اہتمام رمضان اور بزرگان دین

مصنف : مولانا زکریا کی کتاب سے ماخوذ

سلسلہ : گوشہ رمضان

شمارہ : جولائی 2013

بلاشبہ رمضان المبارک اور اس کی عبادات، مسلمانوں کے سال بھر کے گناہوں اور گناہوں کے بوجھ کو مٹانے، ختم کرنے اور ان کو اپنے سرسے اتار پھینکنے کی ایک بہترین شکل ہے۔ رمضان اور مضان کی عبادات ،بلکہ اس کی ساعتوں کی برکات سے انسان کے گناہوں کی غلاظت کا کس طرح صفایا ہوتا ہے؟ اس کی ایک جھلک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں ملاحظہ ہو: ‘‘عن ابی ہریرۃ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم: من صام رمضان ایماناً واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ، ومن قام رمضان ایماناََ واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ، ومن قام لیلۃ القدر ایماناً واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔’’ (مشکوٰۃ، ص:۳۷۱)

ترجمہ: ‘‘حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو شخص ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو شخص ا یمان اور اخلاص کے ساتھ رمضان میں عبادت کرے، اس کے گزشتہ معاصی معاف کردیئے جاتے ہیں، اسی طرح جو شخص شب ِ قدر میں ایمان و اخلاص سے شب ِ قدر میں عبادت میں مشغول رہے ،اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔’’

گویا رمضان اور اس کی عبادات، انسان کے سال بھر کے، بلکہ زندگی بھر کے تمام گناہوں کے بوجھ سے چھٹکارے کا سبب ہے، دوسرے الفاظ میں ایک ایسا مسلمان جو نفس و شیطان کے بہکاوے میں آگیا تھا اور معصیت و گناہ کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کرچکا تھا، اس کو دعوت دی جارہی ہے کہ: ‘‘باز آ، باز آ، ہر آنچہ ہستی باز آ’’ مایوسی کی ضرورت نہیں ،دریائے رحمت جوش میں ہے، اس میں غوطہ لگاکر اپنے گناہوں کی غلاظت صاف کرکے دوبارہ محبوبِ بار گاہ الٰہی بن جایئے!

یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی رمضان کا اہتمام فرماتے اور امت کو بھی اس کی تلقین فرماتے تھے، چنانچہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شعبان کی آخری تاریخ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا:

‘‘اے لوگو! تم پر ایک عظیم اور مبارک مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، ایسا مہینہ جس میں ایک ایسی رات ...شب ِ قدر... ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے...یعنی اس ایک رات میں عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ ملتا ہے... اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کے دنوں کا روزہ فرض اور راتوں کی عبادت نفل قرار دی ہے، جو شخص اس مہینہ میں ایک نیک عمل کے ذریعہ قربِ خداوندی کا طالب ہو، وہ ایسا ہی ہے جیسے دیگر مہینہ میں فرض ادا کرے ...یعنی نفل کا ثواب فرض کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے... اور جو شخص کوئی فریضہ بجالائے ،وہ ایسا ہے جیسے دیگر مہینوں میں ستر فرض ادا کرے...یعنی رمضان میں ایک فرض کا ثواب ستر گنا ہوتا ہے... اے لوگو! یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب اور بدلہ جنت ہے اور یہ لوگوں کے ساتھ مواساۃ اور خیر خواہی کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے ، جو آدمی اس مبارک مہینہ میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے، اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ،اسے جہنم سے آزادی کا پروانہ ملتا ہے، اور روزہ دار کے ثواب میں کمی کئے بغیر افطار کرانے والے کو بھی اسی کے بقدر اجر سے نوازا جاتا ہے۔’’

یہ سن کر صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر آدمی اپنے اندر ایسی وسعت نہیں پاتا کہ وہ دوسرے کو ...باقاعدہ... افطار کرائے اور اس کے ثواب سے بہرہ یاب ہو ...رحمتِ عالم نے اپنے جاں نثاروں کو ایسا جواب دیا جس سے ان کی مایوسی خوشیوں میں بدل گئی... آپ ؐ نے فرمایا: ‘‘اللہ تعالیٰ یہ انعام ہر اس شخص پر کرتا ہے جو کسی بھی روزہ دار کو ایک گھونٹ دودھ، ایک عدد کھجور، حتی کہ ایک گھونٹ پانی پلاکر بھی افطار کرادے، ہاں جو شخص روزہ دار کو پیٹ بھر کھلائے تو اللہ رب العزت اسے قیامت کے دن میرے حوضِ کوثر سے ایسا پانی پلائیں گے جس سے کبھی پیاس نہ لگے گی، تا آنکہ وہ جنت میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجائے گا۔’’ پھر آپ نے فرمایا: یہ ایسا مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت، درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے، جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام ...خادم اور ملازم وغیرہ... کے بوجھ کو ہلکا کردے تو اللہ جل شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی دیتے ہیں، اے لوگو! اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت رکھا کرو: ۱: کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ، ۲: استغفار، ۳: جنت کی طلب، ۴: آگ سے پناہ۔ ’’(مشکوٰۃ ۴۷۱/۱، البیہقی فی شعب الایمان ۵۰۳/۳)

الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں خود بھی عبادت کا خوب اہتمام فرماتے، اسی طرح صحابہ کرام اپنے گھروالوں کو بھی اس کی طرف متوجہ فرماتے اور اپنی بعد میں آنے والی امت کو بھی اس کی تلقین فرمائی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلاف امت اور اکابرین ملت،رمضان کی ساعتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے، چنانچہ ان کی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے رمضان کے معمولات عام زندگی سے ہٹ کر رشک ملائک ہوتے تھے۔ اس سلسلہ میں زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، بلکہ ہمارے زمانہ کے بالکل قریب اور ہمارے دادا شیخ، بلکہ ہمارے استاذ حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہ کا رسالہ ‘‘آپ بیتی’’ اور ‘‘اکابر کا رمضان’’ مطالعہ کیا جائے تو اس سلسلہ کی کچھ جھلکیاں نظر آجائیں گی، لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شیخ الحدیث قدس سرہ کا وہ خط جو انہوں نے حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب کو حکیم الامت حضرت اقدس مولانا محمد اشرف علی تھانوی کے معمولات رمضان معلوم کرنے کے لئے بطور سوالنامہ لکھا تھا، اس کو ذیل میں نقل کردیا جائے، حضرت لکھتے ہیں: ‘‘مخدومی حضرت خواجہ صاحب زادمجدکم‘‘

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

یہ سن کر کہ آپ کچھ طویل مدت کے لئے تھانہ بھون مقیم ہیں، بے حد مسرت ہوئی، حق تعالیٰ شانہ ترقیات سے نوازیں، اس وقت باعث تکلیف دہی ایک خاص امر ہے، جس کے لئے بڑے غور کے بعد جناب ہی کی خدمت میں عرض کرنا مناسب معلوم ہوا کہ حضرت مولانا کے یہاں آپ سے زیادہ بے تکلف شاید کوئی نہ ہو، اس لئے جناب کو اس میں سہولت ہوگی، مجھے حضرت کے معمولات رمضان معلوم کرنے کا اشتیاق ہے۔ خود حضرت سے پوچھتے ہوئے تو ادب مانع ہے اور خود حاضر ہوکر دیکھوں تو ایک دو روز میں معلوم ہونا مشکل ہے، اس لئے جناب کو واسطہ بناتا ہوں، امیدہے کہ اس تکلیف کو گوارا فرمائیں گے، سوالات سہولت کے لئے میں خود ہی عرض کرتا ہوں:

۱:- وقت افطار کا کیا معمول ہے؟ یعنی جنتریوں میں جو اوقات لکھے جاتے ہیں، ان کا لحاظ فرمایا جاتا ہے؟ یا چاند وغیرہ کی روشنی کا؟

۲:- اگر جنتری پر مدار ہے تو تقریباً کتنے منٹ احتیاط ہوتی ہے؟ یا بالکل نہیں ہوتی؟

۳:- افطار میں کسی خاص چیز کا اہتمام ہوتا ہے؟ یا کل ماتیسر؟ اگر اہتمام ہوتا ہے تو کس چیز کا؟

۴:- افطار اور نماز میں کتنا فصل ہوتا ہے؟

۵:- افطار مکان پر ہوتا ہے ؟یا مدرسہ میں؟

۶:- مجمع کے ساتھ افطار فرماتے ہیں؟ یا تنہا؟

۷:- افطار کے لئے کھجور یا زمزم کا اہتمام فرمایا جاتا ہے یا نہیں؟

۸:- مغرب کے بعد نوافل میں کماً یا کیفاً کوئی خاص تغیر ہوتا ہے یا نہیں، اگر ہوتا ہے تو کیا؟

۹:- اوَّابین میں تلاوت کا کیا معمول ہے؟ رمضان اور غیر رمضان دونوں کا کیا معمول ہے؟

۱۰:- غذا کا کیا معمول ہے ،یعنی کیا کیا اوقات غذا کے ہیں؟ نیز رمضان اور غیر رمضان میں کوئی خاص اہتمام کمی زیادتی کے اعتبار سے معتاد ہے یا نہیں؟

۱۱:- تراویح میں امسال تو معلوم ہوا ہے کہ علالت کی وجہ سے مدرسہ میں سنتے ہیں، مگر مستقل عادت شریفہ کیا ہے؟ خود تلاوت یا سماع اور کتنا روزانہ؟

۱۲:- ختم کلام مجید کا کوئی خاص معمول، مثلاً ستائیسویں شب یا انتیس شب یا کوئی اور شب ہے یا نہیں؟

۱۳:- تراویح کے بعد خدام کے پاس تشریف فرما ہونے کی عادت شریفہ ہے یا نہیں؟ فوراً مکان تشریف لے جاتے ہیں یا کچھ دیر کے بعد تشریف لے جاتے ہیں، تو یہ وقت کس کام میں صرف ہوتا ہے؟

۱۴:- مکان پر تشریف لے جاکر آرام فرماتے ہیں یا کوئی خاص معمول ہے؟ اگر آرام فرماتے ہیں تو کس وقت سے کس وقت تک؟

۱۵:- تہجد میں تلاوت کا کیا معمول ہے؟ یعنی کتنے پارے کس وقت سے کس وقت تک؟

۱۶:- سحر کا کیا معمول ہے؟ یعنی کس وقت تناول فرماتے ہیں اور طلوعِ فجر سے کتنا قبل فارغ ہوجاتے ہیں؟

۱۷:- سحر میں دودھ وغیرہ کسی چیز کا اہتمام ہے یا نہیں؟ روٹی تازی پکتی ہے یا رات کی رکھی ہوئی؟

۱۸:- صبح کی نماز معمول کے وقت اسفار میں ہوتی ہے یا کچھ مقدم؟

۱۹:- دن میں سونے کا کوئی وقت ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو صبح کو یا دوپہر کو؟

۲۰:- روزانہ تلاوت کا کوئی خاص معمول ہے یا نہیں؟ یعنی کوئی خاص مقدار تلاوت کی رمضان میں مقرر فرمائی جاتی ہے یا نہیں؟

۲۱:- کسی دوسرے شخص کے ساتھ دَور کا یا سنانے کا معمول ہے یا نہیں؟

۲۲:- اکثر تلاوت حفظ فرمائی جاتی ہے یا دیکھ کر؟

۲۳:- اعتکاف کا معمول ہمیشہ کیا رہا ہے؟ اور اعتکاف عشرہ سے زیادہ ایام کا، مثلاً: اربعینہ کا کبھی حضرت نے فرمایا ہے یا نہیں؟

۲۴:- اخیر عشرہ میں اور بقیہ حصہ رمضان میں کوئی فرق ہوتا ہے یا نہیں؟

۲۵:- ان کے علاوہ کوئی اور خاص عادت شریفہ آپ لکھ سکیں، بہت ہی کرم ہوگا۔ اور اگر حضرت حاجی صاحب نوراللہ مرقدہ کے معمولات کا پتہ لگاسکیں تو کیا ہی کہنا کہ حضرت مولانا ہی کی ذات اب ایسی ہے جو حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مفصل معمولات کچھ بتاسکتی ہے، جناب کو تکلیف تو ضرور ہوگی، مگر مشائخ کے معمولات خدام کے لئے اسوہ ہوکر انشاء اللہ بہتوں کو نفع ہوگا، دعا کا متمنی اور مستدعی۔فقط والسلام۔’’ زکریا عفی عنہ (ضمیمہ ‘آپ بیتی’ حصہ پنجم ص:۲۳،۳۳)’’

اس خط کا حضرت خواجہ عزیزالحسن قدس سرہ نے تو صرف اتنا سا مختصر جواب دے دیا کہ :‘‘حضرت کے معمولات سے تو میں بھی واقف نہ تھا، اس لئے بہ ضرورت جناب والا کا والانامہ حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا تو حضرت نے ارشاد فرمایا کہ :‘‘صرف یہ لکھ دیا جائے کہ اگر چاہیں تو براہِ راست خود مجھ سے دریافت کرلیں۔’’

مگر اس کے بعد حضرت شیخ الحدیث قدس سرہ نے اپنے اس سوالنامہ کو بنیاد بناکر اپنے شیخ حضرت اقدس مولانا خلیل احمد سہارن پوری قدس سرہ کے معمولات رمضان کا نمبروار اور تفصیل سے تذکرہ کیا ہے، جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اکابر رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کا کس قدر خیال فرماتے تھے اور ان لمحات کو کام لانے کا کس قدر اہتمام فرماتے ؟اور اس مہینہ کی برکات سمیٹے کے لئے کس قدر مربوط نظام الاوقات بناتے کہ اس کا کوئی لمحہ ضائع نہ ہونے پائے؟ لیجئے حضرت شیخ الحدیث کی زبانی حضرت اقدس مولانا خلیل احمد سہارن پوری کا اہتمامِ رمضان پڑھئے اور سر دھنئے! حضرت شیخ الحدیث لکھتے ہیں: ‘‘اس خط کے نقل کرانے پر بعض دوستوں کی خواہش ہوئی اور خود میرا بھی جی چاہا، کہ ان سوالات کے جواب میں سیّدی و سندی و مرشدی حضرت اقدس سہارن پوری قدس سرہ کے معمولات نقل کراؤں، اگرچہ اجمالی طور پر‘‘ فضائل رمضان’’ میں اور‘‘ تذکرۃ الخلیل ’’میں گزر چکے ہیں، لیکن ان مسلسل سوالات کے جواب میں مسلسل جواب لکھواؤں کہ حضرت قدس سرہ کی خدمت میں ۱۳۲۸ھ سے ۱۳۴۵ھ تک کے رمضان گزرنے کی نوبت آئی، بجز ۱۳۴۳ھ کے کہ اس رمضان المبارک میں حضرت قدس سرہ مکہ مکرمہ میں تھے اور یہ ناکارہ سہارن پور میں تھا:

۱:- حضرت قدس سرہ کے یہاں گھڑی کا اہتمام اور اس کے ملانے کے واسطے مستقل آدمی تو تمام سال رہتا تھا، لیکن خاص طور سے رمضان المبارک میں گھڑیوں کے ڈاک خانے اور ٹیلیفون وغیرہ سے ملوانے کا بہت اہتمام رہتا تھا، افطار ،جنتریوں کے موافق ۲،۳ منٹ کے احتیاط پر ہوتا تھا، اسی طرح اعلیٰ حضرت رائپوری نوراللہ مرقدہ، کے ہاں رائے پور میں چونکہ طلوع آفتاب بالکل سامنے صاف نظر آتا تھا، اس لئے دونوں وقت گھڑیوں سے ملانے کا اہتمام طلوع و غروب سے بہت تھا۔ میرے والد صاحب اور چچا جان نوراللہ مرقدہما کے یہاں جنتریوں پر زیادہ مدار نہیں تھا، نہ گھڑیوں پر، بلکہ : ‘‘اذا اقبل اللیل من ہہنا وادبر النہار من ہہنا’’ آسمان پر زیادہ نگاہ رہتی تھی۔

۲:- اوپر گزرچکا کہ جنتری کے اعتبار سے ۲،۳ منٹ کی تاخیر ہوتی تھی۔

۳:- کھجور اور زمزم شریف کا بہت اہتمام ہوتا تھا، سال کے دوران میں جو حجاج کرام زمزم اور کھجور کے ہدایا لاتے تھے ،وہ خاص طور سے رمضان شریف کے لئے رکھ دیا جاتا تھا۔ زمزم شریف تو خاصی مقدار میں رمضان تک محفوظ رہتا، لیکن کھجوریں اگر خراب ہونے لگتیں تو وہ رمضان سے پہلے ہی تقسیم کردی جاتیں، البتہ افطار کے وقت آدھی یا پون پیالی دودھ کی چائے کا معمول تھا اور بقیہ اس سیہ کار کو عطیہ ہوتا تھا۔

۴:- حضرت نوراللہ مرقدہ کے زمانے میں تقریباً دس منٹ کا فصل ہوتا تھا ،تاکہ اپنے گھروں سے افطار کرکے آنے والے، اپنے گھر سے افطار کرکے نماز میں شریک ہوسکیں۔

۵:- حضرت کا معمول مدرسہ میں افطار کا رہا، چند خدام یا مہمان ۲۰،۱۵ کے درمیان افطار میں ہوتے تھے، مدینہ منورہ میں مدرسہ شرعیہ میں افطارکا معمول تھا۔

۶:- گزر چکا۔

۷:- نمبر ۳ میں گزر چکا۔

۸:- مغرب یابعد کے نوافل میں مقدار کے اعتبار سے کوئی تغیر نہیں ہوتا تھا، کیفاً ضرور ہوتا تھا کہ معمول سے زیادہ دیر لگتی تھی۔ عموماً سوا پارہ پڑھنے کا معمول تھا اور ماہ مبارک میں جو پارہ تراویح میں حضرت سناتے، وہی مغرب کے بعد پڑھتے۔

۹:- سابقہ میں گزر چکا۔

۰۱:- اوابین کے بعد مکان پر تشریف لے جاکر کھانا نوش فرماتے تھے، تقریباً ۲۰، ۲۵ منٹ اس میں لگتے تھے، کماً اس وقت کی غذا میں بہت تقلیل ہوتی تھی، ہم لوگوں کے یہاں یعنی کاندھلہ اور گنگوہ میں سحر میں پلاؤ کھانے کا بالکل معمول نہیں تھا ،بلکہ سخت خلاف تھا کہ اس کو موجب پیاس خیال کرتے تھے۔ سحر میں پلاؤ سب سے پہلی مرتبہ سہارن پور میں حضرت نوراللہ مرقدہ کے یہاں کھائی۔ اس سیہ کار کا معمول ہمیشہ سے افطار میں کھانے کا کبھی نہیں ہوا، اس لئے کہ تراویح میں قرآن شریف سنانے میں دقت ہوتی تھی ۔البتہ جب تک صحت رہی، سحر میں اناڑی کی بندوق بھرنے کا دستور رہا۔ ایک مرتبہ حضرت قدس سرہ کی مجلس میں اس کا ذکر آگیا کہ یہ ناکارہ افطار نہیں کھاتا، تو حضرت قدس سرہ نے ارشاد فرمایا کہ: افطار میں کس طرح کھایا جاوے، جو کھاویں وہ بھی ضابطہ ہی پورا کرتے ہیں۔

۱۱:- میرے حضرت قدس سرہ کا اخیر کے دو سالوں کے علاوہ کہ ضعف و نقاہت بہت بڑھ گیا تھا، ہمیشہ خود سنانے کا معمول رہا، دارالطلبہ بننے سے پہلے مدرسہ قدیم میں تراویح پڑھایا کرتے تھے۔ دارالطلبہ قدیم بن جانے کے بعد پہلے سال میں تو حضرت کی تعمیل حکم میں میرے والد صاحب نے قرآن پاک سنایا تھا، اس کے بعد سے ہمیشہ حضرت قدس سرہ کا وہاں قرآن پاک سنانے کا معمول رہا۔

۲۱:- اکثر ۲۹/ کی شب میں ختم قرآن کا معمول تھا۔ اس سلسلہ میں ایک عجیب و غریب قصہ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی قدس سرہ کا معروف ہے کہ: اگر رمضان مبارک ۲۹/کا ہوتا تو حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کا معمول یکم رمضان کو دو پارے پڑھنے کا تھا اور ۳۰/کا ہوتا تو یکم رمضان کو ایک پارہ پڑھا کرتے تھے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب نوراللہ مرقدہ یکم رمضان کو اپنی مسجد میں تراویح پڑھانے کے بعد شاہ عبدالقادر صاحب کی مسجد میں تحقیق کے لئے آدمی بھیجا کرتے کہ بھائی نے آج ایک پارہ پڑھا ،یا دو، اگر معلوم ہوتا کہ دو پڑھے تو شاہ صاحب فرمایا کرتے، اب کے رمضان ۲۹/کا ہوگا، یہ علم غیب نہیں کہلاتا، بلکہ علمِ کشف کہلاتا ہے۔

۱۳:- تراویح کے بعد ۱۵، ۲۰ منٹ حضرت قدس سرہ مدرسہ میں آرام فرماتے تھے، جس میں چند خدام پاؤں بھی دباتے، اور قرآن پاک کے سلسلہ میں کوئی گفتگو بھی رہتی، مثلاً کسی نے غلط لقمہ دے دیا یا تراویح میں اور کوئی بات پیش آئی ہو، اس پر تبصرہ تفریح چند منٹ تک ہوتی۔ حضرت قدس سرہ کے پیچھے تراویح پڑھنے کے لئے دور دور سے حفاظ آتے، یہ ناکارہ اپنی تراویح پڑھانے کے بعد اکثر حکیم اسحاق صاحب کی مسجد میں ا ور کبھی کبھی اماں جی کے اصرار و ارشاد پر حضرت قدس سرہ کے مکان پر پڑھاتا تھا ،جلد جلد فراغت کے بعد حضرت قدس سرہ کے یہاں پہنچ جاتا۔اس وقت تک حضرت قدس سرہ کے یہاں ۶،۴ رکعتیں ہوتیں، اس لئے کہ حکیم صاحب مرحوم کی مسجد میں نماز سویرے ہوتی تھی اور مدرسہ اور دارالطلبہ کی مسجد میں تاخیر سے، اور یہ ناکارہ اپنی نااہلیت سے پڑھتا بھی بہت جلدی تھا، ایک مرتبہ حضرت قدس سرہ نے سورۂ طلاق شروع کی اور ‘‘یا یہا النبی اذا طلقتم النساء-04 فطلقوہن’’ (الایۃ) آیت شروع کی اور اس نابکار نے جلدی سے لقمہ دیا: ‘‘یا یہا الذین آمنوا اذا طلقتم النساء’’۔

حضرت حافظ محمد حسین صاحب تو حضرت قدس سرہ کے مستقل سامع تھے، ہر سال اجراڑہ سے سہارنپور رمضان گزارنے تشریف لایا کرتے تھے، نیز حضرت مولانا عبداللطیف صاحب اور میرے چچا جان نوراللہ مرقدہما اقتداء میں تھے، تینوں ایک دم بولے: ‘‘یا یہا النبی’’ تراویح کے بعد حسبِ معمول لیٹنے کے بعد حضرت قدس سرہ نے ارشاد فرمایا: مولوی زکریا سورہے تھے؟ میں نے عرض کیا: حضرت بالکل نہیں، مگر: ‘‘اذا طلقتم النساء فطلقوہن، احصوا العدۃ واتقوااللہ ربکم، ولاتخرجوہن’’ سارے جمع کے صیغے تھے، مجھے یہ خیال ہوا کہ: ‘‘یایہا الذین آمنوا’’ہوگا ‘‘یایہا النبی’’ مفرد کیوں ہوگا؟ حضرت سہارن پوری قدس سرہ نے ارشاد فرمایا: قرآن شریف میں بھی قیاس چلاتے ہو،؟ میں نے عرض کیا: حضرت یہ تو قیاس نہیں، یہ تو قواعدِ نحویہ کی بات تھی۔ ایک مرتبہ حافظ محمد حسین صاحب نے غلط لقمہ دے دیا، میں نے ایک دم صحیح لقمہ دیا، حضرت حافظ صاحب کی زبان سے بے اختیار نکل گیا: نماز ہی میں ‘‘ہاں’’ اور پھر جو میں نے بتایا تھا ،وہی حافظ صاحب نے بتایا، تراویح کے بعد کے وقفہ میں، میں نے حضرت سے عرض کیا کہ: حضرت نے میرا لقمہ لیا یا حافظ کا؟ میرا مطلب یہ تھا کہ حافظ صاحب کی نماز تو ‘‘ہاں’’ کہنے سے ٹوٹ گئی اور حضرت نے اگر ان کا لقمہ لیا ہوگا تو میں عرض کروں گا کہ سب کی ٹوٹ گئی، حضرت قدس سرہ میری حماقت کو سمجھ گئے، حضرت قدس سرہ نے ارشاد فرمایا: کہ میں باولا تھا، جو ان کا لقمہ لیتا، اس قسم کے تفریحی فقرے یا کسی آیت شریفہ کے متعلق کوئی تفسیری نکتہ ہوتا تو اس پر بھی گفتگو فرماتے رہتے۔ایک مرتبہ ‘‘وان تعدوا نعمۃ اللّٰہ’’ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالی کی ایک ایک نعمت میں ہزاروں نعمتیں شامل ہیں، اس لئے ‘‘تعدوا’’ ارشاد فرمایا گیا۔

۱۴:- تراویح کے بعد چند منٹ قیام کے بعد جیسا کہ اوپر لکھا، مکان تشریف لے جاکر ۱۵، ۲۰ منٹ گھروالوں سے کلام فرماتے اور محلہ کی مستورات اس وقت آجاتیں، ان سے بھی کچھ ارشاد فرماتے، اس کے بعد ڈھائی تین گھنٹے سونے کا معمول تھا۔

۱۵:- تہجد میں عموماً دو پارے پڑھنے کا معمول تھا، کبھی کم و بیش ،حسبِ گنجائش اوقات بذل المجہود میں جب نظائر والی حدیث آئی جو مصحفِ عثمانی کی ترتیب کے خلاف ہے، تو حضرت قدس سرہ نے اس ناکارہ سے فرمایا تھا کہ: اس حدیث کو ایک پرچہ پر نقل کردینا ،آج تہجد اسی ترتیب سے پڑھیں گے، یہ فرطِ محبت اور فرطِ عشق کی باتیں ہیں: ‘‘محبت تجھ کو آدابِ محبت خود سکھادے گی’’ سنا ہے کہ حضرت شیخ الہند قدس سرہ کا معمول وتروں کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھنے کا تھا۔ کسی نے عرض کیا کہ :حضرت آدھا ثواب آیا ہے۔ حضرت نے فرمایا: ہاں بھئی! حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اتباع میں جی زیادہ لگے ہے، پڑا ثواب زیادہ نہ ہو۔ میرا خیال یہ ہے کہ ضابطہ میں تو آدھا ہی ثواب ہے، مگر یہ جذبہ عشق شاید پورے حصہ سے بھی بڑھ جائے، مشہور ہے کہ مجنوں، لیلیٰ کے شہر کے کتوں کو پیار کرتا تھا۔

۱۶:- تقریباً صبح صادق سے باختلاف موسم دو یا تین گھنٹے پہلے اٹھنے کا معمول تھا اور صبح صادق سے تقریباً آدھ گھنٹہ پہلے سحر کا معمول تھا ،۱۵، ۲۰ منٹ میں فراغت ہوجاتی تھی، یعنی طلوع فجر سے ۱۰، ۱۵ منٹ پہلے۔

۱۷:- سحر میں دودھ وغیرہ کسی چیز کا اہتمام تو نہیں تھا، کبھی ہدایا میں پھینیاں آجاتیں تو بلا اہتمام سب گھر والوں کے لئے بھگودی جاتیں، ایک آدھ چمچہ حضرت قدس سرہ بھی نوش فرمالیتے، البتہ پلاؤ کبھی کبھی سحر میں حضرت کے یہاں پکائی جاتی تھی۔ البتہ افطار میں کبھی نہیں پکا کرتی تھی، شاید میں پہلے کہیں لکھوا چکا ہوں کہ حضرت قدس سرہ کے یہاں سے قبل کاندھلہ یا گنگوہ میں سحر میں پلاؤ کھانا جرم تھا۔ مشہور یہ تھا کہ اس سے پیاس لگتی ہے، مگر حضرت قدس سرہ کے یہاں کھانے کے بعد سے جب تک اس ناکارہ کی صحت رہی اور سحور کا اہتمام رہا، اس وقت تک تو میرا معمول سحر میں پلاؤ کھانے کا رہا۔ اور اب تو دس سال سے جب سے مہمانوں کا ہجوم بڑھ گیا، افطار میں پلاؤ اور گوشت روٹی کے علاوہ سحر میں میٹھے چاولوں کا بھی ہوگیا۔ حضرت قدس سرہ کے یہاں سحر میں تازہ روٹی پکتی تھی، البتہ سحر میں چائے کا معمول حضرت کے یہاں تھا۔ اس ناکارہ کا اپنا سحر میں کبھی چائے پینا یاد نہیں۔ کیونکہ رمضان میں نماز فجر کے بعد سونے کا معمول ہے۔ ۳۸ھ یعنی پہلے سفر حج سے رمضان میں رات کو نہ سونے کا معمول شروع ہوا تھا جو اب سے ۷،۸ سال پہلے تک بہت اہتمام سے رہا، لیکن اب تو امراض نے سارے ہی معمولات چھڑادیئے۔

۱۸:- حضرت قدس سرہ کے یہاں رمضان میں اسفار میں نماز پڑھنے کا معمول تھا، البتہ غیر رمضان سے دس بارہ منٹ قبل۔

۱۹:- حضرت قدس سرہ کا معمول بارہ مہینے صبح کی نماز کے بعد سے تقریباً اشراق تک سردیوں میں حجرے کے کواڑ بند کرکے اور شدید گرمی میں مدرسہ قدیم کے صحن میں چار پائی پر بیٹھ کر اوراد ،کا معمول تھا، اس میں مراقبہ بھی ہوتا تھا۔ بارہ مہینے اشراق کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ۳۵ھ سے پہلے بخاری اور ترمذی شریف کے سبق کا وقت تھا، لیکن ۳۵ھ کے بعد سے بذل کی تالیف کا وقت ہوگیا تھا، جو ہر موسم میں ۱۱، ۱۲ بجے تک رہتا، لیکن ماہ مبارک میں اشراق کی نماز پڑھنے کے بعد ایک گھنٹہ آرام فرماتے اس کے بعد گرمی میں ایک بجے تک بذل لکھواتے اور سردی میں بارہ بجے تک، اس کے بعد ظہر کی اذان تک قیلولہ کا معمول تھا۔

۲۰:- رمضان میں حضرت قدس سرہ کا معمول ہمیشہ، وصال سے دو سال قبل تک، خود تراویح پڑھانے کا تھا۔ ظہر کی نماز کے بعد تراویح کے پارے کو ہمیشہ حافظ محمد حسین صاحب اجراڑوی کو سنایا کرتے تھے کہ وہ اسی واسطے رمضان المبارک ہمیشہ سہارن پور کیا کرتے تھے، کبھی کبھی ان کی غیبت میں اس سیہ کار کو بھی سننے کی نوبت آئی، البتہ مدینہ پاک میں ظہر کے بعد پارہ سننا اس ناکارہ کے متعلق تھا اور میرے سفر حجاز سے واپسی پر چونکہ بذل بھی ختم ہوگئی تھی، اس لئے ظہر کی نماز کے بعد مستقل ایک پارہ اہلیہ محترمہ کو سنانے کا دستور تھا۔اسی پارے کو جو ظہر کے بعد سنانے کا معمول تھا، مغرب کے بعد اوابین میں اور رات کو تراویح میں پڑھتے تھے۔

۲۱:- ۳۳ھ کے سفر حج سے پہلے، عصر کے بعد میرے والد صاحب نوراللہ مرقدہ سے دَور کا معمول تھا، جو اسی پارہ کا ہوتا تھا جو تراویح میں سناتے، میں نے اپنے والد صاحب قدس سرہ کے علاوہ کسی اور سے دَور کرتے ہوئے نہیں د یکھا۔

۲۲:- میں نے حضرت قدس سرہ کو دیکھ کر تلاوت کرتے ہوئے کم دیکھا ہے، البتہ کبھی کبھی ضرور دیکھا۔

۲۳:- حضرت نوراللہ مرقدہ کو وصال سے دو سال قبل کہ ان دو سالوں میں امراض کا جو اضافہ ہوگیا تھا، ان سے قبل میں نے کبھی آخری عشرہ کا اعتکاف ترک فرماتے نہیں د یکھا اور دارالطلبہ بننے سے قبل مدرسہ قدیم کی مسجد میں کرتے تھے اور دارالطلبہ کے بعد یعنی ۳۵ھ سے دارالطلبہ میں فرماتے تھے اور اس عشرہ میں بھی بذل کی تالیف ملتوی نہیں ہوتی تھی، بلکہ مسجد کلثومیہ کی غربی جانب حجرہ ہے، اس میں بیس تاریخ کو تالیف سے متعلقہ سب کتابیں پہنچ جاتی تھیں جو صبح کی نماز کے بعدیہ ناکارہ اٹھاکر مسجد میں رکھ دیتا اور تالیف کے ختم پر پھر اسی حجرہ میں منتقل کردی جاتیں۔ عشرہ اخیرہ کے علاوہ میں نے کبھی اعتکاف کرتے ہوئے نہیں د یکھا۔

۲۴:- میں نے کوئی خاص فرق نہیں دیکھا بجز اس کے کہ اٹھنے میں کچھ تقدیم ہوجاتی، اگرچہ میں اجمالی طور پر فضائل رمضان میں لکھ چکا ہوں کہ حضرت قدس سرہ اور حضرت حکیم الامت کے یہاں رمضان اور غیر رمضان میں کوئی فرق نہیں ہوتا تھا، بخلاف حضرت شیخ الہند اور اعلیٰ حضرت رائے پوری نوراللہ مرقدہما کے کہ ان دونوں کے یہاں رمضان اور غیر رمضان میں بہت فرق ہوتا تھا کہ میں فضائل رمضان میں لکھ چکا ہوں۔

۲۵:- اس کے علاوہ کہ اخبار دیکھنے کا جو معمول کسی کسی وقت غیر رمضان میں ہوتا تھا، وہ رمضان میں نہیں ہوتا تھا ،بلکہ رمضان میں ان دو سالوں کے علاوہ جن میں میرے والد صاحب کے ساتھ َدور ہوا، تسبیح ہاتھ میں ہوتی تھی اور زبان پر اوراد، آہستہ آہستہ، کوئی خادم بات دریافت کرتا تو اس کا جواب مرحمت فرمادیتے، کچھ لوگ دس پندرہ کے درمیان میں جیسے متولی جلیل صاحب، متولی ریاض اسلام صاحب کاندھلہ سے اور میرٹھ سے رمضان کا کچھ حصہ گزارنے کے لئے حضرت کے پاس آجایا کرتے تھے، مگر اعتکاف نہیں کیا کرتے تھے، اس لئے کہ عید سے ایک دن پہلے گھر واپس جانا چاہتے تھے۔’’ (ضمیمہ ‘‘آپ بیتی پنجم’’ ص: ۴۲تا ۱۴)

جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معصوم ذات، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رشک ملائک شخصیات اور اکابر صلحا رمضان کا اس قدر اہتمام فرماتے تو ہم ایسے غرق عصیاں لوگوں کو تو اس سے زیادہ اس کی ضرورت ہے کہ یہ ہمارے گناہوں کی غلاطت دھونے اور مغفرت الٰہیہ حاصل کرنے کا نادر و انمول تحفہ اور گوہر نایاب ہے۔ غالباً اسی بنا پر فرمایا گیا ہے کہ: ‘‘ہلاک ہو وہ شخص جو رمضان کو پائے اور اپنی مغفرت نہ کراسکے۔’’

٭٭٭