تذکرہ

مصنف : محمد عارف حسین

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : جنوری 2007

            یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ انسان ہر لمحے موت کے قریب ہوتا جا رہا ہے اورزندگی برف کی مانند مسلسل پگھلتی جا رہی ہے ۔ اس حقیقت سے مسلمان تو کیا ،کوئی انسان بھی انکار نہیں کرسکتا لیکن اس اقرار کے باوجود کتنے انسان ایسے ہیں جو ہر لمحہ زندگی اس احساس کے ساتھ گزارتے ہوں کہ وہ زندگی سے دور اور موت سے قریب ہوتے جا رہے ہیں، وہ ہر لمحہ اپنے خالق و مالک کی نگاہ اور گرفت میں ہیں اور ان کا چھوٹے سے چھوٹا عمل دیکھا اور محفوظ کیا جا رہا ہے ۔ یہ محدود زندگی ان کے خالق نے انہیں اس لیے دی ہے کہ وہ اس دور آزمائش سے کس طرح گزرتے ہیں ۔ کیا مالک کی طرف متوجہ ہو کر یا اس سے بیگانہ ہو کر ۔ نیز نعمتوں پر شکر اور مصائب پر صبر کا رویہ اختیار کرتے ہیں یا تکبر اور بے صبری کو اپنا شعار بناتے ہیں ۔ اس مختصر زندگی میں ان کا اختیار کردہ رویہ ہی اصل میں موت کے بعد کی ابدی زندگی میں کامیابی یا خسارے کی بنیاد بنے گا۔ یقینا ایسے خوش قسمت افراد اس پر فتن دور میں بھی موجود ہیں لیکن بہت ہی قلیل تعداد میں ۔

            دوسری طرف ہادی برحق نبی آخرالزماںﷺ پر نازل ہونے والی خالق کائنات کی آخری کتاب قرآن مجید حفاظت الہی کے حصار میں آج بھی موجود ہے جو ابتدائے نزول سے لے کر آج تک ہر دور میں اپنی قوت تسخیر کو منوا کر ہدایت الہی ہونے کا ثبوت دیتی چلی آرہی ہے اور صور اسرافیل پھونکے جانے تک اسکا یہ فیض جاری رہے گا لیکن اس کا فیض صرف انہی خوش قسمت افراد کو پہنچتا ہے جو دل و دماغ سے طلب ہدایت کے متلاشی ہوں ۔ بدقسمتی سے آج امت مسلمہ قرآن مجید سے تمام تر عقیدت اور محبت کے باوجود طلب ہدایت کے لیے اس کی طرف رجوع کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ہدایت کے حصول کے لیے قرآن مجید پر غور و فکر کرنا تو بڑی دور کی بات ہے آج کا مسلمان تو اسے سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت کا بھی قائل نہیں جبکہ دوسری ہر کتاب کو وہ سمجھ کر پڑھتا ہے ۔

             سب کہتے ہیں کہ آج مسلمان ہر لحاظ سے پستی میں مبتلا ہیں لیکن عجیب بات ہے کہ سیاسی پستی تو ہر کسی کو نظر آتی ہے لیکن یہ سیاسی پستی جس پستی کا نتیجہ ہے یعنی ایمان وا خلاق کی پستی کا وہ کسی کو نظر نہیں آ رہی۔ آج مسلمان کا مطمح نظر صرف اور صرف دنیا کے مال و جاہ کا حصول بن کر رہ گیا ہے اسے حب دنیا نے خوف خدا و آخرت ، اخلاق و قانون اور رشتوں کی حرمت سمیت سب کچھ بھلا دیا ہے وہ خوش ہوتا ہے تو حصول دنیا سے اور بے چین ہوتا ہے تو اس کی محرومی سے ۔ حالانکہ ہادی برحقﷺ نے مال کی اندھی محبت کے فتنہ ہی میں اپنی امت کے مبتلا ہونے کا خدشہ ظاہر فرمایا تھا ۔ فرمایا ‘‘عنقریب فتنہ و فساد کے حالات نمودار ہونگے عرض کیا گیا اس سے نکلنے کی کیا صورت ہو گی فرمایا اللہ کی کتاب جس میں تم سے پہلوں کے احوال بھی ہیں او ردنیا سے چلے جانے کے بعد تمہارے انجام کی خبریں بھی ہیں ۔ یہ تمہارے درمیان پیدا ہونے والے نزاعات کا فیصلہ بھی ہے اور یہ فیصلہ کن قول ہے فضول کلام پر مبنی کتاب نہیں جس نے اسے چھوڑا اللہ تعالی اسے توڑ کر رکھ دے گا اور جس نے اسے چھوڑ کر کہیں اور سے ہدایت ڈھونڈنا چاہی اللہ تعالی اسے گمراہ کر دے گا او ریہی اللہ تعالی کی مضبوط رسی ہے اور یہی حکیمانہ نصیحت بھی ہے اوریہی اللہ تعالی کی بتائی ہوئی سیدھی راہ بھی ہے یہ وہ کتاب ہے کہ انسانی خواہشات اس میں تحریف کی کجی پیدا نہیں کر سکتیں او ر نہ زبانیں اس کلام میں کسی او رکلام کی ملاوٹ کر سکتی ہیں ۔ اور علما اسے پڑھ کر کبھی سیر نہ ہو سکیں گے کہ مزید پڑھنے کی ضرورت نہ پائیں اور نہ ہی بار بار پڑھنے سے اس کے بارے میں اکتاہٹ او ربیگانگی پیدا ہو گی۔ نیز اس کے عجائب کبھی ختم نہ ہونگے بلکہ ہر بار غور کرنے سے کچھ نئے گوہر ہاتھ آئیں گے یہ وہی کتاب ہے جسے جنوں کی ایک جماعت نے سنا تو پکار اٹھے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے اور ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں ۔ اور یہ وہ کتاب ہے کہ جس کسی نے اس کے مطابق بات کہی اس نے سچ کہا او رجس نے اس پر عمل کیا وہ اجر پا گیا اورجس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے عدل کیا اور جس کسی نے لوگوں کو اس کی طرف بلایا اسے صراط مستقیم کی ہدایت عطا کی جا چکی’’ او کما قال الرسولﷺ ۔

            ایسی ہمہ صفت کتاب کو اللہ کی کتاب مان کر چومنے والا ، اس کی بے ادبی پر جان کی بازی کھیل جانے والا مسلمان آج اگر زوال آشنا ، ڈپریشن و محرمی کا شکار ، بے اعتمادی او رقول و فعل کے تضاد میں مبتلا ہے تو اس کا واحد سبب بلحاظ عمل قرآن سے دوری ہے۔ دل کا سکون ، حقیقی شفا ، بگڑی بنانے کا نسخہ ،کامل اور ماں سے ستر گنا زیادہ پیار کرنے والے پیارے رب کا تعارف اور اس کی یاد کا ذریعہ اس کے گھر میں غلاف میں لپٹا گرد سے اٹا پڑا ہے لیکن وہ سکون و کامیابی کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے تو اسے سکون کیسے مل سکتا ہے ۔

            ان حالات میں کرنے کے دو کام ہیں ایک ، جہاں تو وسائل و ذرائع میسر آئیں انتہائی دلسوزی سے اپنے دینی بھائیوں کو قرآن مجید سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت و اہمیت پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے یہ پیغام بار بار اسلوب بدل بدل کر انفرادی و اجتماعی سطح پر او رتحریر و تقریر سمیت تمام ذرائع استعمال کر کے اس طرح پہنچایا جائے کہ قرآن کو نہ سمجھنے کی سوچ تبدیلی کی طرف مائل ہونے لگے ۔ اور دوسرے یہ کہ قرآن مجید کے اس حقیقی پیغام کو عام کیا جائے بار بار دہرایا جائے کہ اس کائنات کے ذرے ذرے کا اور خود ہمارا خالق اللہ تعالی ہے ۔ ہمیں تمام نعمتیں اسی کی طرف سے عطا ہوئی ہیں اور وہ ہر وقت ہر جگہ ہمارے ساتھ موجود ہے ہماری مدد فرمانے کے لیے بھی او ر ہماری نافرمانیوں کو محفوظ کرنے کے لیے بھی تاکہ ہمارے مرنے کے بعد اس کے مطابق ہمیں جزا یا سزا دے ۔ جس طرح موت کا آنا یقینی ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر مرنے کے بعد دوبارہ اللہ تعالی کے حکم سے اس کے حضور زندہ ہو کر حاضر ہونا یقینی ہے۔ اس دن کی کامیابی یا ناکامی کا تمام تر دارومدار اس زندگی میں خالق کے حوالے سے تقوی و عبدیت جبکہ مخلوق کے حوالے سے اخلاق و انفاق کے رویے پر ہے ۔ اس زندگی میں دکھ سکھ ، خوشی غمی جو کچھ بھی ہمیں پیش آتا ہے یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہمارے لیے آزمائش ہے کہ ہم ہر حال میں صرف اسی کی طرف لپکتے ہیں یا اسے بھول کر اپنی تدبیروں پر بھروسہ کرتے ہیں اور قرآن مجید ان تمام امور کو بار بار ہر اسلوب میں بیان کرتا ہے اس کی روزانہ اور مسلسل غور و فکر پر مبنی تلاوت ہماری بشری کمزوریوں کو دور کر کے عزم و حوصلہ او ریقین و توکل کی غذا اور اطمینان و سکون دینے کا باعث بنتی ہے ۔