سلسلہ ہائے تصوف

ج : تصوف ایک علم ہے جس میں ایک حصہ ان کے نظام فکر کا ہے اور دوسرا حصہ ان کے نظام تربیت کا ہے۔ پہلا حصہ سب سلاسل میں مشترک ہے اگر کچھ فرق ہے تو وہ بہت معمولی ہے اور بالعموم طرز بیان کا ہے۔ دوسرا حصہ عملی ہے اور اس میں وظائف، چلوں اور ریاضت کے طریقوں کا فرق ہے۔اصولاً تو شیخ کی وہی حیثیت ہے جو کسی بھی فن میں استاد کی ہوتی ہے۔ لیکن تصوف میں شیخ کو کم وبیش وہی مقام دیا گیا ہے جو قرآن مجید میں حضور کو امتیوں میں دیا گیا ہے۔ یہ بات محل نظر ہے اور کسی بھی غیر نبی کا اپنی حدود سے تجاوز ہے۔مرنے کے بعد کسی روح کے لیے اس دنیا سے کوئی رابطہ ممکن نہیں ہے۔

(مولانا طالب محسن)

ج۔ تصوف ایک ایسا نظریہ زندگی ہے جس کاوجود تقریبا سارے ہی مذاہب میں پایا جاتا ہے ۔ ہندستان میں جوگی پائے جاتے ہیں، عیسائیوں میں راہب اور یونا ن وفارس میں کچھ اور۔

            تصوف در حقیقت روحانیت کے اہتمام کانام ہے ۔تصوف کا نظریہ یہ ہے کہ روحانیت کے ذریعے انسان کی تربیت ہوتی ہے ، مادی اور جسمانی ضرورتیں روحانیت کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہیں۔ اس لیے تصوف میں جسمانی اورمادی ضرورتوں کو فراموش کیا جاتا ہے ۔اسلام نے انسانیت کو مادی اورروحانی زندگی کے درمیان توازن عطا کیا۔اسلام کی تعلیم کی رو سے انسان روح ، جسم ، اور عقل کا مجموعہ ہے اورضرور ی ہے کہ ان میں سے ہر ایک پہلو پر کماحقہ توجہ دی جائے ۔روایت ہے کہ جب حضورﷺکو خبرملی کہ حضر ت عبداللہ بن عمر و بن العاص رات رات بھر نمازیں پڑھتے ہیں اورسوتے نہیں ۔دن بھر روزہ رکھتے ہیں بیویوں کے پاس نہیں جاتے تو آپ نے انکو سرزنش کی ۔اسلام زندگی کے تما م پہلووں میں توازن اوراعتدال کا حکم دیتا ہے۔ اس توازن اور اعتدال کوصحابہ نے بھی قائم رکھا اور سلف صالحین نے بھی۔ اسکے بعد وہ دور آیا جب اللہ نے مسلمانوں کو خوشحالی سے نوازا ۔ان میں دولت عام ہوئی ۔مال و دولت کی فراوانی کے ساتھ ساتھ علم وہنر کابازار بھی گرم ہوالوگوں کا رحجان علم وعقل کیطرف زیادہ ہوا۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں مسلمانوں میں مختلف گروہ اور فرقے وجود میں آئے ۔ایگ گروہ وہ تھا جس نے مال و دولت کوخاص اہمیت دی اورزندگی کے مادی پہلووں میں گم ہو گیا ان میں زیادہ ترحکمران طبقہ اور ان کے حوار ی تھے۔دوسرا طبقہ علم و عقل کے اند ر گم ہو گیا اوراس نے بعض ایسے علوم کی بھی اختر اع کی جو عملاً اسلام سے دور تھے۔تیسرا طبقہ فقہا کا تھا جس نے دین کے قانونی پہلووں کوموضوع بنایا اور اس کی وضاحت اس طرح کی کہ باقی تمام پہلو دب کر رہ گئے۔ ایسے میں کچھ لوگ آگے آئے جنہوں نے دین کے روحانی پہلووں کوموضوع بنایااور ساری محنت روحانی اور باطنی پہلوکی ترقی کی طرف لگا دی۔یہ طبقہ صوفی کہلایا۔انکی تعلیم یہ تھی کہ انسان سب سے پہلے اپنے باطن کی اصلاح کرے نفسانی بیماریوں کو دور کرے اور دل کی دنیا کو آبا د کرے۔ان کی ساری بھاگ دوڑ اورمحنت روحانیت کی تربیت کے لیے تھی۔ ان میں سے بعض نے اللہ کے خوف کو جسمانی شباہت بھی دی جیسے حسن بصری۔بعض نے کہا کہ اعمال کی بنیاد صرف اللہ کی محبت ہے ان کاکہنا تھا کہ ہم اللہ کے دیوانے ہیں ہم نیک اعمال جنت پانے یا دوزخ سے بچنے کے لیے نہیں کرتے بلکہ اللہ کی محبت میں کر رہے ہیں۔مثلاً رابعہ عدویہ او ر ذو النون مصری۔شروع دور کے صوفی نیک و صالح تھے اورقرآن وسنت کی اتباع کرنے والے تھے فرق صرف یہ تھا کہ یہ لوگ روحانی پہلو کوزیادہ اہمیت دیتے تھے اور جسمانی پہلو کو کم۔جنید بغدادی کہا کرتے تھے کہ انسان کے لیے ہر راستہ بند ہے سوائے اس کے کہ جس نے حضورکی پیروی کی ان کے بعد وہ صوفیا آئے جنہوں نے روحانیت کے نام پر غلو کاراستہ اختیار کیا۔انہوں نے روحانیت کے نام پرمختلف فلسفے ،خرافات اور مشقیں ایجاد کیں۔اور پھر بعض نے اپنے ذوق اور وجدانی کیفیات کو ہی شریعت بنا ڈالا۔وہ کہتے ہیں کہ الھمنی ربی۔یعنی میرے دل نے میرے رب سے یہ بات کی یا میرے رب نے میرے دل میں فلا ں بات ڈالی۔ان کے مریدوں نے ان کے دل کی ان باتوں کو شریعت بنا ڈالا۔مزید ترقی ہوئی تو صوفیوں نے اپنے مریدوں کو اتنا کمتر بنا دیا کہ ان کی کوئی حیثیت ہی نہ رہی۔پیر نے جوکہا مرید کے لیے اس پر عمل لازم قرار پایا۔اسے یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ کیا اور کیوں کا سوال کرے۔ان نظریات نے مسلمانوں میں صوفیوں کے نام پر ایک ایسے طبقے کو جنم دیا جوعملی طور پر بالکل مفلوج طبقہ تھا۔زہد اورفقیری میں اس طبقے نے دنیا کو بالکل ترک کر دیا۔صوفیوں کایہ وہ طبقہ ہے جسے ہم گمراہ قرار دیتے ہیں۔مختصر یہ کہ صوفیوں میں ایسے بھی تھے جنہوں نے کتاب و سنت پر سختی سے عمل کیا اورکچھ ایسے بھی تھے جو راہ راست سے منحرف ہو گئے ۔ہمارے لیے صرف اتنی ہی بات قابل تقلیدہے جو کتاب و سنت کے مطابق ہے ۔یعنی دنیا سے دل نہ لگانا، اسکے فتنوں سے بچنے کی کوشش کرنا، اللہ کی محبت کو دل میں جاگزیں کرنا، دل کے امراض کو دور کرنا، شیطان سے بچناوغیرہ۔تصوف کاوہ پہلو جوراہ راست سے ہٹا ہواہے یعنی کتاب وسنت سے وہ یقینا قابل مذمت ہے ۔

(علامہ یوسف القرضاوی)