سود کے مسائل

جواب:مکان کا کرایہ لینا حرام نہیں ہے،جبکہ روپے کا کرایہ، یعنی سود لینا حرام ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ان اشیا پر کرایہ لینا جائز ہوتا ہے جو استعمال کی جاتی ہیں، صرف (خرچ۔یعنی استعمال کر کے چیز ختم ہو جائے)نہیں کی جاتیں۔ مثلاً جب آپ گھر کرایے پر لیتے ہیں تو آپ اسے بیچ کر اس کے عوض کوئی اور مال نہیں لیتے، بلکہ مکان جیسے ہوتا ہے ویسے کا ویسا پڑا رہتا ہے، بس آپ اس میں رہایش اختیار کرتے ہیں اور جب آپ روپیہ قرض پر لیتے ہیں تو آپ اسے مکان کی طرح ایک جگہ پر پڑا نہیں رہنے دیتے، بلکہ اسے مارکیٹ میں صرف کر کے اس کے بدلے میں کوئی اور شے لیتے ہیں، پھر اسے کہیں لے جا کربیچتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے کاروبار میں ہو سکتا ہے کہ جو چیز آپ نے روپے کے عوض خریدی ہے، وہ کہیں ضائع ہو جائے، اس میں کوئی کمی واقع ہو جائے، اسے کوئی آفت لاحق ہو جائے یا وہ مطلوبہ قیمت پر نہ بکے۔ بہرحال اب آپ کو قرض خواہ کی رقم یہ شے بیچ کر اس کی قیمت میں سے ادا کرنی ہے۔ اس صورت میں معاملہ مکان کے کرایے والا نہیں رہتا، بلکہ اس میں کئی طرح کے خطرات شامل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اس پر متعین مدت میں متعین اضافہ بالکل ناجائز ہے۔

(محمد رفیع مفتی)

جواب : آپ کی یہ بات درست ہے کہ قرآن مجید میں جس چیز کو جرم قرار دیا گیا ہے وہ سود خوری ہے۔ آپ نے جس اختلاف کا ذکر کیا ہے اس کا باعث قرآن مجید کی کوئی آیت نہیں ہے۔ سود دینے کو گناہ قرار دینے والوں کی بنائے استدلال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے۔ مسلم میں نقل ہوا ہے: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٰکل الربوٰا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال: ہم سواء۰(مسلم،رقم۱۵۹۸) ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے اور اس کی دستاویز لکھنے والے اور اس دستاویز کے دونوں گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا: یہ سب برابر ہیں۔’’

اس روایت کے لفظ ـ‘مؤکل’ (کھلانے والے) کا اطلاق عام طور پر علماء اس آدمی پر کرتے ہیں جو قرض پر سود ادا کرتا ہے۔بعض علما ـ‘مؤکل’ کا لفظ سودی کاروبار کے ایجنٹ کے لیے کہتے ہیں۔ اس لفظ کاعام طور پر طے کردہ مفہوم ٹھیک نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک، سود ادا کرنا ایک کوتاہی ضرور ہے لیکن اسے اسطرح حرام قرار دینا مناسب نہیں جس طرح سود لینا حرام ہے

(مولانا طالب محسن)

 جواب : سود قرض پر اْس معین اضافے کو کہتے ہیں جسے قرض دینے والا اپنے مقروض سے محض اِس بنا پر وصول کرتا ہے کہ اْس نے ایک خاص مدت کے لیے اْسے روپے کے استعمال کی اجازت دی ہے۔قرآن مجید نے اِسے پوری شدت کے ساتھ ممنوع قرار دیا ہے۔(البقرہ:۵۷۲،آل عمران:۰۳۱،الروم :۹۳) کسی ضرورت مند کو قرض دے کر اْس کی مدد کرنا منجملہ اعمالِ صالحہ ہے۔ لیکن اْس پر معین اضافے اور منفعت کا مطالبہ کرنا؛اصل رقم کی واپسی کے علاوہ سود کا بار بھی مقروض پر ڈال دینا ایک ظلم اور اخلاقی نجاست ہے۔ چنانچہ اِسی بنا پر شریعت میں اِسے حرام قرار دیا گیا ہے۔ اِس سے واضح ہوا کہ اس باب میں اصل جرم مقروض سے منفعت حاصل کرنا ہی ہے۔ تدبر کی نگاہ سے دیکھا جائے تو سود کی حرمت وشناعت کے باب میں شریعت کے اولیّن ماخذ قرآنِ مجید میں بھی جو کچھ بیان ہوا ہے،وہ تمام کے تمام "سود کھانے" ہی سے متعلق ہے۔ اِسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض صحیح احادیث میں بھی "سود کھانے" ہی کو ہلاک کردینے والے بعض کبائر میں شمار کر کے اْن سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے(ابوداود:2874۔ نسائی:3671)۔ یعنی بظاہر دو طرفہ عمل ہونے کے باوجود اِس باب میں اصل جرم "سود کھانے" ہی کو قرار دیا گیا ہے۔ "سود دینا" اصلاً زیر بحث ہی نہیں آیا ہے۔اِس پر ہر سوچنے سمجھنے والے کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ "سود کھانے" کی حرمت ومذمت جس طرح قرآنِ مجید اور بعض احادیث میں بیان ہوئی ہے؛اْسی طرح آخر "سود دینے" کے عمل کو قرآن نے موضوع کیوں نہیں بنایا ؟

 اِس سوال کو ہم جب تدبر کی نگاہ سے دیکھتے اور سود دینے اور لینے کے عمل کی نوعیتوں کا دقتِ نظر سے تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر اِن دونوں میں اپنی نوعیت کے لحاظ سے واضح فرق ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ قرض دے کر اْس پر سود کا مطالبہ کرنا اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک ایسے شخص پر جو پہلے ہی ضرورت مند ہے؛اْس کی مدد کرنے کے بجائے،اْس پر مزید بوجھ ڈال دینے کی بنا پر ظلم ہے۔ اِس میں کسی مجبوری اور اضطرار کا ظاہر ہے کہ کوئی سوال نہیں ہے۔ چنانچہ اِسی بنا پر قرآن نے اِسے حرام قرار دیا ہے۔دوسری طرف "سود دینے" کے عمل کی نوعیت یہ ہے کہ یہ مقروض پر قرض کی اصل رقم کے علاوہ ایک مزید بار ہے،جس کے لیے کوئی شخص بھی اْس وقت تک آمادہ ہی نہیں ہوسکتا،جب تک کہ وہ کسی بھی درجے میں ضرورت مند،محتاج اور مجبور نہیں ہوجاتا۔ چنانچہ یہ "سود کھانے" کے مترادف ہر گز نہیں ہوسکتا۔ اور اِسی بنا پر قرآنِ مجید اِس کی مذمت وشناعت کے بیان سے خاموش ہے۔تفہیمِ مدعا کے لیے اِس بات کی تفصیلِ مزید اِس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ "سود دینے" کی ضرورت اور مجبوری انسان کو ہمیشہ دو وجوہات کی بنا پر لاحق ہوتی ہے :ایک یہ کہ وہ اپنی بعض ضرورتوں کو پورا کرنے کی استطاعت نہ رکھنے کی بنا پر ضرورت مند اور محتاج ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ معاشرے میں فرد یا ادارے کی سطح پر کوئی اْس کی مدد کرنے والا یا محض قرض دینے والا بھی نہ ہو۔چنانچہ اِس طرح کی صورت حال میں اْس کی وہ ضرورت اگر ناگزیر ہو تو اپنے حالات کی بنا پر لامحالہ وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ ایسے افراد یا اداروں سے رجوع کرے جو سود لیے بغیر اْس کی کسی بھی طرح کی مدد کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ اور ایسی صورت میں اْس کے لیے واحد یہی راستہ باقی رہ جاتا ہے،جسے اختیار کیے بغیر اْس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔اِس تفصیل سے بھی واضح ہوا کہ "سود دینے والا" اور "لینے والا"؛دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ بلکہ سود خور ظلم پر قائم ہے اور مقروض بہرحال مظلوم اور حالات سے مجبور ہے۔ چنانچہ دین میں دونوں کا حکم یکساں کیسے ہوسکتا ہے ؟ اور یہ بات بھی جان لینی چاہیے ہے کہ قرآنِ مجید میں انسانی حالات کی رعایت سے "رفعِ حرج"،یعنی بندوں سے حرج اور تنگی کو دور کرنے کے مندرجہ ذیل واضح اْصول بیان ہوئے ہیں:

۱۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے : "وَمَا جَعَلَ عَلَیکْم فِی الدِّینِ مِن حَرَجٍ"۔

"اور اْس پروردگار نے اپنے دین میں تم پر کوئی حرج اور تنگی نہیں رکھی"۔ (الحج78:22)

۲۔ اِسی طرح ارشاد فرمایا ہے :" لاَ یْکَلِّفْ اللہْ نَفسًا اِلاَّ وْسعَھَا"۔

"اللہ کسی نفس پر اْس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا"۔ (البقرہ286:2)

 انسانی مجبوری اور حالتِ اضطرار کو پیش نظر رکھ کر ہم اگر اسلامی شریعت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا اْصولوں ہی کے تحت انسانی حالات کی رعایت سے خود اللہ تعالٰی نے بھی اپنی شریعت کے بعض اْن ابدی احکام میں بھی،جن کی حیثیت اہل ایمان کے لیے بنیادی فرائض کی ہے؛اپنے بندوں کے لیے رخصتیں عنایت فرمائی ہیں۔ اور اِس طرح کے کئی احکام اپنے ماننے والوں کے لیے خود بیان کردیے ہیں۔رخصت کے اْن احکام کی چند مثالیں حسب ذیل ہیں :

1۔ ماہِ رمضان میں مسلمانوں پر روزہ فرض کیا گیا ہے۔تاہم آدمی اگر بیمار ہو یا اپنی کسی ضرورت سے حالتِ سفر میں ہو تو اْس صورت میں اْس کے لیے روزہ رکھنا چونکہ باعث مشقت ہوسکتاہے،چنانچہ قرآن نے مسلمانوں کو رخصت دی ہے کہ وہ چاہیں تو ایسے ایّام میں روزہ نہ رکھیں۔ روزوں کی تعداد بعد میں پورا کرلیں۔اِس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ (البقرہ185:2)

2۔ نماز کے لیے پانی سے وضو کرنا اْس کی لازمی شرط ہے۔ تاہم پانی سے وضو کرنا کسی موقع پر آدمی کے لیے ممکن نہ رہے تو قرآنِ مجید کی رو سے وہ تیمّم بھی کرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں وضو نہ کرنے کی بنا پر اْس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ (المائدہ6:5)

3۔ پانچ وقت کی لازمی نمازوں کی رکعتیں شریعت میں متعین ہیں۔ لیکن آدمی اپنی کسی ضرورت سے حالتِ سفر میں ہو تو وہ نماز کی فرض رکعتوں میں کمی(قصر) بھی کرسکتا ہے۔ اِس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ (النسا 101:4) ۴۔ خور ونوش کے باب میں مردار،خون،سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ شریعت اسلامی میں حرام قرار دیا کیا گیا ہے۔اِس کے باوجود آدمی اگر کسی موقع پر حالتِ اضطرار میں ہو اور اْس کے لیے اپنی جان بچانا مشکل ہوجائے۔ اور اِن مْحرَّمات کے استعمال کے سوا اْس کے پاس کوئی چارہ نہ رہے تو اْس صورت میں آدمی بقدر ضرورت اِن اشیا کا استعمال کر کے بھی اپنی جان بچا سکتا ہے۔اِس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ (البقرہ173:2)5۔ اپنے ایمان کی گواہی دینا اور اْس کا اظہار کرنا دین میں ایک ایسا بنیادی عمل ہے کہ جس کی بنا پر آدمی اِس دنیا میں مسلمان کی حیثیت اور شناخت پاتا ہے۔ تاہم اپنے ایمان کی بنا پر کسی خطہ زمین میں آدمی کو کفر پر مجبور کردیا جائے اور اْس کے لیے اپنی جان بچانا مشکل ہوجائے تو شرح صدر کے ساتھ سچے ایمان پر قائم رہتے ہوئے وہ اِس طرح کی صورتِ حال میں اگر اظہارِ کفر بھی کرلے تو اِس پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہے۔(النحل106:16)غرضیکہ اِس تمام تر تفصیل کو پیشِ نظر رکھ ہر صاحبِ عقل اِس نتیجے تک پہنچ سکتا ہے کہ جس پروردگار نے اپنی شریعت کے فرائض وواجبات میں اپنے بندوں کے لیے اْن کے حالات کی رعایت سے اتنی رخصتیں رکھی ہیں،وہ ایک مقروض اور مظلوم کی مجبوری کو یکسر نظر انداز کرکے اپنے دین میں اْس کے لیے کیسے تنگی پیدا کرسکتا ہے ؟ اور معلوم ہے کہ اْس پروردگار نے ایسا نہیں کیا،بلکہ اصل جرم ہی سے پوری شدت کے ساتھ منع فرمایا ہے۔سود دینے والا اگر بغیر کسی حقیقی عذر کے یہ کام کر رہا ہے یا سود خود کے ایجنٹ اور معاونین ہیں تو وہ تَعاوْن عَلی الاِثم کے اْصول پرگناہ گار ٹھیریں گے ۔

(مولانا عامر گزدر)

ج: پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ قرض پر منفعت کوسود کیوں کہا جاتا ہے ۔ قرض میں آپ دوسرے کو روپیہ دیتے ہیں اور جب دوسرے کو روپیہ دیتے ہیں تو وہ اس کو اس طرح استعمال نہیں کرتا جیسے مثال کے طور پر میں اس میز ا ور کرسی کو استعمال کر رہا ہوں ۔ وہ اس کو خرچ کر دیتا ہے ، یعنی وہ اس کو فنا کر دیتا ہے ۔ اس کے بعد جب آپ اس سے اصل زر کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ اس کو نئے سرے سے پیدا کرکے دینا ہوتا ہے۔اور پھر ساتھ ہی جب آپ منفعت کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ ظلم ہے ۔ مکان اس طرح استعمال نہیں کیا جاتا کہ وہ پورا خرچ ہوجائے یعنی فنا ہو جائے ۔بلکہ آپ مکان کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں اور اس کا کرایہ دیتے ہیں۔ جب آپ ایک رقم قرض لیتے ہیں تو آپ یقینا اس کو خرچ کریں گے ، اب اس رقم نے دوبارہ پیدا ہونا ہے اور پھر ادا ہونا ہے۔ جبکہ کرائے کے مکان میں ایسا نہیں ۔چیزوں کے استعمال کا کرایہ اور چیز ہے اور پیسہ پر سود اور چیز ہے ۔اگر استعمال کا کرایہ ختم کردیا جائے تو یہ چیز تمدن کوختم کردے گی ، آپ جہاز اور گاڑی میں بھی بیٹھنے کا کرایہ دیتے ہیں ، یہ تمام استعمال کے کرائے ہیں ، اس میں دوبارہ چیز پیدا نہیں کرنی پڑتی ۔اس لیے ان دونوں کا معاملہ یکساں نہیں ہے ، روپے ا ور چیز کے استعمال کا معاملہ بالکل الگ الگ ہے ۔چیز استعمال کے بعد بعینہ واپس ہوتی ہے جبکہ روپیہ دوبارہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: جو ذمہ داریاں حکومت کی ہیں ان کے لیے حکومت کو توجہ دلانی چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کو خود ادا کرنا چاہیے۔ ہمیں رزق حلال تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کسی مجبوری میں پھنس جائیں تو اللہ تعالی معاف فرمائیں گے۔ اور مجبوری کے بارے میں انسان کا ضمیر بتا دیتا ہے کہ وہ واقعی مجبوری ہے یا بہانے تراش رہا ہے ۔ حکومت کوا پنا کام کرنا چاہیے اور ہمیں ہر طرح کے اچھے اور برے حالات میں برائی سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب: لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہم نے نفع نقصان میں شرکت کی ہے ۔لیکن حقیقت میں تو بس نام ہی تبدیل ہوا ہے ۔ہر آدمی جوبینکنگ کو جانتا ہے اسے اس کی حقیقت اچھی طرح معلو م ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب: بات یہ ہے کہ سودممنوع ہے ۔کرایہ بالکل جائز ہے۔ سود صرفی چیزوں پہ ہوتا ہے ۔یعنی ایک چیز میں نے آپ کوادھار دی ،قرض دی اور وہ چیز ایسی ہے کہ اس کو لازماً فنا ہونا ہے ۔وہ استعمال نہیں کی جاسکتی۔آپ کو آٹا چاہئے۔میں دوں گا آٹا۔کیا کریں گے اسے ؟ کھائیں گے فنا ہو جائے گا ۔اب اس کو پیدا کرنا ہو گا دوبارہ۔یعنی محنت کر کے پھرگندم خریدنی ہو گی پھر آٹاپیدا ہو گا ڈیڑھ سیر۔پھر آپ میرا آٹا لوٹائیں گے۔پیسے خرچ کرنے کے لئے ہوتے ہیں یہ بھی فنا ہو جاتے ہیں۔اس کو کہتے ہیں صرفی چیزیں۔

            استعمال کی چیزیں کیا ہیں ۔یہ میز ہے ۔ آپ کو ضرورت تھی ۔شادی کرنے کی یا تقریرفرمانی تھی ۔آپ نے کہا ذرا میز دے دو استعمال کرنے کے لئے۔آپ استعمال کریں گے ۔اور استعمال کے بعدآپ میری میز اٹھا کے مجھے واپس دے دیں گے۔اس استعمال کا کرا یہ ہو تا ہے ۔

            ان صرفی چیزو ں کے اوپر قرآن کہتا ہے۔ قرآن کیا تورات بھی یہ ہی کہتی ہے کہ صرفی چیزیں جو ہیں ان میں آدمی دہری مشقت میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔اگر اس سے اس کے اوپر کچھ مانگا جائے۔ایک وہ اس چیز کو فنا کر بیٹھا ہے ۔اسے دوبارہ پیدا کرے گا ۔اور اس کے اوپر مزید جو دینا ہے وہ بھی پیدا کر کے دینا ہے تو یہ دہری مشقت ہے ۔ فرض کریں کہ آپ نے بیس لاکھ روپیہ مجھے دیا ہے ۔وہ میں نے کاروبار میں لگا لیا۔مجھے کاروبار میں نفع ہویا نقصان وہ ڈوب جائے یا کچھ بھی ہو۔مجھے اب دوبارہ کمانا ہے ۔میں نے اس سے بیٹی کی شادی کر لی ۔ بہرحال کہیں اور سے کماؤں گا تو دو ں گا آپ کو ۔میں نے مکان لیا ہے آ پ سے ۔ مکان میں میں رہ رہا ہوں ۔مالک مکان نے نوٹس دیا میں نے کہا جی دوسرا تلاش کر لیتا ہوں۔خالی کر کے دے دیا آپ کو ۔ یہاں دہر ی مشقت نہیں ہے۔ اس پر قرآن مجیدکہتا ہے کہ آپ متعین نفع نہیں لے سکتے۔یہ بات سمجھ لیجئے کہ ممنوع کیا ہے ؟ ممنوع ہے متعین نفع۔اگر مثال کے طور پر میں نے آپ کو دو لاکھ روپیہ قرض دیا ۔اور آپ سے یہ کہا کہ جی میرا قرض آپ کو ہر حال میں واپس کرنا ہے ۔واجب الادا ہے ۔آپ کاروبار کر رہے ہیں اس سے تو اگر کوئی نفع آپ کو ہوتا ہے تو آپ مجھے اس تنا سب سے دیں گے۔اس میں کوئی سود نہیں ہے۔ٹھیک ہے ۔ جائز ہے کوئی حرج نہیں۔آپ کا اصل زر محفوظ ہے ۔آپ اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں ۔ نقصان میں شریک نہیں ہیں۔انکار کر دیں اس سے۔اس میں دین کی طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔لیکن جب آپ کہتے ہیں کہ آپ کو نفع ہو نقصان ہو مجھے آپ نے اتنے فیصد دینا ہے بس!اس کو منع کیا گیا ہے ۔اسی طرح زمین کا معاملہ ہے ۔زمین میں بھی یہ ہی ہوتا ہے ۔بھئی ٹھیک ہے زمین ہے ۔زمین بیس لاکھ کی ہو سکتی ہے ۔زمین ایک کروڑ کی ہو سکتی ہے۔آپ نے اس میں ایک آدمی سے طے کر لیا کہ میں اس میں کاشت کروں گا ۔اتنے پیسے آپ کو دے دوں گا ۔فصل ہو گئی اچھی بات ہے نہیں ہوئی تو تب بھی ۔کرایہ اس کا دیجئے اس کو ۔یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ نے دکا ن کرائے پر لی ہے چلتی ہے نہیں چلتی آپ کو کرایہ بہرحال دینا ہے ۔تو بعض لوگ اس میں خوامخواہ خلطِ مبحث پیدا کرتے ہیں ۔چنانچہ ایک بڑے عالم تھے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ۔ انہوں نے بہت اصرار سے یہ کتا ب لکھی ہے کہ کرایہ جو ہے یہ بھی سود ہے ۔تو طالب علموں نے سوال کیا کہ آپ مقالہ پڑھنے کے لئے جس جہاز پر آئے ہیں۔وہ کرایہ ہی تو دے کے آئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ پائلٹ کی محنت کا معاوضہ ہے۔ایسی جو باتیں ہیں ان کا پھر یہ نتیجہ نکلتا ہے ۔آپ ٹیکسی کرایہ پر دیتے ہیں ۔آ پ دیکھیں کہ کرایہ ممنوع قرار دے دیں تو تمدن ختم ہو جائے گا ۔ہم اطمینان سے جاتے ہیں کراچی جائیں۔پشاور جائیں۔تو ہوٹل میں ٹھہر جاتے ہیں۔کرایہ ہی دیتے ہیں ۔کرایہ استعمال کا ہے اس کمرے کاجس میں آپ ٹھہرتے ہیں ۔کمرہ خالی کرتے وقت آپ کو کیا کرنا ہوتا ہے ؟ کمرہ دوبارہ بنا کے دینا ہوتا ہے ؟ نہیں!لیکن پیسہ اگر آپ نے دس لاکھ روپیہ لے لیا ہے تو وہ تو بہرحال آپ نے خرچ کرنا ہے ۔اس لیے اس کے اوپر یہ فرق ہے دونوں میں ۔اور اس کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب۔ میرا خیال ہے کہ اس آیت سے یہ استنباط درست نہیں ہے۔آیت میں زبان کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے وہ سود کی شناعت کو مزید واضح کرنے کیلئے ہے نہ کہ اس کی اجازت کے لیے ۔ اس کو اس مثال سے سمجھیں کہ اگرکوئی یہ کہے کہ خدا کے لیے اپنی بیوی کے سامنے تو دوسری عورتوں سے چھیڑ خانی سے باز رہا کرو تو اس کامطلب یہ ہر گز نہیں کہ بیوی کی عدم موجودگی میں یہ چھیڑ خانی کر لیا کرو۔ اب قرآن کریم کی ایک مثال سے اس کو سمجھیے۔

‘‘ اور اپنی لونڈیوں کو پیشہ پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ عفت کی زندگی کی خواہاں ہوں محض اس لیے کہ کچھ متاع دنیا تمہیں حاصل ہو جائے(۲۴۔۳۳)

اب ظاہر ہے کہ اس آیت کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اگر لونڈیاں رضامندی سے پیشہ کریں تو ان کو اجازت ہے ۔یہ اسلوب تو ان لوگوں کے اس فعل کی شناعت کو واضح کرنے کے لیے ہے جو لونڈیوں کو اس قبیح کام پر مجبور کرتے تھے جبکہ وہ عفت کی زندگی گزارنا چاہتی تھیں۔

قرآن نے ربا کے معنی واضح نہیں کیے او ر اس کو اس کی ضرورت بھی نہ تھی۔جو لوگ قرآن کی عربی سے آشنا تھے وہ پہلے ہی سے اس سے آگاہ تھے۔اسی طرح قرآن نے خمر کے معنی بھی واضح نہیں کیے کیو نکہ یہ بھی لوگوں کو پہلے ہی سے معلو م تھے۔ قرآن نے تو صرف ان دونوں کی ممانعت کر دی۔قرآنی عربی میں ربا اس مقررہ رقم (اصل زر کے علاوہ) کوکہتے ہیں جس کامطالبہ ایک قرض دینے والا معینہ مدت کے بعد مقروض سے کرتا ہے۔مزید برآں قرآن سے یہ بھی واضح ہے کہ اُس زمانے میں بھی لوگ تجارتی مقاصد کے لیے قرض دیا کرتے تھے۔کیونکہ تجارتی مقاصد کے لیے دیے گئے قرض میں ہی مال پروان چڑھتا ہے جیسا کہ درج ذیل آیت سے واضح ہے

‘‘اور جو سودی قرض تم اس لیے دیتے ہو کہ وہ دوسروں کے مال کے اندر پروان چڑھے تو وہ اللہ کے ہاں پروان نہیں چڑھتا ۔ او رجو تم زکوۃ دو گے اللہ کی رضا جوئی کے لیے تویہی لوگ ہیں جو ( اللہ کے ہاں) اپنے مال کو بڑھانے والے ہیں’’(۳۰۔۳۹)

اس لیے اگر کسی کا یہ خیا ل ہے کہ یہاں لفظ ربا کا مطلب صرف استحصالی سود ہے توبارِثبوت اس کے ذمے ہے۔درج ذیل آیت ہمارے موقف کو مزید موکد کر دیتی ہے۔

‘‘اے ایمان والو اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور جو سود تمہار ا باقی رہ گیا ہے ا س کو چھوڑ دو۔’’(۲۔۲۷۸)

‘‘ اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو فراخی تک اس کو مہلت دواور بخش دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم سمجھو’’۔(۲۔۲۸۰)

درج بالا دونوں آیات ایک ہی سیاق و سباق رکھتی ہیں لہذا یہ دونوں اس بات کے ثبوت میں پیش کی جاسکتی ہیں کہ صرف وہ ہی سود منع نہیں ہے جہاں مقروض تنگ دست ہو۔تنگ دستی کا بیان تو اصل میں ایک استثنا کا بیان ہے کہ اگر ایسا ہو تو۔اور آیت ۲۔۲۷۸ میں وہی سود منع کیا گیا ہے جو باہمی طور پر طے شد ہ ہو۔امام فراہی کے نزدیک اگر یہاں استثنائی صورت حال کا بیان نہ ہوتا تو ‘‘ان کان ’’کے بجائے‘‘ اذا’’استعمال ہوتا۔اس کو اس مثال سے سمجھیے فرض کریں کہ ایک پولیس آفیسر اپنے ما تحت سے یہ کہتا ہے کہ تمام ملزموں کو کل رہا کردینا اور اگر کوئی ملزم پولیس سے تعاون کرے تو اسے آج ہی رہا کردینا۔ ان دونوں جملوں کا سیاق ایک ہی ہے۔دوسرے جملے سے یہ با لکل واضح ہے کہ یہاں استثنا کا بیان ہے۔اسی طرح جب قرآن یہ کہتا ہے کہ سود میں جوبھی رہ گیا ہے اسے چھو ڑ دو اور اگر مقروض تنگی میں ہو تو اس کی فراخی تک مہلت دو۔تو واضح ہے کہ یہ دوسری بات اصل میں استثنا ہے۔دوسر ے الفاظ میں پہلی آ یت میں سود کی ممانعت کا عموم ہے اور انہی قرضوں کے لیے ہے جو لوگ تنگ دستی کی حالت میں نہیں لیتے بلکہ مال کو پروان چڑ ھانے کے لیے لیتے ہیں۔امام امین احسن اصلاحی اس آیت پہ بحث کرتے ہوئے ان الفاظ میں اس کو سمیٹتے ہیں۔

‘‘ظاہر ہے کہ مالدار لوگ اپنی ناگزیر ضروریات زندگی کے لیے مہاجنوں کی طرف رجوع نہیں کرتے رہے ہوں گے بلکہ وہ اپنے تجارتی مقاصد ہی کے لیے قرض لیتے رہے ہوں گے۔ پھر ان کے قرض اور اس زمانے کے ا ن قرضوں میں جو تجارتی اور کاروباری مقاصد سے لیے جاتے ہیں کیا فرق ہوا؟’’

چنانچہ قرآن سے یہ واضح ہوا کہ تمام اقسام کا سود ممنوع ہے او ر اس میں وہ بھی شامل ہے جو لوگ تجارتی مقاصد کے لیے لیتے ہیں او رجس میں استحصال کا کوئی پہلو نہیں ہوتا او ر نہ ہی کسی مجبور کی ضرورت سے ناجائز فائد ہ اٹھایا جاتا ہے۔

(آصف افتخار)

جواب۔ سود صرفی چیزوں پہ ہوتا ہے اور کرایہ غیر صرفی چیزوں پر ہوتا ہے۔ یعنی ایک چیز میں نے آ پ کوادھار دی اور وہ چیز ایسی ہے کہ اس کو لازماً فنا ہونا ہے۔وہ استعمال نہیں کی جاسکتی۔مثلاآپ کو آٹا چاہیے۔آپ اسے کھائیں گے اور یہ فنا ہو جائے گا اب اس کو دوبارہ پیدا کرنا ہو گا ۔یعنی محنت کر کے پھرگندم خریدنی ہو گی پھر آٹاپیدا ہو گا ۔پھر آپ اسے لوٹائیں گے۔اسی طرح پیسے بھی فنا ہو جاتے ہیں۔اس کو کہتے ہیں صرفی چیزیں۔استعمال کی چیزیں وہ ہوتی ہیں جو استعمال سے فنا نہیں ہوتیں بلکہ ویسے کی ویسے رہتی ہیں اور آپ معینہ مدت کے بعد انہیں اسی طرح لوٹا سکتے ہیں۔ مثلا یہ میز ہے ۔ آپ کو ضرورت تھی ۔آپ نے کہا ذرا میز دے دو استعمال کرنے کے لیے۔آپ استعمال کریں گے ۔اور استعمال کے بعدآپ میز اٹھا کے مجھے واپس دے دیں گے۔اس استعمال کا کرا یہ ہو تا ہے

            صرفی چیزوں میں انسان دہری مشقت میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔اگر اس سے اس کے اوپر کچھ مانگا جائے تو وہ چونکہ اس چیز کو فنا کر بیٹھتاہے۔اسے بھی دوبارہ پیدا کرکے دینا ہوتا ہے اور اس پر مزید بھی دینا ہوتا ہے تو یہ ظلم ہے ۔ فرض کریں کہ آپ نے بیس لاکھ روپیہ مجھے دیا ہے ۔وہ میں نے کاروبار میں لگا لیا۔مجھے کاروبار میں نفع ہویا نقصان، وہ ڈوب جائے یا کچھ بھی ہو۔مجھے اب اسے دوبارہ کما کر واپس کرناہے اور اس پر مزید بھی دینا ہے اس کے برعکس میں نے مکان لیا ہے آ پ سے ۔ مکان میں میں رہ رہا ہوں ۔مالک مکان نے نوٹس دیا میں نے کہا جی دوسرا تلاش کر لیتا ہوں۔خالی کر کے دے دیا ۔ یہاں دہر ی مشقت نہیں ہے۔ اسی طرح آپ ہوٹل میں ٹھہر تے ہیں توکمرے کاکرایہ ہی دیتے ہیں ۔کرایہ استعمال کا ہے اس کمرے کاجس میں آپ ٹھہرتے ہیں ۔کمرہ خالی کرتے وقت آپ کو کیا کرنا ہوتا ہے ؟ کمرہ دوبارہ بنا کے دینا ہوتا ہے ؟ نہیں!لیکن پیسہ اگر آپ نے دس لاکھ روپیہ لے لیا ہے تو وہ تو بہرحال آپ نے خرچ کرنا ہے ۔اسے دوبار ہ کما کر دینا ہوگا۔

(آصف افتخار)

جواب۔ سود لینا بہر حال ممنوع ہے مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک ۔ اس کی ممانعت کی علت مسلم یا غیر مسلم ہونا نہیں ہے بلکہ اس کے اند ر موجود اخلاقی قباحت ہے۔جس طرح آپ مسلم ملک میں ہوں یا غیر مسلم ملک میں آپ کو بہر حا ل دیا نتد ار ہونا چاہیے ۔اسی طرح سودسے پرہیز بھی لازم ہے چاہے آپ جہا ں بھی ہوں۔جس حدیث کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے ۔‘‘ حربی کافر اور مسلمان کے درمیا ن کوئی سود نہیں ہے ’’ (بیہقی) یہ حدیث صحاح ستہ میں کہیں نہیں پائی جاتی اور ویسے بھی یہ مستند نہیں ہے ۔ دوسرے یہ قرآن سے بھی متصادم ہے اس لیے اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

(شہزاد سلیم)

جواب۔ اسلام کی روسے قرض خواہ اور مقروض کے درمیان معاہدہ انصاف اور کسی کے استحصال پر مبنی نہ ہونا چاہیے۔ اگر دونوں میں سے کسی ایک فریق کے حقوق زیادہ محفوظ ہوں تو یہ نا انصافی ہو گی۔سودی معاملات میں دونوں فریقین کے درمیان عدل اور انصاف کی قدر مفقود ہوتی ہے۔اس میں عام طور پر قرض خواہ کے حقوق کا خیال کیا جاتا ہے اور مقروض کے حقوق نظر انداز ہوتے ہیں۔یہ حقیقت کہ بعض غیر منصفانہ اقدامات سے معیشت پھل پھول رہی ہوتی ہے ٹھیک ہے لیکن یہ پھلنا پھولنا ان اقدامات کو جائز نہیں بنا دیتا۔بہت سے ایسے معاملات ہیں جو غیر اخلاقی ہیں لیکن جن سے معیشت کو فائد ہ ہوتا ہے مثلا سمگلنگ ’ منشیات وغیرہ کی تجارت’ اس فائدے کی بنا پر ان معاملات کو رائج نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ اخلاقی اقدار کو بچانا بہر حال ضروری ہے۔افریقہ اور بعض مشرق بعید کے ممالک میں غلامی اور بچوں کی سمگلنگ وغیر ہ ہو رہی ہے اور اس سے انہیں بہت معاشی فائد ہ بھی ہو رہا ہے لیکن بہر حال اس فائدے کی بنا پر اس کا جواز ثابت نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ واضح ہوا کہ بظاہر بعض معاملات معاشی طور پر مفید ہو سکتے ہیں لیکن اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اخلاقی طور پر بھی درست ہوں گے۔سود اخلاقی قباحتوں کی بنا پر ممنوع ہے نہ کہ معاشی حوالوں سے ۔معاشی بہتری اور ترقی اسی وقت قابل تعریف ہو سکتی ہے جب وہ اخلاقی حدود کی پاسداری کے ساتھ ہو نہ کہ ان کو قربان کر کے ۔

(شہزاد سلیم)

جواب۔ میرا خیا ل ہے کہ سود کے جواز میں یہ پوری مثال ہی درست نہیں ہے۔سودی معاملات یوں کام نہیں کرتے۔اگر فریقین میں یہ پہلے سے طے ہو جائے کہ مقررہ مدت میں ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں یہ یہ جرمانہ ہو گاتو اس پر تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سود ی معاملات میں تو مقررہ مدت کے دوران میں بھی سود ادا کرنا ہوتا ہے۔ سود مقررہ مدت کے بعد سے شروع نہیں ہوتا بلکہ اس مدت کا ہی ہوتا ہے۔اس لیے ہمارے خیال میں سود کے حق میں آپ کے دوست کا یہ جوازدرست نہیں یہ سودسے متعلق نہیں بلکہ ایک جرمانے کی نوعیت کی چیز ہے۔

(شہزاد سلیم)

جواب۔ اسلام سود کی ممانعت اس لیے کرتا ہے کہ یہ اخلاقی مفاسد کا حامل ہے۔اس لیے ایک شخص کو سود کی رقم استعمال نہیں کرنی چاہیے چاہے وہ اس کے اکاؤنٹ میں زبردستی ہی کیوں نہ کریڈٹ کر دی جائے۔بنک چارجز تو اصل میں بنک کی ان خدما ت کا معاوضہ ہے جو بنک آپ کو فراہم کرتا ہے۔اگر ان خدمات کامعاوضہ زیادہ ہے تواس کامطلب یہ نہیں کہ آپ ان کے لیے سود کی رقم استعمال کرسکتے ہیں۔یہ تو ایک طر ح سے آپ خود ہی اس رقم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ یہ رقم کسی خیراتی مقصد کے لیے استعمال کر لی جائے۔سود کی رقم اصل میں سوسائٹی کا حق ہوتا ہے جو اس سے چھینا جاتا ہے وہ اسی کو لوٹاناچاہیے۔

(شہزاد سلیم)

جواب۔ اسلام میں سود لینا بہر حال منع ہے چاہے یہ بہبود عامہ اور خدمت خلق کے لیے ہی کیوں نہ لیا جائے۔اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی کام کو کرنے کیلئے اس کے مقاصد اور کام کو کرنے کا طریقہ کا ر دونوں ہی ٹھیک ہونے چاہییں۔یعنی مقاصداورذرائع یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔آپ کی تجویز ‘‘روبن ہڈ ’’ قسم کی ہے کہ نیک مقاصد کی تکمیل کے لیے نا پسندیدہ ذرائع استعمال کیے جائیں۔اسلام کا مقصد تزکیہ نفس ہے اور درست سمت میں سفر کرنا ہے چاہے مطلوبہ مقاصد حاصل ہوں یا نہ لیکن درست راستہ کسی حال میں بھی ترک نہیں کیا جا سکتا۔مقاصد کا حصول صرف انسان کی کوشش اور محنت پر منحصر نہیں بلکہ اللہ کی منشا پر بھی ہوتا ہے۔ اگر اللہ کی منشا نہ ہو تو ہمیں ہماری کوشش کا ثمر بہر حال مل جائے گا۔اگر ہمارے پاس جائز ذرائع سے حاصل کر دہ رقم موجود نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نا جائز ذرائع سے رقم حاصل کرکے خیراتی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔جب ایک چیز ہمارے پاس ہے ہی نہیں تو ہم سے اس بارے میں مواخذہ بھی نہیں ہو گا۔قرآن مجید کی ایک مثال سے اس مسئلے کو سمجھیے۔

اسلام سے قبل عرب میں غربا کی امداد کا ایک طریقہ شراب نوشی اور جوا بھی تھا۔مخیراور فیاض حضرات محفلِ ناؤ نوش منقعد کرتے اور نشے میں جس کا اونٹ ہاتھ آتا پکڑتے اور ذبح کر ڈالتے ۔اس گوشت پر جوا کھیلتے جو شخص جوا جیت جاتا تو وہ یہ سارا گوشت غریبوں میں تقسیم کر دیتا جو اس موقع پر پہلے ہی سے وہاں جمع ہو جاتے۔شراب اور جوئے کا یہی وہ فائد ہ تھا جس کی وجہ سے لوگوں نے ان کے بارے میں استفسار کیا کہ کیا یہ واقعی ممنوع قرار پائے ہیں جب کہ ان کے کچھ فوائد بھی ہیں۔قرآن نے اس کے جواب میں یہ بتایا کہ یہ تو ایک ضمنی فائد ہ تھا یہ عمل لوگوں میں اخلاقی بگاڑ کا ذریعہ تھا۔اس لیے اس کی ممانعت کی گئی ہے۔

‘‘وہ تم سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو ان دونوں چیزوں کے اندر بڑ ا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائد ے بھی ہیں لیکن ان کا گناہ ان کے فائد ے سے بڑھ کر ہے ۔’’(۲۔۲۱۹)

چنانچہ واضح ہوا کہ باوجود اس کے کہ شراب اور جوابعض فوائد کے حامل تھے انہیں منع قرار دیا گیا کیونکہ وہ اخلاقی مفاسد کے حامل تھے ۔اس لیے آپ کی پیش کردہ صورت حال میں بھی ہمارا مشورہ یہی ہے کہ آپ کوئی اور متبادل سوچیں اور اگر کوئی متبادل ممکن نہیں تو گناہ کا کام کرنے سے بہتر ہے کہ سرے سے فری ڈسپنسری کا خیال ہی ختم کر دیا جائے۔

(شہزاد سلیم)

جواب۔ کاغذی کرنسی کا آغاز تو حالیہ صدیوں میں ہوا ہے۔اور افراط زر اور فرسودگی کا مسئلہ بھی کاغذی کرنسی کے ساتھ ہی متعلق ہے ۔ اس سے قبل بارٹر سسٹم رائج تھا یعنی اشیا کا تبادلہ اشیا سے ہوتاتھا۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ فرسودگی کا سوال ہی نہ تھا۔چنانچہ افراط زر او ر فرسودگی کی وجہ سے رقم کی قد ر میں جو کمی ہوتی ہے اسلامی حوالے سے اس کا لحاظ کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے ۔ تا ہم یہ مسئلہ چونکہ فرد واحد کے اقدام سے حل نہیں ہو سکتا اس کے برعکس اس کے لیے ریاستی اقدام کی ضرورت ہے۔ اور ریاست کو اس سلسلے میں اقدام بہر حال کرنا چاہیے کہ افراط زر اور فرسودگی کی صورت میں لوگوں کی رقوم کی اصل قیمت میں جو کمی ہوتی ہے اس کی تلافی کرنی چاہیے۔ او رجب تک ریاست یہ اقدام نہیں کرتی ہم بہر حال کچھ بھی کرنے سے معذور ہیں۔

(شہزاد سلیم)

ج: اسلام کا مخاطب سب سے پہلے فرد ہے ۔ مجھے اسلام میں پورا پورا داخل ہونا ہے لہذا مجھے سود سے بچناہے۔ اور یہ بچنا کچھ مشکل نہیں ہے یعنی کوئی طاقت، کوئی قانون مجھے پابند نہیں کرتا کہ میں لوگوں سے سود کھانا شروع کر دوں ۔ رہ گئی یہ بات کہ معاشرہ بحیثیت مجموعی اس کو ختم کرے۔تو اس کے لیے بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے ، پورے نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اور جب تک یہ نہیں ہوتا تو انفرادی طور پر سود سے بچنا جس حد تک ممکن ہو اس پر سختی سے عمل پیرا رہنا چاہیے۔

 اسلام میں بالواسطہ جرائم میں کسی آدمی کو ماخوذ نہیں کیا جاتا ۔آپ نے کسی کو قرض دیا ہے اور اس پر سود لیا ہے تو آپ مجرم ہیں ۔معاشرے میں رقم کہاں سے آتی ہے اس کے آپ ذمہ دار نہیں ہیں۔ سارا معاشرہ سود کے نظام پر چل رہا ہے یہی پیسہ دنیا میں پھیلا ہوا ہے اس میں آپ ماخوذ نہیں ،آپ اپنے عمل پر ماخوذ ہیں۔ یہ کوئی قاعدہ نہیں کہ پاکستان کی حکومت نے قرض لیا ہوا ہے اور اس پر وہ سود دے رہی ہے تو آپ بھی مجرم ہو جائیں گے۔بات اس طرح نہیں ہے ، آپ نے کیا کیا ، اس کی بنیاد پر آپ کا مواخذہ ہو گا۔البتہ لوگوں کے دل و دماغ کو درست کرنے کی کوشش کرتے رہیے۔ہر فرد کو اپنے آپ کو پاکیزہ رکھنا ہے اور اپنے ماحول میں دوسروں کے لیے کوشش کرنی ہے بس یہ ہی مطالبہ ہے۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: بینک میں جمع کیے ہوئے پیسے پر سود لینا حرام ہے کیوں کہ یہ سود ہے ۔سود کی تعریف یہ ہے کہ اصل مال پر جو رقم بغیر محنت یا تجارت کے لی جائے وہ سود ہے۔شیخ شلتوت نے بنک کے سود کوصرف مجبوری کی حالت میں جائز قرار دیا تھا۔عام حالات میں ان کے یہاں بھی جائز نہیں ہے۔اس پیسے کے مصرف کی بہترین شکل یہ ہو گی کہ اسے غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کر دیا جائے یا کسی رفاہی کام میں خرچ کر دیا جائے ۔زکوۃ ادا کرنے سے حرام مال حلال نہیں ھو جاتا اس لیے زکوۃ اداکرنے سے سود جائز نہیں ہو جائے گا۔

            بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمارے جمع کیے ہوئے پیسے سے بینک تجارت کرتاہے اورنفع کماتا ہے تو ہمیں بھی اس نفع سے کچھ ملنا چاہیے۔میں کہتا ہوں کہ اس نفع میں آپ بہ خوشی شریک ہو سکتے ہیں بشرطیکہ پیسہ جمع کرتے وقت آپ بینک سے یہ طے کر لیں کہ آپ بینک کی تجارت میں حصے دار کی حیثیت سے پیسے جمع کر رہے ہیں۔اوریہ کہ آپ نفع اور نقصان دونوں میں برابر کے شریک رہیں گے ۔اگر بینک اس شرط پرراضی ہو جائے تو بلا شبہ آپ نفع لے سکتے ہیں ۔

(علامہ یوسف القرضاوی)