ملازمت

ج۔اقوام متحدہ میں ملازمت کے جواز اور عدم جواز کا تعلق مفوضہ کام کی نوعیت اور ان کی سرگرمیوں کے مقاصد سے ہے، اس تفصیل کے بغیر حتمی حکم نہیں لگ سکتا۔ تاہم اگر آپ کے ذمہ غیر شرعی اور اسلام مخالف کام نہیں لگائے جاتے تو شرعاً اس تنظیم کے ساتھ کام کرنا جائز ہوگا۔

(دارلعلوم بنوری ٹاؤن)

جواب۔ محض میوزیکل پروگرامز کا ہونا تو کوئی حرام چیز نہیں ہے، لیکن یہ دیکھ لیں کہ اگر ان پروگراموں میں فحاشی کا پہلو موجود ہے تو پھر بے شک یہ پروگرام حرمت کے درجے میں چلے جاتے ہیں۔ جہاں تک شراب serve کرنے کا تعلق ہے تو اس کے حوالے سے یہی رائے دی جا سکتی ہے کہ آپ ضرور کوئی دوسری ملازمت تلاش کریں، اس میں ٹھنڈے پیٹوں ملازمت کرتے چلے جانا ایمان کے منافی ہے۔ہماری اس رائے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :

وتعاونوا علی البر والتقویٰ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان واتقوا اللہ، ان اللہ شدید العقاب۔ (المائدہ: ۲)

تم نیکی اور تقوی میں تعاون کرو، گناہ اور تعدی میں تعاون نہ کرواور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ سخت پاداش والا ہے۔

(محمد رفیع مفتی)

جواب۔  ملازمت ملنے میں اگر وقتی طور پر ناکامی بھی ہو رہی ہو تو آدمی کو گبھرانا نہیں چاہیے، بلکہ کوشش جاری رکھنا چاہیے۔ بہت سے لوگ جو اس وقت کسی نہ کسی ملازمت پر ہیں ان سے اگر پوچھ کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ان میں سے کتنے ہی لوگوں کو ان کی ملازمت بڑی تگ و دو سے ملی ہے۔

(محمد رفیع مفتی)

ج: ہر بچے کے معاملے میں معاشرے کو حساس ہونا چاہیے کہ وہ دین بھی سیکھے اور دنیا بھی ۔کسی معاشر ے کے لیے یہ آخری درجے کی شکاوت کی بات ہے کہ اس میں خواتین اور بچوں کو کام کرنا پڑے ۔ سوسائٹی کو کوشش کرنی چاہیے کہ بچوں کو کام نہ کرنا پڑے لیکن ہم انفرادی طور پر اس کو تبدیل نہیں کر سکتے اس لیے اس کا دوسراپہلویہ ہے کہ اگر ایک بچے کو ملازمت کرنا ہی ہے تو اچھا ہے کہ آپ کے ہاں کر لے ، آپ کم سے کم شفقت سے تو پیش آئیں گے ، ہو سکتا ہے اللہ آپ کو توفیق دے تو آپ اس کی تعلیم کا بندوبست بھی کر دیں ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: سود لکھنے اور گواہی دینے کے زمرے میں تویقینا آتی ہے اس میں تو کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں۔ لیکن اس وقت کی صورت حال یہ ہے کہ سود کا کاروبار ایسے ہی پھیل چکا ہے جیسے کسی زمانے میں غلامی پھیل چکی تھی ۔ آپ یہ دیکھیے کہ اسلام نے ا س وقت غلامی کیساتھ کیا معاملہ کیا؟ ایسا معاملہ نہیں کیا کہ لوگوں کو کسی بڑی مشقت میں مبتلا کر دیاہو بلکہ بتدریج اس کی اصلاح کی ، اس کے راستے بند کیے اور وہ قوانین بنائے جن کے ذریعے سے سوسائٹی سے غلامی کاخاتمہ ہوا۔

 سود بھی ایک اخلاقی برائی ہے۔ اسلام کا اس پر اعتراض یہی ہے کہ یہ ایک اخلاقی برائی ہے ۔آپ کو قرض پر متعین منفعت لینے کا حق نہیں ہے ۔یہ چیز دوسرے کا مال غلط طور پر کھانے کے مترادف ہے ۔لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پوری معیشت کانظام ہی اس پر چل رہا ہے ۔ایسے میں جن لوگوں کو ملازمت کرنی پڑتی ہے ،ان کے لیے بھی وہی قواعد ہوں گے جومیں نے غلامی کے لیے بیان کیے۔ یعنی بتدریج اس کے خاتمے کا کام کرنا ہو گا۔ آدمی اگر بہتر ماحول میں جاسکے تو جانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے لیکن حالات کی وجہ سے ا للہ تعالی سے درگزر کی توقع بھی رکھنی چاہیے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: کار فنانسنگ کے لیے بنک دونوں طریقے اختیار کررہے ہیں ۔سود کا طریقہ بھی اختیار کیا جا رہا ہے اور بعض بینک اس معاملے میں کرائے کا طریقہ بھی اختیار کرتے ہیں ۔ دونوں کے حکم بھی الگ الگ ہیں اور دونوں کی نوعیت بھی الگ الگ ہے۔ لیکن بہرحال جہاں سود کا معاملہ ہو رہا ہو وہاں سے آپ قرض لے تو سکتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ قرض لینے میں آپ سود دیتے ہیں ، سود کھاتے نہیں ہیں اور سود کھانے کو اللہ نے ممنوع قرار دیا ہے ،۔جو لوگ ان کے سٹاف کا حصہ بن کر کام کر رہے ہیں ان کی ملازمت کے بارے میں میں ہمیشہ سے کہتا ہوں کہ ایک ناپسندیدہ چیز ہے اور ایک اچھے مسلمان کو بہرحال اس سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ وہ ایک گناہ میں ان کا معاون بنتا ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: آپ کو جب بھی کسی جگہ جاب کرنی پڑے یا باہر جانا پڑے تو بناؤ سنگھا رکے معاملے میں بہت محتاط رہیں۔ باہر سادگی سے جائیں اور یہ بھی کوشش کریں کہ مردوں کے ساتھ خلوت میں بیٹھنا نہ ہو۔ باقی ضرورتاً ایک مجلس میں بیٹھ کر کھا پی لینا ممنوع نہیں ۔البتہ خلوت میں بیٹھنا اور زیب و زینت کو نمایاں کرنے کی کوشش کرناغلط ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: میری رائے میں بینک میں جو سودی نظام رائج ہے اسکا تعلق بینک کے سٹاف سے نہیں ہوتا سودی نظام ہمارے معا شی ڈھانچے کا جزو ہے ۔اس سے فرار ممکن نہیں۔ ایسی صورت حال میں بینک کے کسی سٹاف کے نوکری چھوڑ دینے سے اس سود ی نظام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔اسلام نے انسانی مجبوری کی مکمل رعایت کی ہے اسی مجبوری کے تحت بعض اوقات انسان بنک کی نوکر ی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ایسی حالت میں ہم اسے منع نہیں کرسکتے ۔

            (علامہ محترم کی رائے سے مجھے بصد احترام اختلاف ہے ۔ ہر شخص نے اللہ کے حضور انفرادی طور پر جوابدہ ہونا ہے ۔ہر شخص کو دیانتداری سے جائزہ لینا چاہیے کہ کیا وہ بینک کی نوکری کے بغیر کم ذرائع میں زندگی گزار سکتا ہے تو اسے بنک کی نوکر ی چھوڑ دینی چاہیے یہ ٹھیک ہے کہ اس ایک کے ملازمت چھوڑ دینے سے نظام کو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر یہ اللہ کے ہاں کہہ سکے گا کہ یا اللہ میں تو یہی کر سکتا تھا اتنا میری استطاعت میں تھا وہ میں نے کر دیا ۔امید ہے اللہ اس پر معاف فرما دیں گے ۔ہر فرد کے لیے انفراد ی طورپرجتنا ، جب اورجو قدم اٹھانا ممکن ہو(شریعت کے حدود میں اور جائز طور پر) اسے اٹھا لینا چاہیے۔نظام بدلنے کاانتظار ہمارے ذمہ نہیں۔ہمیں نظام سے پہلے اپنے انفراد ی اقدامات اور اعمال کا جوابدہ ہوناہے اگر ہم نے کوئی انفراد ی کوشش بھی نہ کی تو جوابدہی کاخطر ہ ہے۔ بہر حال یہ انفرادی فیصلہ ہے اپنے اپنے حالات کے اعتبارسے ۔اگر کوئی واقعتا اضطراری حالات میں ہے تو اس کے لیے جائز ہے مگر کیا وہ اس اضطرا ر کو اللہ کے ہاں بھی ثابت کر سکے گا یہ اہم سوال ہے ۔اس کی تیاری کر لینی چاہیے ۔بینک میں کام کرنے والا بہر حال اس نظام کامعاون ہے اور لکھنے لکھانے کے عمل میں شریک ہے اس سے بھی اللہ کے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔مزے کی بات یہ ہے کہ ایک اور سوال کے جواب میں علامہ صاحب نے یہی موقف اپنایا ہے وہ سوال اور جواب درج ذیل ہے ۔ (مدیر)

(علامہ یوسف القرضاوی)