اب فیصلے کی گھڑی سر پر ہے ۔ حریف کے لئے بھی امتحان ہے کہ اگر وہ غزہ سٹی کو اپنے ہاتھ میں نہ لے سکا تو پھر باقی خطہء غزہ پہ بھی قبضے کا خیال دل سے نکال کر مذاکراتی میز پہ آنا ہوگا ۔ سرفروشوں کے حوصلوں کی بھی تازہ آزمائش کہ گوریلا جنگ میں تو کامران ٹھہرے، اب دوبدو اور آمنے سامنے کے معرکے میں وہ اپنے دشمن کو کس طرح اور کتنا حیران کرسکتے ہیں ۔

محض چالیس کلومیٹر کا محاذ، طاقتور ترین فضائیہ، دو سالہ آتش و بارود کی بارش، ہر جفا روا اور ہر ستم آزمانے کے باوجود بھی جانبازوں کے پائے استقامت میں لرزش نہیں ۔ دو سال بعد بھی صورت حال یہ ہے کہ غنیم کو اسی ہزار کا لشکرِ عظیم میدان میں اتارنا پڑ رہا ہے ۔ دنیا کے تمام بہادروں کو غزہ کی سرحد پہ کھڑے ہوکر مزاحمت کرتے فولادی پتلوں کو سلیوٹ کرنا چاہیے ۔ عظیم ہیں وہ مائیں جنہوں نے سنوار ، انس الشریف اور ضیف جیسے سپوت پیدا کیے اور انہیں پالا پوسا ۔ سلامِ احترام اس دھرتی کو جو اسماعیل ہنیہ جیسے نادر و نایاب لوگوں کا مسکن بنی ۔