پرسنالٹی گرومنگ

مصنف : جاويد تيموری

سلسلہ : تعمير شخصيت

شمارہ : فروری 2026

تعمير شخصيت

پرسنالٹی گرومنگ

جاويد تيموری

پرسنالٹی گرومنگ (Personality Grooming) کی 15 بے رحم اور تلخ حقیقتیں۔

اگر آپ اپنی شخصیت کو واقعی نکھارنا چاہتے ہیں، تو ان میٹھی گولیوں کے بجائے ان کڑوی گولیوں کو نگل لیں۔

۱۔ بدبو دار وجود کی کوئی عزت نہیں

سب سے پہلے نہانا سیکھیں۔ مہنگے کپڑے اور گھڑی پہننے کا کوئی فائدہ نہیں اگر آپ کے منہ سے بدبو آ رہی ہے یا بغلوں سے پسینے کی بو اٹھ رہی ہے۔ لوگ آپ کے کردار تک پہنچنے سے پہلے آپ کی بو سے بھاگ جائیں گے۔ ڈیوڈرینٹ اور ماؤتھ واش آپشن نہیں، مجبوری ہیں۔

۲۔ خیمہ پہننا بند کریں (فٹنگ)

ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن کر آپ ”شریف“ نہیں، بلکہ ”لاپرواہ“ اور ”بے ڈھنگے“ لگتے ہیں۔ درزی کو کپڑا دیتے وقت اسے کہیں کہ کپڑے آپ کے جسم کے مطابق سیے، نہ کہ کسی ہینگر کے لیے۔ کپڑے سستے ہوں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اگر فٹنگ ٹھیک نہیں، تو آپ کی شخصیت صفر ہے۔

۳۔ ریڑھ کی ہڈی سیدھی رکھیں

کندھے جھکا کر اور پاؤں گھسیٹ کر چلنا بند کریں۔ یہ شکست خوردہ لوگوں کی نشانی ہے۔ سینہ تان کر، سر اٹھا کر اور نظریں ملا کر چلیں۔ آپ کی چال بتاتی ہے کہ آپ لیڈر ہیں یا فالوور۔

۴۔ منہ بند رکھیں (کم بولیں)

ہر موضوع پر رائے دینا ضروری نہیں ہوتا۔ جہاں ضرورت نہ ہو وہاں خاموش رہیں۔ زیادہ بولنے والا انسان اپنی عزت اور وقار کھو دیتا ہے۔ جب آپ کم بولتے ہیں، تو لوگ آپ کو سننے کے لیے ترستے ہیں۔ احمق بول کر اپنا بھرم کھول دیتا ہے۔

۵۔ گالی گلوچ، کمزور دماغ کی نشانی

بات بات پر گالی دینا ”کول“ نہیں، بلکہ ”ذہنی پسماندگی“ ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے اور آپ جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ اپنی زبان کو لگام دیں، ورنہ لوگ آپ کو سڑک چھاپ سمجھیں گے۔

۶۔ رونی صورت مت بنائیں

دنیا کو آپ کے دکھوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ہر وقت اپنی مجبوریوں اور بیماریوں کا رونا رو کر ہمدردی سمیٹنا بند کریں۔ مظلومیت (Victim Mentality) آپ کی شخصیت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ مسکرائیں اور مسائل کا سامنا کریں۔

۷۔ کھانے کے آداب (جانور مت بنیں)

کھانا کھاتے وقت چبانے کی آواز نکالنا، منہ کھول کر کھانا یا پلیٹ میں پہاڑ بنا لینا بدتہذیبی کی انتہا ہے۔ اگر آپ ٹیبل مینرز نہیں جانتے، تو آپ کبھی بھی ایلیٹ کلاس یا پڑھے لکھے لوگوں میں نہیں بیٹھ سکتے۔

۸۔ موبائل کو جیب میں رکھیں

جب کسی سے بات کر رہے ہوں اور بار بار فون کی اسکرین دیکھیں، تو یہ اگلے بندے کی تذلیل ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی توجہ کا دورانیہ (Attention Span) ایک مچھر جتنا ہے۔ جس سے مل رہے ہیں، اسے پوری توجہ دیں ورنہ مت ملیں۔

۹۔ جوتے آپ کی اوقات بتاتے ہیں

لوگ چہرہ بعد میں دیکھتے ہیں، جوتے پہلے دیکھتے ہیں۔ ہزاروں کا سوٹ پہن لیں لیکن اگر جوتے گندے یا پھٹے ہوئے ہیں، تو سارا تاثر برباد۔ جوتوں کی صفائی آپ کی باریک بینی کا ثبوت ہے۔

۱۰۔ ناخن تراشیں

بڑھے ہوئے اور میلے ناخن صرف بیماری نہیں پھیلاتے، بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ آپ ذاتی صفائی میں کتنے سست ہیں۔ یہ چھوٹی سی چیز آپ کی پوری گرومنگ پر پانی پھیر سکتی ہے۔

۱۱۔ ”میں“ سے باہر نکلیں

گفتگو میں ہر وقت ”میں نے یہ کیا، میں وہ ہوں“ کرنا بند کریں۔ نرگسیت (Narcissism) دوسروں کو آپ سے دور کر دیتی ہے۔ دوسروں کی بات سنیں اور ان میں دلچسپی لیں۔ خود پرستی کا بت توڑ دیں۔

۱۲۔ توند کم کریں

باہر نکلا ہوا پیٹ دولت کی نہیں، بیماری اور بے ضبطگی کی نشانی ہے۔ اگر آپ اپنے جسم کو کنٹرول نہیں کر سکتے، تو آپ زندگی میں کچھ کنٹرول نہیں کر سکتے۔ فٹنس صرف صحت نہیں، بلکہ ایک ”اسٹیٹمنٹ“ ہے کہ آپ محنتی ہیں۔

۱۳۔ وعدہ خلافی چھوڑ دیں

اگر آپ وقت پر نہیں پہنچ سکتے، تو آپ کی زبان کی کوئی قیمت نہیں۔ ”ٹریفک جام تھا“ کا بہانہ بنانا بند کریں۔ وقت کی پابندی نہ کرنا دراصل دوسروں کے وقت کی چوری ہے۔

۱۴۔ مطالعہ کریں، ورنہ دماغ سکڑ جائے گا

اگر آپ کے پاس ڈگری کے علاوہ کوئی علم نہیں، تو آپ ایک بورنگ انسان ہیں۔ حالات حاضرہ، تاریخ اور نفسیات پڑھیں۔ خالی دماغ کے ساتھ اچھی ڈریسنگ بھی آپ کو صرف ایک ”پتلا“ بناتی ہے۔

۱۵۔ ”نہ“ کہنا سیکھیں

ہر کسی کے لیے دستیاب رہنا بند کریں۔ جو ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ آخر میں خود ذلیل ہوتا ہے۔ اپنی حدود (Boundaries) مقرر کریں اور فضول کاموں کو سختی سے ”نہ“ کہیں۔

شخصیت بازار سے خریدی گئی کریموں سے نہیں، بلکہ ڈسپلن، صفائی اور شعور سے بنتی ہے۔ شیشے میں دیکھیں اور خود کو ٹھیک کریں، اس سے پہلے کہ دنیا آپ کو مسترد کر دے-