غزل

مصنف : پروین سلطانہ حنا

سلسلہ : غزل

شمارہ : نومبر 2004

 

ماؤں کو نہ تڑپاؤ
ظالمو!ذرا ٹھہرو
بجلیاں گراؤ تم۔جب کسی نشیمن پر
گولیاں چلاؤ تم۔جب کسی کے سینے پر
اتناغور کر لینا
ہر جوان بیٹے کی۔ ایک ماں بھی ہوتی ہے
مامتا بھر ی آنکھیں۔اس کے لوٹ آنے کی ۔منتظر بھی رہتی ہیں
گولیاں چلاؤ تم۔جب جوان بیٹے پر 
اس کے قتل سے پہلے۔ایک کام کر دینا۔ماں کو قتل کر دینا
ظالمو! ذرا سوچو!
تم بھی ایک بیٹے ہو
وقت کی عدالت میں ۔وقت کے کٹہرے میں
تم بلائے جاؤگے ۔ تم بھی زخم کھاؤ گے 
پھر تمہاری مائیں بھی۔ اس طرح سے تڑپیں گی۔اس طرح سے روئیں گی
ماؤں کو نہ تڑ پاؤ۔ ماؤں پر ترس کھاؤ