قدرت الِہی

جواب۔حق تعالیٰ شانہ، بلا شبہ قادر مطلق ہے، اور ہرچیز پر قادرہے۔ مگر سوال میں یہ منطقی مغالطہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی سے عاجز فرض کرکے سوال کیا گیا ہے۔ کیونکہ کسی پتھر کو نہ اْٹھا سکنا عجز ہے۔ اور اللہ تعالیٰ عجز سے پاک ہے۔ پس جب ایسے پتھر کا وجود ہی ناممکن ہے تو اس کی تخلیق کا سوال ہی غلط ہے۔قدرت الہٰیہ ممکنات سے متعلق ہوتی ہے۔ محالات سے متعلق نہیں ہوتی۔
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب۔ دعا کو آپ جس بات کے ساتھ Confuse کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی شاید کسی Dictated یا پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت چل رہا ہے اور اُس طے شدہ پروگرام میں ظاہر ہے،(آپ کے خیال میں) یہ تو لکھا ہوا نہیں ہو گا کہ فلاں آدمی نے خدا سے ایک دعا بھی کرنی ہے۔ چنانچہ جب وہ آدمی دعا کرتا ہے، تو خدا کے لیے یہ مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ اگر وہ اُس کی دعا کی طرف دھیان دے ، تو وہ Dictation یا طے شدہ پروگرام مجروح ہوتا ہے اور اگر دھیان نہ دے، تو پھر بندے کا خدا سے دعا کرنا ایک بے کار عمل ٹھہرتا ہے۔ نہیں،میرے بھائی، بات ایسے نہیں ہے۔خدا اصلاً، پہلے سے کسی طے شدہ پروگرام کے تحت نہیں چل رہا۔ بلکہ بات کچھ اِس طرح سے ہے کہ اُس نے کچھ اصولی فیصلے کیے ہوئے ہیں اور کچھ قوانین بنائے ہوئے ہیں۔وہ اُن فیصلوں کی اور اُن قوانین کی پابندی ضرور کرتا ہے مگر اس کے لیے لازم نہیں۔مزید یہ ہے کہ اُس نے ہمارے لیے اپنی مرضی سے امتحان و آزمایش کی نوعیت کی بعض چیزیں طے کر رکھی ہیں۔ اور وہ اُن کے حوالے سے ہمیں آزما رہا ہے۔ چنانچہ اُس نے یہ طے نہیں کیا کہ نیکی اور بدی میں سے کسی ایک کو ہم اپنی مرضی سے اختیار کر ہی نہ سکیں۔ بلکہ اِس کے برعکس اُس نے یہ طے کیا ہے کہ ہم لازما ً نیکی اور بدی کو اپنی مرضی ہی سے اختیار کریں۔ لہذا، ہم اپنی مرضی سے نیکی کی طرف بڑھتے اور اپنی مرضی ہی سے بُرائی کو اختیار کرتے ہیں۔اِس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ اللہ اپنے کمالِ علم کی بنا پر اور اپنے عالم ُالغیب ہونے کی بنا پر پہلے سے یہ جانتا ہے کہ مستقبل میں کس نے کیا کرنا ہے اور کس نے کیا نہیں کرنا۔دعا یہ ہے کہ ہم کسی معاملے میں خدا سے مدد لیتے ہیں۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو اللہ ہماری دعا کو بعض اوقات قبول کر لیتا ہے اور بعض اوقات نہیں۔جب وہ ہماری دعا کو قبول کرتا ہے ، تو اِس سے خدا کے علم کامل کے حوالے سے کوئی نیا واقعہ رو نما نہیں ہوتا، بلکہ یہ محض اُس کے علمِ کامل ہی کی تصدیق ہوتی ہے، جس میں یہ موجود تھا کہ فلاں آدمی اپنے اختیار و ارادہ سے خدا سے دعا کرے گا اور اُس کے دعا کرنے کے نتیجے میں اللہ اُسے فلاں شے عطا کر دے گا۔مختصراََ یہ ہے کہ اللہ کا علمِ کامل اور چیز ہے اور اللہ کے طے شدہ اصول و قوانین اور امتحان کی غرض سے طے شدہ آزمایشیں اور چیز ہیں۔علمِ کامل پہلے ہی کامل ہے اس میں اضافہ محال ہے اور امتحان کی غرض سے پہلے سے طے شدہ آزمائشوں ،نعمتوں اور مصیبتوں میں کمی یا اضافہ ممکن ہے اور یہ ہوتا رہتا ہے۔اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو بہت سی دعائیں دراصل خدا سے آزمایش کی تبدیلی کی دعائیں ہوتی ہیں، آدمی اِس طرح کے الفاظ تو نہیں بولتا لیکن بات نتیجہ کے اعتبار سے ہوتی یہی ہے کہ ہمیں آفت کے ذریعے سے آزمانے کے بجائے نعمت کے ذریعہ سے آزمایا جائے۔ چنانچہ اللہ کی حکمت میں اگر آزمایش کی یہ تبدیلی موزوں ہوتی ہے تو اللہ دعا قبول کر لیتے ہیں، ورنہ نہیں۔

(محمد رفیع مفتی)