رسول اللہﷺ کے نکاح

مصنف : محمد رفیع مفتی

سلسلہ : گوشہ سیرتﷺ

شمارہ : جنوری 2013

انبیا کی زندگی کا ازدواجی پہلو زیربحث ہو یا کوئی اور سب سے اہم بات جسے ملحوظ رکھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ انبیا خدا کے فرستادہ ہوتے ہیں۔ ان کی اصل شخصیت خدا کے نمائندہ اور اس کے پیغام بر کی ہوتی ہے۔ ان کی ذمہ داریاں ، عام آدمی کے مقابلے میں ، کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں ، گو بشر ہوتے ہیں ، لیکن ان کی شخصیت کا خاص پہلو یہ ہوتا ہے کہ ان پر کار نبوت کی عظیم ذمہ داری ڈالی جاتی ہے۔ وہ انبیائے کرام جو رسالت کے منصب پر بھی فائز ہوں ، انھیں کچھ مزید ذمہ داریاں بھی تفویض کی جاتی ہیں۔ انبیا کی یہ ذمہ داریاں ان کی شخصیت کو ایک عام آدمی سے آگے بڑھ کر کچھ نئے رخ اور نئی جہتیں دے دیتی ہیں۔چنانچہ انھیں عام آدمی کی نسبت کئی اضافی کام انجام دینے پڑتے ہیں۔کسی نبی کی سیرت، اس کے افعال و اعمال اور اس کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے، اگر اس بنیادی حقیقت کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو وہ حکمت جو اس کے مختلف کاموں میں پائی جاتی ہے، کسی صورت میں بھی سمجھی نہیں جا سکتی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ابتدائی دو نکاحوں کے علاوہ جتنے نکاح بھی کیے، ان کی وجہ بشری تقاضے نہ تھے۔ اور نہ آپ کے پیش نظر ، نکاح کے وہ عمومی مقاصد ہی تھے، جن کی خاطر دنیا میں نکاح کیا جاتا ہے، بلکہ ان نکاحوں کی کچھ اور وجوہ تھیں۔ مزید یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ آپ کی ازدواجی زندگی نبوت و رسالت کی ذمہ داریوں سے ایک خاص تعلق رکھتی تھی اور آپ کی ان ذمہ داریوں میں آپ کی ازواج مطہرات کو ایک خاص کردار ادا کرنا تھا۔ اس ساری صورت حال نے آپ کے ہاں ان وجوہ اور ان مقاصد کو جنم دیا، جن کی بنا پر آپ نے مختلف نکاح کیے۔چنا نچہ آپ کے ہاں تعدد ازواج کی حکمت جاننے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ کی شخصیت کے وہ سب پہلو واضح کیے جائیں ، جن کے حوالے سے آپ پر مختلف ذمہ داریاں ڈالی گئی تھیں۔ پھر آپ کی ازدواجی زندگی سے ان ذمہ داریوں کا جو تعلق بنتا ہے، وہ سامنے لایا جائے اور اسے مدنظر رکھتے ہوئے آپ کی ازدواجی زندگی کا مطالعہ کیا جائے۔

 اب ہم ان سب امور کو ایک ترتیب سے مختلف عنوانات کے تحت بیان کرتے ہیں۔

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف حیثیتیں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت، چار مختلف حیثیتوں سے ہمارے سامنے آتی ہے۔ آپ کی پہلی حیثیت ایک بشر کی ہے، دوسری نبی کی، تیسری خاتم النبیین کی اور چوتھی حیثیت رسول کی ہے۔ آپ پر ان سب حیثیتوں کے اعتبار سے ذمہ داریاں ڈالی گئی تھیں۔یہ ذمہ داریاں آپ کی ازدواجی زندگی سے بھی ایک خاص تعلق رکھتی تھیں۔ قرآن مجید میں ان کا ذکر پوری وضاحت سے کیا گیا ہے۔ چنانچہ پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مختلف حیثیتوں کے حوالے سے آپ کی یہ ذمہ داریاں کیا تھیں۔

بشر کی حیثیت سے ذمہ داری

اس حیثیت سے آپ کی ذمہ داری بھی وہی تھی، جو کسی بھی فرد بشر کی ہوتی ہے اور آپ کی ضروریات بھی وہی تھیں ، جو ہر بشر کی ہوتی ہیں۔ سب بشری تقاضے آپ کو بھی لاحق تھے۔ خورونوش، نکاح اور اولاد کی طبعی ضرورت، آپ بھی اسی طرح رکھتے تھے، جیسے سب انسان رکھتے ہیں۔

 نبی کی حیثیت سے ذمہ داری

اس حیثیت سے آپ کو وہ ذمہ داری ادا کرنی تھی جو آپ سے پہلے آنے والے انبیا کی رہی ہے۔ انبیا کی یہ ذمہ داری سورۂ بقرہ میں بیان ہوئی ہے۔ ارشاد باری ہے:کَانَ النَّاسْ اْمَّۃً وَاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّہْ النَّبِیینَ مْبَشِّرِینَ وَمْنذِرِینَ وَاَنزَلَ مَعَہْمْ الکِتَابَ بِالحَقِّ لِیَحکْمَ بَینَ النَّاسِ فِیمَا اختَلَفْوا فِیۃِ.(سورہ البقرۃ)

''لوگ ایک ہی امت تھے (پھر جب انھوں نے دین کے بارے میں باہم اختلاف کیا) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا بھیجے، جو خوش خبری سناتے اور خبردار کرتے ہوئے آئے اور ان کے ساتھ کتاب بھیجی، قول فیصل کے ساتھ تاکہ جن باتوں میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں ، ان میں فیصلہ کر دے۔''

اللہ تعالیٰ اس دنیا میں انبیا کو اس لیے بھیجتا ہے کہ وہ لوگوں کو دین میں اختلاف کرنے کے نتائج بد سے آگاہ کریں اور حق پر قائم رہنے والوں کو کامیابی اور نجات کی خوش خبری سنائیں۔ وہ ان نبیوں کو کتابیں عطا فرماتا ہے۔ یہ کتابیں حق، یعنی قول فیصل کے ساتھ اترتی ہیں تاکہ وہ ان تمام نزاعات کا جو دین حق میں پیدا کر دی گئی ہیں ، فیصلہ کرکے ازسر نو حق کو اجاگر کر دیں۔ اور اس طرح خدا کا دین پھر سے پوری طرح واضح ہو جائے۔ یہ سب کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی انجام دینے تھے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دین کو پوری طرح واضح کر دینے کی یہ ذمہ داری جو ڈالی گئی تھی، وہ اگر اس مرحلے میں پہنچ جاتی ہے کہ لوگوں کو باقاعدہ اس کی تعلیم دینے اور ان کی تربیت کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس موقع پر یہ مسئلہ سامنے آتا ہے کہ خواتین،جو تعدادمیں مردوں کے برابر ہی ہوتی ہیں اور انھی کی مانند خدا کی شریعت کی مکلف بھی ہوتی ہیں ، ان کی تعلیم و تربیت کے لیے بہترسے بہتر کیا صورت ممکن ہے، کیونکہ عورتوں کے لیے ان معاملات میں جو عورتوں ہی کے ساتھ خاص ہیں کوئی مرد، درحقیقت اسوہ بن ہی نہیں سکتا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عورتیں اپنی فطری شرم و حیا کی وجہ سے ، اپنے معاملات میں کسی مرد سے (خواہ وہ خدا کا رسول ہی ہو) آسانی کے ساتھ رہنمائی حاصل نہیں کر سکتیں۔ لہٰذا عورتوں کی تعلیم و تربیت کی یہی صورت ممکن نظر آتی ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج آپ سے براہ راست تعلیم و تربیت حاصل کریں اور نبوت کی ذمہ داری میں آپ کی معاون بنیں۔ سورۂ احزاب میں ازواج نبی کو اسی بات کی طرف متوجہ کیا گیا۔ چنانچہ فرمایا: یَا نِسَاء النَّبیِِّ لَستْنَّ کاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء (الاحزاب) ''اے نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو (بلکہ نبی کی بیویاں ہونے کی وجہ سے امت کی خواتین کے لیے نمونہ ہو)۔''

اور اس کے بعد فرمایا: وَاذکرنَ مَا یْتلَی فِی بیوتِْنَّ مِن آَاتِ اللَِّ وَالحِمَۃِ.(الاحزاب)

''(اے نبی کی بیویو) تمھارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے، اس کا چرچا کرو۔''

ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی کچھ ذمہ داریاں ڈالی گئی تھیں۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ مختلف خواتین کے آپ کے نکاح میں آنے کی حکمتیں خواہ مختلف ہوں ، لیکن نکاح کے بعد آپ کی سب ازواج مطہرات کا اصل کردار یہی تھا کہ وہ آپ کے مشن میں آپ کی معاون بنیں۔

 خاتم النبیین کی حیثیت سے ذمہ داری

خاتم النبیین ہونے کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری تھی کہ آپ دین و شریعت کو ہر طرح سے مکمل کردیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول آنے والا نہ تھا۔ لہٰذا آپ پر نبوت کی ذمہ داری، اپنی آخری اور انتہائی شکل میں ڈالی گئی تھی۔ آپ کے لیے یہ ضروری تھا کہ آپ دین و شریعت کو ہر پہلو سے مکمل کر دیں۔ یہ تکمیل آپ کو علم کے اعتبار سے بھی کرنی تھی اور عمل کے اعتبار سے بھی۔ دین کے نام پر جو تصورات عرب معاشرے میں رائج تھے، ان کی اصلاح بھی آپ کے ذمہ تھی اور وہ باطل رسوم و رواج جو عربوں کے ہاں دینی اور اخلاقی اقدار بن چکے تھے، ان کا قلع قمع کرنا بھی آپ کا فرض تھا۔

کسی معاشرے میں غلط رسوم و رواج اور باطل تصورات ، جب معاشرتی اقدار بن جائیں تو لوگ ان کے خلاف سوچنے اور عمل کرنے میں نفسیاتی او رطبعی رکاوٹیں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایسے معاملات میں صرف زبانی احکام سے اصلاح ناممکن ہو جاتی ہے۔ اور یہ ضروری ہوتا ہے کہ کوئی بڑی شخصیت، جس کے بارے میں کلام کی گنجایش نہ ہو، وہ آگے بڑھے اور ان غلط رسوم و رواج اور باطل تصورات کی بیخ کنی کر دے۔

رسول کی حیثیت سے ذمہ داری

رسول کی حیثیت سے آپ پر جو ذمہ داری ڈالی گئی تھی، اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ نبی اور رسول، دونوں کی ذمہ داریوں کا فرق واضح کیا جائے۔ نبی کی ذمہ داری تو محض دین پہنچا دینا، حق واضح کر دینا اور اختلاف کا فیصلہ کر دینا ہے جبکہ رسول جس قوم میں مبعوث ہوتا ہے، اس میں وہ خدا کی عدالت بن کر آتا ہے۔ وہ پہلے ایک نبی کی طرح اپنی قوم پر حق واضح کرتا اور اس حق کی دعوت دیتا ہے ، پھر اس سے آگے بڑھ کر وہ اس قوم پر اتمام حجت بھی کرتا ہے۔ اگر اس کی قوم ایمان لے آئے تو وہ اس پر خدا کا دین نافذ کرتا ہے۔ اور اگر وہ اس کی تکذیب کر دے تو پھر اتمام حجت کے بعد، رسول اپنی قوم سے ہجرت کر جاتا ہے اور خدا کی طرف سے اس قوم پر موت کی سزا نافذ کر دی جاتی ہے۔ اس سزا کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کی تکذیب کرنے والوں کے لیے دو حالتوں میں سے کوئی ایک حالت ضرور ظاہر ہوتی ہے۔ اگر رسول کے ساتھیوں کی تعداد قلیل ہو تو برائت و ہجرت کے بعد، رسول کے بستی سے نکلتے ہی، آسمانی آفات اس بستی پر مسلط کر دی جاتی ہیں جو اسے بالکل تباہ کر دیتی ہیں۔ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود پر نازل ہونے والے عذاب، اسی قسم کے تھے، لیکن اگر رسول کے ساتھی مناسب تعداد میں ہوں اور اسے ہجرت کے بعدکسی جگہ سیاسی اقتدار بھی حاصل ہو جائے تو پھر رسول کی تکذیب کرنے والوں پر یہ عذاب اس کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے آتا ہے۔ یہ رسالت کا وہ قانون ہے ، جس کی طرف قرآن مجید نے 'لاغلبن انا ورسلی۔کے الفاظ سے اشارہ کیا ہے۔

چنانچہ رسول ہونے کی حیثیت سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم پر اتمام حجت کرنا تھا اور آپ کی دعوت کو لازماً اس مرحلے پر پہنچنا تھا کہ آپ کی قوم آپ پر ایمان لے آئے یا آپ کی تکذیب کے نتیجے میں عذاب خداوندی کی مستحق ٹھہرے اور اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق اپنے رسول کو اس کی قوم پر غالب کر دے۔ قرآن مجید کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مشن سونپا گیا تھا، وہ محض اپنی قوم پر اتمام حجت کر دینے تک محدود نہ تھا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر، آپ کو اپنی قوم پر سیاسی غلبے کی جدوجہد بھی کرنا تھی، آپ کے بارے میں یہ پیشین گوئی کر دی گئی تھی کہ آپ کو جزیرہ نمائے عرب پر سیاسی اقتدارحاصل ہو گا۔قرآن مجید میں یہ پیشین گوئی ان الفاظ میں موجود ہے: ہْوَ الَّذِی اَرسَلَ رَسْولَہْ بِالہدی وَدِینِ الحَقِّ لِیْظہرِ عَلَی الدِّینِ کْلِّہِ (الصف) ''وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو (جزیرہ نماے عرب) کے تمام دینوں پر غالب کر دے۔''

اس غلبے کے حصول کے لیے شرک کے علم برداروں سے جنگ ناگزیر تھی، لیکن جنگ رسول کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا کر دیتی ہے۔ وہ یہ کہ اس سے پیدا ہونے والی نفسیات قبول اصلاح کے ذہن کو آخری حد تک مجروح کر دیتی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو ابن آدم کو فصل نہیں ، وصل؛ قطع رحمی نہیں ، صلہ رحمی؛ تخریب نہیں ، تعمیر اور فساد نہیں ، اصلاح کا درس دینے کے لیے آئے تھے، انھوں نے اس ناگزیر جنگ کے نتیجے میں پید اہونے والی انتقامی نفسیات کو محبت، خیر اور بھلائی کے جذبوں میں بدل دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس سلسلے میں آپ نے عربوں کی خاص معاشرت اور ان کی نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہر وہ اقدام کیا، جس سے آپ کو ذرا بھی اصلاح و خیر کی توقع ہوئی، کیونکہ آپ اصلاً ایک مصلح تھے، نہ کہ جنگجو۔

اب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان مختلف حیثیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، آپ کی ازدواجی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں۔

 نبی کریم کی ازدواجی زندگی

بحیثیت بشر

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بشری ضروریات کے تحت دو نکاح کیے۔ پہلا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اور دوسرا ان کی وفات کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے پچیس سال کی عمر میں نکاح کیا۔ یہ ایک بیوہ خاتون تھیں اور عمر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی رفاقت کا زمانہ پچیس سال کا ہے۔ ان پچیس برسوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شباب کا سارا زمانہ گزر گیا، لیکن اس میں آپ کے ہاں کسی دوسری شادی کا کوئی خیال بھی نہیں پایا جاتا۔ آپ نے اسی عرصے میں اعلان نبوت کیا اور مکہ کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، آپ کی بھرپور مخالفت کی گئی۔ ستایا بھی گیا اور لالچ بھی دیا گیا۔ ایک موقع پر آپ کو یہ پیش کش بھی کی گئی کہ اگر آپ اپنی دعوت سے باز آجائیں یا کچھ مصالحانہ رویہ اختیار کرلیں، تو آپ کو عرب کی سب سے حسین خاتون جو آپ کو پسند ہو، اس سے بیاہ دیتے ہیں۔ آپ اس طرح کی پیش کشوں سے ایک بے نیاز آدمی کی طرح گزر جاتے تھے۔ نہ خدا کے انتخاب میں کوئی خامی تھی کہ آپ کے پائے ثبات میں لغزش آتی اور نہ آپ کی ازدواجی زندگی کسی تشنگی کا شکار تھی کہ اس طرح کی پیش کش کوئی اثر دکھاتی۔

پہلی شادی کے پچیس سال بعد جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ پریشان کن مسئلہ پیدا ہوا کہ آپ کی صاحب زادیاں ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہما تنہا رہ گئیں۔ گھر میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی نہ رہا۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سن رسیدہ خاتون سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بھی پچاس سال تھی اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی عمر بھی پچاس سال تھی۔ یہ ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھیں۔ انھوں نے بھی اسلام کے راستے میں دوسرے مسلمانوں کی طرح تکالیف اٹھائی تھیں۔ مکہ کے حالات جب ان پر تنگ ہو گئے تو یہ اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کر گئیں۔ کچھ عرصے بعد ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور یہ بیوہ ہو گئیں، چنانچہ آپ نے ان سے نکاح کر لیا۔ صاف ظاہر ہے کہ ان کے ساتھ نکاح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر ان کی تالیف قلب بھی تھی۔

 بحیثیت نبی

جیسے کہ اوپر بیان ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داریوں میں آپ کی ازواج مطہرات کو بھی شریک کیا گیا تھا تاکہ وہ نبوت کے کام میں آپ کی ممدومعاون بنیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ واقعتہً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل کا ایک بڑا حصہ ان ازواج مطہرات ہی کے ذریعے سے پھیلا ہے۔ یوں آپ کی سب ازواج مطہرات اس ذمہ داری میں شامل تھیں، مگر خاص کار نبوت میں معاونت کے حوالے سے جو خاتون آپ کے نکاح میں آئیں، وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان کے ساتھ نکاح دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا انتخاب نہ تھا، بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے کار نبوت میں اپنے رسول کی معیت و معاونت کے لیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو منتخب فرمایا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: مجھے خواب میں تم دو دفعہ دکھائی گئیں اور کہا گیا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے: جبریل امین، رسول اللہ کے پاس حضرت عائشہ کی تصویر، سبز ریشم میں لائے اور آپ سے کہا کہ یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی بیوی ہیں۔چنانچہ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معاونت کے لیے اللہ تعالیٰ کا انتخاب تھیں۔ منصب نبوت میں ایک خاص معاونت کے لیے کون سی خاتون موزوں ہو سکتی ہے، ظاہر ہے کہ اس بات کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کر سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی پانے کے بعد، امت کی تعلیم و تربیت کے لیے اتنا زیادہ کام کیا، جتنا آپ کی تمام ازواج نے مل کر بھی نہیں کیا۔ یہ بات، بلامبالغہ، درست ہے کہ اس دنیا کے کسی بھی رہنما کی بیوی اس کے کام میں مددگار ثابت نہیں ہوئی، جتنی حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کام میں مددگار ثابت ہوئیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھنے والی یہ طالبہ، آپ کی وفات کے بعد، امت کی معلمہ بن گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وَاذکْرنَ مَا یْتلَی فِی بْیْوتِکْنَّ مِن آیَاتِ اللَّہِ وَالحِکمَۃِ کا مجسم نمونہ بنا دیا۔ آپ سے ۲۲۱۰روایات مروی ہیں۔ یہ روایات، دراصل اس دینی تعلیم کا ایک بے حد اہم حصہ ہیں، جو آپ سے اس امت مسلمہ نے پائی ہے۔ آپ فقیہ بھی تھیں اور مفسر و مجتہد بھی۔ اکابر صحابہ آپ سے مسائل پوچھا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما بھی آپ سے مسائل کے بارے میں استفسار کیا کرتے تھے۔

 اس کے بعد ہم آپ کے ان نکاحوں کی طرف آتے ہیں جو آپ نے معاشرتی ضرورت کے تحت کیے۔ آپ چونکہ نبی ہونے کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے اسوہ یعنی نمونہ ہیں، لہٰذا ہم نے آپ کے ان نکاحوں کو جو آپ نے معاشرتی ضرورت کے تحت کیے، آپ کے حیثیت نبوت میں کیے گئے نکاحوں میں شمار کیا ہے۔ ان نکاحوں کا پس منظر اس طرح سے ہے:

 تین ہجری میں مسلمانوں کو جنگ احد لڑنا پڑی۔ اس جنگ میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے اور اپنے پیچھے کئی یتیم بچے اور بیوائیں چھوڑ گئے۔ یہ ان شہدا کے لواحقین تھے، جنھوں نے اپنے خون سے تاریخ اسلام کا ایک اہم باب رقم کیا تھا۔ اسلام نے مسلمانوں میں ایثار و قربانی کا بے پناہ جذبہ پیدا کر دیا تھا۔ ایثار و قربانی کے اسی جذبے کی بنا پر کئی لوگوں نے ان یتیم بچوں اور بیواؤں کو اپنی سرپرستی میں لے لیا اور ان کی کفالت کرنے لگے۔ اس موقع پر سورہ نساء نازل ہوئی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے ان سرپرستوں کو مخاطب کرکے ان کی ذمہ داریاں بتائیں اور ان کے لیے وہ صورت تجویز کی، جس سے وہ عدل و انصاف کے دائرے میں رہتے ہوئے، یتیموں کی سرپرستی کی اس عظیم ذمہ داری سے بخوبی عہدہ برآ ہو سکتے تھے۔ فرمایا: وَاِن خِفتْم ان َلاَّ تْقسِطْوا فِی الیَتَامَی فَانکِحْوا مَا طَابَ لَکْم مِّنَ النِّسَاء مَثنَی وَثْلاَثَ وَرْبَاعَ فَاِن خِفتْم ان َلاَّ تَعدِلْوا فَوَاحِدَۃً (النساء)

''اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں (یتیموں کی ماؤں ) میں سے جو تمھارے لیے جائز ہوں، ان سے دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کر لو۔ اگر ڈر ہو کہ ان کے مابین عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی پر بس کرو۔''

اسلام نے یتیموں اور بیواؤں کو معاشرے کا باقاعدہ حصہ بنا دینے کے لیے ایک بڑا حکیمانہ حل پیش کیا، لیکن کسی بیوہ سے نکاح کرنا اور اس کے یتیم بچوں کی ذمہ داری، باقاعدہ اپنے سر لے لینا، کوئی آسان کام نہ تھا۔ خصوصاًاس صورت میں جبکہ دوسروں کے حقوق، انصاف کے ساتھ ادا کرنا بھی لازم تھا۔ لہٰذا یہ ضروری ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اس معاملے میں اقدام کریں اور آپؐ یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کی اس معاشرتی ذمہ داری میں مسلمانوں کے لیے اسوہ بنیں۔ اور آپ کا یہ نکاح کرنا ان مسلمانوں کے لیے ترغیب کا باعث بنے جو یتیموں کے معاملے میں بے انصافی کا خوف رکھتے ہیں، لیکن کسی سبب سے اس اقدام سے گھبراتے ہیں۔ چنانچہ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بیوہ خواتین سے نکاح کیا۔ یہ خواتین حضرت حفصہؓ، حضرت زینبؓ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہن ہیں۔ ان سے نکاح کی تفصیل درج ذیل ہے:

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں۔ جنگ احد میں ان کے خاوند شہید ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں فکر مند ہوئے اور انھوں نے چاہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ یا عثمان رضی اللہ عنہ میں سے کوئی ایک، ان کو اپنے نکاح میں قبول کر لے، لیکن ان دونوں حضرات نے خاموشی اختیار کی۔ حضرت عمرؓ ان کی خاموشی سے رنجیدہ خاطر ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایتاً حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے رویے کا ذکر کیا۔ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا کہ میں خود حضرت حفصہ کو اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ظاہر ہے، سیدنا عمر اور بنت عمر رضی اللہ عنہما کے لیے اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی تھی۔ چنانچہ حضرت حفصہ آپ کے نکاح میں آ گئیں۔

حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہے۔ ان کی شادی طفیل بن حارث رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد، کسی وجہ سے انھوں نے طلاق دے دی۔ پھر ان کا نکاح عبداللہ بن جحش سے ہوا۔ کچھ ہی عرصہ بعد، جب جنگ احد ہوئی تو یہ اس میں شہید ہو گئے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا ایک بار پھر بیوہ ہو گئیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا۔ زینب بنت خزیمہ کے آنے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں چار ازواج مطہرات ہو گئیں۔ تعدد ازواج کے بارے میں سورہ نساء میں جو قانون نازل ہوا تھا، اس کے مطابق اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزید کوئی نکاح نہیں کر سکتے تھے، لیکن چند ماہ کے بعد، جب حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا انتقال کر گئیں تو آپ کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ آپ کسی اور بیوہ کو سہارا دے سکیں۔ چنانچہ۴ ہجری میں آپ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے حبالہ عقد میں لے آئے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد تھیں اور اسلام لانے والے ابتدائی لوگوں میں سے تھیں۔ مکہ میں جب مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہوا تو یہ بھی ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ حبشہ چلی گئیں۔ وہاں کچھ عرصہ رہ کر واپس مکہ آگئیں۔ پھر جب مدینہ کی طرف ہجرت شروع ہوئی تو یہ اپنے خاوند ابو سلمہ کے ساتھ مدینہ چل پڑیں، لیکن ان کے خاندان نے انھیں ہجرت کرنے سے روک دیا۔ سسرال والوں نے ان کا بیٹا بھی چھین لیا۔ چاروناچار ان کے خاوند کو تنہا ہجرت کرنا پڑی۔ ام سلمہ نے ایک سال تک جدائی کی صعوبتیں برداشت کیں۔ پھر ان کے خاندان والوں نے ان پر رحم کیا اور ہجرت کی اجازت دے دی۔ سسرال والوں نے بھی ان کا بیٹا انھیں واپس کر دیا۔ چنانچہ ایک سال کے بعد ان کا گھرانا مدینہ میں پھر سے یکجا ہو گیا۔ ۳ ہجری میں جنگ احد ہوئی۔ ابو سلمہ اس میں زخمی ہو گئے اور کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد، زخموں کے بگڑ جانے کی وجہ سے شہید ہو گئے۔ ام سلمہ بیوہ ہو گئیں اور ان کے چار بچے باپ کے سایہ شفقت سے محروم ہو گئے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اسلام کی خاطر، ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ کے دوران میں جن سخت آزمایشوں سے گزری تھیں اور پھر جن حالات سے دوچار ہوگئی تھیں، ان سب کا خیال کرتے ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا اور ان کی وہ اولاد جو ابو سلمہ سے تھی، اب انسانیت کے مربی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرسایہ پرورش پانے لگی۔

بحیثیت خاتم النبیین

آخری نبی ہونے کے حوالے سے آپ کی یہ ذمہ داری تھی کہ آپ دین و شریعت کو ہر طرح سے مکمل کر دیں۔ یہ تکمیل آپ کو علم کے اعتبار سے بھی کرنا تھی اور عمل کے اعتبار سے بھی۔ دین کے نام پر جو غلط تصورات عرب معاشرے میں رائج تھے، ان کی اصلاح بھی آپ کے ذمہ تھی اور وہ باطل رسوم و رواج، جو عربوں کے ہاں اخلاقی اقدار بن چکے تھے، ان کا قلع قمع کرنا بھی آپ ہی کا فرض تھا۔ عربوں کے ہاں دین کے نام پر جو غلط رسوم و رواج اور تصورات پائے جاتے تھے، ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ متبنی (منہ بولے بیٹے) کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح حرام سمجھتے تھے۔ کسی چیز کے بارے میں حلال و حرام کا تصور جب ایک دفعہ قائم ہو جائے تو پھر اس کے خلاف سوچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس باطل تصور کو توڑنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اس نوعیت کا کوئی موقع میسر آئے اور آپ آگے بڑھ کر خود اس رسم کا عملاً قلع قمع کر دیں تاکہ اس باطل تصور کی ہمیشہ کے لیے اصلاح ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے اس رسم کو عملاً توڑنے کا موقع آپ کو آپ کے متبنیٰ حضرت زید رضی اللہ عنہ کی مطلقہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کی شکل میں مہیا کر دیا، اور آپ کو یہ حکم دیا کہ آپ ان سے نکاح کریں۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ نکاح کرنے میں متردد تھے، لیکن خدا کے پیش نظر یہ تھا کہ وہ اپنے آخری پیغمبر کے ذریعے سے ہدایت کو اس کی آخری شکل میں مکمل کر دے۔ اس واقعے کی پوری تفصیل اور اس کا پس منظر اس طرح ہے:

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرب معاشرے میں موجود، جن خرابیوں کی اصلاح کے لیے مصروف عمل تھے، ان میں سے ایک غلامی کا مسئلہ بھی تھا۔ آپ ہر ممکن کوشش کر رہے تھے کہ غلامی کو جڑ سے اکھاڑ دیں اور غلاموں کے بارے میں ان تصورات کی اصلاح کر دیں جو عربوں کے ہاں عرصہ دراز سے پائے جاتے ہیں۔ عربوں کے ہاں آزاد اور غلام میں زمین آسمان کا فرق سمجھا جاتا تھا۔ اگر کوئی غلام آزاد کر بھی دیا جاتا، تب بھی اس کا درجہ معاشرے میں آزاد آدمی کی نسبت بہت کم رہتا تھا۔ معزز گھرانے کی کوئی آزاد خاتون اس کے ساتھ نکاح کرنے کا تصور تک نہ کر سکتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات واضح کر نے کے لیے کہ اسلام کی پسندیدہ معاشرت میں، انسانی اور معاشرتی سطح پر، آزاد اور غلام کے مابین کوئی فرق نہیں ہے، اپنے خاندان کی ایک آزاد خاتون زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کرنا چاہا۔ زینب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی کی بیٹی تھیں۔ ان کی پرورش عرب کے معزز ترین گھرانے میں ہوئی تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کے لیے، حضرت زینب کے ساتھ نکاح کا پیغام دیا تو ان کے رشتہ داروں نے اسے منظور نہیں کیا اور خود حضرت زینب نے بھی اس رشتے کو اپنے لیے پسند نہیں کیا۔ ان کے اپنے الفاظ جو روایات میں آتے ہیں، وہ یہ ہیں : ''میں نسب کے اعتبار سے زید سے برتر ہوں، میں قریش کی شریف زادی ہوں،لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر اصرار ہے کہ یہ نکاح ہو تو انھوں نے اور ان کے خاندان والوں نے فوراً سر تسلیم خم کر دیا۔

حضرت زید ایک حساس،خود دار اور منکسرالمزاج آدمی تھے۔وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام دل داریوں کے باوجود بھی اپنے دور غلامی کو نہیں بھولے تھے جبکہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزاج میں ایک نوعیت کی تندی و تیزی تھی۔ چنانچہ نکاح کے بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ ان کی طبیعت کی شدت کو مسلسل ان معنوں میں لیتے رہے کہ وہ انھیں اپنی برتری کا احساس دلاتی ہیں، اور ان کے ساتھ اپنے اس تعلق کو ناپسند کرتی ہیں اور اس کا اظہار وہ اپنے تند و تیز لہجے سے کرتی ہیں۔ حضرت زید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس احساس کا ذکر کیا اور حضرت زینب کو طلاق دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ آپ نے انھیں، سختی کے ساتھ، اس ارادے سے روکا اور خدا کا خوف دلایا، کیونکہ مجرد یہ احساس اس بات کی کوئی معقول وجہ نہیں کہ بیوی کو طلاق دے دی جائے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے احساس سے دامن نہ چھڑا سکے اور بالآخر حضرت زینب کو طلاق دے دی۔ حضرت زید کا یہ اقدام کئی وجوہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پریشانی کا باعث ہوا۔ ایک اس وجہ سے کہ آپ نے جس اعلیٰ مقصد کے لیے یہ رشتہ کرایا تھا، وہ مقصد اس طلاق سے مجروح ہوا تھا۔ دوسری وجہ یہ کہ حضرت زینب، جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر رشتے کو قبول کیا تھا، ان کی حیثیت عرفی کو بڑا نقصان پہنچا تھا۔ ان کا غم دہرا ہو گیا۔ پہلے انھوں نے منافقین کے یہ طعنے سنے کہ وہ ایک آزاد کردہ غلام کی بیوی ہیں اور اب ان کو یہ سننا پڑتا تھا کہ وہ ایک آزاد کردہ غلام کی مطلقہ ہیں۔تیسری یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو اس سارے واقعے کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ چنانچہ آپ اس ساری صورت حال کے بعد یہ خیال کرتے تھے کہ اس مسئلے کا حل اور حضرت زینب کی دل داری اور تالیف قلب کی واحد صورت اب یہی باقی رہ گئی ہے کہ آپ خود ان کو اپنے نکاح میں لے لیں۔ ایک یہ کہ زینب اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے کی بیوی ہونے کے ناتے سے، عربوں کے خود ساختہ تصور کے مطابق، آپ کے لیے جائز نہ تھیں۔ چنانچہ یہ خدشہ تھا کہ منافقین کی سرکوبی سے پہلے،اگر اس تصور کی اصلاح کے لیے قدم اٹھایا گیا تو وہ اس سے بہت فتنہ اٹھائیں گے۔ آپ کے تردد کی دوسری وجہ یہ تھی کہ تعدد ازواج کی حد چار تک متعین کر دی گئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہلے ہی چارازواج موجود تھیں۔ لہٰذا قانوناً ان سے نکاح کی کوئی صورت بھی موجود نہ تھی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکم ہوا کہ آپ یہ نکاح کریں تاکہ آپ کے عمل سے عربوں کے متبنی کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح حرام سمجھنے کے تصور کا خاتمہ ہو جائے اور جو دین فطرت آپ لوگوں کو دے رہے ہیں، اس میں کوئی غیر فطری بات شامل نہ ہونے پائے۔ارشاد باری ہے: فلما قضٰی زید منھا وطراََ زوجنکھا لکی لا یکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیائھم اذا قضوا منھن وطرا۔ (الاحزاب37)

''پس جب زید نے اس سے اپنا رشتہ کاٹ لیا تو ہم نے اس کو تم سے بیاہ دیا تاکہ تم مومنوں کے لیے، ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق کاٹ لیں، کوئی تنگی باقی نہ رہے۔''

حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کے حکم سے یہ بات، ازخود، نکلتی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نکاحوں کی حد عام مسلمانوں کی طرح چار ازواج تک نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ آپ کی مختلف حیثیتوں کے حوالے سے جو ذمہ داریاں آپ پر ڈالی گئی تھیں ؛ جو عظیم کام آپ کو انجام دینے تھے؛ جس ماحول میں آپ کو اپنا مشن پایہ تکمیل کو پہنچانا تھا اور جس صورت حال سے آپ کو سابقہ پیش آنے والا تھا، وہ سب اس کے متقاضی تھے کہ آپ کے لیے چند دوسرے معاملات کی طرح، نکاح کے معاملے میں خصوصی قانون نازل ہو تاکہ آپ اپنا مشن زیادہ خوبی سے انجام دے سکیں۔چنانچہ جب نکاح کا وہ قانون جو سب مسلمانوں کے لیے نازل ہوا تھا، زینب بنت جحش کے ساتھ نکاح کے موقعے پر آپ کے لیے ناکافی ثابت ہوا تو اللہ تعالیٰ نے چار نکاحوں کی تحدید سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مستثنیٰ کرتے ہوئے آپ کو زینب بنت جحش سے نکاح کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ ہم تمھیں اس نکاح کا حکم اس لیے دے رہے ہیں تاکہ تمھارا یہ نکاح کرنا مسلمانوں کے لیے ایسے نکاح کے جوازکی مثال بنے اور ان کے لیے اس طرح کا نکاح کرنے میں کوئی (طبعی یا معاشرتی) رکاوٹ باقی نہ رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نکاح کی یہ وہ حکمت ہے جو خود پروردگار عالم نے بیان کی ہے۔ اس ایک نکاح کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو براہ راست حکم دیا، لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کے لیے نکاح کا خصوصی قانون بھی نازل کر دیا۔ یہ قانون سورہ احزاب کی آیات 50 تا 52 میں بیان ہوا ہے۔ اس میں خود اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے وہ دائرہ متعین کر دیا، جس کے اندر آپ نکاح کر سکتے تھے اور وہ حکمت بھی بیان کر دی، جس کی بنا پر آپ کے لیے یہ خصوصی قانون نازل کیا گیا تھا۔ ارشاد باری ہے: ''اے نبیؐ، ہم نے تمھاری ان بیویوں کو تمھارے لیے جائز کیا جن کے مہر تم دے چکے ہو اور تمھاری ان مملوکات کو بھی تمھارے لیے حلال کیا جو اللہ نے بطورِ غنیمت عطا فرمائیں اور تمھارے چچا کی بیٹیوں اور تمھاری پھوپھیوں کی بیٹیوں اور تمھارے ماموؤں کی بیٹیوں اور تمھاری خالاؤں کی بیٹیوں میں سے بھی ان کو حلال ٹھہرایا جنھوں نے تمھارے ساتھ ہجرت کی اور اس مومنہ کو بھی جو اپنے تئیں نبی کو ہبہ کر دے، بشرطیکہ پیغمبر اس کو اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔ یہ خاص تمھارے لیے ہے، مسلمانوں سے الگ۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے جو کچھ ہم نے ان پر، ان کی بیویوں پر اور لونڈیوں کے باب میں، فرض کیا ہے، (یہ اجازت تمھیں اس لیے دی گئی ہے )تاکہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ تم ان میں سے جن کو چاہو، دور رکھو اور اگر تم ان میں سے کسی کے طالب بنو جن کو تم نے دور کیا ہے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ یہ اس بات کے زیادہ قرین ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں، اور وہ غمگین نہ ہوں، اور اس پر قناعت کریں جو تم ان سب کو دو اور اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا، بردبار ہے۔ ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمھارے لیے جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کی جگہ دوسری بیویاں کر لو، اگرچہ ان کا حسن تمھارے لیے دل پسند ہو، بجز ان کے جو تمھاری ملکیت ہوں اور اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔''(سورہ احزاب ۵۰۔۵۲)

ان تین آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نکاح کا جو قانون بیان کیا گیا ہے، اس کے نمایاں پہلو یہ ہیں :

۱۔ آپ کی وہ ازواج جن کے مہر آپ ادا کر چکے ہیں، وہ بلااستثنا آپ کے لیے جائز ہیں۔

 ۲۔ وہ ملک یمین، جو بطور ‘فے’ آپ کو حاصل ہوں، اگر ان میں سے کسی سے آپ نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔

۳۔ آپ کے قریبی رشتے کی خواتین، جنھوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی، ان سے نکاح کرنا بھی آپ کے لیے جائز ہے۔

۴۔ اگر کوئی مومنہ، اپنے تئیں آپ کو ہبہ کر دے اور آپ اس کو نکاح میں لینا چاہیں تو آپ کو اس کی اجازت ہے۔

 ۵۔ نکاح کا یہ قانون صرف آپ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ آپ (اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے) کسی تنگی میں مبتلا نہ ہوں۔

 ۶۔ حقوق زوجیت کے معاملے میں آپ کو عام مسلمانوں کی بہ نسبت یہ رعایت ہے کہ آپ پر بیویوں کے درمیان عدل واجب نہیں۔

۷۔ اگر آپ کسی بیوی کو اپنے سے الگ رکھنے (یعنی ازدواجی تعلق سے معزول کرنے) کے بعد دوبارہ اسے اپنے پاس رکھنا چاہیں توآپ ایسا کر سکتے ہیں۔ اس معاملے میں آپ پر کوئی پابندی نہیں۔

 ۸۔ آپ ان آیات میں بیان کردہ دائرے سے باہر کوئی نکاح نہیں کر سکتے، البتہ ملک یمین آپ کے لیے جائز ہے۔

 ۹۔ آپ کے لیے یہ بات جائز نہیں کہ آپ ان ازواج کو دوسری ازواج سے بدل لیں، خواہ وہ آپ کے لیے کتنی ہی دل پسند ہوں۔

ان آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دائرہ نکاح کی یہ تحدید جس طرح سے کی گئی ہے، وہ اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں نکاح کے عمومی مقاصد ہرگز پیش نظر نہیں، بلکہ کچھ دوسری مصلحتیں ہیں، جن کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تعدد ازواج کا یہ خصوصی قانون نازل کیا گیا ہے۔ ان آیات سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عام مسلمانوں کی طرح یہ جائز نہیں کہ آپ محرمات کے علاوہ، جس خاتون سے چاہیں نکاح کرلیں۔ آپ کے لیے حلت نکاح کا عام دائرہ دو شرائط لگا کر انتہائی محدود کر دیا گیا۔ پہلی شرط یہ کہ وہ خاتون آپ کی قریبی رشتہ دار ہو اور دوسری یہ کہ اس نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو، لیکن یہ دائرہ، چونکہ ان سب حکمتوں کو سمیٹنے کے لیے کافی نہ تھا جو رسول اللہ کے ان نکاحوں میں پیش نظر تھیں تو آپ کے لیے مال فے سے حاصل ہونے والی لونڈیوں کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرنا بھی جائز قرار دیا گیا۔ لہٰذا آپ کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ اگر آپ کسی دینی یا سیاسی مصلحت کے پیش نظر مال فے میں سے حاصل ہونے والی لونڈی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرنا چاہیں تو کر لیں۔ اور اس عورت سے نکاح کرنا بھی آپ کے لیے جائز قرار دیا گیاجو اپنے تئیں آپ کو ہبہ کر دے۔ ان آیات میں آپ کو، عام مسلمانوں سے ہٹ کر، حقوق زوجیت کے معاملے میں بہت سہولت دی گئی ہے۔

پھر مزید یہ کہ 'لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بہن من ازواج ولو اعجبک حسنہن کے الفاظ بھی اپنے سیاق و سباق میں اسی پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ کے نکاحوں سے نکاح کے عام مقاصد پیش نظر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات واضح کر دی کہ اس بیان کردہ دائرے سے باہر جتنی عورتیں بھی ہیں، وہ آپ کے لیے سرے سے حلال ہی نہیں اور نہ ان بیویوں کو کچھ دوسری عورتوں سے بدلنا آپ کے لیے جائز ہے، خواہ وہ عورتیں آپ کو بہت دل پسند ہوں۔ یہ اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قانون میں جس حکمت کو اصلاً ملحوظ رکھا ہے، وہ نہ اس دائرے سے باہر کسی عورت میں پائی جاتی ہے اور نہ ان بیویوں کو دوسری بیویوں سے بدلنے کے بعد باقی رہتی ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے پیش نظر یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے رسولوں کے لیے بہت سی عورتیں اکٹھی کر دے اور نہ اس نے نکاح کے عمومی مقاصد ہی کی خاطر یہ قانون نازل فرمایا ہے۔

اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی واضح کر دی کہ رسول کا معاملہ یہ نہیں ہوتا کہ وہ نسوانی حسن سے رغبت کے بجائے نفرت رکھتا ہے۔ وہ نخل فطرت کا بہترین ثمر ہوتا ہے۔ خدا اس کو مرد بناتا ہے تو عورت کی طرف طبعی رغبت بھی اس کی فطرت میں رکھتا ہے۔ البتہ، نبی، چونکہ روحانی اور اخلاقی بلندیوں پر فائز ہوتا ہے، لہٰذا یہ بات اس کی شان سے بہت فروتر ہے کہ کسی عورت کا فطری اور طبعی طور پر دل پسند ہونا، اس کی زندگی میں ایسی اہمیت اختیار کر جائے، جس کی بنا پر وہ اپنی ذمہ داریوں ہی سے غافل ہوجائے۔ یہ سب کچھ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس ذات علیم و حکیم کی نگاہ میں آپ کے نکاح کے مقاصد اس کے عمومی مقاصد سے بہت مختلف تھے۔

جہاں تک اس قانون کی حکمت کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے 'لکیلا یکون علیک حرج' کے الفاظ سے یہ بتا دیا ہے کہ اس قانون سے اس کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کی تنگی کو دور کرنا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے راستے میں وہ کون سی تنگی محسوس کر رہے تھے، جسے دور کرنے کے لیے نکاح کے قانون کو وسعت دینا ضروری تھا؟ اس سوال کا جواب بھی اسی آیت میں موجود ہے۔ اس میں ضمیر خطاب کا مصداق 'النبی' کا وہ لفظ ہے، جس سے ان آیات کی ابتدا ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رسول بھی تھے اور نبی بھی۔ ان آیات میں چونکہ آپ کو ان دونوں حیثیتوں سے مخاطب بنانا مقصود تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو 'النبی' کا لفظ جو آپ کی بنیادی حیثیت کو واضح کرتا تھا، اس سے خطاب فرمایا اور یہ بتایا کہ اے نبی، یہ قانون ہم نے اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تمھیں اپنی (نبوت و رسالت کی) ذمہ داریاں ادا کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ یہ تھی وہ حکمت جس کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ خصوصی قانون نازل کیا گیا۔

اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کے مطالعے کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ اس قانون کے نازل ہونے کے بعد آپ نے جتنے نکاح بھی کیے، چونکہ وہ زیادہ تر رسالت کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں معاونت کا پہلو رکھتے تھے، لہٰذا ہم نے انھیں ان نکاحوں میں شمار کیا ہے جو آپ نے بحیثیت رسول اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے دعوتی یا سیاسی مصالح کے تحت کیے ہیں۔

بحیثیت رسول

رسول کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ مقدر کر دیا گیا تھا کہ آپ کو جزیرہ نمائے عرب میں سیاسی غلبہ حاصل ہو۔ اس غلبے کے حصول کے لیے شرک کے علم برداروں سے جنگ ناگزیر تھی، لیکن جنگ رسول کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا کر دیتی ہے۔ وہ یہ کہ اس سے پیدا ہونے والی نفسیات انسان کے لیے قبول اصلاح کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ناگزیر جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انتقامی نفسیات کو محبت، خیر اور بھلائی کے جذبوں میں بدل دینے کی ہر ممکن کوشش کی اور اس سلسلے میں آپ نے عربوں کی معاشرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے، ہر وہ اقدام کیا جس سے آپ کو ذرا بھی اصلاح کی توقع ہوئی۔آپ کی انھی کوششوں میں یہ تدبیر بھی شامل تھی کہ آپ مختلف قبائل میں نکاح کے ساتھ ان کے ساتھ رشتہ داری پیدا کرلیں۔ یہ تدبیر، دراصل، آپ نے عرب کی مخصوص معاشرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کی۔ آپ جس ملک میں غلبہ دین کی یہ جدوجہد کر رہے تھے، وہاں قبائلی طرز کی معاشرت، اپنی خاص روایات کے ساتھ موجود تھی۔ ان روایات میں جہاں بہت کچھ غلط تھا، وہاں بعض ایسے پہلو بھی تھے، جو اپنے اندر بہت خیر رکھتے تھے۔ انھی میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ عرب رشتہ مصاہرت کا بہت احترام کرتے تھے۔ ان کے ہاں دامادی کا رشتہ مختلف قبائل کے مابین قربت و محبت کا ایک بڑا ذریعہ ہوتا تھا۔ داماد سے جنگ کرنا اور محاذ آرائی کرنا ان کے ہاں بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ان حالات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ تدبیر ممکن تھی کہ آپ مختلف خاندانوں میں نکاح کرکے عداوتوں کو ختم کر دیں اور ان سے پختہ تعلقات قائم کرلیں۔ ظاہر ہے کہ اس غرض کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نکاح کیے، وہ محض سیاسی اور ملی مصالح کے تحت کیے تھے۔ ان سے نکاح کے عام مقاصد آپ کے پیش نظر ہی نہ تھے۔

آپ کی ازدواجی زندگی کے مطالعے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ سیاسی اور ملی مصالح کے پیش نظر آپ نے چار خواتین حضرت جویریہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہن سے نکاح کیا۔ ان خواتین کے ساتھ آپ کے نکاح کرنے کی تفصیل اس طرح سے ہے:

ان میں سے پہلی خاتون حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ہیں، جو ۵ہجری میں امہات المومنین میں شامل ہوئیں۔ یہ قبیلہ بنو مصطلق کے سردار کی بیٹی تھیں۔ اس قبیلے کا پیشہ راہ زنی تھا۔ انھوں نے وہ حق قبول کرنے سے انکار کر دیا، جو خدا کا رسول لایا تھا۔ ۵ ہجری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قبیلہ بنو مصطلق کے لوگ مسلمانوں سے جنگ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ آپ ان سے مقابلے کے لیے صحابہ کو لے کر نکلے۔ جنگ ہوئی، اللہ اور اس کا رسول غالب رہے۔ بنو مصطلق کی ایک کثیر تعداد گرفتار ہوئی۔ ان اسیران جنگ میں جویریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ یہ جس صحابی کے حصے میں آئیں، ان سے انھوں نے مکاتبت کر لی، لیکن آزادی کے لیے جورقم چاہیے تھی، وہ میسر نہ تھی۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اس رقم کے لیے آپ کے در سخاوت پر دستک دی۔ میدان جنگ میں غالب رہنے والا میدان سخاوت میں غالب تر تھا۔ آپ نے نہ صرف زرمکاتبت ادا کر دیا، بلکہ انھیں اپنی طرف سے پیغام نکاح بھی دیا۔ جو یریہ رضی اللہ عنہا نے اسے قبول کر لیا اور آزاد ہونے کے بعد آپ کی زوجیت میں آگئیں۔

پیغمبر کی نگاہ بہت دور رس ہوتی ہے۔ جویریہ حریم رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہوئیں۔ مسلمانوں نے بنو مصطلق کے سب قیدی آزاد کر دیے اور یہ کہا کہ یہ اب رسول اللہ کے سسرالی رشتہ دارہیں۔انھیں کوئی قیدی بنائے تو کیسے، یہ لوگ تو قابل احترام ہیں۔ اور پھر چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ قبیلہ بنو مصطلق کے سبھی لوگ مسلمان ہو گئے۔ رسول اللہ کی تلوار نے جس سرکش مدمقابل کو مغلوب کر دیا تھا، آپ کے اخلاق نے اسے آپ کا ہم رکاب بنا دیا۔

۶ہجری میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آپ کی زوجیت میں آئیں۔ یہ رشتے میں آپ کے چچا کی پوتی تھیں اور اسلام لانے والے ابتدائی لوگوں میں سے تھیں۔ جب مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو اس وقت یہ بھی اپنے شوہر کے ہمراہ حبشہ ہجرت کر گئیں۔ وہاں ان کے شوہر نے عیسائیت اختیار کر لی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ میں پڑی ہوئی اس بے سہارا خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ حبشہ کے حکمران نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ام حبیبہ سے کر دیا۔ ان کا والد ابو سفیان ایک عرصے سے مسلمانوں کے ساتھ برسرپیکار تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنی زوجیت میں لے آئے تو عرب معاشرے کی اس اخلاقی خوبی نے اپنا کام دکھایا اور ابو سفیان کی دشمنی کا زور ٹوٹ گیا۔ اب وہ اپنے داماد کے مقابل میں آنے سے گریز کرنے لگا۔ کچھ ہی عرصہ بعد مسلمانوں کا یہ سب سے بڑا مدمقابل حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔ جہاں دلیل اور استدلال کارگر نہیں ہوا، وہاں نبی کی وہ سیاسی تدبیر جو ا س نے اخلاقی برتری کے ساتھ اختیار کی، کامیاب رہی۔

۷ہجری میں حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما امہات المومنین میں شامل ہوئیں۔

مسلمانوں کے ساتھ کفار کی جتنی جنگیں بھی ہوئیں، ان سب میں یہود خفیہ یا علانیہ شامل ہوتے رہے۔ حالانکہ قرآن مجید کے مطابق، یہود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے پہچانتے تھے جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے۔ مگر کدورت اور حسد جب حد سے بڑھ جاتے ہیں تو پھر استدلال بے کار ہو جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۷ ہجری میں یہود کی شرارتوں کا قلع قمع کرنے کی غرض سے خیبر کا رخ کیا۔ خدا کا رسول، جس کے لیے غلبہ مقدر تھا، اس نے خیبر فتح کر لیا۔ یہودی مغلوب ہو گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ تلوار جسم کو مغلوب کرتی ہے، دل کو نہیں۔حضرت صفیہ خیبر کے اسیران جنگ میں شامل تھیں اور یہود کے ایک بڑے سردار کی بیٹی تھیں۔ جب قیدی تقسیم کیے گئے تو یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئیں۔ آپ نے اس بات کو خلافِ احسان و مروت سمجھا کہ سردار کی بیٹی کو لونڈی بنا کر رکھا جائے۔ چنانچہ آپ نے انھیں آزاد کر دیا اور ان کی مرضی سے ان کے ساتھ نکاح کر لیا۔ آپ چاہتے تو انھیں زندگی بھر لونڈی کی حیثیت سے رکھ سکتے تھے، لیکن آپ نے نہ صرف یہ کہ ایسا نہیں کیا، بلکہ انھیں نہایت عزت کا مقام دیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آ گئیں تو اس کے بعد یہود مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہوئے۔

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا وہ خاتون ہیں، جنھوں نے اپنے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیا تھا۔ ان کی پہلی شادی حویطب بن عبدالعزیٰ سے ہوئی تھی۔انھوں نے انھیں طلاق دے دی۔ پھر ان کی شادی ابورہم بن عبدالعزیٰ سے ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا اور یہ بیوہ ہو گئیں۔ ان کی ایک بہن ام الفضل لبابۃ الکبریٰ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔ حضرت میمونہ اپنی بہن ام الفضل کے پاس آ گئیں اور اپنے آیندہ نکاح کے بارے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اختیار دے دیا کہ جہاں مناسب سمجھیں، ان کا نکاح کر دیں۔ ۷ ہجری میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لیے مکہ تشریف لائے تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیں۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی سفارش کی۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی زوجیت میں قبول کر لیا۔

اس نکاح میں فریضہ رسالت کے حوالے سے کیا حکمت مضمر تھی، اسے جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ۷ ہجری کے اس دور کو ذہن میں لایا جائے، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کی پیش کش کو قبول فرمایا تھا۔ یہ وہ دور تھا، جب قریش مکہ کا زور اصلاً ٹوٹ چکا تھا، لوگوں کے اسلام لانے میں اب ایک ہی رکاوٹ باقی رہ گئی تھی اور یہ رکاوٹ وہ بدگمانیاں تھیں، جو قریش کے سرداروں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے بارے میں ایک عرصے سے لوگوں میں پھیلا رکھی تھیں۔اب یہ صاف نظر آ رہا تھا کہ اہل مکہ اور مسلمانوں کو باہم اختلاط اور میل جول کا کچھ بھی موقع مل گیا تو ان کی وہ بدگمانیاں ختم ہو جائیں گی۔ قریش ہر اعتبار سے اس بات کے خواہاں تھے کہ اہل مکہ اور مسلمانوں کے مابین کوئی ربط و ضبط پیدا نہ ہو۔ انھوں نے صلح حدیبیہ کی شرائط میں خاص طور پر یہ لکھوایا تھا کہ مکہ کا کوئی رہنے والا اگر بھاگ کر مدینہ چلا گیا تو مسلمان اسے لازماً واپس کر دیں گے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہرحال یہ چاہتے تھے کہ اہل مکہ اور مسلمانوں میں ربط و ضبط کی صورت پیدا ہو۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے خاندان والے مکہ کے با اثر لوگوں میں سے تھے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آپ کے بھانجے تھے۔ اہل نجد کا سردار زیاد بن مالک الہلالی آپ کا بہنوئی تھا۔ یہ وہ صورت حال تھی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ ازواج مطہرات میں داخل ہوئیں تو کچھ ہی عرصہ بعد خالد بن ولید بھی اسلام لے آئے اور اہل نجد جنھوں نے ایک زمانے میں اتنا سنگین جرم کیا تھا کہ ستر مسلمان مبلغین کو اپنے علاقے میں دعوت دین کے لیے بلا کر دھوکے سے قتل کر دیا تھا، ان کے لیے اب اپنی دشمنی اور مخالفت پر قائم رہنا مشکل ہو گیا۔ وہ اب رسول اللہ کے قرابت دار تھے۔ پھر زیادہ دیر نہ گزری کہ انھوں نے اپنی وفاداریاں اسلام اور اہل اسلام کے لیے خاص کر دیں۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا آپ کے نکاح میں آنے والی آخری خاتون تھیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے علاوہ، ایک لونڈی حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کا ثبوت بھی ملتا ہے۔

۷ ہجری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلاطین عرب و عجم کو اسلام کی دعوت دی۔ مقوقش شاہ مصر نے آپ کے نامہ مبارک کے جواب میں غور و فکر کا وعدہ کیا اور آپ کی خدمت میں کچھ تحائف بھیجے۔ حضرت ماریہ قبطیہ انھی تحائف میں شامل تھیں۔ روایات میں یہ بات بھی مذکور ہے کہ حضرت ماریہ قبطیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے میں بھیجنے کے لیے مقوقس شاہ مصر کا خاص انتخاب تھیں۔ مصر سے مدینہ آتے ہوئے راستے ہی میں جب انھوں نے اسلام کی تعلیمات سنیں تو مسلمان ہو گئیں۔تاریخ و سیرت کی کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دن تک آپ کے پاس لونڈی کے طور پر رہیں۔ آپ نے انھیں آزاد نہیں کیا۔ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔ مثلاً یہ کہ آپ نے انھیں آزاد کیوں نہیں کیا، حالانکہ آپ نے لوگوں کو 'فک رقبۃ?' (لونڈی غلاموں کو آزاد کرو)کی تعلیم دی ہے؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس رویے سے غلامی کے ادارے کی ایک گونہ حمایت ثابت نہیں ہوتی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی انصاف پسند، مہربان، نرم دل اور فیاض شخصیت نے یہ کیسے گوارا کر لیا کہ ایک عورت آپ کے پاس لونڈی کے طور پر رہے؟ نو بیویوں کی موجودگی میں اس ایک لونڈی کو رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر اپنے پاس رکھنا ایسا ضروری تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں آزاد کرکے اپنے نکاح میں بھی تو لا سکتے تھے، آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا؟

ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہنے اور ایک لونڈی کی حیثیت سے رہنے کے بارے میں آج جتنے اشکالات بھی پیدا ہوتے ہیں، وہ آج کے اس دور کی پیداوار ہیں، اب جبکہ غلامی کو ختم ہوئے ایک عرصہ گزر چکا ہے اور انسان اس کے خلاف ایک ردعمل کی نفسیات میں ہے۔ ردعمل کی نفسیات زاویہ نگاہ کو حقیقت پسندانہ نہیں رہنے دیتی۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آج کے انسان کے لیے علمی سطح پر بھی اس دور کی حقیقی صورت حال کا اندازہ کرنا اور اس دور کے مسائل کو سمجھنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اب یہ بات اس کے حلق سے نیچے اترتی ہی نہیں کہ خدا کے نبی کے گھر میں کسی لونڈی کا ایک لمحے کے لیے موجود ہونا بھی درست ہو سکتا ہے اور اس میں بھی کوئی حکمت ہو سکتی ہے، لیکن اگر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے، اس دور کی حقیقی صورت حال، اس دور کے مسائل اور وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری، ان سب کا صحیح اندازہ لگایا جائے اور انھیں سمجھا جائے تو آدمی بخوبی یہ جان لیتا ہے کہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں لونڈی کی حیثیت سے موجود رہنے میں کتنی بڑی حکمت پنہاں تھی اور یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ نبی کا کوئی فیصلہ بھی حکمت سے خالی اور اس کی شان سے فروتر نہیں ہوتا۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ عربوں کے ہاں غلامی کی صورت حال کیا تھی اور اسلام نے اس کے خاتمے کے لیے کیا تدبیر اختیار کی ہے۔غلامی کا تصور عرب معاشرے کی رگ رگ میں بسا ہوا تھا۔ گھر گھر میں غلام موجود تھے۔ غلاموں کی آزادانہ تجارت ہوتی تھی۔ جس طرح اونٹ اور بھیڑ بکریاں رکھنا اس معاشرے میں پایا جاتا تھا، اسی طرح وہاں غلام بھی رکھے جاتے تھے۔ غلام رکھنا کسی درجے میں بھی کوئی برائی نہ سمجھی جاتی تھی۔ پورا معاشی اور معاشرتی نظام غلاموں کے سر پر چل رہا تھا۔ یہ صورت حال صرف عرب ہی کی نہ تھی، بلکہ پوری دنیا کی فضا یہی تھی۔اسلام نے غلامی کے اس ادارے کو ختم کرنے کے لیے ترغیب اور تدریج کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غلامی کی اصل جڑ غلاموں میں نہیں، بلکہ معاشرے کے ہر اس فرد میں تھی، جسے انسان کا آقا بننا بھاتا تھا۔ اور وہاں پوری کی پوری سوسائٹی اسی طرح کی تھی۔ جب ساری سوسائٹی بگڑ جائے تو پھر قوت اور جبر سے اصلاح ناممکن ہوتی ہے۔چنانچہ اسلام نے غلامی کی جڑ پر اس طرح ضرب لگائی کہ اس نے غلاموں کو اخلاقی اعتبار سے آزادآدمی کے بالکل برابر کھڑا کر دیا اور بہت شدت سے ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ترغیب دی اور پھر یہ کہا کہ جو خود کھاؤ، وہی انھیں کھلاؤ، جو خود پہنو، وہی انھیں پہناؤ۔ معاشرے میں ان کے رتبے کو ہر ممکن طریق سے بلند کیا۔ اس صورت حال میں جبکہ صرف ترغیب اور تدریج ہی سے غلامی کو ختم کیا جا سکتا تھا، اسلام کے سامنے دو

 ہدف تھے۔ ایک یہ کہ غلامی کی اصل جڑ اکھاڑ دی جائے اور دوسرے یہ کہ جب تک غلام معاشرے میں موجود رہیں، انھیں ہر ممکن طریق سے بہتر سے بہتر حالات مہیا کیے جائیں۔

 ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ یہ تھا کہ یہ ان خواتین کے دائرے میں آتی ہی نہیں تھیں، جن سے نکاح کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جائز تھا۔ آپ صرف اس لونڈی کو آزاد کرکے نکاح کر سکتے تھے جو مال فے میں سے ہو اور وہ آپ کے حصے میں آئی ہو۔ ماریہ قبطیہ کا معاملہ یہ نہ تھا۔ یہ ایک حکمران کی طرف سے آپ کو تحفے کے طور پر ملی تھیں۔ اور سورہ احزاب میں بیان کردہ قانون کے تحت یہ آپ کے لیے صرف لونڈی ہی کی حیثیت میں جائز تھیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو لونڈی ہی کی حیثیت سے اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا۔نبی اپنے معاشرے میں موجود مسائل کے بارے میں بہت بیدار مغز ہوتا ہے۔ وہ خدا کی طرف سے صرف ایک پیغام بر بن کر ہی نہیں آتا کہ اس کے ذمہ دعوت کے علاوہ کوئی اور کام ہی نہ ہو، وہ اپنے ماننے والوں کے لیے معلم اور مربی بھی ہوتا ہے۔ وہ ان کا تزکیہ بھی کرتا ہے اور ان کی تربیت بھی۔ اس کا کردار اپنے پیروکاروں کے لیے اسوہ ہوتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب توحید کی دعوت دی 'فک رقبۃ' کی ترغیب دی، غلاموں کی آزادی کو بعض گناہوں کا کفارہ قرار دیا، ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا۔ انھیں مخاطب کرنے کے لیے معاشرے کو باوقار اسلوب سکھایا اور پھر یہاں تک کیا کہ انھیں حق مکاتبت دے دیا تو بے شک اس کے نتیجے میں بتدریج غلامی کی اصل بنیادیں ڈھیتی چلی گئیں، لیکن ظاہر ہے کہ تدریج کے اس دور میں لونڈی اور غلام معاشرے میں بہرحال موجود رہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے حسن سلوک اور برابری کا برتاؤ کرنے کی مسلسل ترغیب دیا کرتے تھے۔ اس معاملے میں آپ کا رویہ ایک ناصح اور مصلح کا تھا۔ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے وجود نے آپ کو یہ موقع فراہم کر دیا کہ آپ غلامی کے اس عبوری دور میں غلاموں کے ساتھ جس حسن سلوک کا مطالبہ دوسروں سے کرتے ہیں، خود اس کا نمونہ بن کر دکھائیں۔ حسن سلوک کا یہ مطالبہ محض ایک مطالبہ نہ تھا، بلکہ انسانوں کے ذہن سے اس

 نفسیات کو کھرچ کھرچ کر نکالنے کا عمل تھا، جس کی بنا پر کوئی انسان، اپنے ہی جیسے ایک انسان کو غلام بنانے پر تیار ہو جاتا ہے۔ ماریہ قبطیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک لونڈی کی حیثیت سے رہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس تعلق نے ایک لونڈی کی تحریم کو اسی مقام پر فائز کر دیا جس پر امہات المومنین فائز تھیں۔ ا ب امت کے لیے اس لونڈی کی تکریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم ہے۔

حضرت ماریہ قبطیہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن سلوک وہ اسوہ حسنہ قرر پایا جس نے لونڈیوں اور غلاموں کے لیے سبھی اعلیٰ اخلاقی رویوں کا استحقاق عملاً ثابت کر دیا۔ خدا کے رسول نے اپنی تعلیم، اخلاق اور عمل سے ابن آدم کو مجبور کر دیا کہ اگر گردش زمانہ نے اس کے پاس اس کے اپنے ہی باپ کی اولاد کو غلام بنا کرلا کھڑاکیاہو تو بہرحال، یہ اس پر لازم ہے کہ جو خود پہنے وہی اسے پہنائے، جو خود کھائے وہی اسے کھلائے اور جیسا رویہ وہ اپنے مالک حقیقی سے خود اپنے لیے چاہتا ہے، ویسا ہی رویہ وہ اس غلام کے ساتھ اختیار کرے جو آج اس کے ماتحت ہے۔

 خلاصہ کلام

اس ساری تفصیل سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے نکاح بھی کیے، وہ مختلف حیثیتوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے کیے۔

آپ نے پچیس (۲۵) سال سے تریپن (۵۳) سال کی عمر تک کا زمانہ ایک ہی زوجہ محترمہ کی رفاقت میں گزارا پھر چون (۵۴) سال کی عمر میں جو کہولت کی انتہا اور بڑھاپے کی ابتدا ہوتی ہے، محض معاشرتی، ملی اور دینی مصالح کے پیش نظر آپ کے ہاں تعدد ازواج کا یہ سلسلہ شروع ہوا اور پانچ ہی سال میں آپ نے اوپر تلے نو نکاح کیے۔

کوئی شخص بھی اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں تعدد ازواج کے حوالے سے قرآن مجید اور حدیث و سیرت کا بغور مطالعہ کرے گا تو وہ ان سب حکمتوں کو آسانی سے جان لے گا جنھیں ہم نے اس مضمون میں بیان کیا ہے۔ ہر شخص خود یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ''خلق عظیم'' پر فائز اس رسول کی زندگی کیسی شریفانہ اور پاکیزہ گزری ہے۔ اور اس حقیقت سے انکار کیا بھی کیسے جا سکتا ہے، یہ وہی نبی ہیں، جن سے کہا گیا تھا کہ اپنی دعوت میں کچھ مصالحانہ رویہ اختیار کر

 لیں، ہم آپ کو عرب کی سب سے حسین خاتون جو آپ کو پسند ہو، اس سے بیاہ دیتے ہیں۔ آپ کے قدموں میں دولت کا اتنا ڈھیر لگا دیتے ہیں کہ آپ مکہ کے سب سے امیر آدمی بن جائیں، آپ کو اپنا بادشاہ مان لیتے ہیں، حالانکہ ہم کسی کو بادشاہ ماننے والے نہیں ہیں، لیکن خدائے بے نیاز کے اس نیاز مند کی دنیا سے بے نیازی کا یہ حال تھا کہ زندگی بھر اپنی زبان ہی سے نہیں اپنے عمل سے بھی کہتے رہے کہ میرا مسئلہ دنیا کے بادشاہوں کی طرح دولت، حسن اور اقتدار نہیں۔ میں تو اپنے خدا کی طرف رواں دواں ایک مسافر ہوں، اس دنیا میں میری ذمہ داری بس یہی ہے کہ میں تمھارے رب کی طرف جانے والی راہ سے تمھیں آگاہ کر دوں اور میرے پروردگار نے میرے ذمے جو کام لگائے ہیں، انھیں انجام دے دوں۔جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں تعدد ازواج پر اعتراض کیا ہے، ان کا معاملہ یہ رہا ہے کہ انھیں حقیقی صورت حال جاننے سے کبھی دل چسپی نہیں رہی، بلکہ اس سے انھوں نے ہمیشہ اپنی آنکھ اور اپنے دماغ کو بند ہی رکھا ہے اور ظاہر ہے کہ حق پر طعن و تشنیع اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے کہ آدمی دیکھنے کے موقعے پر آنکھ اور سمجھنے کے موقعے پر دماغ بند کرلے۔

 ضمیمہ

۱۔ سورہ نساء کی آیت میں تعدد ازواج کی اجازت گو یتیموں کی کفالت کے مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے دی گئی ہے، لیکن یہ اجازت صرف اس مسئلے کے ساتھ مشروط نہیں ہے، کوئی بھی معاشرتی یا اخلاقی مسئلہ ہوجس کا حل تعدد ازواج کی صورت میں ممکن ہو تو اسلام میں یہ حل اختیار کرنے کی اجازت ہے۔

نبی کریمﷺ کی خصوصی حیثیت

۲۔ تہجد کی نماز آپ پر فرض تھی، صدقہ آپ اور آپ کے خاندان کے لیے حرام تھا، آپ کی میراث، آپ کے ورثا میں تقسیم نہ ہو سکتی تھی، آپ کی بیویاں چونکہ امت کی مائیں ہیں، لہٰذا آپ کی وفات کے بعد ان سے نکاح حرام تھا۔ یہ سب باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھیں۔

۳۔ مکاتبت سے مراد یہ ہے کہ کوئی غلام یا لونڈی اپنے آقا سے خود ہی اپنی قیمت ادا کرکے آزادی حاصل کرلینے کا معاہدہ کر لے۔

مسئلہ غلامی

۴۔ اسلام نے غلاموں کو یک قلم آزاد کرنے کا حکم نہیں دیا۔ آج جبکہ دنیا سے دور غلامی ختم ہوئے ایک عرصہ گزر چکا ہے، انسان یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اس دور میں کیا کیا مسائل در پیش تھے۔ اب اس دور اور اس ماحول میں بیٹھ کر بعض لوگ ہمیں یہ بات کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ زیادہ اچھا ہوتا اگر اسلام پہلے ہی دن غلاموں کو یک قلم آزاد کرنے کا حکم دے دیتا۔ ان کا خیال ہے کہ اگر اس طرح کا حکم دیا جاتا تو ہم پورے فخر سے یہ کہہ سکتے کہ اسلام نے غلامی کو ایک دن بھی گوارا نہیں کیا۔ اب ہمیں کم از کم یہ ضرور ماننا پڑتا ہے کہ اسلام نے غلامی کو گوارا کیا ہے، بلکہ کوئی کہنے والا یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اسلام غلامی کو ساتھ ساتھ لے کر چلا ہے ۔یہ خیال اور یہ تصور جو بعض لوگوں نے قائم کر رکھا ہے، بس حقائق سے ناواقفیت ہی کی بنا پر قائم کیا جا سکتا ہے۔ اسلام اگر اس دور میں جبکہ غلامی انسان کی نفسیات کا ایک اہم جزتھی، کوئی معاشرہ غلامی کے ادارے کے بغیر قائم ہی نہ رہ سکتا تھاجبکہ ساری معیشت غلاموں کے سر پر چلتی تھی اور غلاموں کے بغیر کسی معاشرت سیٹ اپ کا کوئی تصور ہی نہ تھا، ایسی صورت میں اسلام اگر غلاموں کو یک قلم آزادی کا حکم دے دیتاتو نہ صرف انسان کا معاشی اور معاشرتی سیٹ اپ ہی تباہ ہو کر رہ جاتا، بلکہ لاکھوں کی تعداد میں بے روزگار غلاموں اور لونڈیوں کے ہاتھوں سے جن کی اخلاقی تربیت کبھی بھی کسی معاشرے کا مسئلہ نہ رہی تھی، جرائم کی دنیا میں جو کچھ وجود میں آتا، اس کا آج ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کسی معاشی اور معاشرتی سیٹ اپ کو یک قلم توڑ دینے کا خیال شاید دنیا کا سب سے احمقانہ خیال ہے۔ معلوم نہیں کہ اسلام جو سرتاسر دانائی کا مذہب ہے، اس سے ایسی توقع کیوں کی جاتی ہے۔