تاريخ
بھٹو كيس ميں عبدالحفيظ پير زادہ كا كردار
نذير لغاری
1979ء میں جب سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل مسترد کردی تو شفیع محمدی نے آخری بار قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔انہوں نے جسٹس عبدالقادر شیخ کی سربراہی میں قائم صوبائی شریعت کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔اس شریعت بنچ میں ذوالفقار مرزا کے والد جسٹس ظفرحسین مرزا اور جسٹس ڈاکٹر آئی محمود شامل تھے۔کتابوں کی فراہمی میری ذمہ داری تھی۔میں نے تاریخ طبری، تاریخ ابنِ خلدون، طبقات ابنِ سعد، تاریخ یعقوبی، مسعودی، تاریخ علامہ جلال الدین السیوطی، تاریخ علامہ اکبر شاہ نجیب آبادی اور دیگر تاریخی کتب حاصل کیں اور ہم نے تاریخی نظیر کے طور پر حضرت علی کی شہادت کا واقعہ سامنے رکھا۔ بعد میں میں نے مسجدکوفہ، حضرت علی پر حملے کے مقامات اور سجدہ کی حالت میں کئے جانے والے وار کے مقام کے علاوہ حضرت علی کا وہ گھر بھی دیکھا تھا جہاں پر ضرب لگنے کے تین روز بعد حضرت علی کی شہادت ہوئی تھی۔
حضرت علی کو اپنی شہادت کے تمام واقعات کا علم تھا، انہیں قتل کی سازش کرنے والوں، مسجد کے دروازے کے قریب پہلی ناکام ضرب لگانے، آگے بڑھ کر دوسری ناکام ضرب لگانے والے اور سجدے کے دوران تیسری ضرب لگانے والے کے ناموں کا علم تھا۔حضرت علی نے حضرت امام حسن سے کہا کہ اگر میں اس زخم سے جانبر ہوگیا تو میں اپنا بدلہ خود ہی لوں گا اور اگر میں زخم سے جانبر نہ ہوسکوں تو میرے قتل کی سازش کرنے والوں میں سے کسی سے بھی کوئی بدلہ نہ لینا۔جس شخص نے مسجد کے دروازے کے قریب مجھ پر پہلا وار کیا اُسے بھی کچھ نہ کہنا، جس نے تیسرا وار کیا اس سے بھی درگزر کرنا مگر مجھ پر تیسرا وار اس شخص ابنِ ملجم نے کیا ہے اس پر آپ ایک ہی وار کرنا، یہی میرا بدلہ ہوگا۔
یہ نص صریح تھی۔یہ کلی حجت اور حتمی فیصلہ تھا۔شفیع محمدی نے انہی تاریخی شہادتوں کی بنیاد پر اپنی شرعی پٹیشن تیار کرکے شریعت کورٹ میں پیش کردی۔شریعت بنچ نے پٹیشن سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ آپ کا وکیل کون ہے؟ مگر شفیع محمدی کے جواب دینے سے پہلے عبدالحفیظ پیرزادہ نے کھڑے ہوکر کہاکہ اس کیس کا وکیل میں ہوں گا۔ہم دونوں مطمئن تھے کہ ہم پیرزادہ کو دلائل سے مالامال کرکے شریعت کورٹ کو ذوالفقارعلی بھٹو کی سزائے موت کوختم کرانے اور باعزت بری کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
ہم شریعت کورٹ سے بار روم چلے گئے جہاں ہمیں پیرزادہ کا انتظار کرنا تھا۔
پیرزادہ بار روم میں نہ آئے۔ کافی دیر انتظار کے بعد ہم دونوں سندھ مدرستہ الاسلام کے سامنے شفیع کورٹ میں واقع شفیع محمدی کے دفتر آگئے۔وہاں ہم نے پیرزادہ کے فون کا انتظار کیا۔جب چھ ساڑھے بجے تک فون نہ آیا تو ہم ٹیکسی پر سن سیٹ بلیوارڈ ڈیفنس میں عبدالحفظ پیرزادہ کے گھر پہنچ گئے اور اپنی آمد کی اطلاع دی۔ دوگھنٹے انتظار کے بعد پیرزادہ نے ہمیں ملاقات کے کمرے میں بلوایا اور کہنے لگے۔شفیع صاحب ہمارا کیس بہت مضبوط ہے۔پوری تیاری سے جائیں گے اور یوں بھی جنرل ضیاء میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ بھٹو صاحب کو پھانسی دے سکے تھے۔میں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ پیرزادہ صاحب جن لوگوں نے بھٹو صاحب کی جان لینے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے یہ تاثر قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے کہ بھٹو صاحب کو کوئی مائی کا لعل پھانسی نہیں دے سکتا۔ ہمیں زیادہ خوش گمانی میں نہیں رہنا چاہیئے۔ پیرزادہ قدرے بیزاری سے بولے کہ میں زیادہ جانتا ہوں اور میں کئی سطح پر رابطوں میں ہوں۔اب یوں بھی شفیع صاحب کے کیس سے ہمارے کیس میں ایک اسکوپ ہاتھ آگیا ہے۔ہم خاموشی سے اُٹھ کر اپنے اپنے گھروں کی طرف چلے گئے۔
اگلے روز شریعت کورٹ کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ یہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا کورٹ روم تھا۔اچانک چوبدار نے زمین پر چوب کی ضرب لگاتے ہوئے بلند آواز میں صوبائی شریعت کورٹ کے ججوں کی آمد کا اعلان کیا۔ شفیع محمدی عبدالحفیظ پیرزادہ کے ساتھ لگ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں پچھلی نشست سے بھی پیچھے عام آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا۔جسٹس عبدالقادرشیخ، جسٹس ظفرحسین مرزا اور جسٹس ڈاکٹر آئی محمود نے اپنی اپنی نشستیں سنبھال لیں۔ریڈر نے کازلسٹ کے پہلے کیس کا نمبر بتاتے ہوئے پیرزادہ کا نام لیا۔ پورے کورٹ روم میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔کورٹ روم میں تِل دھرنے کی جگہ بھی نہیں تھی۔لوگوں کے سانس لینے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ عبدالحفیظ پیرزادہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور ایک قیامت خیز جملہ ادا کیا۔
"My Lord I withdraw this petition"
شفیع محمدی پر ایک بم گر پڑا۔ وہ بوکھلا کر ہونقوں کی طرح ٹکٹکی باندھ کر پیرزادہ کو دیکھنے لگے اور پوچھا کہ یہ آپ نے کیا کیا؟ پیرزادہ نے بگڑتے ہوئے کہا کہ ہمیں ریویو پٹیشن میں سپریم کورٹ سے ریلیف مل رہا ہے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ جنرل ضیاء اور پیرزادہ کی بیگمات رشتہ کی بہنیں ہیں اور ان کی اداکار دلیپ کمار کی بھابھی بیکم پارہ سے بھی قریبی رشتہ داری ہے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ عبدالحفیظ پیرزادہ سمیت پی پی پی کی قیادت اپنی کھال بچانے کیلئے جنرل ضیاء سے مل چکی تھی۔اس زمانے میں غلام مصطفیٰ جتوئی نے سندھ کے فوجی گورنر جنرل ایس ایم عباسی کی بہن عتیقہ چنائے اور ممتاز علی بھٹو نے نوابزادہ لیاقت علی خان کی بہو بیگم مریم اکبر لیاقت سے شادیاں رچالی تھیں۔پی پی پی کی سنٹرل کمیٹی کے بیشتر ارکان سودا کرچکے تھے مگر شفیع محمدی ڈٹے ہوئے تھے۔
شریعت کورٹ نے شفیع محمدی کی پٹیشن خارج کرتے ہوئے نمٹادی۔ میں ان کے ساتھ تھکے ہوئے جواری کی طرح عدالت سے باہر نکلا۔شام کو بی بی سی نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو بچانے کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی ہے۔
شفیع محمدی کی پٹیشن 22 مارچ 1979ء کو پیرزادہ کی طرف سے واپس لئے جانے پر خارج ہوئی اور 24مارچ 1979ء کو بھٹو صاحب کی نظرثانی کی اپیل بھی متفقہ طور پر مسترد کردی گئی ۔میں نے جسٹس دراب پٹیل سے یہ دریافت کیا کہ پٹیشن متفقہ طور پر کیوں مسترد کی گئی؟ ۔ انہوں نے کہا ہم تین جج جسٹس حلیم، جسٹس صفدر شاہ اور خود میں(دراب پٹیل) بھٹو صاحب کو بری کرچکے تھے۔اس لئے ہم نے اپنے فیصلہ کوبرقرار رکھتے ہوئے اس پر نظرثانی نہیں کی، جبکہ سزا برقرار رکھنے والے ججوں انوارالحق، ملک اکرم، کرم الٰہی چوہان اور نسیم حسن شاہ نے سزا برقرار رکھتے ہوئے نظرثانی کی اپیل مسترد کردی۔
اب شفیع محمدی نے دو اپریل کو آخری بار قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا ۔ تازہ پٹیشن تیار کرکے صوبائی شریعت کورٹ میں دائر کی۔جسٹس عبدالقادر شیخ نے پوچھا کہ آپ کو کیوں یہ خدشہ ہے کہ بھٹو صاحب کو فوری پھانسی دے دی جائے گی۔شفیع محمدی نے کہا کہ جنرل ضیاء بددیانت ہےاس لئے اس سے کسی بھی خطرناک بات کی توقع کی جاسکتی ہے۔ جسٹس شیخ نے کہا کہ یہ بات آپ نے پٹیشن میں تو نہیں لکھی۔ اس پر شفیع محمدی نے جیب سے قلم نکالتے ہوئے کہا کہ میں اپنی پٹیشن میں قلم سے یہ بات لکھ دیتا ہوں۔ جسٹس شیخ نے کہا کہ کل آپ ترمیم شدہ پٹیشن دوبارہ دائر کریں۔مگر وہ کل نہیں آئی ۔
اگلے روز میں کپیٹل سینما سے پاسپورٹ آفس کے راستے سندھ ہائیکورٹ جا رہا تھا۔میں نے دور سے سامنے شفیع محمدی کو روتے ہوئے ہائی کورٹ کے احاطے سے باہر آتے ہوئے دیکھا۔میں تیز قدموں سے چلتا ہوا ان کے قریب پہنچا اور پُوچھا کہ کیا ہوا؟ ۔انہوں نے مایوسی سے کہا کہ وہ نہیں سنتے۔آج ایک جج جسٹس ڈاکٹر آئی محمود بیمار ہوگئے ہیں۔میں نے کہا کہ ہم کورٹ کو پیشکش کرتے ہیں کہ کورٹ کو جسٹس ڈاکٹر آئی محمود کے گھر لے چلتے ہیں۔ہم ان کی ٹرانسپورٹ کی ادائیگی کریں گے۔شفیع محمدی نے کہا کہ وہ نہیں مانیں گے مگر ہم چلتے ضرور ہیں۔
ہم دونوں سندھ ہائیکورٹ کی مرکزی عمارت کی دوسری منزل پر چیف جسٹس کے چیمبر کے سامنے پہنچے اور شفیع محمدی نے چپراسی سے کہا کہ چیف صاحب کو میرے آنے کے بارے میں بتادو۔ تھوڑی دیر بعد ہم جسٹس عبدالقادر شیخ کے روبرو تھے۔جسٹس ذوالفقار علی مرزا بھی موجود تھے۔شفیع محمدی نے باوقار عاجزی سے کہا کہ سندھ کی تاریخ آپ دونوں کی طرف دیکھ رہی ہے۔آج کا لمحہ گزر جائے گا۔بھٹو صاحب بھی کسی بھی طور پر اپنی منزل سے گزر جائیں گے سندھ میں وقت گھڑی پر آکر ٹھہر جائے گا جب آپ انصاف کرسکتے ہیں اور اب بھی صریحاً ناانصافی کی شرمندگی کا داغ دھو سکتے ہیں۔شفیع محمدی کی اس گفتگو پر دونوں جج ٹس سے مس نہ ہوئے۔ دونوں بہت چھوٹے لوگ تھے، انہیں نوکری عزیز تھی۔انہوں نے ہمیں دھتکار کر خالی ہاتھ لوٹا دیا۔ ہم وہاں سے باہر نکل کر مرکزی عمارت کی اندرونی دائیں جانب آگئے۔ وہاں پر صدیق کھرل، یو نعمت مولوی، حسین شاہ راشدی، رخسانہ زبیری اور چند دیگر وکلاء کھڑے ہوئے تھے۔سب چُپ تھے۔ماحول پر گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔اچانک صدیق کھرل کی آواز نے خاموشی کا سینہ چیر دیا۔انہوں نے ایک جملہ کہا اور ہم سب کو لرزا دیا "کل ڈیڈباڈی آرہی ہے" یوں لگا کہ ہم سب اپنی اپنی لاشیں اُٹھائے ہوئے کھڑے ہیں۔ ہم میں سے کسی ایک نے کہا کہ بیگم اشرف عباسی سے کہو کہ وہ پیرزادہ سے بات کریں۔بیگم اشرف عباسی صبح سے شام اور پھر رات تک پیرزادہ کا نمبر ملاتی رہیں مگر ان کی بات نہ ہوسکی۔رات کو دوبجے بیگم اشرف عباسی کو پیرزادہ کا نمبر ملا۔ پیرزادہ نشے میں ڈوبا ہوا تھا۔اس نے ایک جملہ کہہ کر فون بند کردیا "ڈارلنگ کل تم ایک خوشخبری سنو گی" عین اسی لمحے قائدِعوام، فخرِایشیا ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی جارہی تھی.