مارچ 2011
خواب ذرا سا رہ جاتا ہے ہاتھ میں کاسہ رہ جاتا ہے آ کے موج گزر جاتی ہے ساحل پیاسا رہ جاتا ہے جب رسوائی ہو جاتی ہے کون شناسا رہ جاتا ہے ہجر کا درد دلوں میں اکثر اچھا خاصا رہ جاتا ہے...