غزل

مصنف : اذکار ازہر خان درانی

سلسلہ : غزل

شمارہ : نومبر 2004

 

موسموں کی گرد ہونٹوں پرجمی رہ جائے گی
لب ہلے بھی توصداؤں کی کمی رہ جائے گی

 

رفتہ رفتہ ماند پڑ جائے گی آنکھوں کی چمک
زرد رخساروں پہ اشکوں کی نمی رہ جائے گی

 

پھول زلفوں میں سجیں یا قبر کی زینت بنیں
شاخساروں پر خزاں کی برہمی رہ جائے گی

 

کس نے سوچا تھا کہ ہو گا فکر کا سورج غروب
بے حسِی کی برف ذہنوں پر جمی رہ جائے گی

 

کِھل کے مرجھانا ہی ازہر جب تری تقدیر ہے
تو نہ چٹکا تو چمن میں کیا کمی رہ جائے گی