زبان کی حفاظت

مصنف : پیام دوست

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : جنوری 2007

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

            زبان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس کے ذریعے انسان چاہے تو اپنی آخرت کے لیے نیکیوں کے خزانے جمع کرسکتا ہے اور چاہے تو اپنی آخرت برباد کرسکتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذؓ کو نصیحت کرتے ہوئے اپنی زبانِ مبارک کو پکڑا اور فرمایا: ‘‘اسے قابو میں رکھو’ انھوں نے عرض کیا: ‘‘یارسولؐ اللہ! جس کے ذریعے ہم کلام کرتے ہیں اس کے متعلق بھی کیا پوچھ ہوگی؟آپؐ نے فرمایا: ‘‘جولوگ دوزخ میں اوندھے منہ گرائے جائیں گے وہ اس زبان کی کاٹی ہوئی کھیتی ہی تو ہے!’’ (ترمذی)اور بعض دیگر مواقع پر آپؐ نے فرمایا: ‘‘مسلمانوں میں بہترین وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں’’۔ (متفق علیہ)‘‘جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں’’۔ (متفق علیہ)‘‘بندہ بلاسوچے سمجھے بعض اوقات ایسی بات منہ سے نکال بیٹھتا ہے کہ وہ بات اسے مشرق و مغرب کے فاصلہ سے زیادہ دوزخ کی گہرائی میں پہنچا دیتی ہے’’۔ (متفق علیہ)

            ‘‘آدمی جب صبح سو کر اُٹھتا ہے تو اس کے سارے اعضاء زبان سے ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں کہ ہمارے معاملے میں اللہ سے ڈرتی رہنا کہ ہمارا مدار تجھ ہی پر ہے۔ تو سیدھی رہی تو ہم بھی سکون سے رہیں گے۔ اگر تو ہی لڑکھڑا گئی تو ہماری بھی کم بختی ہے’’۔ (ترمذی)‘‘شب معراج میں میرا گزر ایک ایسے گروہ پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو جبرائیل نے بتایا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی عزتوں سے کھیلتے (بہتان لگاتے) تھے’’۔ (ابوداؤد)

زبان کے چند گناہ

جھوٹ بولنا:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

            ‘‘سچ یقینا بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے اور بھلائی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور جو شخص ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا نام صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ یقینا گناہ کے راستہ پر لگا دیتا ہے اور گناہ دوزخ میں پہنچا دیتا ہے اور جب آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ جھوٹا شمار کر دیا جاتا ہے’’۔ (بخاری)

            اور ‘‘جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کی بدبو کے باعث اس شخص سے ایک میل دُور ہوجاتا ہے’’۔ (ترمذی)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوخواب میں عالمِ برزخ دکھایا گیا’ فرمایا:‘‘مجھے گدی کے بل لیٹا ہواایک شخص ملا اس کے پاس ایک دوسرا شخص لوہے کا آنکڑہ لیے کھڑا تھا۔ جو ایک سمت آکر آنکڑا اس کے ایک کلے میں پھنساتا اور گدی تک اسے چیر دیتا’ نتھنے میں پھنساتا اور گدی تک اسے بھی چیر دیتا اسی طرح آنکھ کے ڈھیلے میں اسے پھنساتا اور گدی تک چیر کر رکھ دیتا پھر دوسری طرف آکر وہی عمل دہراتا اور اس سے فارغ نہ ہوتا کہ پہلی جانب کے اعضاء درست حالت میں آجاتے اور وہ پھر ایسا ہی کرتا جیسے پہلی مرتبہ کیا تھا۔ بتایا گیا کہ یہ شخص جھوٹ بولتا تھا اور لوگ (اسے معتبر سمجھ کر) اس کی جھوٹی باتیں نقل کرتے تھے اور یوں وہ جھوٹ عام لوگوں میں پھیل جاتا تھا۔ اس شخص کے ساتھ یہ عمل قیامت تک جاری رہے گا’’۔ (بخاری)نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ‘‘منافق کی تین نشانیوں میں سے ایک جھوٹ بولنا بیان فرمائی’’۔ (بخاری)نیز فرمایا: ‘‘ہلاکت ہے اس کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے کوئی بات کرتا ہے اور اس میں جھوٹ بولتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے! اس کے لیے ہلاکت ہے!! (ترمذی)بسااوقات بچے کو بہلانے کی خاطر یا اسے کسی شرارت سے روکنے کے لیے مائیں بے تکلف بچوں سے جھوٹ بول دیتی ہیں اور اسے شمار بھی نہیں کرتیں۔ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ماں بچے کو کچھ دینے کا وعدہ کر کے پھر اسے کچھ نہ دے تو اس کے خلاف ایک جھوٹ لکھ لیا جاتا ہے۔ (ابوداؤد)نیز جھوٹی گواہی کے بارے میں آپؐ نے فرمایا: ‘‘جھوٹی گواہی دینا اور شرک کرنا دونوں برابر کے گناہ ہیں’’۔ (ابوداؤد)

            جھوٹ بنیادی طور پر حرام ہے مگر بعض حالات میں جائز بھی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں میں صلح و ملاپ کی خاطر اپنی طرف سے کوئی اچھی بات گھڑ کر کہہ دے’’۔ (بخاری)اُم کلثومؓ فرماتی ہیں کہ: ‘‘میں نے آپؐ کو تین موقعوں کے سوا لوگوں کو اپنی بول چال میں کسی اور بات پر چھوٹ دیتے نہیں سنا۔ لڑائی کے موقع پر’ لوگوں کے درمیان صلح و صفائی کے لیے یا میاں بیوی کی باہم دلجوئی کی باتوں میں’’۔مثلاً اگر کوئی کسی ظالم سے ڈر کر جو اس کی جان یا مال کا دشمن ہو’ کسی کے پاس چھپ جائے یا اپنا مال چھپا دے اور کسی سے اس کے متعلق پوچھا جائے تو اس کے لیے واجب ہے کہ جھوٹ بول کر اسے بچائے اور احتیاط اس میں ہے کہ ان تمام صورتوں میں بھی ایسی گول مول بات کہے کہ مقصد کے لحاظ سے تو وہ الفاظ صحیح ہوں لیکن مخاطب اپنی سمجھ کی وجہ سے غلط مطلب نکال لے اور اگر مجبوراً صاف لفظوں میں جھوٹ بول دے تو ایسی صورت میں حرام پھر بھی نہیں۔ یہ بات واضح رہے کہ اس طرح کرنے سے جھوٹ سچ نہیں بن جاتا’ تاہم اللہ تعالیٰ سے توقع کی جاتی ہے کہ حالات کی رعایت سے درگزر فرمائیں گے۔ مثلاً انگریز ایک عالم کو گرفتار کرنے آئے’ سپاہی انھیں پہچانتے نہیں تھے۔ انھوں نے انھی عالم سے پوچھا کہ فلاں عالم کہاں ہیں؟ انھوں نے اپنی جگہ سے تھوڑی دُور کھڑے ہوکر کہا ابھی تو یہیں تھے اور یوں سپاہی مایوس ہوکر چلے گئے۔

غیبت:

            ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ بھلا تم میں سے کوئی (اِس بات کو) گوارا کرے گا کہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ یہ تو (یقینا) تم کو گوارا نہیں (تو غیبت کیوں گوارا ہو؟) اور اللہ (کے غضب) سے ڈرتے رہو’ بے شک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا’ رحیم ہے’’۔ (الحجرات ۴۹: ۱۲)نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا ذکر (پیٹھ پیچھے) ایسے کرے کہ جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔ اگروہ بات اس کے اندر موجود ہو تو یہ غیبت ہوئی اور اگر اس کے متعلق وہ بات کہی جو اس کے اندر نہیں ہے تو تو نے اس پر بہتان لگایا’’۔ (مشکوٰۃ)

            مومن بھائی کی خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ اس کی کسی خامی کا دوسروں سے ذکر نہ کیا جائے بلکہ علیحدگی میں اخلاص کے ساتھ اسے نصیحت کی جائے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق:‘‘غیبت اس وقت تک اللہ معاف نہیں کرے گا جب تک وہ شخص اس کو معافی نہ دے دے جس کی اس نے غیبت کی ہے’’۔ (مشکوٰۃ)غیبت کا ایک کفارہ یہ ہے کہ آپ اس شخص کے لیے جس کی آپ نے غیبت کی ہے’ مغفرت کی یہ دعا کریں:

            (اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلَہٗ) ‘‘اے اللہ تو میری اور اس کی مغفرت فرما’’۔ (مشکوٰۃ)کسی مجلس میں غیبت سنیں تو غیبت کرنے والے کو منع کریں’ نہ مانے تو چاہیے کہ اس مجلس سے اُٹھ جائیں اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘جو اپنے بھائی کی عزت و آبرو کی حمایت کر کے اس کی غیبت کو رد کرے گا اللہ تعالیٰ اُس کو قیامت کے دن جہنم سے دُور رکھیں گے’’۔ (ترمذی)نیز ‘‘مُردوں کو برا بھلا نہ کہو’ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال تک پہنچ چکے ہیں’’۔ (بخاری)بعض حالات میں غیبت جائز بھی ہے۔ مثلاً کسی نے کسی کے ساتھ نکاح’ کاروبار یا کوئی معاملہ کرنے کے سلسلہ میں مشورہ طلب کیا تو جس سے اِن معاملات میں مشورہ لیا جا رہا ہو’ اُس پر لازم ہے کہ وہ کوئی بات نہ چھپائے۔ مظلوم ظالم کی شکایت کرنے کے لیے’ اِسی طرح بیٹے کی غلط روی کی خبر باپ کو دینا لیکن اس میں مقصودِ حقیقی اِصلاح ہو۔

طعنہ زنی:

            طَعَنْ عربی کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ‘نیزہ مارنا’ ہے۔ چونکہ طعن سن کر دل کو شدید تکلیف ہوتی ہے’ گویا کسی نے دل پر نیزہ مار دیا ہو۔ اسی لیے اس عملِ بد کو ‘طعنہ’ کہا جاتا ہے۔ طعنہ اور غیبت میں فرق صرف یہ ہے کہ غیبت پس پشت کی جاتی ہے اور طعنہ سامنے دیا جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

            ‘‘اے لوگو! جو ایمان لائے ہو’ نہ مرد (دوسرے) مردوں کا مذاق اُڑائیں’ ممکن ہے کہ وہ (خدا کے نزدیک) اُن سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں (دوسری) عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنے دو اور نہ ایک دوسرے پر بُرے القاب چسپاں کرو۔ بہت ہی بُرا ہے ایمان (لانے) کے بعد فسق میں نام (پیدا کرنا) اور جو لوگ (اِن باتوں سے) توبہ نہ کریں تو وہی ظال ہیں’’۔ (الحجرات ۴۹:۱۱)کسی کے شکل و نسب’ غربت پر طعن کرنا ایک انتہائی جاہلانہ حرکت ہے کیونکہ انھیں انسان نے خود نہیں چنا ہوتا۔ حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے غلام کو اس کی ماں سے عار دلائی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:‘‘بے شک تم ایک ایسے آدمی ہو کہ تم میں ابھی جاہلیت کا اثر باقی ہے’’۔ (بخاری)

نوحہ کرنا:

            زبان کا ایک بڑا ناپسندیدہ استعمال میت پر نوحہ کرنا ہے۔ کسی عزیز کا دنیا سے رخصت ہو جانا بلاشبہ سخت غم کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے دل کا غمگین ہونا اور آنسو بہانا ایک قدرتی امر ہے اور اس پر کوئی پابندی بھی نہیں لگائی گئی۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی عزیز ہستیوں کی وفات پر آنسو بہائے مگر زبان کے معاملے میں یہی حکم ہے کہ اس سے کوئی ایسی بات نہ نکالی جائے جو اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ہو۔ آپؐ نے فرمایا:‘‘نوحہ کرنے والی عورت اگر موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اُس کے بدن پر تارکول کا کُرتہ اور خارش کی دَرع پہنائی جائے گی’’۔ (مسلم)کسی کے فوت ہونے پر بین کرنا صبر کے سراسر خلاف ہے’ اسی لیے فرمایا:‘‘اللہ تعالیٰ آنکھوں کے آنسو بہانے اور دل کے غمزدہ ہونے کے باعث عذاب نہیں دیتا بلکہ اس کے باعث عذاب دیتا ہے یا رحم فرماتا ہے اور آپؐ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا’’۔ (بخاری)نیز ‘‘وہ ہم میں سے نہیں جو رُخسار پیٹے اور گریبان چاک کرے اور جاہلیت کو پکارے’’۔ (بخاری)

بدزبانی:

             بعض لوگ جب کسی ناپسندیدہ صورت حال میں گھر جاتے ہیں تو وہ اپنے غم و غصہ کا اظہار کرنے کے لیے سبھی لوگوں پر پل پڑتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت ناپسند کیا اور فرمایا:‘‘قیامت کے دن اللہ کے نزدیک مرتبے میں سب سے بُرا آدمی وہ ہوگا جس کی بدزبانی سے بچنے کے لیے لوگ اسے چھوڑ دیں’’۔ (مسلم)

افواہیں پھیلانا:

            آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اُس کے صحیح یا غلط ہونے کی تحقیق کیے بغیر آگے نقل کر دے’’۔ (مسلم)

گالی دینا:

            آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس کو قتل کرنا کفر ہے’’۔ (متفق علیہ)نیز ‘‘کوئی شخص دوسرے شخص کو فاسق و کافر نہ کہے کیونکہ وہ اگر فاسق و کافر نہیں ہے تو وہ فسق و کفر کہنے والے پر لوٹ آتا ہے’’۔ (بخاری)اور ‘‘آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دینے والوں میں ابتداء کرنے والا قصوروار ہے بشرطیکہ مظلوم جواب میں حد سے نہ بڑھ جائے’’۔ (مسلم)

تہمت لگانا:

            ‘‘اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بغیر اس کے کہ انھوں نے کچھ (قصور) کیا ہو (ناحق کی تہمت لگا کر) اذیت دیتے ہیں تو وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ (اپنی گردن پر) لیتے ہیں’’۔ (الاحزاب ۳۳:۵۸)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘جس شخص نے اپنے باندی یا غلام پر زنا کی تہمت لگائی تو قیامت کے دن اُس پر حد لگائی جائے گی الا یہ کہ اُس نے جو کہا واقعتا ایسا ہی ہوا ہو’’۔ (متفق علیہ)

فحش گوئی:

            ارشاد باری تعالیٰ ہے: ‘‘جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں فحش پھیلے اُن کے لیے دُنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے’’۔ (النور ۲۴:۱۹)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ بُرا شخص وہ ہوگا جو اپنی بیوی کے پاس جائے اور بیوی اس کے پاس آئے اور پھر وہ اپنی بیوی کی راز کی باتیں لوگوں کو بتائے’’۔ (مسلم)نیز ‘‘مومن نہ تو طعنہ دینے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا’ نہ فحش بکنے والا اور زبان دراز ہوتا ہے’’۔ (ترمذی)

چغل خوری:

            آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘چغلی وہ ہے جو لوگوں میں فساد ڈالے’’۔ (مسلم)

نیز ‘‘چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا’’۔ (متفق علیہ)

دوغلا پن:

            آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘تم قیامت کے دن بدترین آدمی اُس شخص کو پاؤ گے جو دنیا میں دو چہرے رکھتا تھا۔ کچھ لوگوں سے ایک چہرے کے ساتھ ملتا تھا اور دوسرے لوگوں سے دوسرے چہرے کے ساتھ (یعنی سامنے کچھ اور پیٹھ پیچھے کچھ)’’۔ (متفق علیہ)اور ‘‘جو شخص دنیا میں دوغلاپن اختیار کرے تو قیامت کے دن اُس کے منہ میں آگ کی دو زبانیں ہوں گی’’۔ (ابوداؤد)کیونکہ دنیا میں اُس کے منہ کی آگ دو آدمیوں کے تعلقات کو جلاتی تھی۔

جھوٹی تعریف:

            آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ کوئی شخص کسی کی تعریف میں مبالغہ کر رہا ہے تو فرمایا:‘‘تیری بربادی ہو تونے اپنے بھائی کی گردن کاٹ ڈالی۔ (مراد یہ کہ مبالغہ آمیز تعریف اُسے غرور کا شکار بنا کر تباہ کر دے گی) آپؐ نے ان کلمات کو تین دفعہ فرمایا (پھر فرمایا کہ) اگر تم میں سے کسی نے (کسی کی) ضرور ہی تعریف کرنی ہو تو اگر وہ اُسے جانتا ہے تو یوں کہے کہ میں (اسے) ایسا اور ایسا گمان کرتا ہوں اور اللہ اس کا نگران ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کو پاک نہیں ٹھہراتا’’۔ (بخاری)خوشامدانہ تعریف جو سننے والے کو مغرور بناکر اُسے تباہی کی طرف لے جائے’ کی ممانعت ہے۔ رہا کسی کا دل بڑھانے کی خاطر اسے شاباش دینا یا اعتدال کے ساتھ صحیح تعریف کر دینے میں حرج نہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی قابلِ تعریف لوگوں کی تعریف فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:‘‘جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ غصہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے عرش ہلنے لگتا ہے۔ (مشکوٰۃ)

لعنت کرنا:

            آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘جب تم کسی شخص کو یہ کہتے سنو کہ لوگ تباہ ہوں تو وہ خود سب سے زیادہ تباہ ہونے والا ہوگا’’۔ (موطا)نیز ‘‘مت پھٹکارو کسی کو اللہ کی لعنت سے اور نہ اللہ کے غضب سے اور نہ جہنم کی آگ سے’’۔ (ابوداؤد)‘‘بندہ جب کسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف جاتی ہے مگر وہاں اس پر آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں تو وہ زمین پر اُترتی ہے وہاں کے دروازے بھی اِس بند ملتے ہیں اب وہ دائیں بائیں راستہ تلاش کرتی ہے۔ اگر اُدھر بھی اُسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو پھر جس پر لعنت کی گئی ہے اُس کے پاس جاتی ہے اگر وہ اِس لعنت کا مستحق ہے تو خیر’ ورنہ لعنت کرنے والے پر لوٹ آتی ہے’’۔ (ابوداؤد)ایسے ہی کسی کا مضحکہ اڑانا’ فخر اور تکبر کی گفتگو کرنا وغیرہ ایسی ناپسندیدہ باتیں ہیں’ جن کے لیے زبان ہی آلہ کار بنتی ہے۔ اِن سب کے بارے میں خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ناپسندیدگی کااظہار فرمایا ہے اور ہمیں اِن سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے۔

خاموشی کی فضیلت:

            زبان کے قابو میں نہ ہونے سے انسان طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی حفاظت کے حکم کے ساتھ خاموشی کی فضیلت بھی بیان کر دی ہے۔ فرمایا:‘‘جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اگر بولے تو منہ سے بھلی بات نکالے ورنہ خاموش ہی رہے’’۔ (متفق علیہ)

آخری بات:

            آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کسی ایسے موقع پر بے یارو مددگار چھوڑے گا جب اُس کی عزت پر حملہ ہورہا ہو اور اُس کی آبرو اُتاری جا رہی ہو تو اللہ اس کو بھی ایسی جگہ اپنی مدد سے محروم رکھے گا جہاں وہ اللہ کی مدد کا خواہش مند ہوگا اور جو مسلمان کسی مسلمان بندے کی ایسے موقع پر مدد اور حمایت کرے گا جہاں اس کی عزت و آبرو پر حملہ ہو تو اللہ ایسے موقع پر اُس کی مدد فرمائے گا جہاں وہ اُس کی مدد کاخواہش مند ہوگا’’۔ (ابوداؤد)‘‘جو شخص دوزخ سے دُور رہنا اور جنت میں داخل ہونا چاہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے مرے’ اور لوگوں سے ویسا ہی برتاؤ اور سلوک کرے جیسا سلوک اپنے ساتھ پسند کرتا ہو’’۔ (مسلم)دوسروں کی عیب گوئی کا مشغلہ وہی اپنا سکتا ہے جو خود اپنے انجام سے بے خبر اور غافل ہو۔

            ان میں سے اکثر باتیں پہلے سے جانے کے باوجود عمل میں کوتاہی ہوجاتی ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے دلوں میں اپنی اخروی زندگی کو دائمی امن و سکون اور راحت و آرام کی زندگی بنانے کا جذبہ بہت کمزور ہے اور اسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ہماری زبان ہمیں شکست دینے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ لہٰذا زبان پر قابو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ یہی نہیں کہ موت کے بعد کی زندگی اور بہشت و دوزخ کے حق ہونے میں کوئی شک نہ رہے بلکہ یہ بھی ہے کہ بہشت اور دوزخ کا خیال دلوں میں رچ بس جائے’ ذہن اور دل میں اِن کا اکثر خیال رہے اور تصور کی آنکھ انھیں وضاحت سے دیکھا کرے۔قرآن پاک اور کتب ِ احادیث میں بہشت اور دوزخ کی اتنی تفصیلات بیان ہوئی ہیں کہ اگر انسان ان آیات اور احادیث کو بار بار پڑھتا رہے تو بہشت اور دوزخ اپنی تفصیلات کے ساتھ ذہن کی آنکھوں کے سامنے واضح ہوجاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جن باتوں پر انسان اکثر غور کرتا رہے وہ آہستہ آہستہ دل میں نقش ہوتی جاتی ہیں۔ لہٰذا اگر ہم اِس بات کو معمول بنا لیں کہ روزانہ اپنی مصروفیات میں سے چند منٹ نکال کر ایک طرف ہوکر بیٹھ جایا کریں اور ان حقائق پر غور کیا کریں کہ زندگی کس برق رفتاری سے گزرتی جارہی ہے اور عنقریب وہ لمحہ آنے والا ہے جب عزیز اپنی ساری محبت اور شفقت کے باوجود ہمیں سفید کفن میں لپیٹ کر منوں مٹی کے نیچے دبا آئیں گے’ پھر مدتوں اِسی قبر میں رہنا ہوگا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق: ‘‘جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگا یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا’’۔ (ترمذی)اس کے بعد پھر حشر کے میدان سے واسطہ پیش آئے گا اور اعمال نامے ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے۔ اب خدا معلوم اِن میں کیا لکھا ہوگا۔ غیبت’ چغلی’ جھوٹ’ بہتان طرازی’ بدزبانی’ دھوکہ’ فریب’ بدعملی’ بددیانتی’ دین سے غفلت اور خدا اور خدا کے رسولؐ کی نافرمانی…… یا حب ِ دین’ نیک چلنی’ حفظ ِ لسان’ فرض شناسی’ تقویٰ’ خدمت ِ اسلام اور خدا اور خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت؟…… پھر حساب کتاب ہوگا اور حساب کتاب کے بعد یا تو امن و سکون والی ایک باغ و بہار زندگی ہوگی ‘‘جس کی نعمتوں کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی دل میں ان کا خیال گزر’’ (متفق علیہ) یا پھر اس ذلت خیز’ اذیت ناک دوزخ سے واسطہ ہوگا جس میں ڈالے جانے والے کا یہ حال ہوگا کہ:‘‘وہ وہاں نہ تو مرے گا اور نہ جئے گا ہی’’۔ (طٰہٰ ۲۰: ۷۴)اگر روزانہ اِن حقائق کو اپنے تصور کی آنکھ کے سامنے لا کر کچھ دیر اِن کا مشاہدہ کر لیا جائے تو اُمید ہے کہ ان شاء اللہ یہ وظیفہ عقیدہ آخرت کو اتنا مضبوط کر دے گا کہ اس سے نہ صرف زبان پر قابو حاصل کرنا آسان ہوجائے گا بلکہ اور بھی بہت سی آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قابلِ قدر مدد ملے گی۔پہلے درجہ میں زبان کے گناہوں سے حفاظت کی جائے۔ پھر اللہ کی توفیق سے انسان علم دین سیکھ کر اس نعمت کو قرآن مجید کی تلاوت و ترجمہ اور اس کے مفاہیم کو پھیلانے میں استعمال کرے۔ ذکرِ الٰہی سے زبان کو ہر وقت تر رکھنے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ (آمین!)