شوال

ایک فقہی مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص کسی بھی سبب سے حج کے موسم (شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ) میں حرم میں پہنچ گیا تو اس پر حج فرض ہو جائے گا اور حج فرض ادا نہ کیا تو گنہگار ہوگا۔ اب پاکستان سے لوگ رمضان المبارک میں عمرے کے لیے جاتے ہیں اور بعض اوقات فلائٹ میں نشست نہ ملنے کی وجہ سے انھیں شوال کے ابتدائی دنوں تک مجبوراً رکنا پڑ تا ہے اور اب خود سعودی حکومت شوال کے مہینے میں عمرے کے ویزے جاری کرتی ہے۔ پس سوال یہ ہے کہ کیا ان پر حج فرض ہو جائے گا اور نہ کرنے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے، حالانکہ اُن کے پاس حج تک کے لیے قیام وطعام کے لیے پیسے نہیں ہوتے، مزید یہ کہ سعودی حکومت کے نزدیک ان کا قیام غیر قانونی ہوتا ہے اور قانون کی گرفت میں آنے کی صورت میں انہیں سزا ہو سکتی ہے یا ملک بدر کیا جا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں لوگ غیر قانونی طور پر رک جاتے ہیں اور بھیک مانگتے ہیں۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ واپس اپنے وطن چلے آئیں، اُن پر حج فرض نہیں ہوا اور حج اد اکیے بغیر واپس آنے کی صورت میں وہ گنہگار نہیں ہوں گے، کیونکہ حج صاحبِ استطاعت پر فرض ہے اور ایامِ حج تک رکنے اور مصارفِ حج ادا کرنے کی ان کے پاس استطاعت ہی نہیں ہے، اور اگر اُن کے پاس تکمیلِ حج تک سعودی عرب میں قیام اور دیگر مصارفِ حج کی استطاعت تو ہے، لیکن سعودی حکومت ان دنوں میں وہاں قیام کی اجازت نہیں دیتی، تو غیر قانونی طور رکنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ کیونکہ جب ہم کسی ملک کا ویزا لے کر جاتے ہیں تو اس کے ضمن میں اُس ملک کے قوانین کی پابندی کا عہد بھی شامل ہوتا ہے اور قانون شکنی کی صورت میں سزا یا بے توقیری کے ساتھ ملک بدری کی نوبت بھی آسکتی ہے، لہٰذا یہ شرعاً ناجائز ہے۔ رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے: ‘‘مؤمن کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے، صحابہ نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) کوئی شخص اپنے آپ کو کیوں ذلیل کرے گا؟، آپ ﷺنے فرمایا: وہ اپنے آپ کو ایسی صورتِ حال سے دوچارکرے، جس سے عہدہ برا ہونے کی وہ طاقت نہیں رکھتا، (اور انجامِ کار اسے ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے) (ترمذی: 2254)’’۔ الغرض مؤمن کے لیے عزتِ نفس اور اپنے شخصی وقار کا تحفظ ضروری ہے۔

(مفتی منیب الرحمن)

جواب :میں نے یہ مسئلہ اپنے استاداورشیخ عبدالعزیزبن عبداللہ بن بازرحمہ اللہ تعالی سے پوچھاتوان کاجواب تھا :اسی کی امیدہے کہ اسے یہ اجرملے گا یعنی دونوں روزوں کا کیونکہ اللہ تعالی کافضل بہت وسیع ہے۔

(شیخ محمد صالح المنجد)

رمضان المبارک کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہیں ، اورمسلمان کے لیے مشروع ہے کہ وہ شوال کے چھ روزے رکھے جس میں فضل عظیم اوربہت بڑا اجر و ثواب ہے ، کیونکہ جو شخص بھی رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال میں چھ روزے بھی رکھے تو اس کے لیے پورے سال کے روزوں کا اجروثواب لکھا جاتا ہے۔ شوال کے چھ روزے رکھنے کے اہم فوائدمیں یہ بھی شامل ہے کہ یہ روزے رمضان المبارک میں رکھے گئے روزوں کی کمی وبیشی اورنقص کو پورا کرتے ہیں اوراس کے عوض میں ہیں ، کیونکہ روزہ دار سے کمی بیشی ہوجاتی ہے اورگناہ بھی سرزد ہوجاتا ہے جوکہ اس کے روزوں میں سلبی پہلو رکھتا ہے۔ اور روزقیامت فرائض میں پیدا شدہ نقص نوافل سے پورا کیا جائے گا۔

(شیخ محمد صالح المنجد)