معاشرت
وہ جو ٹائر چیک کرتا تھا
محمد مسعود، نوٹنگھم برطانیہ
آج کافی عرصے بعد میں صبح صبح کی شفٹ پر نکلا تھا۔ نوٹنگھم کی سڑکیں ابھی آدھی سوئی ہوئی تھیں، ہلکی ہلکی دھند، ٹھنڈی ہوا، اور میں اپنی ٹیکسی میں NG8 سے سٹی سینٹر کی طرف جا رہا تھا۔ یہ میری پہلی رائیڈ تھی۔ایپ پر جاب ڈیٹیل کے ساتھ نام آیا ( ایملی )
میں نے پک اپ پوائینٹ پر گاڑی روکی تو ایک سفید رنگ کی انگریز لڑکی، کوئی 25، 26 سال کی، ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ لیے کھڑی تھی۔ آنکھیں ذرا سوجی ہوئی لگ رہی تھیں جیسے رات بھر سوئی نہ ہو۔ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی اور بولی،
Clifton please, near the university.
میں نے گاڑی چلائی۔ دو منٹ تک خاموشی رہی۔ پھر اچانک وہ بولی، "کیا آپ کے والد ہیں؟"میں تھوڑا چونکا، شیشے سے اسے دیکھا۔ اس نے کہا، سوری ڈرائیور، میرا مطلب. آج میرے ڈیڈ کی برسی ہے۔میں نے آہستہ سے کہا، "جی، میرے والد اب حیات نہیں ہیں، وہ پندرہ سال پہلے اس دنیا سے رخصت ہو گئے-وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی اور پھر اس نے وہ کہانی سنانی شروع کی جو آپ سامعین کے سامنے رکھ رہا ہوں -
کہنے لگی، "میرے والد ہر بار جب میں ان سے ملنے جاتی تھی تو میری گاڑی چیک کیا کرتے تھے۔ اور مجھے یہ بات بہت بری لگتی تھی۔ میں سوچتی تھی میں بڑی ہو چکی ہوں، میری اپنی زندگی ہے، اپنی نوکری ہے، اپنا فلیٹ ہے۔ میں جانتی ہوں اپنا خیال کیسے رکھنا ہے۔ لیکن ہر بار جب میں واپس جانے لگتی تو وہ پھر بھی باہر آ جاتے۔ کوٹ پہنے بغیر، ٹھنڈ میں۔ وہ ٹائروں کو لات مار کر دیکھتے، وائپر کا پانی چیک کرتے، لائٹس دیکھتے اور کہتے..."
اس کی آواز بھر گئی۔کہتے، تمہارا ٹائر تھوڑا بیٹھا ہوا لگ رہا ہے۔ تمہیں وائپر میں پانی ڈالنے کی ضرورت ہے۔ احتیاط سے گاڑی چلانا۔ اور میں دل ہی دل میں چڑ جاتی تھی۔ کبھی کبھی میں کہہ بھی دیتی تھی، ڈیڈ، پلیز، میں بچی نہیں ہوں۔میں نے گاڑی کا میوزک بند کر دیا تھا۔ نوٹنگھم کی صبح کی ٹریفک میں اس کی آواز ہی گونج رہی تھی۔پھر ایک دن وہ چلے گئے۔ ہارٹ اٹیک۔ بالکل اچانک۔ اور انہیں کھونے کے بعد جب میں پہلی بار اپنے بچپن والے گھر سے واپس اپنے فلیٹ جانے کے لیے اپنی گاڑی میں بیٹھی تو کچھ بہت مختلف تھا۔
وہ رکی۔ اس نے اپنا بیگ زور سے پکڑا۔کوئی میرے پیچھے باہر نہیں آیا۔ دروازہ بند ہونے کی آواز کے بعد گھر میں مکمل خاموشی تھی۔ کسی نے ٹائر چیک نہیں کیے۔ کسی نے آواز نہیں دی کہ ایملی، ہیڈ لائٹ آن کرنا مت بھولنا۔ کسی نے احتیاط سے چلانے کے لیے نہیں کہا۔اور اس لمحے مجھے سمجھ آیا کہ جو ساری باتیں مجھے تنگ کرتی تھیں، وہی باتیں اب مجھے سب سے زیادہ یاد آتی ہیں۔ وہ کبھی گاڑی چیک نہیں کر رہے تھے۔ وہ میرا خیال رکھ رہے تھے۔ وہ بس یہ کہنا نہیں جانتے تھے کہ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں، مجھے تمہاری فکر ہے۔ تو وہ ٹائر کے بہانے، وائپر کے بہانے اپنا پیار دکھاتے تھے۔
میری آنکھوں کے سامنے اپنے ابا کا چہرہ آ گیا۔ جب بھی میں پاکستان فون کرتا تھا، وہ یہی کہتے ہیں، "بیٹا مسعود ، برطانیہ نوٹنگھم میں ٹھنڈ ہے، ٹوپی پہن لیا کرو۔ رات کو زیادہ دیر ٹیکسی نہ چلایا کرو۔ کھانا وقت پر کھایا کرو۔ اور میں بھی کبھی کبھی اس لڑکی کی طرح سوچتا تھا کہ ابا جی، میں اب بڑا ہو گیا ہوں۔ایملی رو رہی تھی، خاموشی سے۔ میں نے ٹشو کا پیپر پیچھے بیٹھی ایملی کو دیا۔میں نے کہا، ایملی، تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔ کبھی کبھی محبت 'میں تم سے پیار کرتا ہوں' جیسی نہیں لگتی۔وہ چونکی، میری طرف دیکھا۔میں نے کہا، کبھی کبھی محبت یوں سنائی دیتی ہے: گھر پہنچ کر میسج کرنا۔ کچھ کھایا ہے؟ جیکٹ لے لو۔ احتیاط سے جانا۔ ٹیکسی میں ہمارے جیسے کئی لوگوں سے یہی سنتا ہوں۔ ماں باپ کا پیار شور نہیں کرتا، وہ ان چھوٹے چھوٹے جملوں میں چھپا ہوتا ہے۔"
ہم Clifton Nottingham کے قریب پہنچ چکے تھے۔ اس نے آنسو صاف کیے اور مسکرائی۔آپ کو پتہ ہے، آج صبح میری گاڑی کا ٹائر پنکچر تھا، اسی لیے میں نے ٹیکسی منگوائی۔ اور میں نے سوچا اگر ڈیڈ ہوتے تو وہ صبح سویرے اٹھ کر خود ٹائر بدل رہے ہوتے۔ اسی لیے مجھے آج یہ سب یاد آ گیا۔
میں نے ٹیکسی روکی۔ وہ اترنے لگی تو اس نے کہا، تھینک یو سر ۔ آپ پہلے ڈرائیور ہیں جس نے مجھے جلدی نہیں ٹوکا۔میں نے کہا، ایملی، آج تم نے میری صبح بنا دی۔ تم نے مجھے میرے مرحوم والد کی یاد دلا دی
اپنے ڈیڈ کی قدر کریں، جب تک وہ ہیں۔ ان کی وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو آپ کو تنگ کرتی ہیں، ایک دن وہی سب سے قیمتی خزانہ بن جائیں گی۔"
وہ چلی گئی۔ میں کافی دیر تک وہیں کھڑا رہا۔ نوٹنگھم یونیورسٹی کے سامنے، صبح کے ساڑھے پانچ بجے، میری ٹیکسی کی پہلی رائیڈ نے مجھے زندگی کا سب سے بڑا سبق دے دیا تھا۔
محبت ہمیشہ بڑے تحفوں اور بڑے الفاظ میں نہیں ہوتی۔ محبت تو اس بوڑھے باپ کے اس ہاتھ میں ہوتی ہے جو ٹھنڈ میں کانپتے ہوئے بھی اپنی بیٹی کے کار کے ٹائر کو چھو کر تسلی کر لیتا ہے کہ میری بچی محفوظ رہے گی۔ اللہ حافظ اس دلی دعا کے ساتھ جن کے والدین حیات ہے ان کی قدر کریں دعائیں لیں۔ اور جن کے والدین اس دنیا سے چلے گئے ان کے ليے دعائے مغفرت کریں -