تاریخِ فلسطین عہد بعہد (قسط 1)

مصنف : اسداللہ خان پشاوری

سلسلہ : تاریخ

شمارہ : فروری 2024

تاريخ

تاریخ فلسطین عہد بعہد (قسط 1)

اسد اللہ خان پشاوری

ماخذ-- فلسطين، التاريخ المصور، دراسة تاريخية متسلسلة منذ بدء التاريخ وحتى أحداث الساعة بالصور، از ڈاكٹرطارق محمد السويدان

ارض فلسطین کا ذکر قرآن میں کئی جگہ ہے:

(1)جیسے سورت اسراء :1میں نبی کریم ﷺ کےمعراج کا واقعہ ذکر کیا ہے۔

(2) اسی طرح سورت مائدہ :21میں موسی علیہ السلام کی زبانی اس کو ارض مقدس کے لفظ کے ساتھ یاد کیا گیا ہے۔

(3) اسی طرح سورت انبیاء:71 میں ابراہیم علیہ السلام کی عراق میں کلدانیین کی جگہ سے ملک شام یعنی فلسطین کی طرف ہجرت کا ذکر ہے۔

(4)سورت انبیاء :81 میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصہ میں اس جگہ کا ذکر ہے، جس میں ہے کہ ہوا، سلیمان علیہ السلام کے تابع تھی جو ان کے حکم پر ارض مبارک کی طرف چلتی تھی۔

(5)نبی کریم ﷺ جب مکہ میں نماز پڑھتے تھے تو رکنین کے درمیان نماز پڑھتے تھے جس میں مسجد حرام اور بیت المقدس دونوں آجاتے تھے، لہذا شروع اسلام میں مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس تھا، پھر تبدیل ہوگیا۔ جس کا ذکر سورت بقرہ:144 میں ہے۔

تاریخ فلسطین عہد بعہد (قسط 2)

فلسطین ، بیت المقدس کا ذکر احادیث میں

کئی احادیث میں بھی ذکر ہےجیسے:

(1)نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے کہ تم کسی مسجد کی طرف سفر نہ کرو سوائے تین مساجد کے، مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی۔(بخاری ومسلم)۔ مسجد حرام میں نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز کے برابر، مسجد نبوی میں ایک ہزار نمازوں کے برابر، مسجد اقصی میں پانچ سو نمازوں کے برابرہیں۔

(2)نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے: مسجد اقصی روئے زمین پر مسجد حرام کے بعد دوسری مسجد ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا زمانہ تھا۔ (بخاری، مسلم، نسائی)۔

(3)ترمذی شریف میں نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے کہ اہل شام کو خوشخبری ہو ، اہل شام کو خوشخبری ہو، صحابہ کرام نے عرض کیا آپ ملک شام کی تعریف کیوں فرما رہے ہیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا فرشتوں نے ملک شام پر اپنے پر پھیلائے ہیں۔(سنن ترمذی)۔

(4)براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیت المقدس کی طرف سولہ یا سترہ مہینے نماز پڑھی ہے۔ (بخاری ، مسلم)۔

(5)حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب میں معراج پر جا رہا تھا تو میرے پاس براق لایا گیا جو سفید جانور تھا جو گدھے سے کچھ بڑا ،اور خچر سے کچھ کم تھا، جہاں اس کی نگاہ جاتی تھی وہاں اس کے پاؤں پڑتے تھے، میں اس پر سوار ہوا ، اور بیت المقدس آیا، میں نے براق کو اس جگہ باندھا جہاں انبیاء اپنی سواریاں باندھتے تھے۔پھر میں مسجد میں داخل ہوا، اس میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر میں نکلا، حضرت جبریل علیہ السلام میرے لیے شراب اور دودھ کے دو برتن لے کر آئے، میں نے دودھ کو پسند کیا، جبریل علیہ السلام نے فرمایا تو نے فطرت کا راستہ اختیار کیا، پھر مجھے آسمان پر لے گئے۔ (صحیح مسلم)۔

(6)حضرت موسی علیہ السلام نے ارض مقدس میں موت کی دعا کی تھی، نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے ان کی قبر معلوم ہے، اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں ان کی قبر دکھا دیتا جو راستہ کی طرف سرخ ٹیلہ کے پاس ہے۔(صحیح بخاری)۔

(7)نبی کریم ﷺنے ملک شام کے لیے دعا کی ہے ، اللہم بارک لنا فی شامنا۔ یا اللہ ہمارے لیے ملک شام میں برکت عطا فرما۔ (صحیح بخاری)۔

(8)حدیث میں ہے آخری زمانہ میں حضرموت سے آگ نکلے گی جو سب لوگوں کو لپیٹ میں لے لے گی، صحابہ نے عرض کیا، آپ ہمیں کس بات کا حکم فرماتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم شام کو لازم پکڑو۔

(9)میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہما نے نبی کریم ﷺ پوچھا کہ ہمیں بیت المقدس کے بارے میں کچھ بتائیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ محشر ومنشر کی جگہ ہے یعنی قیامت کے دن انسانوں کو یہاں جمع کیا جائے گا، اور یہاں سے اٹھایا جائے گا۔ (مسند احمد)۔ قرآن مجید، سورت ق :41 میں ہے : واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب ، قیامت کے دن قریب کے جگہ سے صور میں پھونکا جائےگا۔ کئی مفسرین اس بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ملک شام ہے۔

مذکورہ بالافضیلتوں کی وجہ سے کئی صحابہ کرام نے بیت المقدس کی زیارت کی ہے۔

تاریخ فلسطین عہد بعہد (قسط 3)

اسداللہ خان پشاوری

فلسطین کی قدیم تاریخ

یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ فلسطین میں سب سے پہلے کون رہتا تھا، اس کی تاریخ معلوم کرنا بہت مشکل ہے، سب سے پہلا حوالہ جو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ 1400 سال قبل مسیح میں یہاں چند قبائل آباد تھے جن کو "نطوفیون" کہا جاتا تھا، لیکن ان کے بارے میں بھی زیادہ تفصیل معلوم نہیں یہ کون تھے۔ 800سال قبل مسیح میں فلسطین کے ایک شہر "اریحا" کے آثار کا حوالہ ملتا ہے، لیکن اس کے بارے میں بھی تفصیل معلوم نہیں کہ یہاں کون آباد ہوئے تھے، اور وہ کہاں سے آئے تھے۔سب سے پہلا مشہور ومعروف حوالہ جو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں جزیرہ عرب کے شمال سے چند عرب قبائل ہجرت کرکے آباد ہوگئے تھے جن کو "کنعانیین" اور "اموریین" کہا جاتا ہے۔ اس تاریخ پر مسلمان مورخین اور مستشرقین سب کا اتفاق ہے۔ اس دور تک فلسطین میں یہودیوں کے آباد ہونے کا کوئی تذکرہ نہیں ، ان کا تذکرہ بہت بعد میں آتا ہے، جس کو ہم ذکر کریں گے ان شاء اللہ تعالی۔جو قبائل یہاں ہجرت کرکے آئے تھے ان کی تعداد زیادہ تھی، ان میں سے کچھ عراق چلے گئے، بعض مصر چلے گئے، "کنعانیین" فلسطین کے ساہلوں پر آباد ہوئے، "یبوسیون" قدس میں آباد ہوئے، ابھی تک بیت المقدس تعمیر نہیں ہوا تھا، پہاڑوں میں آباد ہونے والے فینیقیین اور عموریین تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں یہ تمام تفصیل موجود ہے۔ اسی لیے فلسطین کی سرزمین کو "ارض کنعانیین" بھی کہا جاتا ہے۔ تورات وانجیل میں بھی اس کے اس نام کی تصریح ہے۔جہاں تک فلسطین نام کی وجہ ہے، تو یہ نام چند دیگر قبائل کی وجہ سے پڑ گیا جو گردش ایام کی مجبوریوں کی وجہ سے بحرمتوسط کے جزائر خصوصا "کریت" سے جاکر مصر آباد ہونے جا رہے تھے، یہ رامسس سوم یعنی مصری بادشاہ فرعون سوم (1186 قبل مسیح) کا زمانہ تھا۔ فرعون نے ان کو مصر میں آباد ہونے نہیں دیا، لے دے کر ان کو فلسطین میں موجود ایک جگہ"بلست" میں آباد ہونے کا کہا، یہاں آباد ہونے کے بعد ان کو بلستینی کہا جاتا تھا، جو کچھ دنوں کے بعد فلسطین سے تبدیل ہوگیا۔ زمانہ گزرتے گزرتے یہ لوگ یہاں پر پہلے سے آبا د ہونے والے قبائل کنعانیین اور یبوسیین کے پڑوس میں آگئے، اور پھر یہ آپس میں خوب گھل مل گئے ۔ فلسطین کی یہاں تک کی تاریخ میں یہودیوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔

تاریخ فلسطین عہد بعہد (قسط 4)

اسد اللہ خان پشاوری

یعقوب علیہ السلام فلسطین میں

یہ تاریخ سے ثابت ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے اسحاق علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام فلسطین میں پیدا ہوئے ہیں، لیکن یہ باقاعدہ فلسطین کے باشندے نہیں تھے بلکہ انہوں نے فلسطین کی طرف ہجرت کی تھی۔ یعقوب علیہ السلام جن کا نام اسرائیل تھا، اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے، اور یوسف علیہ السلام یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے، اور یہ تو قرآن مجید میں ہے کہ یوسف علیہ السلام کو غلام بنا کر مصر لے جایا گیا تھا، جو بعد میں مصر کے وزیر خزانہ بنے تھے، انہوں نے اپنے والد یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد کو مصر بلا لیا تھا، چنانچہ سورت یوسف :93 میں ہے: "کہ تم میری یہ قمیص لے جاکر میرے والد کے چہرے پر ڈال دو ، ان کی بینائی لوٹ آئے گی، اور اپنے تمام گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ۔" یعقوب علیہ السلام اپنے سارے اہل وعیال کو لے کر مصر آگئے تھے اور وہیں آباد ہوگئے تھے، اور فلسطین کو مکمل چھوڑ دیا تھا۔ یعقوب علیہ السلام اس کے بعد مصر سے گئے نہیں تھے۔ لہذا یہ کہنا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام فلسطینی تھے یا انہوں نے فلسطین کو اپنا وطن بنایا تھا درست نہیں ہے۔ صرف یعقوب علیہ السلام کا کچھ عرصہ فلسطین میں رہنے سے موجودہ یہودیوں کا یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ یہودیوں کی سرزمین ہے کیسے درست ہوسکتا ہے۔ یعقوب علیہ السلام کے خاندان کا یہاں مستقل وطن بنانا ثابت نہیں ہے۔

موسی علیہ السلام اور فلسطین

یہودیوں نے فلسطین کی طرف دوسری ہجرت حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ میں کی تھی، جب وہ مصر کے بادشاہ فرعون کے ظلم سے تنگ آگئے تھے، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہودی ، فلسطین کے اصل باشندے نہیں تھے، وہ فلسطین وقتی ضرورت کے لیے ہجرت کرتے تھے۔ فلسطین کے اصل باشندے کنعانی تھے۔ یہودیوں کی ان تاریخی باتوں کے لیے ہم نے صرف عربوں کی تاریخی کتابوں کو بنیاد نہیں بنایا، بلکہ اس کے لیے خود یہودیوں کی مقدس کتابوں اور مغربی مصنفین کی کتابوں کو بنیاد بنایا ہے۔ یہ بات ہے کہ فلسطین سیاسی اور انتظامی طور پر مصر کے ساتھ وابستہ تھا جب سے یہاں یعقوب علیہ السلام نے عبادت گاہ آباد کیا تھا، اس زمانہ میں مصر کے بادشاہوں نے اپنی زمینوں میں توسیع کرکے فلسطین کو بھی شامل کر لیا تھا، اس زمانہ میں فلسطین مصر کے تابع ہوا، مگر یہ ثابت نہیں کہ یہودی ، فلسطین کے اصل باشندے تھے، فلسطین کے اصل باشندے کنعانی تھے۔

یہودیوں پر اللہ تعالی نے احسان کیا، فرعون سے ان کو نجات دی ، فرعون اپنے لشکر سمیت ہلاک ہوا۔ یہ قصہ تفصیل کے ساتھ قرآن مجید میں موجود ہے۔ موسی علیہ السلام کا زمانہ 1250 قبل مسیح کا ہے۔ موسی علیہ السلام کے قصہ میں بہت زیادہ معجزات ہیں، موسی علیہ السلام کی والدہ کا اس کو دریا میں ڈالنا، موسی علیہ السلام کا فرعون کے گھر میں تربیت حاصل کرنا۔ پھر جب موسی علیہ السلام جوان ہوئے، تو ان کے ہاتھ سے ایک مصری قتل ہوا، موسی علیہ السلام مدین چلے گئے، جہاں اللہ تعالی نے ان کو رسول بنایا، اور فرعون کے پاس بھیجا، موسی علیہ السلام نے فرعون کو دین کی دعوت دی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کا کہا، فرعون نہیں مانا، فرعون نے ان کو قتل کرنے کی تدبیر بنائی، اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو حکم دیا کہ مصر سے نکلو اور فلسطین جاؤ، موسی علیہ السلام نکلے لیکن پیچھے  فرعون اور اس کا لشکر تھا، اللہ تعالی نے معجزہ دکھایا ، موسی علیہ السلام سمندر ميں خشک راستوں سے نکلے اور فرعون اور اس کا لشکر غرق ہوگیا۔

موسی علیہ السلام سینا میں

اس عظیم احسان کے باوجود جب یہودی حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ "ارض سینا" مصر میں بت پرستوں کے پاس سے گزر رہے تھےتوموسی علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے لیے بھی اس طرح بت بنائے جائيں، اس پر موسی علیہ السلام نے ان سے کہا کہ تم جاہل لوگ ہوں ، اللہ تعالی نے تم پر اس قدر احسانات کیے اس کے باوجود بھی تم شرک کی باتیں کرتے ہو۔ (الاعراف:138)۔ اس کی وجہ یہ تھی یہودی صدیوں سے مصری بادشاہوں کی غلامی میں رہے تھے جس سے ان کی طبیعت میں کفر وغلامی پیدا ہوئی تھی۔

موسی علیہ السلام جبل طور پر

اس کے بعد موسی علیہ السلام اپنی قوم کو وادی سینا میں واقع جبل طور پرچھوڑ کر خود اپنے رب سے مناجات کرنے چلے گئے، چالیس دن تک غائب رہے، اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو ان کا ذمہ دارمقرر کیا تھا، واپس آنے پر معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل نے بچھڑے کی عبادت شروع کی ہے، یہ ایسا گناہ تھا جو آسانی سے معاف نہیں ہوسکتا تھا ، ان کی شریعت کی مطابق اس کی معافی اس طرح ہوسکتی تھی کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں۔(البقرہ:54)۔ لیکن بنی اسرائیل نے اس طرح معافی مانگنے سے انکار کردیا، جس پر اللہ تعالی نے ان کے سروں پر جبل طور کو اٹھا دیا، جس کے بعد وہ حکم ماننے پر آمادہ ہوگئے۔ (الاعراف:171)۔ اس کے بعد موسی علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے ستر لوگوں کو منتخب کرکے جبل طور پر اللہ تعالی سے معافی مانگنے کے لیے لےکر گئے، اللہ تعالی ان سے ہم کلام ہوئے، لیکن انہوں نے موسی علیہ السلام سے کہا کہ ہم اس وقت تك نہیں مانیں گے جب تک اللہ تعالی سامنے نظر نہ آئے۔ جس پر بجلی کی کڑک سے وہ سب مر گئے، پھر موسی علیہ السلام نے دعا کی تو وہ زندہ ہوگئے۔ (البقرہ:55) یہ سب پے در پے معجزات تھے جو ان کو اللہ تعالی نے عطا کیے۔

موسی علیہ السلام فلسطین کے دروازے پر

جب موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل فلسطین کے دروازے پر پہنچے، تو موسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بتایا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ تم بیت المقدس میں داخل ہوجاؤ، اس پر بنی اسرائیل نے کہا کہ فلسطین میں تو بہت طاقتور لوگ ہیں، ہم ان کی موجودگی میں کیسے داخل ہوں گے، اگر وہ نکل جائے تو ہم داخل ہوں گے۔ موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام نے ان کو نصیحت کی کہ تم داخل ہو جاؤ، اللہ تعالی تمہاری مدد کریں گے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ تم جاؤ اور تمہارا رب جائے، ہم تو جنگ نہیں کر سکتے، یہاں بیٹھے رہیں گے۔(المائدہ:24)۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو سزا کے طور پر فرمایا کہ فلسطین کی سرزمین تم پر چالیس سال تک حرام کی گئی ہے، تم خانہ بدوشوں کی طرح سرگرداں پھرتے رہوگے، نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ (المائدہ:26)۔ پھر بنی اسرائیل چالیس سال تک وادی تیہ میں رہے۔

بنی اسرائیل کے بقرہ یعنی گائے کا قصہ

اسی وادی تیہ میں بقرہ یعنی گائے کا مشہور واقعہ بھی پیش آیا، بنی اسرائیل میں ایک شخص قتل ہوا تھا، قاتل کو معلوم کرنے کے لیے ان کو حکم ہوا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کے گوشت کو اس مقتول شخص پر ڈال دو ، جس سے قاتل معلوم ہو جائے گا، مگر وہ گائے کو ذبح کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، اس لیے موسی علیہ السلام سے سوال پر سوال کیے جار ہے تھے۔ بالآخر چار وناچار گائے ذبح کی اور اللہ تعالی نے مقتول کو زندہ کیا، اس نے اپنے قاتل کا نام بتا دیا، یہ تیرہواں معجزہ تھا جو اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو عطا کیا تھا۔ جس پر ان کو اللہ تعالی کی عبادت میں نرم ہونا چاہیے تھا مگر وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت دل ہو گئے تھے ۔ (البقرہ:74)۔

یہ تمام واقعات قرآن مجید میں ہیں، یہاں ان تمام واقعات کا ذکر کرنا مقصود نہیں، صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ جھوٹ ،خیانت اور دھوکہ سے بھری ہوئی ہے، لہذا ان سے یہ بعید نہیں کہ وہ ایک نیا جھوٹ گھڑ لیں کہ فلسطین ان کا حق ہے۔

موسی علیہ السلام کا انتقال اور ان کی خواہش

بنی اسرائیل کی اس سخت دلی کے نتیجے میں وہ چالیس سال تک فلسطین سے دور وادی تیہ میں سرگرداں زندگی گزار رہے تھے، اس دوران موسی علیہ السلام کی موت کا وقت قریب آیا، تو ملک الموت حاضر ہوا، موسی علیہ السلام سے پوچھا کہ زندگی چاہتے ہو یا موت؟ موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے ارض مقدس فلسطین کے قریب موت نصیب فرما، چنانچہ ملک الموت نے ایسی جگہ ان کی روح قبض کی کہ ان کے اور بیت المقدس کے درمیان صرف ایک سرخ ٹیلہ کا فاصلہ تھا، چنانچہ اس بارے میں نبی کریم ﷺ کی حدیث بھی ہے کہ مجھے ان کی قبر معلوم ہے، اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں ان کی قبر دکھا دیتا جو راستہ کی طرف سرخ ٹیلہ کے پاس ہے۔(صحیح بخاری)۔لیکن بنی اسرائیل کو اس کے باوجود بھی بیت المقدس کی طرف رہنمائی نہیں ہو رہی تھی اور وادی تیہ میں اپنی حالت پر زندگی گزار رہے تھے، پھر جب یوشع بن نون علیہ السلام کا زمانہ آیا، جس کا ذکر خضر علیہ السلام کے قصہ میں آتا ہے تو انہوں نے بنی اسرائیل کو وادی تیہ سے نکالا اور اردن لے گئے۔ اس پورے قصہ سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کی بنی اسرائیل کے ساتھ پوری زندگی کتنی تھکا دینے والی تھی۔

تاریخ فلسطین عہد بعہد (قسط 5)

اسد اللہ خان پشاوری

یوشع بن نون علیہ السلام اور فلسطین

1186قبل مسیح میں بنی اسرائیل ، یوشع بن نون علیہ السلام کی سرکردگی میں مقدس سرزمین فلسطین میں داخل ہوئے، لیکن صحیح روایات کے مطابق بیت المقدس نہیں گئے۔بعض مورخین کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ انہوں نے بیت المقدس کو فتح کیا ہے، صحیح یہ ہے فلسطین میں موجود شہر "اریحا" گئے، وہاں ان کا کنعانی طاقتور لوگوں کے ساتھ جنگ ہوئی تھی ، جن کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی ہے۔ بنی اسرائیل نے اریحا کو فتح کیا اور اس میں آباد ہوئے، تاریخ وحدیث کی کتابوں میں اس معرکہ کا ذکر ہے، قرآن نے سورت بقرہ آیت:58 میں اس کا ذکر کیا ہے، کہ ہم نے انہیں کہا کہ اس شہر میں داخل ہوجاؤ، پھر اس میں جہاں چاہو بغیر روک وٹوک کے کھاؤ اور پیو۔یہ جنگ جمعہ کو ہوئی تھی، جمعہ کا سورج غروب ہو رہا تھا، اور ہفتہ کا دن شروع ہو رہا تھا، بنی اسرائیل پریشان ہوئے کیونکہ اللہ تعالی نے ہفتہ کے دن یہودیوں پر جنگ کو حرام قرار دیا تھا، لہذا یوشع بن نون علیہ السلام نے دعا کی کہ سورج ٹھہر جائے، چنانچہ سورج رک گیا اور جنگ اختتام کو پہنچی۔ یوشع بن نون علیہ السلام کے لیے سورج کا رکنا صحیح احادیث سے ثابت ہے، بقول حافظ ابن حجرؒ مسند احمد میں نبی کریم ﷺ کی صحیح حدیث ہے کہ سورج کسی انسان کے لیے نہیں رکا سوائے یوشع بن نون علیہ السلام کے جب وہ بیت المقدس کی طرف جار ہے تھے۔ یہ بنی اسرائیل کو اللہ تعالی نے ایک اور معجزہ دیا۔

اریحا فتح کرنے کے بعد اللہ تعالی نے ان کو حکم دیا کہ یہاں داخل ہو جاؤ اور جہاں سے چاہو کھاؤ پیو البتہ داخل ہوتے ہوئے سجدہ کرو اور یہ دعا کرو "حطۃ" اے اللہ ہمارے گناہ معاف کر۔ لیکن انہوں نے اللہ تعالی کے اوامر سے سرکشی کی اور یوشع بن نون علیہ السلام کا مذاق اڑایا کہ یہ ہم نے اپنی طاقت سے فتح کیا ہے، جب وہ داخل ہو رہے تھے تو جھکے اور اپنے پیچھے کا حصہ سامنے کرکے شہر میں داخل ہوئے، اور حطۃ کی بجائے حنطۃ کہا جس کا مطلب ہے ہمیں کھانا دو۔ جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان پر عذاب نازل کیا۔ (البقرہ:59)۔اس کے بعد یہود فلسطین میں رہ رہے تھے، فلسطین کا دار الخلافہ اریحا تھا، جب یوشع بن نون علیہ السلام کا انتقال ہوا تو یہ بکھر گئے، ان میں کئی جنگیں بھی ہوئیں، اس دوران میں ان میں بہت زیادہ انبیاء بھیجے گئے، ہر نبی کے بعد نبی آتا تھا، اکثر انبیاء بنی اسرائیل میں آئے ہیں، کبھی ایک وقت میں تین انبیاء بھی آئے ہیں، جیسا کہ سورت یس آیت:13۔14میں ہے۔ بنی اسرائیل انبیاء کی نافرمانی کرتے رہے، بلکہ بعد میں ان کو قتل کرنا بھی شروع کیا۔(سورت نساء:155)۔ جب وہ اپنی خاندان سے تعلق رکھنے والے انبیاء کو قتل کرتے تھے تو اس کا مطلب ان کی نگاہ میں کسی انسان کا احترام نہیں رہا۔ لہذا اللہ تعالی نے بھی ان کی قسمت میں ذلت اور خواری لکھ دی۔ (البقرہ:61)۔

بنی اسرائیل پر کنعانیوں کا تسلط

جب بنی اسرائیل نے بکثرت اللہ تعالی کی نافرمانی کی تو ان پر کنعانیوں کا تسلط ہو گیا، جنہوں نے ان کو طرح طرح سے عذاب دئے، انہوں نے بنی اسرائیل سے ان کا مال اور ان کے مقدس چیزوں کو بھی چھینا، ان مقدسات میں وہ تابوت بھی تھا جو سب سے زیادہ مقدس تھا، یہ تابوت کی شکل میں ایک صندوق تھا جس میں بنی اسرائیل وہ تختیاں رکھتے تھے جس پر تورات لکھا ہوا تھا، جو اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کے لیے لکھوائی تھیں۔ اور بنی اسرائیل کو اس کا حکم دیا تھا کہ ان تختیوں کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنا ہے، اور اچھے طریقہ سے اس پر عمل کرنا ہے۔ (الاعراف:145)۔ اس تابوت میں موسی علیہ السلام کا عصا، اور ان کے اور ہارون علیہ السلام کے کپڑے بھی تھے۔ (البقرہ:248)۔ لیکن افسوس کہ بنی اسرائیل نے بعد میں تورات کی ان تختیوں میں تحریف کی، کہا جاتا ہے کہ پھر ان اصل دس تختیوں میں سے صرف دو تختیاں باقی رہ گئی تھیں۔

کنعانی بادشاہ جالوت کا دور

بنی اسرائیل کی زندگی یونہی گزر رہی تھی، یہاں تک کہ کنعانی بادشاہ جالوت کا زمانہ آگیا جو بیت المقدس پر حکومت کر رہا تھا، اس زمانہ میں یہودی بہت زیادہ بری حالت میں تھے، ان کی طاقت وجمعیت ختم ہوگئی تھی، بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے درخواست کی کہ کچھ کرو تاکہ ہماری عزت بحال ہو اور جس ذلت میں ہم ہیں اس سے نکل جائیں، ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کرو تاکہ ہم سب مل کر اس کی سرکردگی میں کامیابی حاصل کریں۔ وقت کے نبی نے کہا کہ تمہارا ماضی بہت تاریک ہے، مجھے یقین نہیں کہ اگر میں تمہارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کروں تو تم اس کی بات نہیں مانوگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کی بات کیسے نہیں مانیں گے جو پھر سے ہماری عزت وطاقت کا سبب بنے گا۔ چنانچہ نبی نے کہا کہ اللہ تعالی نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ مقرر کرلیا، یہ سننا تھا کہ ان میں سے کوئی ایک بھی اس کے لیے تیار نہیں ہوا، کیونکہ طالوت علیہ السلام ان یہودیوں میں سے نہیں تھا جن کے آباد واجداد میں بادشاہ گزرے ہوں، بنی اسرائیل نے کہا ان کو ہم پر فوقیت حاصل نہیں، ان کے پاس مال بھی نہیں۔ نبی نے کہا کہ یہ تقرر اللہ تعالی کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالی نے طالوت کو علم وطاقت سے نوازا ہے۔ (البقرہ:247)۔

اس کے بعد نبی نے ان سے کہا کہ اللہ تعالی نے طالوت کے بادشاہ بننے کی ایک نشانی بھی رکھی ہے وہ یہ ہے کہ جو تابوت تم سے دشمنوں نے چھین لیا ہے وہ فرشتے اٹھا کر تمہارے پاس لائیں گے، جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ ہوا میں اڑتا ہوا تابوت فرشتے لے کر ان کے پاس لا رہے ہیں، اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے گمشدہ تابوت کو دیکھا، تو وہ طالوت کو بادشاہ مقرر کرنے پر راضی ہوگئے۔ (البقرہ: 248) ۔ بنی اسرائیل کے آثارقدیمہ میں ایسے نقوش ملتے ہیں جس میں وہ فرشتوں کو ایک تابوت اٹھاتے ہوئے دکھاتے ہیں، یہ واقعہ اگرچہ ثابت ہے لیکن فرشتوں کی تصاویر خیالی ہیں۔لیکن کیا بنی اسرائیل نے اتنے بڑے معجزے کے بعد بھی طالوت کی فرمان برداری کی ، اس کو ہم آگے ذکر کرتے ہیں۔

بنی اسرائیل کی طالوت علیہ السلام کی نافرمانی

اس کے بعد بھی تمام بنی اسرائیل طالوت علیہ السلام کے ساتھ جہاد کے لیے نہیں گئے، ایک چھوٹی جماعت ان کے ساتھ نکلی، راستہ میں ایک نہر آئی، طالوت نے انہیں بتایا کہ اس نہر سے پانی نہیں پینا، بادشاہ ان کے صبر وتحمل کا امتحان لے رہے تھے کہ یہ جہاد کی طاقت رکھتے ہیں یا نہیں، نہر سے اکثر نے پانی پیا سوائے چند لوگوں کے۔(البقرہ:249)۔ یہ چھوٹی سی جماعت ایک طاقتور عظیم جسم والوں سے لڑنے کے لیے آگے بڑھی، تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ ہم میں اس عظیم لشکر کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں، لیکن اللہ تعالی پر یقین کرنے والے مومنین نے کہا کہ کتنی مرتبہ ایک چھوٹی جماعت ایک بڑی جماعت پر غالب آئی ہے اللہ کے حکم سے، اور اللہ تعالی صبر واستقامت والوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالی سے دعا مانگی یا اللہ ! ہمیں صبر عطا فرمااور ہمیں ثابت قدم بنا اور کافروں پر ہمیں فتح عطا فرما۔ (البقرہ:249۔250)۔

داؤد علیہ السلام اور بنی اسرائیل

مورخین کہتے ہیں کہ طالوت کے ساتھ اس معرکہ میں بہت کم بنی اسرائیل ثابت قدم رہے، بعض کہتے ہیں کہ ستر لوگ تھے، جالوت جب مقابلہ کے لیے نکلا تو خوف کے مارے کوئی بھی اس کے مقابلہ میں نہیں نکلا، ایک نوجوان سولہ سال عمر والا تیار ہوا، جس کا نام داؤد تھا ، جو بعد میں عظیم نبی بنا۔ طالوت نے اس کو واپس کردیا، وہ اس کو چھوٹا اور کمزور سمجھ رہا تھا، طالوت نے بنی اسرائیل کو مقابلہ میں نکلنے پر ابھارنے کے لیے کہا کہ جو جالوت کے مقابلہ کے لیے نکلے گا، میں اپنی بیٹی سے اس کا نکاح کراؤں گا، اور وہ میرے بعد بادشاہ بنے گا، اس اعلان کے باوجود بھی کوئی نہیں نکلا، جب کوئی اور نہیں نکلا تواس نے داؤد علیہ السلام کو اجازت دی۔داؤد علیہ السلام نکلے ، ان کے ہاتھ میں ایک غلیل تھی جس میں پتھر موجودتھا، انہوں نے جالوت کو اس سے پتھر مارا، جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور فورا ًمرگیا، اس طرح جالوت کے لشکر کو شکست ہوئی۔