تبلیغی مزاج کیا ہے 

مصنف : حافظ صفوان

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : جولائی 2020

حافظ صاحب اپنے والد پروفیسر عابد صدیق مرحوم کے حوالے سے تبلیغی مزاج کی وضاحت کرتے ہیں

    تبلیغ سے ابوجان کا گہرا فکری، جذباتی اور جسمانی تعلق تھا۔ بتاتے تھے کہ جب پہلی بار رائے ونڈ گیا (شاید 1966) تو ننگے سر تھا اور سفید بشرٹ سیاہ پتلون اور ٹائی پہنے ہوئے۔ چھوٹی مسجد میں چھ آدمی بیان سن رہے تھے اور ساتواں بیان کر رہا تھا۔ گرمیوں کی چھٹیوں کا زمانہ تھا۔ پروگرام ظہر پڑھ کر واپسی کا تھا لیکن تین روز مرکز میں رہا، اور پھر پٹھانوں کی ایک جماعت کا امیر بناکر ایک چلہ کے لیے جہلم کے کسی گاؤں میں تشکیل کردی گئی۔ فرماتے تھے کہ میں کچھ عرض معروض کرنے لگا تو بھائی غلام مصطفٰی صاحب نے فرمایا کہ آپ کا مصافحہ ہوچکا ہے، اب ہمت کیجیے۔ بس بھاگم بھاگ کہیں سے کرتہ شلوار مہیا کیے اور روانہ ہوگئے۔ مشتاق حسین فاروقی صاحب سٹیشن تک مشایعت کے لیے گئے۔ مقامِ تشکیل کا نام مجھے بھول گیا ہے لیکن یہ ایک گاؤں تھا جہاں سے کچھ اور گاؤں میں جانا تھا۔ پہنچے تو گاؤں والوں نے مسجد میں نہ رکنے دیا۔ اب اگلے گاؤں کی طرف چلے تو پہلے گاؤں کے مولوی صاحب نے اپنے بندے آگے بھیج دیے جنھوں نے جماعت کے پہنچنے سے پہلے وہاں جاکر جتھہ بنا لیا اور اِس آتی جماعت پر پتھراؤ کیا۔ سبھی ساتھی لہولہان ہوگئے۔ ابوجان کی بائیں آنکھ کی طرف کنپٹی پر ایک پتھر لگا جس کا نشان باقی رہا۔ (یہ نشان اُن کو غسل دینے کے بعد قبر میں اتارتے تک چمکتا رہا۔) رات ایک درخت کے نیچے قیام کیا۔ ابھی پو نہ پھٹی تھی کہ وہی مولوی صاحب تین چار گنواروں کے ساتھ آن موجود ہوئے اور لگے معافیاں مانگنے۔ پوچھنے پر بتایا کہ جونہی میں سوتا ہوں، خواب میں میرے پیر صاحب آکر مجھے جوتیاں مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اُن مسکینوں سے معافی مانگ اور اُنھیں لے کر آ۔ تین چار بار یہی ہوچکا ہے۔ اب میری بیوی نے مجھے دھکے دے کر گھر سے نکالا ہے۔ مجھے معاف کردو اور میرے ساتھ چلو۔ بہرحال کافی فاصلہ طے کرکے پچھلے گاؤں پہنچے تو نماز میں مولوی صاحب نے سب نمازیوں کے سامنے معافی مانگی اور توبہ تِلّا کی۔ 
بتاتے تھے کہ رائے ونڈ مرکز کے پرانے مطبخ کے لیے اینٹیں کوٹنے اور روڑی بچھانے والی جماعت میں شامل رہے۔ ۱۹۹۳ میں بہاول پور میں تبلیغی اجتماع ہوا تو مولانا محمد احمد انصاری صاحب نے ابوجان کی سرگرمی دیکھ کر فرمایا کہ یہ میدان کا آدمی ہے۔ صحت کی خرابی کی وجہ سے حرکت میں رہنا مشکل ہوگیا تو بھی فکراً پیچھے نہیں رہے۔ وفات سے ایک دن پہلے مسجد بیت المکرم بہاول پور میں آئی لاہور کے خواص کی ایک جماعت کے ساتھیوں کو روزے کے ساتھ کئی گھنٹے گشت کرایا اور خود اللہ کے راستے میں ایک سال کے لیے جانے کا ارادہ لکھایا۔
 جب میں ہری پور میں تھا تو ٹیلی کمیونیکیشن سٹاف کالج سے متصل ایک گاؤں سعید آباد کے ساتھی گشت کرتے ہوئے میرے پاس آئے۔ میں نے حسبِ عادت دفتر کے تقریبًا سبھی لوگوں سے ملاقات کروائی۔ اُن میں ایک سیدھا سادا بابا احمد دین تھا جو کہنے لگا کہ میں آج سے تیس سال پہلے سن چوہتر میں بہاول پور گیا تھا تو ایک کالج میں سفید پٹکہ لپیٹے ہوئے ایک پروفیسر صاحب نے ہمیں بہت ساتھیوں سے ملوایا تھا اور ہماری بڑی نصرت کی تھی۔ آج کے کالج کے گشت سے مجھے وہ گشت یاد آیا کیونکہ کبھی کسی پروفیسر نے سارا کالج پھر کر گشت نہیں کرایا۔ میرے دریافت کرنے پر اُس نے پروفیسر صاحب کا نام لیا تو میں نے بتایا کہ میں اُنہی کا بیٹا ہوں۔ یہ جملہ سن کر اُس کی جو حالت ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔ کہنے لگا کہ میں آج تک اُن کے لیے دعا کرتا ہوں۔ میں نے بتایا کہ اُن کا انتقال ہوچکا ہے۔ وہ بہت رویا۔ پھر میں جب تک ہری پور رہا، وہ بندہ خدا گاہے بگاہے مجھے ملنے آتا رہا۔
 مجھے زکریا یونیورسٹی ملتان میں داخل ہوئے کوئی ایک مہینہ ہوا ہوگا کہ ابوجان بہاول پور سے شاعروں اور پروفیسروں کی ایک جماعت لے کر صدیقیہ مسجد گلگشت میں تشریف لائے۔ ملتان اور آس پاس کے بہتیرے پروفیسر، شاعر اور موسیقار یہاں جمع ہوگئے اور خوب گہما گہمی رہا۔ مجھے ملتان کے تبلیغی بزرگوں عبدالرؤف صاحب، ڈاکٹر عبدالواحد قاضی، قمر الدین صاحب، پروفیسر میاں عبدالرحمٰن، اسلام صاحب اور چودھری رفیق صاحب وغیرہ کے ایک طرح سے ‘‘حوالے’’ کیا۔ ابدالی مسجد میں آنا جانا شروع ہوا تو حاجی یامین صاحب اور شیخ حبیب صاحب وغیرہ نے کام میں ایسا لگایا کہ باقی ہر سدھ بِسرا دی۔ میں اِسے اللہ کا خاص انعام جانتا ہوں اور ابوجان کی زندہ کرامت۔ اُنھوں نے میرے زمانہ طالبعلمی میں نہایت دور اندیشی اور سمجھ داری سے میرا پورا ماحول اور اٹھک بیٹھک (Fraternity) تبلیغی بنا دی۔ میری یہی دوستداری آج تک چل رہی ہے اور اِس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ یہی ماحول اور کام میری پہچان ہے کیونکہ لوگ مجھے اِسی حوالے سے جانتے ہیں۔ آدمی ماحول کی وجہ سے چلتا ہے۔ بندہ ماحول سے کٹا نہیں اور گیا نہیں۔ میری دانست میں ابوجان کا مجھ پر سب سے بڑا احسان مجھے اِس ماحول سے جوڑ دینا ہے۔ اللہ اُنھیں بہترین جزائے خیر دے۔ میرا رواں رواں اُن کے لیے دعاگو ہے۔ بحمداللہ یہ نسبت حاصل ہوگئی، اللہ پاک مناسبت بھی دے دے۔ آمین۔
نیز یہ بھی معلوم ہے کہ لاہور فلم سٹوڈیو میں پہلی جماعت میرے ابوجان لے کر گئے تھے۔ اللہ کا کرم ہوا کہ بعد از اں یہاں سے متعلق کئی لوگوں کی زندگیاں بدلیں۔ اِس تبلیغی سفر میں وہ ایک بڑے صاحبِ طرز ایجاد رقاص کے ہاں گشت کے لیے گئے جو لکڑی کی کھڑاویں پہنتے تھے۔ اُن سے ملاقات اور وہاں کی گئی بات کی کارگزاری اُنھوں نے ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب کو سنائی جب وہ خطباتِ بہاول پور کے سلسلے میں تشریف لائے ہوئے تھے۔ یہ گفتگو آج بھی کچھ یوں یاد ہے کہ گانے میں موسیقی اور بولوں کو نماز اور نماز سے باہر کی زندگی کی مثال سے سمجھایا تھا: دن میں پانچ نمازیں اللہ سے کلام یعنی بول ہیں اور نماز سے باہر کی زندگی گویا موسیقی ہے۔ گانے میں موسیقی کی کمپوزیشن ایسے ہوتی ہے کہ آہستہ آہستہ کانوں میں بول پڑنے کی پیاس بڑھتی رہے۔ ایک خاص مقام پر یہ پیاس اِتنی بڑھ جاتی ہے کہ کان بول سننے کے لیے بے تاب ہوجاتے ہیں۔ یہاں موسیقی رک جاتی ہے اور بول شروع ہو جاتا ہے۔ اب بول بھی اِس سہجتے انداز اور تکنیک سے بولا جاتا ہے کہ بول کے ختم ہوتے ہوتے موسیقی کے اگلے دور کی پیاس بڑھتی جاتی ہے۔ ایک خاص مقام پر آکر یہ پیاس اِتنی شدید ہوجاتی ہے کہ مزید بول سننے کا یارا نہیں رہتا اور موسیقی کے اگلے دور کا آغاز ہوجاتا ہے۔ موسیقی کا یہ دور بھی پچھلے دو ر سے ایسے کمپوز ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ اگلے بول کے لیے پیاس بڑھاتا جائے۔ چنانچہ اِس طرح ایک گانے میں تین، چار یا پانچ دور موسیقی کے آتے ہیں اور اِتنے ہی بولوں کے۔ بس ایسا ہی کچھ نماز اور روزمرہ کی باقی زندگی میں ہوتا ہے۔ جب آدمی نماز سے باہر ہے تو اُس کی زندگی ایسے گزرے کہ نماز کا وقت آنے کی پیاس بڑھتی چلی جائے۔ نماز کا وقت آتے تک یہ پیاس اِتنی شدید ہوجائے کہ یہاں وقت داخل ہو اور یہ اللہ کا بندہ اپنی اب تک کی کارگزاری سنانے کے لیے اللہ کے سامنے کھڑا ہوجائے۔ اب نماز میں اللہ سے گفتگو چل رہی ہے اور نمازی اِس کا حظ اٹھا رہا ہے (اور بہترین نماز وہ ہے جس میں آدمی کو یہ کیفیت حاصل ہو کہ وہ اللہ کو گویا دیکھ رہا ہے)۔ اب بول جوں جوں ختم ہوتا جاتا ہے، نماز سے باہر کی زندگی میں اِس نماز سے حاصل ہونے والی کیفیت کے ساتھ لگنے کی پیاس بڑھتی جاتی ہے۔ اور جونہی یہ بول یعنی نماز ختم ہوتی ہے، نماز سے باہر کی زندگی میں اللہ کے احکامات کے مطابق لگنے کا والہانہ داعیہ پیدا ہوچکا ہوتا ہے اور آدمی دنیا کے کاموں میں اِس حاصل شدہ کیفیت کے ساتھ لگ جاتا ہے۔ نماز کی بہترائی سے نماز سے باہر کی زندگی بہترین بنے گی، اور نماز سے باہر کی زندگی کی اچھائی سے نماز بہترین ہوگی۔ یعنی جتنی موسیقی اچھی اُتنا بول بھی اچھا۔ دن میں پانچ بار اللہ سے ہمکلامی اور نماز سے باہر کی زندگی کی کارگزاری اللہ کو خود پیش کرنا اگر اللہ کی حضوری کے احساس کے ساتھ ہے تو کیا ہی کہنے۔ چوبیس گھنٹے میں پانچ نمازیں اِسی لیے عطا ہوئی ہیں کہ بندے کا کوئی لمحہ اللہ کی یاد یا اللہ سے ہمکلامی کے شرف سے خالی نہ گزرے۔ پوری زندگی اِس طرح گزرے کہ بندہ یا تو اللہ کی یاد میں ہو یا اللہ سے ہمکلامی کی حالت میں ہو۔ اور اِسی لیے یہ ارشاد ہوا ہے کہ وہ شخص ہلاک ہوگیا جس کے دو دن ایک جیسے گزرے، یعنی ہر آنے والا دن حضوری و ہمکلامی کی کیفیت کے اعتبار سے پچھلے دن سے بہتر ہونا چاہیے۔ المختصر اللہ کی توفیق سے وہ صاحب جماعت والوں کے پاس مسجد تشریف لے آئے، اور بتایا کہ میں ۳۷ سال کے بعد مسجد میں آیا ہوں۔ ابوجان جب کبھی یہ کہتے کہ تبلیغ کے کام میں سوائے مردم بیزار آدمی کے ہر شخص لگ سکتا ہے خواہ وہ تھیٹر کا نچنیا ہی کیوں نہ ہو، مجھے یہ گفتگو اور مرحوم ڈاکٹر محمد حمید اللہ یاد آجاتے تھے۔
شروع شروع میں ابوجان جب تبلیغ کے سفر سے واپس آتے تو سر پر بڑا سا خاکی بستر بند ہوتا جس کے ایک طرف سلور کا لوٹا لٹک رہا 
 ہوتا تھا، اور ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ۔ ہم اِس ڈبے کا انتظار کرتے۔ اُن کی یہ عادت اِتنی پختہ تھی کہ ملتان کے اِس تبلیغی سفر سے واپسی پر مجھے بھیج کر مٹھائی منگوائی کہ بہاول پور لیتے جائیں۔
ہم ایک بار مولانا سعید احمد خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے عمومی مجمعے کے بیان میں بیٹھے تھے۔ بیان کا خاصا حصہ گزر گیا تو ہمارے ساتھ آئے ہوئے ایک سادہ خیال ساتھی نے کہا کہ ابھی تک مولانا نے مقصد کی بات شروع نہیں کی۔ مولانا کے بیان کی بے اِکرامی پر ابوجان کو سخت تکلیف ہوئی۔ کچھ دیر بعد مجھے فرمایا کہ کمی تو میرے اندر تھی کہ اپنے ساتھیوں کو یہ نہ بتا سکا کہ ترغیبی بات بھی مقصد کے حصول کے لیے ہوتی ہے اور برابر کا اجر رکھتی ہے۔ ابوجان تبلیغ میں صرف مقصد کی بات کرنے اور اِدھر اُدھر کی کوئی بات نہ کرنے پر بے حد زور دیتے۔ فرماتے تھے کہ ہر دینی بات دعوت نہیں ہوتی۔ لوگوں کو ہم دعوت سیکھنے کے لیے بلاتے اور نکالتے ہیں لہٰذا ہمیں صرف دعوت ہی کی بات کرنی چاہیے۔ دعوت کی بات صرف یہیں ملتی ہے، باقی دینی باتیں کہیں بھی مل سکتی ہیں۔ کئی بار اِس موضوع پر بھی بات ہوتی کہ دعوت میں ایک ہی بات کیوں کی جاتی ہے۔ ایک بار سمجھانے کے لیے فرمایا کہ اذان چودہ سو سال سے ایک ہی ہے اور کبھی نہیں بدلی۔ ایسے ہی دعوت کے بول ہیں۔ اذان مکمل ترین دعوت ہے۔ اذان سے بہترین عبادت کے لیے بلایا جاتا ہے، دعوت سے بہترین امت ہونے کی شرط پوری ہوتی ہے۔
ابوجان مجھے تبلیغ میں نکلنے کے آداب بتاتے رہتے۔ فرماتے تھے کہ جہاں بھیج دیا جائے، جس کے ساتھ بھیج دیا جائے اور جتنے وقت کے لیے بھیج دیا جائے، چلے جاؤ۔ فرماتے تھے کہ تبلیغ میں دور تک اور موت تک چلنے کا طریقہ یہ ہے کہ سر جھکا کے پیچھے پیچھے چلتے رہو اور اپنی قربانی کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہ ہونے دو۔ ‘‘میں’’ مارے بغیر آدمی تبلیغ کا کام نہیں کرسکتا۔ فرماتے تھے کہ اپنی ذات کو نشانہ بناکر دعوت دو۔ اپنا بننا اصل ہے۔ جو آدمی دوسروں کی اصلاح کی نیت سے تبلیغ کا کام کرتا ہے وہ تبلیغ میں مہمان ہے اِس لیے کہ اُسے دوسروں پر غصہ آتا ہے اور جس کی وجہ سے وہ کلمہ گوؤں کی بے اکرامی کرتا ہے۔ فرماتے تھے کہ جو آدمی تبلیغ میں ترتیب اور یکسوئی کے ساتھ لگا رہے اور کمائی اور معاملات پر نگاہ رکھے وہ بڑے بڑے عاملوں سے زیادہ قوتیں حاصل کرلیتا ہے اور بڑے بڑے عامل اُس کے آگے پانی بھرتے ہیں۔ فرماتے تھے کہ جو معاملے کا خراب ہے اور جنت کے خواب دیکھتا ہے اُس سے بڑا احمق کوئی نہیں۔ اکثر فرماتے تھے کہ عمومی بنو اور خصوصی نہ بنو، اور مت بھولنا کہ ہمارا کام گلی گلی لوگوں کے پیچھے پھر کر دعوت دینا ہے۔ فرماتے تھے کہ اللہ سے ڈرانے کی بجائے اللہ کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور لوگوں کو دین کی دی ہوئی گنجائشوں کا بتانا چاہیے۔ فرماتے تھے کہ کامل مرشد وہ ہے جو مرید کو صرف آنکھیں بند کرکے توجہ نہ دے بلکہ آنکھیں کھول کر ہدایت دے، چنانچہ تبلیغ کا کام بہترین مرشد ہے۔ فرماتے تھے کہ تبلیغ کا کام بہترین اور کامل سلوک ہے کیونکہ اِس میں جلوت اور خلوت دونوں کی تربیت کی جاتی ہے: جلوت میں دعوت دی یا سنی جائے اور خلوت میں ذکر کیا جائے۔ فرماتے تھے کہ جو آدمی تبلیغ کے کام میں اِن دونوں حالتوں کی صحیح تربیت پالے وہ اِن شاء اللہ کہیں بہک نہیں سکتا۔ جب وہ لوگوں کے سمندر میں ہوگا تو دعوت میں لگا ہوگا اور جب تنہا ہوگا تو ذکر و دعا میں لگا ہوگا۔ جن لوگوں میں اِس دوہری تربیت کی بجائے اکہریت ہوتی ہے یعنی وہ یا تو صرف تقریر کے آدمی ہوتے ہیں یا صرف خانقاہی ذکر کے، وہ اپنا ماحول بدل جانے سے انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ذکر کے منتہی کو خراب کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اُس کی تنہائی ختم کر دی جائے، وہ چند دنوں میں سب کیفیات کھو بیٹھے گا۔ اِسی طرح تقریر کے شہسوار کو مجمع سے دور کرکے کچھ عرصہ تنہائی میں رہنے پر مجبور کردیا جائے تو وہ بھی اپنی مایا سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ فرماتے تھے کہ تبلیغ میں لگو لیکن ذکر اور علم کی خفت کو دل میں نہ آنے دو۔ تزکیہ، علم اور تبلیغ تینوں میں سے ہر ایک بقیہ دونوں کی کمک پر ہے۔ جو آدمی علم میں لگ کر ذکر کی تخفیف کرتا ہے وہ علم کے تکبر میں مبتلا ہے۔ جو ذکر میں لگتے ہوئے علم کو ہلکا جانے وہ جاہل صوفی ہے۔ اور جو تبلیغ میں چلتے ہوئے علم و ذکر کی کمی کرتا ہے وہ مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ میں آوارہ گرد ہے۔ لہٰذا تبلیغ میں چلتے ہوئے علما اور اہلِ نسبت دونوں طبقوں سے راہ و رسم رکھو، اور اِسے اپنی ذاتی ضرورت سمجھتے ہوئے رکھو۔
فرماتے تھے کہ تبلیغ کے کام کا اسمِ اعظم انسانیت سے محبت ہے۔ مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور انسان کائنات کا دلھا ہے۔ انسان کی قدر اور مسلمان کے اکرام نے تبلیغ والوں سے وہ کام کرا لیے ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ کیا کہیں سوچا جاسکتا ہے کہ ملک کا صدر (ڈاکٹر ذاکر حسین) ایک تانگے والے کے پاس تبلیغی گشت کے لیے گیا ہے، اور اِس دعوت دینے کو اپنی ذاتی ضرورت اور اللہ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داری سمجھتا ہے؟ فرماتے تھے کہ کسی ملک یا قوم کو مردہ باد نہیں کہنا چاہیے۔ زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگانے یا قانون بنانے سے دین نہیں آئے گا۔
 فرماتے تھے کہ مسلمان کی کمی اسلام کی کمی نہیں ہے۔ بہت کم مسلمان ملیں گے جن کا طرزِ زندگی شریعت یا اسلامی آداب و قوانین سے پورے طور پر میل کھاتا ہو۔ مسلمانوں میں اسلامی صفات پیدا کرنا ایک مستقل کام ہے جسے محبت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ یآ اَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اٰمِنُوا میں اِسی کی ترغیب ہے۔ فرماتے تھے کہ جو اعتراض کرے اُسے جواب نہ دو بلکہ اُس کے لیے اللہ سے مانگو اور کسی حیلے سے اُسے ماحول میں لے آؤ، ماحول کی برکت سے وہ بات سمجھ میں آتی ہے جو الگ بٹھاکر سمجھانے سے نہیں آتی۔ فرماتے تھے کہ تبلیغ کا مخالف کوئی نہیں ہے۔ جو لوگ مخالفت کرتے ہیں وہ کام سے نہیں کام کرنے والوں سے مخالفت رکھتے ہیں۔ اختلاف کام سے نہیں کام کے کرنے والوں سے ہے۔ کام کرنے والوں میں جوں جوں نبوی اخلاق اور شخصی و دعوتی خوبیاں آتی جائیں گی، لوگوں کے اختلافات اِن شاء اللہ دور ہوتے جائیں گے۔ اللہ کام کی اور کام کرنے والوں کی حفاظت کرے۔
اِسی طرح مجھے بزرگوں سے ملنے کا طریقہ بتایا۔ فرماتے تھے کہ تبلیغی اکابر اجتماعی کام میں لگے ہوئے ہیں، اُن سے انفرادی وقت نہیں لینا چاہیے۔ اِس سے جہاں امت کا نقصان ہوتا ہے وہاں اُن کی فکر بھی بٹتی ہے۔ بس ترتیب سے کام میں لگ جانا چاہیے۔ امت میں ایسے لوگ ہیں ہی کتنے جو صرف اور صرف امت کی سوچتے ہوں۔ اُن کا بہت سے بزرگوں سے تعلق تھا اور کتنے ہی اکابر کی باتیں مجھے بتایا کرتے تھے: شفیع قریشی صاحب، بابو بشیر صاحب، عبدالوہاب صاحب، مولانا سعید احمد خاں،
 مفتی زین العابدین صاحب، مولانا محمد اسلم، مولانا محمد احمد انصاری، مولانا جمشید علی خاں، ابراہیم عبدالجبار صاحب، مولانا محمد اشرف، ڈاکٹر محمد نواز، ڈاکٹر عبدالواحد قاضی، ڈاکٹر محمد طیب، ڈاکٹر احمد کمال انصاری، مولانا عبدالعزیز دعاجو، جنگ شیر صاحب، وغیرہ۔میں نے بیعت کے سلسلے میں ابوجان سے پوچھا تو فرمایا کہ یہ مشورہ میرے بجائے تبلیغی اکابر سے کرو کیونکہ بیعت زندگی بھر کا اور خالص ذوقیات کا معاملہ ہے۔ مثال سے سمجھایا کہ گھڑی میں گھومنے والی گراریوں کی سمت اِدھر اُدھر ہوتی ہے لیکن اِس اختلاف ہی کی وجہ سے یہ گراریاں سوئیوں کو درست سمت میں حرکت کراتی ہیں، اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ گراریاں محور کی وحدت سے آزاد نہیں ہوتیں۔ بیعت یہی محور ہے۔ بس کوشش کرنی چاہیے کہ انتشارِ فکر و توجہ نہ ہو اور آدمی تھان پر بندھا رہے۔ میرے اصرار پر بھی یہی فرمایا کہ بیعت کے بارے میں خود فیصلہ کرو اور لائی لگ نہ بنو، بیعت مارے باندھے کا سودا نہیں اپنی خوشی کی بات ہے۔ البتہ دعا کرتے رہے کہ میں کسی قطاع الطریق کے دوالے نہ ہو لوں۔ اُن کے مشورے سے میں نے مفتی زین العابدین صاحب اور مولانا محمد احمد انصاری صاحب کو رہنمائی کے لیے خط لکھے۔ ہر دو حضرات نے حضرت جی مولانا محمد انعام الحسن کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کی رائے مرحمت فرمائی، چنانچہ میں نے نومبر 1992 میں حضرت جیؒ کی بیعت کی۔ ابوجان کو بہت نچنتائی ہوگئی۔ بعد ازاں مجھے حزب البحر کی اجازت خود عطا فرمائی اور پھر مولانا محمد احمد صاحب سے دلوائی، اور خود اپنی نگرانی میں پروفیسر ظفر احمد چودھری صاحب کے ہمراہ اِس کی زکوٰۃ دلوائی۔
ابوجان کو حدیثِ پاک کی اجازت مولانا عبدالرشید نعمانیؒ اور مولانا لطافت الرحمٰنؒ سے ملی۔ مجھے اُن کے دلائل الخیرات کے ذاتی نسخے پر میرہ (اوگی، مانسہرہ) کے مفتی محمد خلیل الرحمٰن سے حزب البحر کی اجازت لکھی ملی ہے جو یکم شوال (عید الفطر) 1392ھ (7/ نومبر 1972) کی ہے۔ اغلب ہے کہ یہ اجازت کسی تبلیغی سفر کے دوران میں ملی ہوگی۔ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے اُنھیں پوسٹ کارڈ لکھ کر طلب کیا تھا جس کا یہ جملہ مجھے یاد ہے: ‘‘ہم چراغِ سحری ہوچکے، آؤ اور اپنا
 حصہ وصول کرلو۔’’ یہ گئے اور خانقاہ میں تین دن رہے۔ حضرت رائے پوریؒ نے بیعت فرمایا اور واپسی پر دیر تک سینے سے بھینچے رکھا۔ اِسی طرح اُن کے نام شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ کے دو پوسٹ کارڈ بھی میں نے دیکھے ہیں (جو مولانا محمد احسان الحق صاحب کے تحریر کردہ تھے)۔ مولانا خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اُن کی وفات پر خط لکھ کر تعزیت فرمائی۔ وہ حضرت رائے پوریؒ سے تعلق، دیوبندیت اور مجلسِ صیانۃ المسلمین وغیرہ کے رنگوں میں رنگے ہوئے تھے لیکن میں اُنھیں کھٹّا دیوبندی نہیں کہہ سکتا۔ وہ بغیر کسی سابقے یا لاحقے کے صرف مسلمان تھے۔ ایک بار میں تبلیغ کو دیوبندیت کی شاخ بتانے لگا تو بڑے طریقے سے سمجھایا کہ تبلیغ کا مطلب دیوبندیت نہیں ہے۔ جو یہ سمجھتا ہے اُسے تبلیغی مزاج کی ہوا بھی نہیں لگی۔ فرمایا کہ مولانا محمد الیاسؒ نے کسی کو اپنا خانہ بدلنے کی دعوت نہیں دی بلکہ اپنی جگہ پر رہتے ہوئے تبلیغ میں نکلنے کے لیے وقت فارغ کرنے کی دعوت دی ہے۔ اُنھوں نے مولانا ابوالحسن علی ندوی اور مولانا محمد منظور نعمانی وغیرہ کو وقت لے کر آنے کو کہا اور اُن کی صلاحیتوں کو استعمال کیا۔ مولانا محمد الیاسؒ نے اِس کام میں ہر ایک کے لیے راستہ کھلا رکھا ہے۔ تبلیغ والے امت بنا رہے ہیں۔ تم بھی امتی بنو امتی، اور امت بناؤ امت!
٭٭٭
9