حمد ذوالجلال

مصنف : مولانا ظفر علی خان

سلسلہ : حمد

شمارہ : مارچ 2008

 

پہنچتا ہے ہراک مے کش کے آگے دور جام اس کا 
کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطف عام اس کا 
 
گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی 
دوئی کے نقش سب جھوٹے ہے سچا ایک نام اس کا
 
عبودیت کو بھی کیا کیا مدارج اس نے بخشے ہیں
جہاں میں بن کے آتا ہے رسول اس کا غلام اس کا
 
ہر اک ذرہ فضا کا داستاں اس کی سناتا ہے 
ہر اک جھونکا ہوا کا آ کے دیتا ہے پیام اس کا
 
میں اس کو کعبہ و بت خانے میں کیوں ڈھونڈنے نکلوں
مرے ٹوٹے ہوئے دل ہی کے اندر ہے مقام اس کا 
 
ہوئی ختم اس کی حجت اس زمیں کے بسنے والوں پر
کہ پہنچایا ہے ان سب تک محمدنے کلام اس کا
 
سراپا معصیت میں ہوں ، سراپا مغفرت وہ ہے 
خطا کوشی روش میری ، خطا پوشی ہے کام اس کا 
 انتخاب ، خضر حیات ناگپوری