غیر متعلقہ گفتگو

مصنف : ابو یحییٰ

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : 2017 جنوری

اصلاح و عوت
غیر متعلقہ گفتگو
ابو یحیی 

غیر متعلقہ گفتگو 
میری دعوتی زندگی پر اب کم وبیش ربع صدی کا وقت گزر چکا ہے۔ اس طویل عرصہ میں ہدایت کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ میں نے دیکھی ہے وہ کسی معقول بات کے جواب میں غیر متعلقہ گفتگو کرنے کی عادت ہے۔ یہ عادت کیا ہوتی ہے، اس کی ان گنت مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ لیکن دو حالیہ مثالیں میں ذاتی تجربے سے قارئین کے سامنے پیش کیے دیتا ہوں جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ مرض کیا ہوتا ہے۔
کچھ عرصے پہلے میں نے فیس بک پر اپنا ایک تاثر درج کر دیا کہ خواتین پر مسجد کے دروازے بند نہیں ہونے چاہییں۔ لوگوں نے اس بات کو بہت پسند کیا لیکن کچھ لوگوں کی طرف سے ایک غیر متعلقہ بحث چھیڑ دی گئی۔ وہ یہ کہ خواتین کے لیے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ میرے تاثرات میں اس بات کا کوئی ذکر نہ تھا کہ خواتین کے لیے نماز کہاں پڑھنا افضل ہے۔ بحث یہ تھی کہ اس کا کیا شرعی جواز ہے کہ خواتین پر مساجد کے دروازے بند کر دیے جائیں۔ جبکہ یہ کام اللہ اور اس کے رسول نے نہیں کیا۔ بلکہ صحیح ترین روایات میں عید میں خواتین کی حاضری کو لازمی کیا گیا ہے اور عام نمازوں میں حکم ہے کہ خواتین مسجد جانا چاہیں تو ان کو نہ روکا جائے۔ مگر یار لوگوں نے اصل بات کا کوئی جواب نہ پا کر قارئین کو گمراہ کرنے کے لیے ایک دوسری بحث اٹھا دی۔
ایک دوسری مثال پاکستانی پاسپورٹ کے حوالے سے لکھے گئے اس مضمون کی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ ویزہ کی پابندیوں کے لحاظ سے پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں افغانستان کے بعد سب سے کم وقعت رکھتا ہے۔ اور یہ کہ دنیا کے کسی اہم یا غیر اہم ملک میں پاکستانیوں کو بنا ویزہ داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ پھر اس صورتحال کی وجوہات پر کچھ گفتگو کی گئی تھی۔
یہ مضمون فیس بک پر شائع ہوا تواس پر ایک صاحب نے ایک دفعہ پھر ایک غیر متعلق بحث چھیڑ دی۔ یعنی جس ادارے نے یہ رپورٹ بنائی اس پر لعن طعن، مغربی ممالک کو برا بھلا کہا یا یہ کہ پھر تو انڈیا چلے جانا چاہیے۔ اس طرح کی غیر متعلق اور لا یعنی گفتگو کرنا ہمارے ہاں کے جذباتی لوگوں کاعام طریقہ ہے۔ حالانکہ معقول جواب یہ ہوتا کہ اعداد و شمار پیش کر کے یہ بتایا جاتا کہ فلاں فلاں ممالک میں پاکستانیوں کو بغیر ویزہ داخلے کی اجازت ہے اور مصنف کی بات خلاف حقیقت ہے۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔اس طرح کی غیر متعلق گفتگو کرنے والے لوگوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ دلیل وہ سمجھتے نہیں ہیں اور اپنی غیر متعلق اور لایعنی گفتگو کو گلا پھاڑ کر اور بار بار پورے اعتماد سے دہرا دینے کو دلیل کے قائم مقام سمجھتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک مدلل بات کو اپنی بے معنی چیخ و پکار سے متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
کسی معقول بات کو غیر متعلق اعتراضات سے متنازعہ بنانے کی یہ ٹیکنیک پرنٹنگ پریس کے دور تک تو بہت کامیاب تھی، مگر اب انفارمیش ایج میں فیس بک وغیرہ پر جب نامعقولیت کا نامعقولیت ہونا فوراً واضح کیا جا سکتا ہے تو یہ ٹیکنیک زیادہ کامیاب نہیں رہی۔ کیونکہ ایک تیسرے قاری کے سامنے دونوں طرف کی باتیں فوراً آ جاتی ہیں اور وہ ایک واضح فیصلہ کر لیتا ہے۔ تاہم اس کا ایک نقصان ابھی بھی ہوتا ہے۔وہ نقصان یہ ہے کہ اس طرح کی غیر متعلقہ باتوں کا جواب دینے میں وقت بہت ضائع ہوتا ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے معاشرے میں جہاں اس طرح کی لایعنی گفتگو پورے اعتماد کے ساتھ کرنے والے لوگو ں کی ایک بڑی تعداد موجود ہو۔ ایسے میں سنجیدہ لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خود آگے بڑھ کر ایسی فضولیات کی غلطی واضح کر دیا کریں۔ ایسے مواقعو ں پر خاموش رہنا دراصل شیطان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔
شام کا پیغام 
یہ سردیوں کی ایک ٹھٹھرتی ہوئی شام تھی۔ میں مغرب کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکلا تو سرد ہوا کے جھونکوں نے میرا استقبال کیا۔ میں نے سر اٹھایا آسمان پر ایک ایسا منظر تھا جس کے حسن نے مجھے مسحور کر کے رکھ دیا۔ سردیوں کی اس گلابی شام میں آسمان کے مغربی افق پر گویا شعلے بھڑک رہے تھے۔ سورج تو ڈوب چکا تھا مگر اپنے پیچھے شفق کی وہ لالی چھوڑ گیا، جس نے نیلے آسمان کو دلہن کے سرخ لباس کی طرح سجا دیا تھا۔سرد ہوا میں انگاروں کی طر ح دہکتے آسمان کا یہ منظر اتنا حسین تھا کہ پوری کائنات اس کے مشاہدے میں مصروف تھی۔ پرندے اس آسمانی دلہن کی بارات کا دیدار کرتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ فضا میں بکھرے بادلوں کو کوئی جلدی نہ تھی۔ وہ اپنی جگہ ٹھہر کراس حسین منظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ بلند قامت درخت بھی بادلوں کی دیکھا دیکھی، حسن فطرت کے اس نظارہ سے محظوظ ہونے لگے۔ حد تو یہ ہے کہ شب کی سیاہی بھی اس منظر کو دیکھنے نکل آئی تھی۔
میں نے دیکھا کہ فطرت کی ہر شے اس بیحد حسین منظر کو دیکھ کر خالق کائنات کی حمدو تسبیح کرنے لگی ہے۔ مگر جس ہستی کوزمین کا بادشاہ بنایا گیا تھا، وہ بالکل بے پروا اپنے دھندوں میں لگا تھا۔ شاپنگ سنٹر سے نکلتے ، گاڑیوں میں بیٹھتے ، سڑکوں پر چلتے یہ لوگ سب سے بڑھ کر اس کے اہل تھے کہ یہ منظر دیکھتے اور خدا کی حمد اور تعریف کے نغمے گاتے۔ مگر آہ یہ انسان! اس کے پاس ہر چیز کا وقت ہے۔ خدا کی صناعی کو دیکھ کر اس کی ثنا اور تعریف کا وقت نہیں ہے۔
وہ جو اپنی ذات میں محمود ہے اس سے بالکل بے نیاز ہے کہ اس کی حمد کی جائے۔ وہ تو اس جیسے نہ جانے کتنے جلوے صبح و شام ویرانوں میں بکھیرتا رہتا ہے۔ جبریل واسرافیل جس کی حمد کرتے ہوں ، اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ جن و انس میں سے کون اس کی شکر گزاری کرتا ہے اور کون نہیں۔
افق پر سیاہی بڑھتی جا رہی تھی اور شام کی سرخی، گزرتی عمر کی طرح تیزی سے ڈھل رہی تھی۔ مجھے خیال آیا کہ یہ ڈوبتی شام ایک پیغام دے رہی ہے۔ وقت کم ہے۔ خدا کی حمد کر کے ، اس شام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے نام کر لو۔ خدا کی بادشاہی قائم ہونے کو ہے۔ جنت دلہن کی طرح سجائی جا رہی
ہے۔ اْس کی ہر شام، اِس شام سے زیادہ حسین و دل نشین ہو گی۔ اسے مانگ لو۔ خدا اپنی حمد کے ساتھ کی گئی دعا رد نہیں کرتا۔ اس سے فردوس کی ابدی بادشاہی مانگ لو۔ جو جبریل واسرافیل کو نہیں مل سکتا، وہ مانگ لو۔
اس شام کا یہ پیغام، باقی انسانوں کا مجھ پر تھا، جو یہ تحریر لکھ کر میں نے اتاردیا۔
اپنے اعمال تولیے
’’آج میں آپ کوایک راز کی بات بتانا چاہتا ہوں۔‘‘عارف نے مجلس کے آغاز میں جب یہ بات کہی تو ہر سننے والے والا ہمہ تن گوش ہو گیا۔ گرچہ اس سے قبل بھی ان کی پوری توجہ عارف ہی کی طرف تھی۔ وہ ایک وقفے کے بعد دھیرے سے بولے:’’آج میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اِسی دنیا میں رہتے ہوئے آپ جان سکتے ہیں کہ روزِ قیامت میزان میں آپ کا نیکی کا پلڑا بھاری ہو گا یا گناہوں کا۔‘‘یہ کہہ کر وہ دوبارہ ٹھہرگئے۔ اس وقفے کا فائدہ اٹھا کر ایک صاحب گویا ہوئے:’’جس کے نیک عمل گناہوں سے زیادہ ہوں گے اسی کا میزان بھاری ہو گا۔ کیا اس کے علاوہ بھی اعمال تولنے کا کوئی طریقہ ہے؟ ‘‘’’آپ نے درست کہا۔ مگر یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ وہاں اعمال کی گنتی ہی نہیں ہو گی بلکہ ان کی تول بھی ہو گی۔ پہلے مرحلے میں نامہ اعمال پیش ہو گا۔ اس میں ہر عمل لکھا ہوا ہو گا۔ مگر میزان کا معاملہ جدا ہے۔ میزان میں تو ان اعمال کا وزن ہو گا۔ اسی وزن پر انسان کی نجات، بلندی درجات یا پکڑ کا حتمی فیصلہ ہو گا۔ ؟ ‘‘عارف یہ کہہ کر رکے تو ہر چہرے پر ایک سوال پیدا ہو چکا تھا۔ عارف دوبارہ بولے:’’میں یہ اس لیے بتا رہا ہوں کہ آپ جیسے نیک لوگ اپنے نیک اعمال کی کثرت کے باوجود قیامت کے دن کہیں محرومی کا شکار نہ ہوجائیں۔ اس لیے اللہ کی تول سے قبل آج ہی اپنی تول کر لیں۔‘‘یہ کہہ کر عارف پھر رکے تو ان کے قریب بیٹھے ایک شخص نے ذرا گھبرائے ہوئے اندازمیں کہا۔’’جناب! آج تو آپ بہت ڈرا رہے ہیں۔‘‘’’ہاں! مگر یہ علم ضروری ہے۔ یہ علم نجات کے لیے بھی ضروری ہے اور بلندی درجات کے لیے بھی ضروری ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن، خدا نہ کرے ہم کسی محرومی کا شکار ہوجائیں۔‘‘یہ کہہ کر عارف نے ایک سرے سے دوسرے سرے تک حاضرین پر نظر ڈالی اور بولے:’’ہم اس لیے محروم رہ جائیں گے کہ روزِ قیامت ہمارے نامہ اعمال میں ہر نیکی ہو گی۔ نماز، حج، روزہ، زکوٰۃ۔ مگر ہمارے پاس ان اعمال کی روح نہیں ہو گی۔چنانچہ روز قیامت جب ہمارے بہت سارے اعمال کو میزان میں رکھا جائے گا تو معلوم ہو گا کہ ان کا وزن تو بہت کم ہے۔ دوسری طرف ہمارے گناہوں کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہو گا۔‘‘’’مگر گناہ تو تھے ہی نہیں۔ ہم نے زنا نہیں کیا۔ قتل نہیں کیا۔ زمین میں فساد نہیں کیا۔‘‘ایک صاحب نے کچھ احتجاجی لہجے میں گفتگو میں مداخلت کی۔’’گناہ کی شکل نہیں تھی۔ مگر اسپرٹ پوری طرح موجود تھی۔‘‘یہ جواب دیتے ہوئے عارف کا لہجہ ایک دم سے سخت ہو گیا۔’’ہم نے جسمانی طورپر کسی عورت سے زنا نہیں کیا۔ مگرہم میں سے کتنے ہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے دل اور نگاہ سے کتنی ہی اداکاراؤں، ماڈلوں اور اردگردپائی جانے والی خواتین کے ساتھ باربار بدکاری کی۔ حتیٰ کہ بڑھاپے میں بھی ہم یہ جرم کرتے رہے۔ ‘‘’’ہم نے کسی کو قتل نہیں کیا۔ مگر کتنے قاتلوں کو اپنے سیاسی تعصبات کی بنیاد پر ووٹ دیے۔ کتنے قاتلوں کو اپنے فرقہ وارانہ اور نظریاتی تعصبات کی بنیاد پر ہیرو اور شہید کہہ کر ان کی حمایت کرتے رہے۔ ہماری حمایت اور تحفظ کی بنا پر یہ قاتل مضبوط ہوئے۔ جس کے بعد روز قیامت قاتلوں کے ہر جرم کا ایک حصہ ہمارے نامہ اعمال میں بھی ڈال دیا جائے گا۔‘‘’’ہم نے زمین پر فساد نہیں مچایا۔ مگر ہم نے کم تولا، زیادہ لیا۔ یہ فساد فی الارض ہے۔ ہم نے اپنی انانیت اور مفادات کی بنا پر ان لوگوں کا ساتھ نہیں دیا جو حق کے علمبردار تھے۔ یہ فساد فی الارض ہے۔ ہم نے ہر سنی سنائی بات کو بلا تحقیق آگے پھیلا کر دوسروں کی جان، مال، آبرو خطرے میں ڈالی۔ یہ فساد فی الارض ہے۔‘‘ عارف کے لہجے میں غضب تھا۔سو ہمارے میزان میں ہر بڑے گناہ کی شکل نہ سہی روح ضرور ہو گی۔ اور روز قیامت وزن اعمال کی روح جاننے کے لیے ہی کیا جائے گا۔ اب جب آپ کو اپنے اعمال کا وزن معلوم ہو چکا ہے تو ضمیر کی میزان پر خود کو تول لیجیے۔ قبل اس کے کہ خدا اپنے میزان پر ہمیں تولے۔‘‘عارف کی بات ختم ہو گئی مگر ہر اس شخص کو لرزا گئی جس کے سینے میں پتھر نہیں دل تھا۔
***