جہد مسلسل،  ایک اسٹریٹجک روڈمیپنگ کی کہانی

مصنف : يمين الدين احمد

سلسلہ : سماجیات

شمارہ : اپريل 2024

سماجيات

جہد مسلسل،  ایک اسٹریٹجک روڈمیپنگ کی کہانی

یمین الدین احمد

آج سے 12 برس پہلے کراچی سے باہر ایک کمیونٹی کے کچھ لوگوں نے رابطہ کیا کہ ان کی کافی بڑی، تاریخی اور قیمتی آبائی زمین پر کچھ لوگوں نے قبضہ کرلیا ہے اور وہ کافی عرصے سے اپنی زمین کا قبضہ چھڑوانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کافی نقصان ہوچکا ہے اور ہم قبضہ نہیں چھڑوا پا رہے۔قبضہ گروپ بہت طاقتور ہے اور انہیں مختلف طاقتور حلقوں کی سپورٹ بھی حاصل ہے۔ ہماری فیملیز اور بچے بہت زیادہ پریشان ہیں اور ہمارا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اگر ہم ان سے جھگڑا کرکے چھڑوانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ہمارے لوگوں کو جان سے مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ہمارے آس پاس اور بھی کمیونٹیز آباد ہیں لیکن قبضہ گروپ کی طاقت کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی ہماری کھل کر مدد کرنے کو تیار نہیں ہے، البتہ چند قریب آباد کمیونٹیز نے ہمارے کچھ خاندانوں کو اپنے ہاں پناہ ضرور دے دی ہے۔کسی نے ان کو یہ کہہ کر بھیجا تھا کہ ہم چونکہ وژننگ اور اسٹریٹجی کے ایکسپرٹ ہیں تو ہم سے مدد لی جائے کہ آخر کیسے یہ قبضہ ختم کروایا جائے اور ہمارے لوگوں کی جان کے نقصان سے بھی بچا جائے۔یہ ایک بہت مختلف اسائنمنٹ تھا، بہرحال مشورے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ چلو انفرادی اور ادارتی سطح پر تو وژننگ اور اسٹریٹجک روڈمیپنگ برسوں سے کرتے آرہے ہیں تو ایک اس طرح کا پروجیکٹ بھی کرکے دیکھتے ہیں۔

میں نے کمیونٹی کے 20 سے 25 سمجھدار لوگوں کا ایک گروپ تشکیل دلوایا اور انہوں نے کراچی سے بہت دور ایک بہت پرفضا اور خوبصورت مقام پر پانچ دن کا ایک سیشن ارینج کرلیا۔ میں نے جانے سے پہلے ہی اس کمیونٹی کی تاریخ کا مطالعہ کیا اور جن لوگوں نے قبضہ کیا ہوا تھا، ان کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ یہ ایک بڑا قبضہ گروپ ہے جو بہت سی اور کمیونٹیز کی زمینوں پر بھی ماضی میں قبضہ کر چکا ہے۔ بلکہ یہ ایک طریقے سے بدمعاشوں اور غنڈوں کا گروہ ہے۔

پانچ دن کے اس سیشن میں، اس کمیونٹی کے کئی اہم لوگ موجود تھے۔ میں نے انہیں وژننگ کے بنیادی اصول سمجھائے، مختلف مثالیں دیں اور کاروباری اور ادارتی سطح پر جو میرا تجربہ تھا، وہ شئر کیا۔ اب ظاہر ہے، چونکہ اس طرح کی وژننگ اور اسٹریٹجک روڈمیپنگ پہلے کبھی کی نہیں تھی تو اس طرح کی کوئی مثال میرے ذاتی تجربے میں نہیں تھی۔ البتہ دنیا کے مختلف خطوں اور تاریخ سے مختلف مثالیں اور کیس اسٹدیز مل گئیں۔

مخالف قبضہ گروپ کو دیکھتے ہوئے اور اب وہ جس طرح سے قبضہ کرچکے تھے، میں نے ان لوگوں کو یہ کہا کہ ہمیں ایک طویل المدتی اسٹریٹجی بنانی ہوگی اور آپ لوگوں نے جذباتی ہوکر ان سے بھڑنا نہیں ہے۔بلکہ ہوش کے ساتھ سمجھداری سے کام کرنا ہے۔ ممکن ہے کہ اس قبضے سے جان چھوٹنے میں کئی سال لگ جائیں یعنی دس پندرہ سال بھی لگ سکتے ہیں۔ اصل میں وژننگ اور اسٹریٹجک روڈمیپنگ پر عمل کرنا ایک شدید صبر آزما کام ہوتا ہے جبکہ اکثر لوگ جلد از جلد نتائج کے چکر میں ہوتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مخالف کی بدمعاشی کی وجہ سے لوگ مزید غصے اور فرسٹریشن کا شکار ہوجاتے ہیں اور اپنا کافی نقصان کروا بیٹھتے ہیں۔میں نے انہیں یہ بات اپنی طرف سے کوشش کرکے خوب باور کروائی کہ اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم كے ذریعے سے ہمیں حکمت سکھائی ہے۔ بلکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی بعثت کے جو چار مقاصد قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں ان میں سے ایک حکمت بھی ہے:قرآن مجید میں تین مقامات پر اللہ تعالٰی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی بعثت سے متعلق ایک ہی بات کو بیان کیا ہے۔سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا:رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزِکِّیْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم۔ (البقرۃ:۱۲۹) ترجمہ: ہمارے پروردگار !ان میں ایک ایسا رسول بھی بھیجنا جو انہی میں سے ہو،جو ان کے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے، انھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، اور ان کو پاکیزہ بنائے، بیشک تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل۔

دوسری جگہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے بھیجے جانے کو احسان قراردیتے ہوئے فرمایا: لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وِاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُبِیْن۔( اٰل عمران:۱۶۴)ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ تعالی کی آیتوں کی تلاوت کرے،انہیں پاک وصاف بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جبکہ یہ لوگ اس سے پہلے یقینا کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے۔تیسری جگہ اللہ تعالی نے مقاصد ِ بعثت کو بیا ن کرتے ہوئے فرمایا: ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّٖنَ رَسُوْلاً مِنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ ٰایٰتٖہ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وِاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مبین۔( الجمعۃ :۲)ترجمہ: وہی ہے جس نے اُمی لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول کو بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کریں اور ان کو پاکیزہ بنائیں اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیں، جبکہ وہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔

اس کمیونٹی کے حالات کو دیکھتے ہوئے اور قبضہ گروپ کے خلاف ان کی ہمت اور حوصلے کی داد دیتے ہوئے، میں یہ سمجھتا تھا کہ ہمت اور حوصلہ اپنی جگہ پر ہے لیکن اس کو بغیر حکمت کے استعمال کرنے سے مستقل نقصان ہورہا ہے اور سامنے والے بدمعاشوں کو مزید موقع مل رہا ہے کہ وہ آپ کا نقصان کریں۔

مجھے یاد ہے کہ میں نے انہیں یہ مشورہ دیا تھا کہ اس وقت اپنی زمینوں کو چھوڑ دیں اور انہیں قبضہ کرنے دیں۔ آپ لوگ اپنی افرادی قوت کو جتنا محفوظ کرسکتے ہیں کریں۔ اس پر کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ تو بزدلی ہوگی اور ہم کیوں اپنی آبائی زمین چھوڑ دیں؟میں نے انہیں پھر سمجھایا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ اپنی اس زمین کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر ان بدمعاشوں کے حوالے کر دیں بلکہ وقتی طور پر آپ سب کچھ چھوڑ کر پیچھے ہٹ جائیں۔

میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا آبائی وطن مکہ مکرمہ تھا، جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ہر قسم کے ظلم پر صبر کیا اور بلاوجہ لڑنے کی کوشش نہیں کی۔

پھر جب کفار مکہ کے ظلم و ستم بہت بڑھ گئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اپنی قوم (جو لوگ ایمان لے آئے تھے) کو لیکر مدینہ ہجرت کرگئے بلکہ اس سے پہلے ایک بار وہ مسلمانوں کے ایک گروہ کو حبشہ ہجرت کروا چکے تھے۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے دونوں بار اپنی آبائی زمین کو چھوڑنے اور چھڑوانے کے یہ فیصلے بزدلی نہیں تھی بلکہ حکمت کا تقاضہ تھا کیونکہ سب سے پہلے جانیں بچانی مقصود تھیں تاکہ افرادی قوت میں خواہ مخواہ نقصان اور کمی نہ ہو۔میرا یہ ماننا تھا کہ اگرچہ آپ لوگ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس قابض گروہ کا مقابلہ تو کر رہے ہیں لیکن کچھ عرصے کے لیے یہ مقابلہ ترک کرکے اپنی قوت کو مجتمع کریں اور اپنی کمیونٹی پر کام کریں۔

میں نے ان سے اگلے پندرہ سال کا ایک روڈمیپ بنوایا جس کے چیدہ چیدہ نکات یہ تھے:

1۔ ہم فی الحال اپنی زمین، جائیدادیں اور تمام اثاثے چھوڑ کر کسی اور بے آباد یا کم ویلیو والے علاقے کی طرف ہجرت کرجاتے ہیں۔ اس میں تکلیف ہوگی لیکن مستقل جانی نقصان ہوتے رہنے سے یہ تکلیف کم ہوگی۔

2۔ ہم قبضہ گروپ سے خود نہیں لڑیں گے، البتہ اگر ان کی طرف سے ہم پر کوئی حملہ کیا گیا تو ہم اپنا کم سے کم نقصان کرتے ہوئے دفاع میں جواب دیں گے۔

3۔ ہم نے سب سے پہلے اسی سیشن میں یہ بات طے کی کہ ہماری نیت کیا ہے؟ آیا ہماری یہ لڑائی صرف زمین کے حصول کے لیے ہے یا ہمارے پاس اس زمین کے حصول سے زیادہ بڑا کوئی مقصد ہے؟

اگر تو ہم صرف اپنی آبائی زمین کے لیے لڑ رہے ہیں کہ جناب یہ ہمارے آبا ؤ اجداد کی زمین ہے تو ہم بہت چھوٹی چیز کے لیے لڑ رہے ہیں اور میرا گمان ہے کہ شاید اللہ کی مدد بھی شامل حال نہ ہو۔ لیکن اگر ہماری نیت اور ہمارا مقصد زمین نہیں ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ اعلٰی اور ارفع ہے تو میرا خیال ہے کہ اسے وضاحت سے ڈیفائن کرلیں اور اس صورت میں میرا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالٰی کی مدد کا حصول بھی آسان ہوگا۔

4۔ آپ اپنی کمیونٹی میں کسی ایک سب سے سمجھدار اور حکیم شخص کو اپنا بڑا/ہیڈ/سردار/امیر بنا لیں اور ایک ایگزیکٹو کمیٹی بنالیں جو کہ مشوروں میں شامل ہو۔ اس میں صرف اور صرف میرٹ کا خیال رکھیں۔

کسی کے بزرگ ہونے، بال سفید ہونے، عابد و زاہد ہونے یا مالدار ہونے کی وجہ سے متاثر نہ ہوں اور منتخب نہ کریں۔ بلکہ وہ شخص جو اس وژن پر یقین رکھتا ہو، جس کے کردار کی صفات اپنے مقصد کے حصول کے لیے موزوں ترین ہوں اور اس کی کمپیٹینس زبردست ہو۔ جو سب کو ساتھ لیکر چلنے کے فن سے آشنا ہو۔

5۔ اپنی نیت اور بڑے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو اس بڑے مقصد کے حصول کے لیے اپنے آپ کو ڈویلپ کرنے، سیکھنے اور کیریکٹر اور کمپیٹینس پر کام کرنے کے لیے آمادہ ہوں۔

6۔ اس پندرہ سالہ روڈمیپ پر آہستہ آہستہ کام کرتے ہوئے اگر آپ اپنی زمین واپس حاصل کر لیتے ہیں تو اس زمین کو جس کو اس قبضہ گروپ نے برباد کردیا ہوگا، دوبارہ اپنی کمیونٹی کے لیے نافع بنانے کے لیے مختلف جہتوں میں کام کرنا ہوگا اور اس کے لیے لوگ درکار ہوں گے۔

7۔ ہمیں کچھ ایسے لوگ چاہیے ہوں گے جو کمیونٹی کے نظم و نسق کو چلا سکتے ہوں۔ ظاہر ہے کہ آپ کی کمیونٹی صفر سے شروع کر رہی ہوگی تو ایسے لوگ جو نظم و نسق مینیج کرنے میں اچھے ہوں، درکار ہوں گے۔پھر کمیونٹی کو دوبارہ مالی اور معاشی استحکام کی طرف لے جانے کے لیے اس ڈومین کے ماہرین درکار ہوں گے۔

کمیونٹی کے وہ لوگ جو تاجر اور کاروباری ہیں، انہیں سب کچھ چھوڑ کر کسی اور علاقے میں جا بسنا ہوگا جہاں وہ پورے فوکس کے ساتھ اپنی کاروباری ترقی اور مالی استحکام پر کام کریں۔ لیکن ان تمام کاروباروں کا مقصد بالآخر اپنی کمیونٹی کو سپورٹ کرنا ہوگا۔

اسی طرح اگلے پندرہ برسوں میں آپ کی کمیونٹی کے بچوں کی تعلیم کا بھی حرج ہوگا تو اس کے لیے آپ بنیادی تعلیمی ضروریات پر کام کرتے رہیں گے جبکہ کچھ لوگ تعلیم کے شعبے میں مہارت ڈویلپ کریں گے۔آپ کی خواتین بہت زیادہ انڈر ڈویلپڈ ہیں، ان کی جسمانی اور جذباتی صحت، علمی استعداد اور نیشن بلڈنگ پر کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔

کمیونٹی کے کچھ لوگ آس پاس کی دیگر کمیونٹیز سے رابطے میں رہیں گے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو ان کی مدد کی ضرورت پڑے۔

8۔ کمیونٹی کا ایک مشترکہ فنڈ بنانے پر کام کیا جائے گا جو اس وقت کمیونٹی کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے کام آئے گا۔

9۔ آپ ہی کی کمیونٹی کے بہت سے افراد اپنی زمین چھوڑ کر دنیا میں مختلف جگہوں پر رہتے ہیں اور بہت سے لوگ بہت آسودہ حال بھی ہیں۔ ان سے روابط استوار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی تاکہ انہیں آن بورڈ لیکر پندرہ سال بعد (اگر زمین واپس مل گئی) اپنی آبائی زمین کی تعمیر نو میں کردار ادا کرنے کے لیے درخواست کی جائے گی۔

10۔ اگر ہم یہ سب کچھ اپنی اسٹریٹجی کے مطابق نہ کرسکے اور اگر ہمیں اس قبضہ گروپ سے لڑنا ہی پڑا اور کوئی راستہ نہ ملا تو میں نے یہ کہا کہ آپ لوگوں نے آل آؤٹ جانا ہے اس بات سے قطع نظر کہ قبضہ گروپ کتنا طاقتور ہے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کے چند افراد ہی ان سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہوں اور باقی رونے دھونے اور فریادیں کرنے میں لگے ہوئے ہوں۔

دیکھیے، اس آخری صورت میں اگر آپ آل آؤٹ نہیں جاتے اور آپ کی ساری کمیونٹی قبضہ گروپ سے لڑنے پر آمادہ نہیں ہوتی بلکہ کمزوری کا مظاہرہ کرتی ہے، زیادہ لوگ روتے پیٹتے جان بخشی کی فریاد کرتے نظر آتے ہیں، تو قبضہ گروپ نے آپ کو اور بڑی طرح سے مارنا اور کچلنا ہے۔لہٰذا مرنا تو ہے ہی۔ تو میری رائے یہ ہوگی کہ آل آؤٹ جاکر مریں تاکہ کم از کم آپ لوگوں کی مکمل کوشش تو رجسٹر ہوجائے۔ اس طرح موت لڑتے ہوئے ہوگی جبکہ دوسری صورت میں بھی موت ہی ہے لیکن بے بسی کی موت ہوگی۔

میں نے ایک بات اور کہی کہ اگر یہ ساری کوشش زمین کے لیے ہے تو آپ پر کمزوری غالب آجائے گی، آپ روتے پیٹتے چلے جائیں گے اور ہر کسی سے فریاد کریں گے، نتیجتا" بے بسی کی موت آپ کا مقدر ہوگی۔اور اگر یہ ساری اسٹریٹجی کسی بڑے مقصد کے لیے ہے جو زمین اور حکومت سے بڑا ہے تو آپ بے جگری سے قبضہ گروپ سے لڑیں گے اور لڑتے ہوئے تاریخ رقم کرتے ہوئے ان قبضے والوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے لیکن اس میں کافی امکان ہے کہ آپ ان کا بھی ٹھیک ٹھاک نقصان کرجائیں گے۔

یہ تو چند موٹی موٹی باتیں ہیں، اس کے علاوہ اس اسٹریٹجک روڈمیپنگ میں کئی اور چیزیں شامل تھیں۔

میں نے انہیں یہ بھی سمجھایا کہ یہ ساری وژننگ اور اسٹریٹجک روڈمیپنگ "اسباب" کے درجے میں کی جارہی ہے جن کو اختیار کرنے کے ہم مکلف ہیں، جبکہ نتائج آنا یا نہ آنا، اللہ سبحانہ و تعالٰی کے ہی ہاتھ میں ہے۔البتہ اللہ تعالٰی کی عمومی سنت یہی ہے کہ جس طرح کے اسباب اختیار کیے جائیں گے، اسی طرح کے نتائج مرتب ہوں گے۔

لیکن وژننگ، روڈمیپنگ اور اس کی روشنی میں عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ اللہ تعالٰی سے دعائیں اور مستقل مانگنا، یہ ہمیں اپنی کمیونٹی کو اچھی طرح سمجھانا ہوگا۔اپنی نیت کا بار بار استحضار کرنا لازمی ہوگا کہ آیا یہ ساری کوشش اور قربانی "زمین" کے لیے ہے یا کسی بڑے "مقصد" کے لیے۔صرف زمین کا حصول کبھی بھی بڑا مقصد نہیں ہوسکتا اس لیے اپنی کمیونٹی میں اس حوالے سے بھی لوگوں کی ذہن اور کردار سازی کرنے کا مستقل کام کرنا ہوگا۔

ان یادگار پانچ دنوں میں کئی ڈسکشنز ہوئے، کئی بحثیں ہوئیں اور مجھے یاد ہے کہ صبح اشراق کے بعد سے شروع ہونے والے ہمارے سیشنز عشاء تک جاری رہتے تھے۔ اس کمیونٹی کے لوگوں کے اس سیشن کے لیے انتظامات اور مہمان نوازی شاندار تھی۔میں تو یہ سارا کام کروا کر واپس آگیا اور مجھے یاد ہے کہ اس کمیونٹی کے جو سب سے سینئر سردار یا ہیڈ تھے، انہوں نے ایک بہت ہی خاص عطر مجھے تحفے میں دیا تھا جس کو میں بہت وقت تک استعمال کرتا رہا اور انہیں یاد کرتا رہا۔ بعد میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اللہ تعالٰی انہیں غریق رحمت کرے۔

خیر جناب ہم نے تو پندرہ سال کی روڈمیپنگ کی تھی لیکن اس کمیونٹی کے لوگوں نے اسٹریٹجی کے مطابق چلنا شروع کیا۔ اب یہ تو اللہ کا فضل ہوا کہ اللہ نے پندرہ سال والا کام دس سال میں ہی کروا دیا۔ آج یہ کمیونٹی اس قبضہ گروپ کو اپنی زمین سے بے دخل کرکے واپس حاصل کرچکی ہے اور اس کی تعمیر نو میں مصروف ہے۔ مشکلات بہت ہیں لیکن پہلے سے کم ہیں۔

بات یہ ہے کہ جب اسٹریٹجک روڈمیپنگ کرتے ہیں تو جذبات کو سائیڈ میں کرکے، ٹھنڈے دل و دماغ سے کام کرنا ہوتا ہے۔ جذباتی نعرے اور بیانیے اچھے تو لگتے ہیں لیکن ان سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔

یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی اجمعین آپ کو جنگوں کے علاوہ کہیں بھی جذباتی بیانیے کے ساتھ نظر نہیں آتے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی پوری سیرت کا مطالعہ ہمیں کیا بتاتا ہے؟ایک گہری سوجھ بوجھ والی، بڑی تصویر پر نگاہ رکھنے والی لیڈر شپ۔

نگاہ بلند ، سخن دلنواز ، جاں پرسوز--یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

ہم آج حکمت کے ان موتیوں سے تقریبا" خالی ہیں اور ہمارے پیش نظر فوری نتائج ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر لوگ صرف قلیل المدتی (شارٹ ٹرم) سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے نظر آتے ہیں۔ ہم لمبا گیم کھیلنے سے بھاگتے ہیں اور نتائج بھی برے سے برے ہوتے جارہے ہیں۔پچھلے کچھ دنوں سے ایک اور کمیونٹی کے کچھ لوگوں سے رابطہ ہوا کہ وہ بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال کا شکار ہیں۔ لیکن شارٹ ٹرم حل چاہتے ہیں۔

جبکہ میں اسٹریٹجسٹ ہوں اور اسٹریٹجک انٹروینشن ایک لانگ ٹرم گیم کا نام ہے۔ سمجھا رہا ہوں لیکن نقصان ہوا جارہا ہے، سننے کو تیار نہیں ہیں!

تم نے جس دن کے لیے اپنے جگر چاک کیے--سو برس بعد سہی دن تو وہ آیا آخر

تم نے جس دشتِ تمنا کو لہو سے سینچا--ہم نے اُس کو گل و گلزار بنایا آخر

نسل در نسل رہی جہدِ مسلسل کی تڑپ--ایک اک بُوند نے طوفان اٹھایا آخر

تم نے اک ضرب لگائی تھی حصارِ شب پر--ہم نے ہر ظلم کی دیوار کو ڈھایا آخر

وقت تاریک خرابوں کا وہ عفریت ہے جو--ہر گھڑی تازہ چراغوں کا لہو پیتا ہے

زلفِ آزادی کے ہر تار سے دستِ ایّام--حریت کیش جوانوں کے کفن سیتا ہے

تم سے جس دورِ المناک کا آغاز ہُوا--ہم پہ وہ عہدِ ستم ایک صدی بیتا ہے

تم نے جو جنگ لڑی ننگِ وطن کی خاطر--مانا اس جنگ میں تم ہارے عدو جیتا ہے

لیکن اے جذبِ مقدس کے شہیدانِ عظیم--کل کی ہار اپنے لیے جیت کی تمہید بنی

ہم صلیبوں پہ چڑھے زندہ گڑے پھر بھی بڑھے--وادیِ مرگ بھی منزل گہہِ امید بنی

ہاتھ کٹتے رہے پر مشعلیں تابندہ رہیں--رسم جو تم سے چلی باعثِ تقلید بنی

شب کے سفّاک خداؤں کو خبر ہو کہ نہ ہو--جو کرن قتل ہوئی شعلۂ خورشید بنی