گلوبل کلچر اور احساسِ کمتری

مصنف : سائرہ رباب

سلسلہ : فکر و نظر

شمارہ : مارچ 2024

فكر و نظر

گلوبل کلچر اور احساسِ کمتری

سائرہ رباب

انگریزی مقولہ ہے "Humour doesn't travel"

یعنی مزاح اتنا کلچرل culturally rooted ہوتا ہے کہ اس کو کسی دوسری زبان یا کلچر میں منتقل کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا ۔۔ اگر کوشش کی بھی جائے تو اس کی مخصوص چاشنی اور فلیور flavor باقی نہیں رہتے ۔۔۔یہی بات تخلیق اور دوسری آرٹ فارمز کے لئے بھی سچ ہے ۔۔۔ ریسرچ کے مطابق جو بچے جتنا زیادہ اپنے کلچر، اپنی زبان سے گہرائی سے جڑے ہوتے ہیں، وہ اتنے ہی زیادہ تخلیقی صلاحیتوں اور ذہانت سے مالا مال ہوتے ہیں ۔ اور جتنا اپنے کلچر اور زبان سے دور ہوتے ہیں، اتنا ہی وہ تخلیقی طور پر بانجھ ہوتے ہیں ۔تعلیمی لحاظ سے پرائمری کلاسز میں بچوں پر کوئی غیر زبان تھونپ دینا ان کی ذہنی اور شخصیاتی نشوونما کو reverse کر دیتا ہے اور ہائر cognitive سکلز کو ڈیویلپ ہونے سے روک دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری سرزمین ادب، تخلیق، آرٹ، مزاح، تحقیق و تعلیم میں مکمل طور پر بانجھ پن کا شکار ہو چکی ہے کیوں کہ ہمارے بچے اور جوان اپنے ہی گرد و نواح، کمیونٹی، زبان، کلچر اور حقائق سے قطعی لاتعلق ہیں ۔جبکہ ادب، آرٹ، مزاح میں عظیم شاہکار تبھی جنم لیتے ہیں جب یہ کلچر کی کوکھ سے پھوٹتے ہیں اور ان کی جڑیں اپنی سرزمین میں پیوست ہوتی ہیں ۔ یہ ہماری ذات کی سچائی اور گہرائی کا بے ساختہ اظہار ہوتے ہیں۔

آرٹ اور تعلیم کا جہاں تک سوال ہے تو بیرون ملک پڑھ کر آئے euro-americocentric آرٹ اسکالرز اور ٹیچرز کو بڑے پیمانے پر بھرتی کر کے ایسا یونیورسل آرٹ یا ایجوکیشن مسلط کیا گیا ہے جس نے ویسٹرن نارمز کو سٹینڈرڈائزڈ بنا کر مقامی آرٹ فارمز اور آرٹسٹس کو آؤٹ کاسٹ کر دیا اور ان کا درجہ گھٹا دیا ہے ۔ ہر وہ ادب، تخلیق یا آرٹ جو فوک لور، مقامیت سے جڑی ہے، اس کو سیکنڈ ریٹ کر دیا ہے اور ہر وہ شاہکار جو اس یونیورسل سٹینڈرڈ کے ساتھ کونفارم کرتا ہے وہ اعلی اور برتر قرار دیا گیا ہے۔ ایسی فارن فنڈڈ نمائشیں منعقد کرائی گئی ہیں جو اس آرٹ کو پروموٹ کر رہی تھیں اور ایسے فنکاروں کو ایوارڈز دیے گئے ہیں جو ویسٹ کے ساتھ اشتراک میں کام کر کے انہی Norms کو follow کر رہے تھے ۔ یونیورسل آرٹ کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ کونٹیکسٹ سے بالکل الگ تھا اور اس نے فنکار اور مقامی لوگوں میں اپنے کلچر سے ایک بیگانگیت اور کٹ جانے (disconnect) کا احساس پیدا کیا اور ان میں ایک سطحیت shallowness پیدا کی، جس کا تعلق ان کے اندر کی گہرائی اور سچائی سے نہیں تھا ۔ بلکہ ظاہر سے تھا اور ایک اندھی تقلید کا نتیجہ تھا ۔ فارن سے آئے یہ اسکالرز اور ٹیچرز چوں کہ اپنے کلچر، علاقے، علوم، حتی کہ زبان سے بھی نابلد تھے، انہوں نے ان مقرر کردہ نارمز سے باہر نکلنے کی کوشش ہی نہ کی ۔مقامی کلچر میں صرف اُن آرٹسٹس کو مانا گیا جو ان انٹرنیشنل ویلیوز سے ہم آہنگ تھے ۔ یہ بات کہ Multiple modernism بھی ہو سکتی ہیں، اس کا انکار کیا گیا ۔ نتیجے کے طور پر پیدا ہونے والا ذہن neo imperialism کے شکنجوں میں پھنسا ہوا تھا  جو کسی بھی قسم کے حقیقی تجربے، گہرے احساس سے عاری محض گلوبل کپیٹلزم کے جنک کلچر junk culture کے ساتھ سطحی توثیق confirmity کا نتیجہ تھا ۔

ہماری ایلیٹ بری طرح اس سطحیت کا شکار ہے اور اس اندھی تقلید میں اُس نے ہر اس چیز کو ریجیکٹ کیا ہے جو مقامی فلیور flavor رکھتی تھی  اور اگر کوئی ناطہ رکھا بھی، اور آرٹ میں represent بھی کیا تو صرف کلچر کو ایک کموڈٹی commodity بنا کر ۔ زندگی، احساس، حقیقی رنگوں، اور کثیر الجہتی انسانوں سے عاری کلچر ۔پبلسٹی اور منافع کمانے اور انٹرنیشنل آڈینس audience کو گھیر کر گلوبل مارکیٹ تک رسائی کے ٹول کے طور پر ۔تجریدی آرٹ اور آرٹ براۓ آرٹ کی برتری مسلط کر کے میعار بنانا بھی اسی گلوبل کلچر کا حصہ تھا ۔ ادب کو حقیقت نگاری اور زندگی سے جوڑنے والے ادیب آہستہ آہستہ رخصت ہو گئے اور تجریدی ادب کو ہی اعلی ترین اور بلند ترین سمجھ کر تخلیق کیا جانے لگا ۔۔۔ حقیقت نگاری، ربط، کہانی، پلاٹ سے تعلق ختم ہو گیا اور ادب مبہم ہوتا چلا گیا اور عام قاری کی سمجھ سے بالا تر ۔یہ ٹھوس حقیقتوں ، واقعات کی بجاۓ ابہام کی بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ گیا ۔اگر ایک گلوبل ٹرینڈ کے طور پر اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ بھی passive آرٹ کی ہی ایک قسم ہے ۔۔۔ impressionism, expressionism, surrealism یہ سب کیپٹلسٹ آرٹ فارمز تھیں۔ اور ان کا مقصد آرٹ کو سرمایہ کاری سماج کے ساتھ ہم آہنگ allign کرنا تھا۔ مثلاََ ادب اور آرٹ کو لائف اور سماج سے کاٹ کر انفرادی اظہار یعنی Individual expression بنا دینا ۔ اس کو غیر سیاسی (apolitical) کر دینا ۔ معیشت، سیاست اور کلچر سے الگ کر دینا ۔ Mysticism سے مشابہ ایک شکل ۔۔۔ جس میں باہر کی بجاۓ صرف ذات کے اندر کا سفر ہے ۔ اور آرٹ کو سماج سے beyond کہہ کر دراصل سماج کی حقیقت اور مسائل کو untouched چھوڑ دینا  اور passive & submissive سٹانس لینا ۔۔۔ اور پھر اس آرٹ کو فری آرٹ کہہ کر دوسری جگہوں کے آرٹ کو marginalize کر دینا ۔۔ ان کو کمتر گرداننا ۔۔۔گلوبلائزیشن اور ماڈرنزم سے ہم آہنگ شناخت مقامی اور انفرادی شناختوں اور تنوع کو مٹا کر ایک ہی یونیورسل کلچر مسلط کرتے ہیں ۔۔جو کنزومرزم کی اقدار کو فروغ دیتا ہے ۔۔۔ میڈیا نے بھی انسان کو اس کی انٹلیکچول صلاحیتوں، لچک flexibility، تنوع، اور تفرقات کو مٹا کر اس کو یک جہتی انسان one dimensional man میں بدل دیا ہے ۔ جو اپنے تاریخی، سیاسی، سماجی، اور ثقافتی کونٹیکسٹ سے مکمل طور پر آزاد ہو گیا ہے ۔ کیا کھانا ہے، کیا پہننا ہے، کیسے رہنا ہے، لائف سٹائل کیا ہو، کیا سوچنا ہے، کیا جاننا ہے - یہ سب کچھ یہی گلوبل آئیڈیل کلچر ہر سماج کو dictate کرتا ہے _ ہم دوسری پروڈکٹس کی طرح علم کے بھی کنزیومر ہیں، پروڈیوسر یا تخلیق کار نہیں ۔۔۔ اس کلچر نے تمام انسانیت کو تابعدار کونزیومرز میں ڈھال دیا ہے ۔۔