تزکیہ

ج: تزکیے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ خدا کے دین پر عمل کریں۔ دین اترا ہی اس لیے ہے کہ وہ آپ کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا تزکیہ کرے۔ جب آپ علم اور عمل دونوں میں پورے دین کو مکمل طور پر اپنا لیتے ہیں تو آپ کا مکمل تزکیہ ہو جاتا ہے۔ آپ جتنا اپناتے ہیں اس کے لحاظ سے آپ کا تزکیہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ دین پر عمل کرنے کے لیے آدمی میں رغبت پیدا کرنے کے لیے یا اس کو متوجہ کرنے کے لیے بہت سے نفسیاتی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں اور وہ صوفیا بھی اختیار کرتے ہیں۔ جیسے ہم اپنے بچوں میں اسکول جانے کی رغبت پیدا کرتے اور ان کی سستی دور کرتے ہیں، ایسے ہی دین پر عمل کی رغبت پیدا کرنے کے لیے بھی نفسیاتی علاج معالجہ بھی ہوتا ہے اور بعض لوگ اس میں بڑا موثر طریقہ بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ صوفیا اگر اس کے لیے دین میں کوئی بدعت داخل نہ کریں تو یہ کوئی قابل اعتراض چیز نہیں، لیکن چونکہ وہ ان حدود کا لحاظ نہیں رکھتے، اس لیے بعض اوقات اس پر اعتراض کرنا پڑتا ہے۔

(جاوید احمد غامدی)