قرآن ایک لازوال معجزہ

مصنف : پیام دوست

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : اپریل 2008

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ‘‘پیغمبروں میں سے ہر پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزات دیئے جن کو دیکھ کر لوگ ایمان لائے اور مجھ کو جومعجزہ عطا ہوا ہے وہ قرآن مجید ہے’’۔(بخاری)

اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ رسول اکرمؐ کی رسالت کو پہچاننے کے لیے آج ہمارے پاس جو سب سے بڑا ذریعہ ہے وہ یہ کتاب ہے جس کو رسول اکرمؐ نے یہ کہہ کر پیش کیا تھا کہ وہ ان کے پاس اللہ کی طرف سے اُتری ہے۔

قرآن مجید کی وہ کیا خصوصیات ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُترا ہے؟ اس کے بے شمار پہلو ہیں۔ ہم یہاں صرف تین پہلوؤں کے تحت اسے دیکھتے ہیں:

۱- قرآن مجید اور جدید سائنس

۲- قرآن مجید کی پیشین گوئیاں

۳- قرآن مجید اور قدیم آسمانی صحیفوں میں فرق

قرآن مجید اور جدید سائنس

قرآن مجید ایک ایسے زمانے میں اُترا جب انسان عالمِ فطرت کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ اُس وقت بارش کے متعلق یہ تصور تھا کہ آسمان میں کوئی دریا ہے جس میں سے پانی بہہ کر زمین پر گرتا ہے اور اِسی کا نام بارش ہے۔ زمین کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ وہ چپٹے فرش کی مانند ہے اور آسمان اُس کی چھت ہے جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر کھڑی کی گئی ہے۔ ستاروں کے متعلق یہ خیال تھا کہ وہ چاندی کی چمکتی ہوئی کیلیں ہیں جو آسمان کے گنبد میں جڑی ہوئی ہیں یا وہ چھوٹے چھوٹے چراغ ہیں جو رات کے وقت رسیوں کی مدد سے لٹکائے جاتے ہیں۔ قدیم اہل ہند یہ سمجھتے تھے کہ زمین ایک گائے کے سینگ پر ہے اور جب گائے زمین کو ایک سینگ سے دوسرے سینگ پر منتقل کرتی ہے تو اُس کے سر کی جنبش سے زلزلہ آجاتا ہے۔ قدیم مذہبی کتب مثلاً بائبل میں بھی انسانی تحریف کی وجہ سے عوامی عقائد و نظریات شامل ہوگئے تھے۔

اِس کے بعد علم کی ترقی کی وجہ سے بے شمار نئی نئی معلومات حاصل ہوئیں۔ زندگی کا کوئی شعبہ اور علم کا کوئی گوشہ ایسا نہ رہا جس میں پہلے کے تسلیم شدہ حقائق بعد کی تحقیق سے غلط ثابت نہ ہوگئے ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیڑھ ہزار برس پہلے کا کوئی بھی انسانی کلام ایسا نہیں ہو سکتا جو آج بھی ہرلحاظ سے مکمل اور درست ہو کیونکہ آدمی اپنے وقت کی معلومات کی روشنی میں بولتا ہے۔ وہ شعور کے تحت بولے یا لاشعور کے تحت، بہرحال وہ وہی کچھ دہرائے گا جو اُس نے اپنے زمانے میں پایا ہو مگر قرآن مجید کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ زمانے کے گزرنے سے اِس کی صداقت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ یہ اِس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ یہ ایک ایسی ذات کا کلام ہے جس کی نگاہ اَزل سے اَبد تک محیط ہے۔ جو سارے حقائق کو ان کی اصل شکل میں جانتا ہے جس کی واقفیت زمانے اور حالات کی پابند نہیں۔ اگر یہ محدود نظر رکھنے والے انسان کا کلام ہوتا تو بعد کا زمانہ اِسی طرح اِس کو غلط ثابت کردیتا جیسے ہرانسانی کلام بعد کے زمانے میں غلط ثابت ہوچکا ہے۔

قرآن مجید کا اصل موضوع آخرت کی کامیابی ہے۔اِس لحاظ سے وہ دنیا کے معروف علوم و فنون میں سے کسی کی تعریف میں نہیں آتا۔ مگر اس کا مخاطب چونکہ انسان ہے اس لیے قدرتی طور پر وہ اپنی تقریروں میں ہر اُس علم کو مس کرتا ہے جس کا تعلق انسان سے ہے۔ انسان اپنی گفتگو میں اگر کسی فن کو مس کر رہا ہو تواگر اس کی معلومات ناقص ہوں تو وہ یقینی طور پر ایسے الفاظ استعمال کرے گا جو صورتِ واقعہ سے ٹھیک ٹھیک مطابقت نہ رکھتے ہوں گے۔ مثلاً ارسطو نے عورت کو کم تر ثابت کرنے کے لیے یہ کہا: ‘‘اس کے منہ میں مرد سے کم دانت ہوتے ہیں’’۔ ظاہر ہے یہ فقرہ علم الاجسام سے ناواقفیت کا ثبوت دیتا ہے کیونکہ یہ معلوم ہے کہ مرد اور عورت کے منہ میں دانتوں کی تعداد یکساں ہوتی ہے۔ مگر یہ حیرت انگیز بات ہے کہ اگرچہ قرآن مجید اکثر علومِ انسانی کو کہیں نہ کہیں مس کرتا ہے مگر اس کے بیانات میں کہیں کوئی ایسی بات نہیں آنے پائی جو بعد کی وسیع تر تحقیقات سے یہ ثابت کرے کہ یہ ایسے شخص کا کلام ہے جس نے کم تر معلومات کی روشنی میں اپنی باتیں کی تھیں۔

فرانس کے مشہور ڈاکٹر موریس بوکائیے نے عربی سیکھ کر قرآن مجید پڑھا۔ پھر اُنہوں نے قرآن مجید کا جائزہ جدید سائنسی معلومات کی روشنی میں بڑی باریکی سے لیا۔ اُنہوں نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ‘‘بائبل، قرآن اور سائنس’’ میں لکھا:

۱- قرآن مجید میں مجھے ایک بیان بھی ایسا نہیں ملا جس پر جدید سائنس کے نقطۂ نظر سے حرف گیری کی جاسکے۔ (صفحہ ۲۳)

۲- متعدد لوگ کہتے ہیں کہ اگر سائنسی نوعیت کے حیران کن بیانات قرآن مجید میں موجود ہیں تو اِس کی تاویل اِس طرح کی جاسکتی ہے کہ عرب سائنس دان اپنے زمانے سے بہت آگے تھے اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے کام سے متاثر ہوئے تھے مگر یہ جواز بھی جہالت پر مبنی ہے۔ کوئی شخص جو تاریخِ اسلام کے بارے میں کچھ معلومات رکھتا ہے، اِس بات سے بخوبی واقف ہے کہ قرونِ وسطیٰ کا وہ دور جس میں عربوں کی تمدنی اور سائنسی ترقیات کا ظہور ہوا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آیا اور اس لیے وہ اس قسم کی خیال آرائیوں میں مبتلا نہیں ہوسکتا…… بیشتر سائنسی حقائق جن کی یا تو قرآن مجید میں نشاندہی کی گئی ہے یا جو صاف طور پر بیان ہوئے ہیں ان کو موجودہ دور میں ہی تسلیم کیا گیا ہے۔ (ص ۱۹۵)

۳- اس جائزہ سے اُن لوگوں کا نظریہ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن مجید کا مصنف قرار دیتے ہیں بالکل بودا اور کمزور ثابت ہوتا ہے۔ ناخواندہ لوگوں میں سے ایک شخص ادبی خوبیوں کے لحاظ سے پورے عربی ادب میں کس طرح سب سے بڑا مصنف بن گیا؟ اُس وقت وہ سائنسی نوعیت کے ایسے حقائق کیسے بیان کرسکتے تھے جو اُس زمانہ میں کسی بھی انسان کے لیے ظاہر کرنا ناممکن تھا اور یہ سب ہو ا بھی اِس طرح کہ اس موضوع پر انکشافات کرنے میں ایک مرتبہ بھی چھوٹی سے چھوٹی غلطی کا ارتکاب نہیں ہوا۔ میرے نزدیک قرآن مجید کے لیے کوئی بشری توضیح و تشریح ممکن نہیں ہے۔ (یعنی ایسی کتاب لکھنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے)۔ (صفحہ ۲۰۲)

یہاں دو مثالیں دی جارہی ہیں جن سے اندازہ ہوگا کہ ایک علم کو مس کرتے ہوئے بھی قرآن مجید کس طرح حیرت انگیز طور پر اُن صداقتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو اُس کے نزول کے وقت معلوم شدہ نہ تھیں بلکہ بعد کو دریافت ہوئیں۔ خیال رہے کہ کائنات کی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق دورِ سابق کے لوگ کچھ نہ کچھ جانتے تھے۔ مگر اُن کا یہ علم اُن دریافتوں کے مقابلے میں بے حد ناقص اور اَدھورا تھا جو بعد کو علمی ترقی کے دور میں انسان کے سامنے آئیں۔ قرآن مجید کی مشکل یہ تھی کہ وہ کوئی سائنسی کتاب نہیں تھی۔ اس لیے اگر وہ عالمِ فطرت کے بارے میں یکایک نئے نئے انکشافات لوگوں کے سامنے رکھنا شروع کردیتا تو انہی چیزوں پر بحث چھڑ جاتی اور اس کا اصل مقصد، ذہن کی اصلاح، پس پشت چلا جاتا۔یہ بھی قرآن مجید کا اِعجاز ہے کہ اُس نے علمی ترقی سے بہت پہلے کے زمانے میں اِس طرح کی چیزوں پر کلام کیا اور اُن کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے جن میں دورِ سابق کے لوگوں کے لیے گھبرانے کا کوئی سامان نہ تھا اور اِسی کے ساتھ وہ بعد کے انکشافات کا بھی پوری طرح احاطہ کیے ہوئے تھے۔

سورج کا سفر

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ‘‘اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے، یہ اندازہ ٹھہرایا ہوا ہے اس زبردست و باخبر (ہستی) کا’’۔ (یٰسین ۳۶:۳۸)

پندرھویں صدی میں مشہور فلکیات دان کوپرنیکس نے یہ اعلان کر کے کہ سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے، دنیائے علم میں ایک زلزلہ سا برپا کردیا۔ اس کی تائید جرمنی کے مشہور ہیئت دان Kepler نے بھی کی تو دنیا نے کوپرنیکس کے انکشافات کو ایک حقیقت سمجھ لیا۔ اس آیت کی رُو سے سورج متحرک ہے، اس لیے دنیائے اسلام میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ اس وقت مسلمانوں کے پاس نہ علم تھا، نہ رصدگاہیں اور نہ دُوربینیں تھیں۔ اس لیے وہ اس ‘انکشاف’ کی سائنسی تردیدیاتائید نہ کرسکے۔ آخر قرآن مجید کی حفاظت کرنے والے رب نے قرآن مجید کی تائید کا انتظام خود ہی کیا اور یورپ میں ایسے فلکیات دان پیدا کردیئے جنہوں نے سالہا سال کے مشاہدے اور مطالعے کے بعد پورے وثوق سے اعلان کیا کہ سورج کسی نامعلوم منزل کی طرف جا رہا ہے۔ ان میں سرفہرست ولیم ہرشل تھا اس کا قول ہے: ‘‘سورج خلا میں سفر کر رہا ہے’’۔ سورج کی منزل کون سی ہے؟ اس کی وضاحت نہ تو قرآن مجید نے کی ہے نہ ہرشل نے۔ لیکن قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے جو دعویٰ کیا تھا وہ مغرب کو آخرکار تسلیم کرنا پڑا۔ (میری آخری کتاب، از غلام جیلانی برق، ص ۲۲-۲۵)

۲- جینیاتی ارتقاء:

۲۲ نومبر ۱۹۸۴ء کی اشاعت میں کینیڈا کا اخبار The Citizen لکھتا ہے:

Ancient holy book 1300 years ahead of its time.

‘‘قدیم مقدس کتاب اپنے وقت سے ۱۳۰۰ سال آگے’’۔

اسی طرح نئی دہلی کے اخبار Times of India نے ۱۰دسمبر ۱۹۸۴ء کو یہی خبر حسب ذیل سرخی کے ساتھ چھاپی:

Quran Scores over Modern Science

‘‘قرآن مجید جدید سائنس پر بازی لے جاتا ہے’’۔

قرآن مجید ساتویں صدی عیسوی میں نازل ہوا۔ اس وقت رحم مادر میں بچہ کن مراحل سے گزرتا ہے ساری دنیا میں کسی کو معلوم نہ تھا۔ ڈاکٹر کیتھ مور Genetics کے ماہر ہیں اور کینیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ انہوں نے قرآن مجید کی چند آیات (المومنون۲۳:۱۴)، (الزمر۳۹:۶) اور جدید تحقیقات کا تقابلی مطالعہ کیا۔ انہوں نے پایا کہ قرآن مجید کا بیان حیرت انگیز طور پر جدید دریافتوں کے عین مطابق ہے۔ یہ دیکھ کر اُنہیں سخت تعجب ہوا کہ قرآن مجید میں کیوں کر وہ حقائق موجود ہیں جن کو مغربی دنیا نے پہلی بار صرف اس صدی میں معلوم کیا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے ایک مقالہ لکھا ہے جس میں انہوں نے لکھا:

‘‘۱۳۰۰ برس قدیم قرآن مجید میں جینیاتی اِرتقاء کے بارے میں اِس قدر درست بیانات موجود ہیں کہ مسلمان معقول طور پر یہ یقین کرسکتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے اُتاری ہوئی آیتیں ہیں’’۔ (عظمت قرآن از وحیدالدین خان، ص ۳۳-۳۴)

قرآن مجید کی پیشین گوئیاں

انسان جب بھی کسی مسئلہ پر کلام کرتا ہے تو فوراً ظاہر ہوجاتا ہے کہ وہ ‘حال’ میں بول رہا ہے، اُسے ‘مستقبل’ کی کوئی خبر نہیں۔ کوئی انسان آنے والی حقیقتوں کو نہیں جانتا اس لیے وہ اپنے کلام میں اُن کا خیال نہیں رکھ سکتا۔ یہ ایسا معیار ہے جس پر آدمی ہمیشہ ناکام ہوتا ہے۔ اس کے برعکس قرآن مجید کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا مصنف ایک ایسی ہستی ہے جس کی نظر ماضی سے مستقبل تک یکساں طور پر پھیلی ہوئی ہے۔ وہ آج کے معلوم واقعات کو بھی جانتا ہے اور ان واقعات کو بھی جو کل انسان کے علم میں آئیں گے۔ ہم قرآن کی چند پیشین گوئیوں کا ذکر کر رہے ہیں جو حیرت انگیز طور پر بالکل صحیح ثابت ہوئیں۔

تاریخ میں ہمیں بہت سے ذہین اور حوصلہ مند لوگوں کی پیشین گوئیاں ملتی ہیں جنہیں ابتدائی کامیابیوں نے بہت بڑے دعوؤں پر مجبور کیا لیکن تاریخ نے ان کے دعوؤں کی تردید کردی۔ اس کے برعکس بالکل مخالف اور ناقابل قیاس حالات میں بھی قرآن کے الفاظ اِسی طرح صحیح ثابت ہوئے کہ اِن کی توجیہہ کے لیے تمام انسانی علوم بالکل ناکافی ہیں۔ ہم انسانی تجربات کی روشنی میں انہیں کسی طرح نہیں سمجھ سکتے۔ ان کی توجیہہ کی واحد صورت صرف یہ ہے کہ ان کو اللہ کی طرف منسوب کیا جائے۔

۱- فرعون کی لاش:

تاریخ کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں مصر کا جو بادشاہ غرق ہوا وہ رعمسیس دوم کا فرزند تھا۔ اُس کا خاندانی لقب فرعون اور ذاتی نام مرنفتاح تھا۔ نزول قرآن کے وقت اس فرعون کا ذکر صرف بائبل کے مخطوطات میں تھا۔ اُس میں بھی صرف یہ لکھا ہوا تھا: ‘‘اور خدا نے رتھوں اور سواروں اور فرعون کے سارے لشکر کو غرق کردیا اور ایک بھی ان میں سے باقی نہ چھوٹا’’۔ (خروج ۱۴:۲۸)

اس وقت قرآن مجید نے حیرت انگیز طور پر یہ اعلان کیا کہ فرعون کا جسم محفوظ ہے اور وہ دنیا والوں کے لیے سبق بنے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

‘‘آج ہم تیرے بدن کو بچالیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی ہو’’۔ (یونس ۱۰:۹۲)

قرآن پاک میں جب یہ آیت نازل ہوئی تو نہایت عجیب تھی۔ اُس وقت کسی کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ فرعون کا جسم کہیں محفوظ حالت میں ہے۔ اس آیت کے نزول پر اِسی حالت میں تقریباً تیرہ سو سال گزر گئے۔ پروفیسر لاریٹ وہ پہلا شخص ہے جس نے ۱۸۹۸ء میں مصر کے ایک قدیم مقبرہ میں داخل ہوکر دریافت کیا کہ یہاں مذکورہ فرعون کی لاش ممی کی ہوئی موجود ہے۔ ۸جولائی ۱۹۰۷ء کو ایلیٹ اسمتھ نے اس لاش کے اُوپر لپٹی ہوئی چادر کو ہٹایا۔ اُس نے اس کی باقاعدہ سائنسی تحقیق کی اور پھر ۱۹۱۲ء میں ایک کتاب شائع کی جس کانام ہے شاہی ممیاں (The Royal Mummies)۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ ممی کی ہوئی لاش اِسی فرعون کی ہے جو تین ہزار سال پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں غرق کیا گیا تھا۔

‘‘بائبل، قرآن اور سائنس ’’ کے مصنف ڈاکٹر موریس بوکائیے نے ۱۹۷۵ء میں فرعون کی اس لاش کا معائنہ کیا۔ اُس کے بعد اُنہوں نے اپنی کتاب میں لکھا:

‘‘فرعون کا مادی جسم خدا کی مرضی کے تحت برباد ہونے سے بچا لیا گیا تاکہ وہ انسان کے لیے ایک نشانی ہو، جیساکہ قرآن میں لکھا ہوا ہے: ‘‘وہ لوگ جو مقدس کتابوں کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں کے کمرے کو دیکھیں، وہاں وہ قرآن پاک کی اِن آیتوں کی شاندار تصدیق پالیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے بحث کرتی ہیں’’۔ (ص ۳۸۸)

قرآن پاک نے ساتویں صدی عیسوی میں کہا کہ فرعون کا جسم لوگوں کی نشانی کے لیے محفوظ ہے اور وہ بیسویں صدی کے شروع میں نہایت سچائی کے ساتھ برآمد ہوگیا۔ کیا اس کے بعد بھی اِس میں کوئی شبہ باقی رہا ہے کہ قرآن پاک ایک خدائی کتاب ہے؟!…… یہ عام انسانی تصنیفات کی طرح کوئی انسانی تصنیف نہیں۔ (عظمت قرآن از وحیدالدین خان، ص ۳۰-۳۱)

۲- وعدۂ خلافت:

ہجرت کے پانچویں سال تک مسلمانوں کا اثر صرف مدینہ اور اس کے نواح تک تھا۔ سارا عرب مسلمانوں کے خلاف صف آرا تھا۔ قیصروکسریٰ کی ہمدردیاں بھی عربوں کے ساتھ تھیں۔ اِن حالات میں مٹھی بھر اہل ایمان کا اِس خوفناک محاصرے کو توڑنا اور تمام دشمنوں کو پچھاڑ کر دنیا پر چھا جانا بہت دشوار نظر آتا تھا۔ اُس وقت قرآن میں ارشاد ہوا: ‘‘تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اُن سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اُن کو زمین میں خلافت عطا کرے گا جیسے اُن سے پہلے لوگوں کو دی تھی اور جس دین کو اللہ نے اُن کے لیے پسند کیا ہے، استحکام بخشے گا اور انہیں طاقت ور بناکر اُن کے خوف کو امن میں بدل دے گا’’۔ (النور۲۴:۵۵)

مدینہ میں ہجرت سے پہلے مسلمان اپنا سب کچھ مکہ چھوڑ آئے تھے۔ مدینہ میں آپؐ کے کئی ایسے مہاجر ساتھی تھے جن کے رہنے کے لیے کوئی باقاعدہ مکان تک نہ تھا۔ وہ چھپر پڑے ہوئے ایک چبوترے پر زندگی گزارتے تھے۔ ایک صحابیؓ بیان فرماتے ہیں:‘‘میں نے ستر آدمیوں کو جو اِس چبوترے پر رہتے تھے اِس حال میں دیکھا ہے کہ اُن کے پاس یا تو صرف ایک تہمد تھی یا صرف ایک چادر’’۔

چند انسانوں کا یہ بے سروسامان قافلہ مدینہ کی زمین پر اس طرح پڑا ہوا تھا کہ ہرآن خطرہ تھا کہ چاروں طرف اِس کے پھیلے ہوئے دشمن اِس کو اُچک لے جائیں گے مگر خدا کی طرف سے بار بار آپؐ کو یہ بشارت آتی تھی کہ تم ہمارے نمائندے ہواور تمہیں کوئی زیر نہیں کرسکتا۔ ان حالات میں اللہ کا کیا ہوا وعدہ ایسے پورا ہوا کہ حضوؐر کی زندگی ہی میں اُن کی حکومت یمن سے اُردن اور خلیج فارس سے بحرقلزم تک تقریباً ۸لاکھ مربع میل تک پھیل چکی تھی اور ۸۰ سال بعد اس کی جنوبی سرحد ملتان اور شمال مغربی سرحد ہسپانیہ سے پرے فرانس میں تھی۔

‘‘اور اللہ اپنے ارادے (کے نافذ کرنے پر) قادر ہے لیکن بہت سے لوگ اِس حقیقت سے ناآشنا ہیں’’۔ (یوسف۱۲:۲۱)

غلبہ روم…… قرآن پاک کی ایک اہم پیشین گوئی

روم عیسائی سلطنت تھی۔ ایرانی سورج دیوتا کے پرستار تھے۔ ایران کے بادشاہ خسرو پرویز کو ۵۹۰ء-۵۹۱ء میں بغاوت کی وجہ سے اپنے ملک سے فرار ہونا پڑا۔ اُس زمانے میں رومی شہنشاہ ماریس نے اُس کو نہ صرف پناہ دی بلکہ دوبارہ قبضہ حاصل کرنے میں اُس کی مدد کی۔ خسرو ماریس کے اس احسان کا ممنون اور اُس کو اپنا محسن باپ سمجھتا رہا۔ حضوؐر کو نبوت ملنے سے آٹھ سال قبل ۶۰۲ء میں فوکاس نامی ایک فوجی سردار شہنشاہ روم کے خلاف بغاوت کرکے اُس کو اور اُس کے خاندان کو نہایت بے دردی سے قتل کر کے تخت پر قابض ہوگیا۔ خسرو نے اپنے محسن کا انتقام لینے کے بہانے ۶۰۳ء میں روم پر حملہ کردیا۔ اس کی فوجیں یروشلم تک قابض ہوگئیں۔ ایرانی آتش پرست حکومت نے رومی علاقہ پر قبضہ کرنے کے بعد مسیحیت کو مٹانے کے لیے شدید ترین مظالم شروع کردیئے۔

عین اُس وقت جب رومی سلطنت زندگی اور موت کی اس کشمکش میں مبتلا تھی افریقہ کے گورنر ہرقل نے فوکاس کے خلاف بغاوت کر کے گرتی ہوئی سلطنت ِ رومہ کی باگ ڈور ۶۱۰ء میں اپنے ہاتھ میں لے لی۔ خسرو کو ہرقل کا ممنون ہونا چاہیے تھا کہ اُس نے اُس کے محسن کے قاتل کو قتل کردیا تھا مگر ایرانی شہنشاہ کی نیت بدل چکی تھی۔ ہرقل بھی ایرانی سیلاب کو روکنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ ۶۱۶ء تک رومی، دارالسطنت سے باہر اپنی شہنشاہی کا تمام مشرقی اور جنوبی حصہ کھو چکے تھے۔ رومی سلطنت فلسطین کی چار دیواری میں محدود ہوکر رہ گئی تھی۔ محاصرہ کی وجہ سے تمام راستے بند تھے۔ چنانچہ شہر میں قحط اور وبائی امراض نے پھیل کر مزید مصیبت پیدا کردی۔ ان حالات نے ہرقل کو بالکل مایوس کردیا۔ اُس نے بھاگنے کا ارادہ کیا۔ شاہی محل کی دولت اور جواہرات سے لدے ہوئے بحری جہاز روانہ ہونے کے لیے تیار کھڑے تھے مگر عین وقت پر رومی کلیسا کے بڑے پادری نے اُس کو مذہب کا واسطہ دے کر روکنے میں کامیابی حاصل کرلی اور ہمت دلائی۔ رومی شہنشاہ کی مغلوبیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اُس نے ایک ایرانی قاصد اور چند ذمہ دار رومی عہدہ داروں کے ذریعہ شاہِ ایران کی خدمت میں معافی اور امن کی درخواست بھیجی جسے خسرو نے سختی سے رد کردیا۔

ایک طرف یہ واقعات ہو رہے تھے تو دوسری طرف ایران اور روم کے درمیان عرب کے مرکزی مقام مکہ میں ان واقعات نے ایک اور کشمکش پیدا کردی تھی۔ مسلمانوں کی ہمدردیاں قدرتی طور پر اس جنگ میں رومی عیسائیوں کے ساتھ تھیں۔ جب ۶۱۶ء میں ایرانیوں کا غلبہ نمایاں ہوگیا اور رومیوں کے تمام مشرقی علاقے ایرانیوں کے قبضے میں چلے گئے تو اسلام کے مخالفین نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہنا شروع کیا کہ جیسے وہاں مشرک تمہارے جیسا مذہب رکھنے والوں پر غالب آگئے ہیں اسی طرح اپنے ملک میں بھی ہم تم کو اور تمہارے دین کو مٹاکر رکھ دیں گے۔ مکہ کے مسلمان جس بے بسی اور کمزوری کی حالت میں تھے اِن حالات میں یہ الفاظ اُن کے لیے زخموں پر نمک کا کام کرتے تھے۔ عین اِن حالات میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا: ‘‘رومی قریب کی زمین میں مغلوب ہوگئے ہیں مگر مغلوب ہونے کے بعد چند سال میں پھر وہ غالب آجائیں گے۔ پہلے اور پیچھے سب اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس دن مسلمان اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ (یہ) اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا’’۔ (الروم ۳۰: ۱-۶)

بضع (قرآنی آیت میں مدت کے لیے استعمال ہونے والا عدد) سے مراد تین اور دس سال کی درمیانی مدت ہے۔

اس پیشین گوئی کا اُسلوب اور سیاق و سباق بتاتا ہے کہ اس کو قرآن پاک اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک معجزہ اور اِن دونوں کی صداقت کے لیے بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ گبن لکھتا ہے: ‘‘اُس وقت جب کہ یہ پیشین گوئی کی گئی، کوئی بھی پیشگی خبر اتنی ناممکن نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ ہرقل کے ابتدائی بارہ سال رومی شہنشاہیت کے خاتمہ کا اعلان کر رہے تھے’’۔

مگر ظاہر ہے کہ یہ پیشین گوئی ایک ایسی ذات کی طرف سے کی گئی تھی جو تمام ذرائع و وسائل پر تنہا قدرت رکھتی ہے اور انسانوں کے دل جس کی مٹھی میں ہیں چنانچہ اِدھر خدا کے فرشتے نے ایک اُمی کی زبان سے یہ خبر دی اور اُدھر ہرقل میں ایک انقلاب آنا شروع ہوگیا۔ مؤرخ حیران ہیں کہ ہرقل جو بارہ سال پست ہمتی اور بزدلی کا مجسمہ بنا رہا یکایک میدانِ جنگ کا ماہر کیسے بن گیا۔ تاہم ۶۲۲ء میں جب ہرقل اپنی فوجیں لے کر قسطنطنیہ سے روانہ ہوا تو لوگوں نے سمجھا کہ دنیا رُومن اَمپائر کا آخری لشکر دیکھ رہی ہے لیکن پے درپے لڑائیوں کے بعد ایرانی سلطنت زیروزبر کردی گئی۔ رومیوں نے سلطنت ایران کے قلب میں رومی جھنڈا نصب کیا اور اس طرح ۶۲۵ء میں یعنی ہجرت کے دوسرے سال غزوۂ بدر کے موقع پر ٹھیک نو برس کے اندر قرآن پاک کی یہ عظیم الشان پیشین گوئی پوری ہوئی جس کی تکمیل کے کوئی ظاہری آثار نہ تھے۔

قرآن مجید اور قدیم آسمانی صحیفوں کا فرق

مستشرقین مغرب یہ بات قرآن مجید کے خلاف پیش کرتے ہیں کہ قرآن مجید کے واقعات نبی اکرمؐ نے نعوذباللہ تورات و اِنجیل سے سن کر نقل کردیئے ہیں۔ قرآن پاک، تورات اور اِنجیل تینوں آج بھی دنیا میں موجود ہیں۔ آج بھی اِن کا تقابل کیا جاسکتا ہے۔ قرآن پاک اور بائبل ایک ہی واقعہ کو مختلف شکلوں میں پیش کرتے ہیں۔ پھر قرآن مجید نے انبیاء ؑکی سیرت بالکل بے داغ اور ایسی پاکیزہ پیش کی ہے جو اُن کے منصب و مقام کے بالکل مطابق ہے بلکہ اُن الزامات کی تردید کی ہے جو اُن کے دشمنوں یا نادان دوستوں میں مشہور تھے، مثلاً:

۱- قرآن پاک میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۱۰۲ میں جب انسان پڑھتا ہے: ‘‘اور سلیمان ؑنے مطلق کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتا ہے’’۔

تو انسان کو تعجب ہوتا ہے کہ ایک نبی سے کفر کی نفی کی کیا ضرورت تھی۔ پھر جب تورات کتاب مقدس سلاطین، باب ۱۱، آیت ۴-۷ پڑھتا ہے: ‘‘کیونکہ جب سلیمانؑ بوڑھا ہوگیا تو اُس کی بیویوں نے اُس کے دل کو غیرمعبودوں کی طرف مائل کرلیا اور اُس کا دل خداوند کے ساتھ کامل نہ رہا جیساکہ اُس کے باپ داؤد ؑکا دل تھا کیونکہ سلیمانؑ صیدانیوں کی دیوی عستارات اور عمونیوں کے نفرتی ملکوم کی پیروی کرنے لگا’’۔

تب اُس پر واضح ہوتا ہے کہ قرآن پاک تورات میں کی گئی زیادتی کی اصلاح کر رہا ہے۔

۲- ڈاکٹر مورس بوکائیے ‘‘بائبل، قرآن اور سائنس’’ میں لکھتے ہیں: ‘‘کائنات کی تخلیق کے بارے میں بائبل کے بیان اور قرآن کی فراہم کردہ معلومات کے درمیان اتنا زبردست فرق ایک بار پھر اس لیے قابلِ غور ہے کہ آغازِ اسلام سے ہی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خواہ مخواہ کا یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ آپؐ نے بائبل کے بیانات کی ہوبہو نقل کرڈالی ہے۔ یہ الزام قطعاً بے بنیاد ہے کہ کوئی شخص جو ۱۴سو سال قبل رہ رہا ہو، کیسے اِس وقت کے موجود بیان میں اِس حد تک تصحیح کرسکتا تھا کہ وہ سائنسی اعتبار سے غیرصحیح مواد کو خارج کردیتا اور اپنی ذاتی اِختراع پر ایسے بیانات پیش کردیتا جن کی سائنس نے بھی دورِ جدید میں ہی تائید کی ہے۔ یہ مفروضہ کلیتاً ناقابلِ قبول ہے، تخلیق سے متعلق بیان جو قرآن میں دیا گیا ہے وہ اِس سے بالکل مختلف ہے جو بائبل میں ہے’’۔(ص ۲۳۹)

۳- اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر بلایا تو اُنہیں معجزات دیئے۔ قرآن میں ارشاد ہے: ‘‘اور تم اپنا ہاتھ اپنی بغل سے ملا لو۔ وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی عیب کے’’۔ (طٰہٰ۲۰:۲۲)

یہی معاملہ بائبل میں یوں بیان ہوا ہے: ‘‘موسیٰ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر اُسے ڈھانک لیا اور جب اُس نے اُسے نکال کر دیکھا تو اُس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا’’۔(خروج ۴:۷)

بائبل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ کی سفیدی کو ‘کوڑھ’ بتا رہی ہے۔ ایسی حالت میں قرآن میں اس معجزہ کو بیان کرتے ہوئے ‘بغیر کسی عیب کے’ کا اِضافہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ قرآن بائبل سے ماخوذ نہیں بلکہ یہ خدائے عالم الغیب کی طرف سے ہے جو بائبل میں کی گئی تبدیلیوں کی درستی کر رہا ہے۔

اِس طرح کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں جو بتاتی ہیں کہ بائبل میں کئی واقعات انسانی تحریف کی وجہ سے قرآن پاک سے بالکل مختلف ہیں بلکہ قرآن پاک میں اِن واقعات کے بعض اہم اجزا مذکور ہیں جن کا تورات میں ذکر تک نہیں۔

ان تمام دلائل پر معمولی غوروفکر کرنے سے ہر سلیم الفطرت انسان اِسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ قرآن پاک اللہ کا کلام ہے۔ اب اگر وہ اُسے نہ مانے، بے رُخی برتے، نہ پڑھے، نہ عمل کرے، اِس کے مطابق زندگی نہ گزارے تو گویا وہ اپنے رب کو ناراض کر رہا ہے اور اپنی محدود زندگی کے عیش کے بدلے لامحدود عذاب کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ اللہ کا محبت سے لکھا ہوا ‘خط’ اگر بندہ کھولنا تک گوارا نہ کرے تو اُس کا خالق سے محبت کا دعویٰ کہاں تک صحیح ہے۔ پھر مالک نے تو ہدایت نامہ اس لیے بھیجا ہے کہ وہ اِس دنیا کو بھی جنت بنائے مگر افسوس وہ دنیا اور آخرت دونوں ضائع کرنے پر تلا ہوا ہے۔ فقط اپنے گمانوں کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے جیساکہ خود قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ‘‘اور اُن میں (ایسے) اَن پڑھ (بھی) ہیں جو کتاب (الٰہی) کا کوئی علم نہیں رکھتے سوائے جھوٹی آرزوؤں کے اور فقط خیالی تُکے چلایا کرتے ہیں’’۔(البقرہ ۲:۷۸)

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے، عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

٭٭٭