قوانینِ

جواب: کائنات اللہ تعالیٰ کے قوانین کے تحت چل رہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ پابند تو نہیں ہو گئے ۔ قادر ہیں جب چاہیں خلاف ورزی کرلیں ۔یعنی اللہ نے یہ کہیں نہیں کہا کہ میں قانون کے مطابق معاملا ت کو چلا رہا ہوں ۔سورج کو میں مشرق سے طلوع کرتا ہوں۔تو میں اس پر قدرت نہیں رکھتا کہ مغرب سے طلوع نہ کروں۔جب چاہے گا کر دے گا ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: اگر آپ واقعی اسلام سے ان کا حل مانگتے ہیں تو اسلام کا دو ٹوک جواب یہ ہے کہ آپ ان مغربی قوانین کے بجائے اسلامی قوانین کی طرف پیش قدمی کریں۔مغربی طرز کے بینکوں کو الوداع کہیں اور ان کی جگہ اسلامی قوانین کی بیناد پر اسلامی بینک کی داغ بیل ڈالیں۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک فرد کے کیا غلطی ہے اگر پورا معاشرہ اور پورا حکومتی ڈھانچہ ہی اسلام سے منحرف ہو ایسے میں اکیلا شخص کیا کر سکتا ہے ۔اس کا جواب یہ ہے کہ افرا د ہی معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے اگر فرد واحد ان مغربی قوانین پر خاموش تماشائی بنا بیٹھا رہے اوران قوانین کے مطابق زندگی گزارتا رہے تواس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان قوانین پرراضی ہے ۔بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ان قوانین کو زندہ رکھنے میں شریک کار ہے اگر موقع میسر ہو تو ان قوانین کو بدلنے کی کوشش کر نی چاہیے۔جہاں تک انشورنس کا تعلق ہے تو یہ چیز جائز ہو سکتی ہے اگر اس میں سود کی ملاوٹ نہ ہو۔ میری رائے میں سامان تجارت کی انشورنس صرف مجبوری اوراضطراری حالت ہی میں جائز ہو سکتی ہے البتہ لائف انشورنس کسی صورت میں جائز نہیں ہے ۔

تجارت میں توسیع کی خاطر بینک سے قرض لینا قطعاً حرام ہے ۔بینک سے قرض انتہائی مجبوری کی حالت ہی میں لیا جا سکتا ہے مثلاً کسی مریض کی جان پر بنی ہو،اس کے علاج کا مسئلہ ہویا بال بچے بھوک سے مجبور ہوں تو ایسی صورت میں بقد ر ضرورت قرض لیا جا سکتا ہے ۔تجارت کو فروغ دینا ایسی ضرورت نہیں ہے کہ اس کے لیے حرام چیز کوجائز قرار دیا جائے ۔

(علامہ یوسف القرضاوی)