داڑھی اور وضع قطع كا مسئلہ

مصنف : ڈاکٹر مولانا محمد عمار خان ناصر

سلسلہ : یسئلون

شمارہ : مارچ 2025

يسئلون

سوال و جواب

جوابات – مولانا عمار خان ناصر- مولانا مودودی رح

داڑھی اور وضع قطع كا مسئلہ

(مولانا عمار خان ناصر )

سوال -میرا خاندان مکمل مذہبی خاندان ہے جس میں وضع قطع سے لے کر نشست و برخاست تک مکمل مذہبی ہے۔ مجھے داڑھی شیو کروانا یا کٹوانا اور لباس میں پینٹ شرٹ پہننا بے حد پسند ہے جو خاندان میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ چھوٹی داڑھی اور پینٹ شرٹ مجھے اس حد تک پسند ہے کہ کبھی خیال آتا ہے مرضی کی وضع قطع رکھنے کی خاطر گھر سے نکل جاؤں اور پھر کبھی نہ آؤں، پھر بال بچوں کی تربیت اور ان کی دیکھ بھال کا خیال مانع ہو جاتا ہے۔ اس صورت حال میں میری راہنمائی کیجیے۔

جواب:میں ڈاڑھی شیو کرنے کی تو تائید نہیں کروں گا۔ البتہ حسب ذوق ڈاڑھی چھوٹی کرنا یا اپنی پسند کا لباس پہننا آپ کا شخصی حق ہے۔ اگر خاندانی ماحول میں اس حوالے سے جبر کی کیفیت ہے تو وہ ناروا ہے۔ تاہم جیسا کہ آپ نے ذکر کیا، اگر یہ شخصی حق استعمال کرنا آپ کے لیے اپنی خاندانی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوئے بغیر ممکن نہیں یا اپنے ماحول میں رہتے ہوئے اس سے کوئی مستقل بدمزگی یا تناؤ پیدا ہو سکتا ہے تو پھر دینی نقطہ نظر سے یہی تجویز کیا جا سکتا ہے کہ آپ اس کو آزمائش تصور کر کے اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ ترجیح دیں۔ یہ قربانی ان شاء اللہ آپ کے لیے موجب اجر اور بہت سے گناہوں کا کفارہ ہوگی۔ ایسے حالات میں یہ عزم اور ارادہ کرنا بھی کافی حد تک تخفیف اور تسکین کا باعث ہوتا ہے کہ آپ موقع آنے پر اپنے دائرہ اختیار میں متعلقین پر اس طرح کا جبر نہیں کریں گے اور جس تکلیف سے آپ کو گزرنا پڑا، اس میں دوسروں کو نہیں ڈالیں گے۔ یہ امکان بھی آپ کو دیکھنا چاہیے کہ کیا آپ اپنی فیملی کے ساتھ ایک انڈی پینڈنٹ زندگی گزارنے کا نظم بنا سکتے ہیں جس میں خاندان کا دباؤ آپ پر اتنا زیادہ نہ ہو کہ آپ کی شخصی ترجیحات پر حاوی ہو جائے؟ اگر بآسانی یہ ممکن ہو تو اس امکان کو بھی عمل میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ذہنی دباؤ اور اذیت سے حتی الامکان نجات حاصل کی جا سکے۔ واللہ اعلم

واقعہ قرطاس کی حقیقت

سید ابوالاعلی مودودی

سوال: رسول اللّٰہﷺ کی وفات کے وقت مشہور واقعہ قرطاس کی اصل نوعیت کیا ہے؟ حضرت عمرؓ کا اس معاملہ میں کیا موقف ہے؟

جواب: اس واقعہ کے متعلق امام بخاریؒ نے کتاب العلم، کتاب الجزیہ اور کتاب المغازی میں، امام مسلمؒ نے کتاب الوصیۃ میں، اور امام احمدؒ نے مسند ابن عباس میں متعدد روایات مختلف سندوں سے نقل کی ہیں جن کا سلسلہ ابن عباسؓ پر تمام ہوتا ہے۔ کسی دوسرے صحابی سے اس باب میں کوئی صریح روایت منقول نہیں ہوئی ہے۔ خلاصہ ان سب روایات کا یہ ہے کہ وفات سے چار روز پہلے جمعرات کے دن حضور نبی کریمﷺ پر مرض کی شدید تکلیف طاری تھی اور آخری وقت قریب معلوم ہو رہا تھا۔ اس حالت میں آپؐ نے حاضرین سے فرمایا کہ لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ اس وقت گھر میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا رسول اللہ اس وقت سخت تکلیف میں ہیں، ہمارے پاس قرآن مجید موجود ہے، اللہ کی کتاب ہمارے لیے کافی ہے۔ اس پر اختلاف ہوگیا۔ بعض لوگوں نے کہا، نہیں سامان کتابت لے آنا چاہیے تاکہ حضورﷺ وہ چیز لکھوادیں جس کے بعد ہم گمراہ نہ ہوسکیں اور بعض اصحاب نے حضرت عمرؓ کے خیال کی تائید کی۔ کچھ اور لوگوں نے کہا کہ حضورﷺ سے پھر دریافت کرلو، آپؐ واقعی کچھ لکھوانا چاہتے ہیں یا یہ بات آپؐ نے غلبۂ مرض کی وجہ سے گھبراہٹ میں فرمائی ہے۔ اس طرح بعض لوگ آپس میں بحث کرنے لگے اور بعض حضورﷺ سے آپؐ کا مدعا پوچھنے میں لگ گئے۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا:ذَرونِیْ فَالَّذِیْ اَناَ فِیْہِ خَیْرٌ مِّمَّا تَدْعُوْنِیْ اِلَیْہِ۔ قُوْمُوْا عَنِّیْ وَلَاَ یْنَبَغِیْ عِنْدِیْ التَّنَازُعَ۔’’مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، میں جس حالت میں ہوں، وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔ میرے پاس سے اٹھ جاؤ، میرے پاس جھگڑا کرنا ٹھیک نہیں ہے‘‘۔

اس کے بعد حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے تین باتوں کی وصیت فرمائی۔ ایک یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو۔ دوسری یہ کہ جو وفود باہر سے آئیں، ان کی اسی طرح خاطر داری کرنا جس طرح میں کرتا تھا۔ اور تیسری بات حضورﷺ کی زبان سے ادا نہ ہوئی، یا راوی سے فراموش ہوگئی ۔ روایات اس باب میں بھی واضح نہیں ہیں کہ ابن عباسؓ نے اس کو فراموش کیا یا بیچ کے کسی راوی نے۔یہ ہے کل کائنات اس قصے کی۔ اگر کوئی سیدھے طریقے سے یہ بات سمجھنا چاہے تو اصل صورت معاملہ کے سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی۔ اپنے محبوب ترین پیشوا اور رہبر کو دنیا سے رخصت ہوتے دیکھ کر سب لوگوں پر اضطراب کا عالم طاری تھا۔ مرض شدت پکڑ چکا تھا۔ سب کی آنکھوں کے سامنے حضورﷺ سخت کرب کی حالت میں مبتلا تھے۔ ابن عباسؓ کا اپنا حال یہ تھا کہ اس واقعہ کے سالہا سال بعد ایک روز شاگردوں کے سامنے ان کی زبان پر جمعرات کا لفظ آیا اور یکایک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ شاگردوں نے پوچھا جمعرات کا کیا قصہ ہے جسے یاد کرکے آپ یوں بے حال ہوئے جا رہے ہیں؟ فرمایا وہ دن آنحضرتﷺ پر سخت تکلیف کا تھا (اِشْتَدَّ بِالنَّبِیِّﷺ وَجْعَہٗ) اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عین اس وقت جب کہ حضورﷺ پر یہ حالت طاری تھی ، آپ کے ہاں جاں نثار خادموں پر کیا گزری ہوگی۔ اس حالت میں قلم دوات منگوانے کے لیے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اور غرض یہ بیان فرمائی کہ ایسی کوئی چیز لکھوادیں جس سے امت بعد میں گمراہ نہ ہونے پائے۔ مرض کی شدت میں ممکن ہے کہ  زبان مبارک سے  صاف بات بھی ادا نہ ہوئی ہو۔ اسی وجہ سے حاضرین کو شبہ ہوا کہ گھبراہٹ میں آپؐ نے کچھ فرمایا ہے جسے پھر پوچھ کر تحقیق کرنا چاہیے۔ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر جو کچھ کہا اس کا صاف مطلب تھا کہ ’’حضورﷺ اس وقت سخت تکلیف میں مبتلا ہیں، اس حالت میں آپؐ امت کے لیے فکر مند ہو رہے  ہيں اور کچھ لکھوانے کی زحمت اٹھانا چاہتے ہیں تاکہ لوگ آپؐ کے بعد گمراہ نہ ہونے پائیں۔ لیکن اس وقت آپؐ کو یہ زحمت دینا مناسب نہیں ہے ، امت کی ہدایت کے لیے قرآن موجود ہے ، انشاء اللہ وہی گمراہی سے بچانے کے لیے کافی ہوگا‘‘۔ ممکن ہے اس کے ساتھ حضرت عمرؓ کو یہ بھی اندیشہ ہوا ہوکہ اگر تحریر لکھواتے لکھواتے حضورﷺ کا وقت آن پورا ہوا اور بات ادھوری رہ گئی تو کہیں وہ الٹا فتنے ہی کی موجب نہ بن جائے۔ بہرحال یہ بالکل فطری امر تھا کہ اس موقع پر کوئی علم اور ہدایت کی حرص میں اس بات کا طالب ہوا کہ حضورؐ سے ضرور کچھ لکھوالیا جائے، اور کوئی اس شک میں پڑ گیا کہ حضورﷺ واقعی کچھ لکھوانا چاہتے ہیں یا شدت مرض کی وجہ سے گھبراہٹ میں کچھ فرما رہے ہیں۔ ان تینوں قسم کے لوگوں میں سے کسی کی بات بھی ایسے موقع پر نہ تو خلاف توقع تھی اور نہ اسے نا مناسب کہا جاسکتا ہے۔

اب رہ گئی یہ بات کہ حضورﷺ جو کچھ لکھوانا چاہتے تھے، آیا اس کی نوعیت عام نصائح کی سی تھی یا کسی ایسے اہم حکم کی جسے ثبت کرادینا امت کی ہدایت کے لیے ضروری تھی تو اس کا فیصلہ بعد کے واقعات نے خود ہی  کردیا۔ حضورﷺ اس واقعہ کے بعد بھی چار دن تک زندہ رہے۔ ان دونوں میں مرض کی شدت کا حال بھی یکساں نہیں رہا اور اس زمانے میں وہی سب لوگ آپؐ کے پاس بیٹھے بھی نہیں رہے جو جمعرات کے دن اس وقت خاص پر موجود تھے، بلکہ اس مدت میں آپؐ کو مسجد نبوی میں تشریف لے جانے اور جماعت صحابہ کرامؓ سے خطاب کرنے کا موقع بھی ملا تھا۔ اگر واقعی کوئی اہم حکم ایسا ہوتا جسے ضبط تحریر میں لانا ضروری تھا تو حضورﷺ ان دنوں میں کسی وقت بھی اپنے کاتبوں میں سے، یا خود اہل بیت میں سے کسی کو بلا کر اسے لکھواسکتے تھے یا زبانی ارشاد فرماسکتے تھے۔ اس سے حضرت عمرؓ کے اس موقف کی صحت بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ انہوں نے ٹھیک سمجھا تھا کہ شدت مرض میں امت کی فلاح کے لیے حضورﷺ فکر مند ہو رہے ہیں اور کچھ نصائح لکھوانا چاہتے ہیں، کسی بنیادی مسئلے کا فیصلہ لکھوانا اس حالت میں پیش نظر نہیں ہے۔ اس لیے اس تکلیف اور کرب کے عامل میں حضورﷺ کو یہ زحمت دینا ٹھیک نہیں، ہمیں قلم دوات لانے کی بجائے حضورﷺ کو یہ اطمینان دلانا چاہیے کہ آپؐ ہمارے لیے پریشان نہ ہوں، آپؐ اپنی امت کو وہ کتاب ہدایت دے کرجا رہے ہیں،جو انشاء اللہ اسے کبھی گمراہ نہ ہونے دے گی۔آخر میں حضرت علیؓ کی بھی ایک روایت ملاحظہ فرمالی جائے، جسے مسند احمد میں نقل کیا گیا ہے۔ اس میں حضرت علیؓ فرماتے ہیں:

اَمَرَنِی اَنَ اتِیْہِ بِطَبقٍ یَکْتُبُ فِیْہِ مَالَا تَضِلُّ اُمَّۃٌ بَعْدِہٖ قَالَ فَخَشَیْتُ اَنْ تَفُوْتَنِیْ نَفْسُہٗ قَالَ قُلْتُ اِنِّی اَحْفَظُ وَاَعِیْ قَالَ اُوْصِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَ الزّکوٰۃِ وَمَا مَلَکَت اَیْمَانُکُمْ۔’’مجھے نبی ﷺ نے حکم دیا کہ شانے کی ایک ہڈی لے آؤں تاکہ آپؐ اس پر ایک ایسی چیز لکھ دیں جس سے آپؐ کی امت آپؐ کے بعد گمراہ نہ ہو۔ مجھ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کے لاتے لاتے آپؐ کی وفات نہ ہوجائے۔ اس لیے میں نے عرض کیا، آپؐ فرمائیں، میں یاد رکھوں گا۔ اس پرحضورﷺ نے فرمایا، میں وصیت کرتا ہوں نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرنے کی اور ان غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی جو تمہارے ملک میں ہوں‘‘۔

کیا صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین چھوڑ کر خلافت کے حصول میں لگے رہے؟

سید ابولاعلی مودودی

سوال: صحابہ کرامؓ اور خاص طور پر حضرت ابوبکر ؓ وحضرت عمرؓ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ رسولؐ اﷲ کے کفن دفن میں شریک نہ ہوئے اور خلافت وبیعت کے مسئلے میں اُلجھے رہے۔ حضورؐ کے غسل اور کفن دفن میں شریک ہونا کتنی بڑی سعادت تھی اور خود محبت رسولؐ کا کیا تقاضا تھا؟

جواب: یہ قصہ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ بے گور وکفن پڑا تھا اور صحابۂ کرامؓ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین کی فکر چھوڑ کر خلافت کی فکر میں پڑ گئے تھے، درحقیقت بالکل ہی بے سروپا داستان ہے۔ اصل واقعات یہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پیر کے روز شام کے قریب ہوئی۔بخاری ومسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص انس بن مالکؓ نے ’’آخر یوم‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس سے یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ سانحۂ عظیم عصر و مغرب کے درمیان پیش آیا تھا۔ فطری بات ہے کہ اس سے پوری جماعت اہل ایمان کے ہوش پراگندہ ہوجانے چاہییں تھے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ حضرت عمرؓ کو تو یہی یقین نہ آتا تھا کہ سرور عالمؐ واقعی وفات پا گئے ہیں۔حضرت ابوبکرؓ نے آکرجب تقریر کی تو لوگوں کو پوری طرح یقین ہوا کہ وہ ناگزیر بات جو پیش آنی تھی، پیش آچکی ہے۔اتنے میں رات آ گئی۔ یہ ممکن اور مناسب نہ تھا کہ راتوں رات تجہیز وتکفین کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کردیا جاتا۔ کیوں کہ جنازے میں شرکت کی سعادت سے محروم رہ جانا ان ہزاروں مسلمانوں کو ناگوار ہوتا جو مدینۂ طیبہ اور اس کی نواحی بستیوں میں رہتے تھے۔ لازماً ان کو شکایت ہوتی کہ آپ لوگوں نے ہمیں آخری دیدار اور نماز جنازہ کا موقع بھی نہ دیا۔ اس لیے رات بہرحال گزارنی تھی۔اس رات صحابہ ؓ کے مختلف گروہ اپنی اپنی جگہ جمع ہوکر سوچ رہے تھے کہ اب کیا ہوگا۔ازواج مطہرات حضرت عائشہؓ کے ہاں گریہ وزاری میں مشغول تھیں جہاں حضورؐ نے وفات پائی تھی۔حضرت علیؓ،حضرت زبیرؓ، حضرت طلحہؓ، اور دوسرے قرابت داران رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام سیّدہ حضرت فاطمۃ الزہراءؓ کے گھر میں جمع تھے۔ مہاجرین کی ایک اچھی خاصی تعداد حضرت ابوبکرؓ کے پاس غمگین ومتفکر بیٹھی تھی۔ انصار کے مختلف گروہ اپنے اپنے قبیلوں کی چوپالوں( سقیفہ کے اصل معنی چوپال ہی کے ہیں) میں اکٹھے ہورہے تھے۔ اتنے میں کسی نے آکر خبر دی کہ بنی ساعدہ کی چوپال میں انصار کا ایک بڑا گروہ جمع ہے اور وہاں رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کا مسئلہ چھڑ گیا ہے۔ حضرات ابوبکر ؓ، عمرؓ اور ابوعبیدہؓ بن الجراح، جو حضورؐ کے بعد مسلمانوں کی جماعت میں ’’بڑے‘‘ (senior) سمجھے اور مانے جاتے تھے،یہ خبر سن کر فکر مند ہوئے کہ ابھی سردار ملت کی آنکھ بند ہوئی ہے، ساری امت اس وقت بے سر ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے اور جماعت کا نظم ازسر نو قائم ہونے سے پہلے ہی بدنظمی اپنے قدم جمالے۔ اس لیے یہ تینوں حضرات فوراً برسر موقع پہنچ گئے اور راتوں رات انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کے مسئلے کو، جو ایک فتنہ خیز صورت میں طے ہوا چاہتا تھا، اس صحیح شکل میں سلجھا لیا جس کے صحیح ہونے پر تاریخ اپنی مہر تصدیق ثبت کرچکی ہے۔یہ سارا واقعہ اسی رات کا ہے جس کی شام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی۔ رات کو بہرحال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین نہیں کرنی تھی جس کی مصلحت اوپر بیان کی جاچکی ہے۔اسی رات خلافت کا مسئلہ طے کیا گیا۔ صبح سویرے مسجد نبوی میں حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کا اعلان ہوا۔ مہاجرین وانصار سب نے اسے قبول کرکے جماعت کا نظام بحال کردیا اور اس کے بعد بلاتاخیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین کا کام شروع ہوگیا۔یہ کہنا بالکل ہی خلاف واقعہ ہے کہ صحابہ کرامؓ اپنی خلافت کی فکر میں لگے رہے اور حضورؐ کی تجہیز وتکفین بس آپ کے اہل بیت نے کی ۔یہ تجہیز وتکفین کسی نے بھی پیر اور منگل کی درمیانی شب میں نہ کی تھی۔ اس کا آغاز منگل کی صبح کو اس وقت ہوا ہے جب کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت ہوچکی تھی۔ اور یہ کام حضرت عائشہؓ کے حجرے میں ہوا ہے جس کا ایک دروازہ اسی مسجد نبوی میں کھلتا تھا جہاں مدینہ طیبہ کے سارے صحابہ جمع تھے، جہاں گردو نواح کے لوگ وفات کی خبر سن سن کر چلے آرہے تھے، اور جہاں حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تھی۔ جن لوگوں کو کبھی مسجد نبوی کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے اور جنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ حجرۂ حضرت عائشہ (جس میں سرکار مدفون ہیں) اور مسجد نبوی کا مکانی تعلق کیا ہے، وہ یہ بات سن کر ہنس دیں گے کہ صحابہ مسجد نبوی میں اپنی خلافت کی فکر میں لگے ہوئے تھے اور بے چارے اہل بیت حجرۂ عائشہ ؓ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین کررہے تھے۔غلط بات تصنیف کرنی بھی ہو تو اس کے لیے بھی کم ازکم کچھ سلیقہ تو چاہیے ۔یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل وکفن صرف آپؐ کے اہل بیت نے دیا، یہ بھی خلاف واقعہ ہے۔اس خدمت کو انجام دینے والے حضرت علیؓ، حضرت عباسؓ، فضل بن عباسؓ، قثم بن عباسؓ، اسامہ بن زید ؓاور شُقرانؓ(حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ) تھے، اور انہوں نے اس خیال سے حجرے کا دروازہ بند رکھا تھا کہ لوگوں کا ہجوم باہر زیارت کے لیے بے چین کھڑا تھا۔ اگر دروازہ کھلا رہنے دیا جاتا تو اندیشہ تھا کہ زیادہ لوگ اندر آجائیں گے اور کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔ پھر بھی انصار نے جب شور مچایا کہ ہمیں بھی تو اس سعادت میں حصہ ملنا چاہیے، تو ان میں سے ایک صاحب(اوس بن خولی) کو اندر بلا لیا گیا۔ کفن پہنانے کے بعد سوال پیدا ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر کہاں تیار کی جائے۔حضرت ابوبکر ؓ نے حدیث پیش کی کہ مَا قُبِضَ نَبِیٌّ اِلَّا دُفِنَ حَیْثُ یُقْبَضُ(نبی کا انتقال جہاں ہوتا ہے ،وہیں اس کو دفن کیا جاتا ہے)اور اسی پر فیصلہ ہوا کہ حجرۂ عائشہ ؓ ہی میں آپؐ کے لیے قبر تیار کی جائے۔ حضرت ابو طلحہ زیدؓ بن سہل انصاری نے قبر کھودی۔ پھر لوگوں نے گروہ در گروہ اندر جاکر نماز جنازہ پڑھنی شروع کی اوررات تک مسلسل یہ سلسلہ چلتا رہا، حتیٰ کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو نصف شب کے قریب دفن کی نوبت آئی۔معلوم نہیں کہ اس پوری مدت میں آخر وہ کون سا وقت تھا جب صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت بے یارومددگار آپ ؐ کے جسد اطہر کو لیے بیٹھے رہے اور صحابۂ کرامؓ اپنی خلافت کی فکر میں مشغول رہے؟ (ترجمان القرآن۔ نومبر ۹۵۸اء)