ذرادیکھنا یہ کس کی تصویریں ہیں

مصنف : امیر عثمانی

سلسلہ : فکر و نظر

شمارہ : اگست 2018

فکرو نظر
ذرادیکھنا یہ کس کی تصویریں ہیں
امیر عثمانی

                                                                                                                                 ٹرین کسی بدمست شرابی کی طرح لڑکھڑاتی ہوئی چل رہی تھی۔ ہمارا ڈبہ ویسے تو خیر سے سیکنڈ کلاس تھا، لیکن فی الحقیقت وہ مرحوم انٹر کلاس کا ایک نہایت سن رسیدہ ڈبہ تھا جسے ریلوے والوں نے شاید ہنگامی حالات کے تحت محکمہ آثار قدیمہ سے واپس منگا لیا تھا۔ اس کی گدیاں ادھڑی ہوئی تھیں۔ فرش میں گڑھے تھے۔ چول چول ڈھیلی پڑی تھی۔ اس کی پیشانی پر اگر ریلوے والے سیکنڈ کی علامت نہ ڈال دیتے تو غالباً تھرڈ کلاس والے بھی اسے چوتھا درجہ سمجھ کر آگے بڑھ جاتے۔ فدوی کا خیال ہے کہ ایسا ایک آدھ ڈبہ ہر گاڑی میں ضرور جڑا ہوا ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ ہمارے قومی کردار، ہماری سیاست، ہماری جمہوریت اور ہمارے سماجی معیار کی بڑی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔
ڈبے میں اس وقت ہم چار نفر تھے۔ دو ہم دو وہ۔ ہم سے مراد تو آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ یعنی ملا اور ملائن۔ مگر ’’وہ‘‘ کی مراد سمجھنے میں ذرا دیر لگے گی۔ میرے لیے وہ اجنبی ہی تھے ایک مرد اور ایک لڑکی۔مرد کی عمر چالیس سے کم نہ رہی ہو گی اور لڑکی شاید بیس بائیس کی ہو۔ مرد کے مانگ بنے ہوئے بالوں میں سفیدی کا تناسب تقریباً چالیس فیصدی تھا، لیکن لڑکی کے بال بے حد سیاہ اور لمبے تھے۔ لمبائی کا اندازہ ان دو چوٹیوں سے ہو رہا تھا جو اس کے دونوں برہنہ بازوؤں پر جھول رہی تھیں۔ ہو سکتا ہے ان میں کچھ مصنوعی بال بھی شامل ہوں۔ لیکن آج کے زمانے میں اصلی اور مصنوعی چکر میں پڑنے والے احمق کہلاتے ہیں۔ میری بلاسے وہ اصلی ہوں یا مصنوعی ہر صورت میں وہ عریاں بازوؤں کے گورے پن کو نمایاں کرنے کے لیے بہت کافی تھے جیسا کہ حق ہے کافی ہونے کا۔
ایک گھنٹہ پیشتر مرد اس ڈبے میں اکیلا داخل ہوا تھا۔ وہ سوٹ کیس ہاتھ میں سنبھالے اس وقت داخل ہوا تھا جب گاڑی حرکت میں آ چکی تھی۔ ڈبے میں اس وقت صرف ہم ہی ہم تھے۔ ملائن نے چہرے سے نقاب الٹ رکھا تھا۔ سامنا ہوا اور بھرپور ہوا۔ گو اس کی مدت پل بھر سے زائد نہ رہی ہو۔ پھر نصف گھنٹے تک اس ڈبے میں اور کوئی نہیں آیا۔ اس مدت میں وہ سگریٹ پی پی کر اخبار پڑھتا رہا مگر رہ رہ کر اس کی چور نظریں ملائن کا بھی جائزہ لیتی رہیں۔ برقعہ دل کش ہو تو دعوت نظارہ کا کام دیتا ہے۔ ملائن کا برقعہ سیاہ لیی منٹن کا تھا جس کی وضع بڑی پرکشش تھی۔ ایسے برقعے میں اگر چڑیل بھی ہو تو دیکھنے والے تصورات کے شیش محل بنائے بغیر نہیں رہ سکتے مگرملائن تو چشم بد دور چندے آفتاب چندے ماہتاب تھی۔ گو کہ ملائن اب رخ بدل کر سکڑی سمٹی بیٹھی تھی۔ مرد کی طرف اس کی پشت تھی، لیکن وہ اللہ کا بندہ امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔میں اندر ہی اندر اونٹتا رہا۔ نصف گھنٹے کے بعد ایک اسٹیشن سے چوتھا مسافر داخل ہوا اور یہ وہی لڑکی تھی جس کا میں تذکرہ ابھی کر چکا ہوں۔ وہ اکیلی ہی سوار ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک خوب صورت پرس کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس نے طائرانہ نظریں ڈالیں اور پھر ٹھٹک گئی مرد بھی ٹھٹکا۔ وہ ایک دوسرے کو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے۔ دفعتاً مرد پہچان لینے والے انداز میں بولا:’’ارے نرگس تم!‘‘اور لڑکی چہکی تھی ’’اوہ ماسٹر صاحب آپ!‘‘پھر وہ خاصی گرم جوشی سے ملے تھے گرم جوشی کے سوا اسے کیا کہیں گے کہ لڑکی مرد کے بالکل قریب ہی بیٹھ گئی تھی اور مرد نے اس کے دونوں شانوں پر اپنے ہاتھ ٹیک کر بڑی مسرور آواز میں کہا تھا:
’’بیوٹی فل بے بی بیوٹی فل اب تم بہت بڑی ہو گئیں۔‘‘اس کے بعد ان میں غیر مختتم گفتگو شروع ہو گئی تھی۔ معلوم ہوا کہ کئی سال پہلے جب لڑکی اسکول میں پڑھتی تھی تو یہ صاحب اس کے استاد تھے۔ اب لڑکی کالج میں پڑھ رہی ہے۔گاڑی کے شور میں ان کی گفتگو سننا ذرا دشوار تھا۔ بعض باتیں وہ قصداً بھی دبی دبی زبان میں کر رہے تھے لیکن میں بلا ارادہ ہمہ تن گوش بنا ہوا تھا۔ بظاہر میرے چہرے کے سامنے کتاب کھلی ہوئی تھی، لیکن کان اسی طرف لگے تھے اور نظریں بھی تھوڑے تھوڑے وقفے سے ادھر ہی پھسل جاتی تھی۔شاعروں کی منطق سے تو لڑکی کو حسین کہنا مشکل ہے۔ اس کی ناک موٹی تھی اور آنکھیں چھوٹی۔ کمر بھی اتنی پتلی نہیں تھی کہ خوردبیں کے بغیر نظر نہ آ سکتی، لیکن ثقافتی نقطہ نظر سے وہ سو فیصدی حسین تھی۔ ٹیڈی قسم کا چست لباس، شان دار میک اپ اور زہد شکن ادائیں۔ ان چیزوں کی موجودگی میں کون کافر اس کے حسین ہونے سے انکار کر سکتا تھا۔ وہ حسین نہ ہوتی تو مجھے کتاب بینی کا سوانگ بھی نہ رچانا پڑتا۔ کتاب ہاتھ میں لینے کا منشا ہی ملائن کو اطمینان دلانا تھا کہ بھاگوان! بدگمان مت ہونا۔ تمھارا سعادت مند شوہر ایسی کسی لڑکی میں دل چسپی نہیں لے سکتا جس کے ننگے بازو تمھارے برقعے پر طنز کرنے کی جسارت کر رہے ہوں۔ہمارے اور ان کے درمیان صرف ایک خالی سیٹ حائل تھی۔ اس سیٹ کے گدے دار پشتے کے درمیان تقریباً نصف بالشت خلا موجود تھا۔ میں اس خلا کوکتا ب کی آڑ سے کھڑکی کے طورپر استعمال کر رہا تھا کئی بار مجھے اسی خلا سے یہ دیکھنے کی سعادت نصیب ہوئی کہ محترم استاد کی انگلیاں نیک بخت شاگردہ کی بلوریں انگلیوں اور کلائیوں پر مچل رہی ہیں۔ وہ فلم، کلچر، ثقافت اور تہذیبی ارتقا کے موضوعات پر شارٹ ہینڈ میں گفتگو کر رہے تھے۔ لڑکی نے فر فر کئی مشہور اداکاروں کے نام لیے پھر کہنے لگی:’’ممی دلیپ کمارکی بہت مدّاح ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دلیپ کے بالوں کا اسٹائل جنگ بازقوموں کے لیے پر امن معصومیت کا بڑا موثر پیغام ہے!‘‘میں نے دھڑدھڑی لی۔ لڑکی کی ممی کا دعویٰ میرے لیے فلسفے کی کڑوی گولی سے کم نہ تھا۔ مگر لڑکی نے سوچنے کا موقع نہیں دیا۔
’’اور ڈیڈی کو وجینتی مالا بہت پسند ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وجینتی کا ہر رقص سماج کی کسی نہ کسی دکھتی رگ پر انگلی رکھتا ہے اور اس کے پیروں کی ہر جنبش ہمارے جہالت زدہ سماج کے ان پھوڑوں کی نشان دہی کرتی ہے جو زندگی کی جدید قدروں کو اپنائے بغیر کبھی اچھے نہیں ہو سکتے۔‘‘’’ویری نائس۔ تمھارے ڈیڈی نے بڑی گہری بات کہی ہے۔‘‘ ماسٹر صاحب لڑکی کی انگلیوں پر دباؤ دیتے ہوئے بولے: ’’سچا آرٹ ہمیشہ صحت مند رجحانات کی نمائندگی کرتا ہے، وجینتی کا رقص، لتا کا ترنم، دلیپ کی ایکٹنگ یہ سب نئی زندگی کی شائستہ اور روشن قدروں کے ترجمان ہیں۔ ان سے ہم سماج کو سنوار سکتے ہیں۔ جہالت اور رجعت پسندی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔‘‘اس کے بعد انگریزی فلموں کی باتیں شروع ہو گئیں۔ لڑکی ان کے بارے میں بھی کافی معلومات رکھتی تھی۔ مگر ماسٹر صاحب نے ایک ایسی فلم کا ذکر چھیڑا جس کے بارے میں لڑکی کو کہنا پڑا:’’نہیں یہ فلم میں نے نہیں دیکھی۔‘‘
’’بڑی شاندار فلم ہے۔ اٹلی کے مشہور ڈانسر ایزوبیلا نے اس میں اپنے آرٹ کا بڑا ونڈرفل مظاہرہ کیاہے۔‘‘’’ایزوبیلا!‘‘ لڑکی نے پْرشوق آواز میں دہرایا ’’اس ڈانسر کا چرچا میں نے بہت سنا ہے مگر آج تک دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔‘‘’’بیڈلک۔ ارے ایزوبیلا کو نہیں دیکھا تو پھر تم نے دنیا میں کیا دیکھا۔ اس فلم میں اس کا وہ لاجواب ڈانس بھی ہے جس کے لیے وہ دنیا میں مشہور ہے۔‘‘’’کس قسم کا ڈانس؟‘‘
ٹمباٹوک۔ اکدم آرٹ فل۔ وہ تہ بر تہ کئی ملبوسات زیب تن کر کے ڈانس شروع کرتی ہے۔ پھر ہر گردش پر یہ ملبوسات ایک خاص تکنیک کے ساتھ ایک ایک کرکے جسم سے جدا ہوتے جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ لباس کے نام کی ایک دھجی بھی اس کے بدن پر باقی نہیں رہتی اورکمال یہ ہے کہ لباس کو تن سے جدا کرنے کے اس تدریجی عمل میں وہ اپنے ہاتھ بالکل استعمال نہیں کرتی۔‘‘’’آپ کا مطلب شاید یہ ہے کہ بہت ضروری ہی لباس اس کے بدن پر باقی رہ جاتا ہو گا؟‘‘ لڑکی بولی۔’’نو بے بی ضروری کا لفظ اس موقع پر بے محل ہے، ضرورت تو ایک اضافی شے ہے۔ ہم جاڑے میں کوٹ اور چسٹر پہنتے ہیں لیکن گرمیوں میں بش شرٹ ہی ضرورت کا مفہوم پورا کر دیتی ہے، اسی طرح آرٹ اور فن کے دائرے میں ضرورت کا معیار ہماری عام زندگی سے مختلف ہے۔ کیاتم نے ایلورااور اجنٹا وغیرہ کی نقاشی اور آرٹ کا حال نہیں پڑھا۔ وہاں سچائیاں بالکل بے نقاب ہیں۔ آرٹ زندگی کے سادہ اور فطری رخ کا ترجمان ہوتا ہے، اسے مصنوعی لباسوں اورپردوں میں مقید کرنا وحشیانہ تنگ دلی ہے۔ تم دیکھو گی ایزوبیلا لباس کی مصنوعی قید سے نکل کر ایک مقدس اور نورانی اپسراگی شکل اختیارکر لیتی ہے۔ اس کے ایک ایک موئے بدن سے کرنیں سی پھوٹتی ہیں اور تماشائی کچھ دیر کے لیے رنگین قوس قزح کی ان حسین فضاؤں میں اڑ جاتے ہیں جہاں فطرت اپنے بالکل حقیقی اور سادہ رنگ میں جلوہ گر ہے۔‘‘لڑکی خاموشی سے ماسٹر صاحب کامنہ تکتی رہی۔ اس نے اس نوع کے لطیف نکتے کالج میں بھی ضرور سنے ہوں گے شاید اسی لیے وہ ان پر مبہوت نہیں ہو سکی۔
’’تم یہ سن کر خوش ہو گی کہ یہ فلم اگلے سنڈے کو تمھارے ہی شہر میں دیکھی جا سکتی ہے۔‘‘
’’کس ہال میں؟‘‘ لڑکی نے بے ساختہ پوچھا۔’’ہال میں نہیں۔ ہمارے ملک کے جاہل و پسماندہ عوام ابھی ضبط نفس اور خودی کے میدان میں اتنے آگے نہیں بڑھ سکے کہ اس طرح کی فلمیں عام سینماؤں میں دکھائی جا سکیں۔ اس کی نمائش رین بو نائٹ کلب کے اسٹیڈیم میں مخصوص اجاز ت کے تحت مخصوص لوگوں کے لیے ہو گی۔‘‘’’پھر؟ ہماری پہنچ وہاں کیسے ہو گی‘‘’’اس کی فکر مت کرو۔ رین بو والوں سے میرے ذاتی تعلقات ہیں۔ سنڈے کو میں تمھارے یہاں پہنچ رہا ہوں، امید ہے کہ تمھاری ممی اور ڈیڈی مجھے بھولے نہ ہوں گے۔‘‘
’’مگر وہ اس طرح کی فلمیں دیکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘‘’’تم بہت بھولی ہو۔‘‘ ماسٹر صاحب نے لڑکی کے رخسار پر بڑے پیار سے انگلیوں کی چپت مارتے ہوئے کہا ’’ہم ان سے یہ کب کہیں گے کہ ہم کون سی پکچر دیکھنے جا رہے ہیں۔ ویسے یہ مت سمجھو کہ تمھارے ڈیڈی آرٹ کے بارے میں تاریک خیال ہیں۔ اسی کلب میں انھوں نے بڑے شوق سے ہالی وڈ کی وہ مشہور فلم دیکھی تھی جس میں دو جاسوس لڑکیوں کو ننگا کر کے کوڑے مارتے ہیں۔‘‘
’’نہیں!‘‘ لڑکی چونکی ’’ڈیڈی اتنے نرم دل ہیں کہ ایسا منظر فلم میں بھی دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتے۔‘‘’’ٹھیک ہے مگر جب کوڑے مارنے کا آغاز ہوا تھا تو انھوں نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ دونوں جاسوس لڑکیاں ننگی کر کے ستونوں سے باندھ دی جاتی ہیں پھر کئی منٹ تک اسی سیٹ پر کچھ ڈائیلاگ چلتے ہیں۔ اس کے بعد سزاکی ابتدا ہوتی ہے۔‘‘
گاڑی ایک اسٹیشن پررک گئی ان کی باتوں کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا، کوئی نیا مسافر ڈبے میں داخل نہیں ہوا۔ پھر گاڑی چلی تو ماسٹر صاحب دفعتاً مجھ سے مخاطب ہوئے: ’’مولانا آپ کے پاس ماچس ہو گی؟‘‘میں چونکا یا یوں کہیے کہ چونکنے کی ایکٹنگ کی۔
’’جی۔ جی ہاں ہو گی مگر آپ کیا جادوگر ہیں؟‘‘ میں آنکھیں پھیلا کر حیرت کا مجسمہ بن گیا۔‘‘’’جادوگر‘‘ انھوں نے سوالیہ نظروں سے مجھے گھورا۔’’اور نہیں تو کیا۔ آپ کو بھلا کیسے معلوم ہوا کہ میں مولانا ہوں؟‘‘میرے اس سائنٹفک استدلا ل پر پل بھر کے لیے وہ متحیر ہوئے مگر میرے چہرے سے اس وقت شاید حماقتوں کا فوارہ ابل رہا تھا۔ ان کا تحیر اگلے ہی لمحے تمسخر آمیز دل چسپی میں بدل گیا اور لڑکی کے چہرے پر بھی استہزائی تبسم کھیلنے لگا۔ ’’اوہ۔۔۔ دراصل مجھے قیافہ شناسی میں مہارت ہے۔ آپ کی داڑھی سو فیصدی کسی مولانا ہی کی داڑھی ہو سکتی ہے۔‘‘’’۔۔۔ اررر۔ ‘‘ میں نے بوکھلاہٹ کے انداز میں اس طرح داڑھی کو مٹھی میں پکڑا جیسے اس کی موجودگی پر شرمندہ ہوں، اب میری حماقت میں چار چاند لگ گئے تھے۔’’تعجب ہے مولانا ‘‘ انھوں نے میرے ہاتھ سے ماچس لیتے ہوئے کہا ’’آپ آج بھی داڑھی اور برقعے میں یقین رکھتے ہیں۔‘‘’’جی نہیں۔میں یقین وقین کچھ نہیں رکھتا۔ میرا بس چلے تو ساری داڑھیوں اور برقعوں کو چلم میں رکھ کر پی جاؤں۔ مجھے ایسی لڑکیاں بہت اچھی لگتی ہیں۔ ’’میرا شرمیلا سا اشارہ نرگس کی طرف تھا‘‘ مگر یہ ظالم زمانہ، یہ سماج۔ یہ۔۔ یہ قدم قدم پر دیواریں کھڑی کرتا ہے۔‘‘’’یہ آپ کے ساتھ کون ہیں‘‘انھوں نے درمیانی نشست کے پشتے پر جھکتے ہوئے پوچھا۔ ان کی نظریں ملائن کے برقعے پر پھسل رہی تھیں۔’’میری شامت میری پرلے سرے کی دقیانوسی بیوی۔‘‘انھوں نے ذرا سا مڑ کر نرگس کی طرف دیکھا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ اشارے ہوئے پھر وہ بڑی لجاجت سے بولے:’’آپ دلچسپ آدمی ہیں۔ اگر اجازت ہو توہم ادھر آ جائیں؟‘‘ان کا مطلب درمیان کی خالی سیٹ سے تھا۔’’جی ہاں شوق سے ‘‘اس وقت ملائن نے ایسی خوں خوار نظروں سے مجھے گھورا تھا، جن کی قہرمانی نقاب کی جالی پھاڑے دے رہی تھی۔ گھٹنے کا ایک ٹھوکا بھی میری کوکھ میں لگا تھا، لیکن اتنے میں وہ دونوں پاس کی سیٹ پر آ چکے تھے۔ ملائن اور بھی کونے میں سمٹ گئی، اس کا بس چلتا تو اس وقت مجھے کچا ہی چبا جاتی۔ کم سے کم زبان کے تیر تو ضرور چلاتی۔ لیکن خدا بھلا کرے مولانا اشرف علی کا ،ان کی کسی کتاب میں اس نے پڑھ لیا ہے کہ عورت کی آواز بھی عورت ہی ہے پس غالباً اسی لیے ایک اجنبی مرد کی موجودگی میں زبان نہیں کھول سکتی تھی۔’’بات یہ ہے مولانا کہ فرسودہ اور تنگ نظر سماج کے خلاف مردانہ وار بغاوت کیے بغیر ہم اونچے نہیں اٹھ سکتے۔ ہم دونوں آپ ہی کی طرح مسلمان ہیں۔ ہمیں اسلام کی صداقت پر اٹل یقین ہے۔ لیکن اسلام کو بات بات میں گھسیٹ کر لانا مذہب کی توہین ہے۔ مذہب مسجد اور مندر کے دائرے کی چیز ہے۔ اسے وہیں رہنا چاہیے۔ زمانہ ہم سے ہمہ گیر انسانی قدروں کا مطالبہ کر رہا ہے۔‘‘ ماسٹر صاحب کا لہجہ بڑا وزن دار تھا۔’’بالکل بالکل۔۔‘‘ میں نے زور دار تائید کی ’’قدریں اور تہذیب اور قیامت۔۔ نہ وہ ثقافت وغیرہ کے الفاظ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں مگر میری مشکل یہ ہے ماسٹر صاحب کہ بازار میں کوئی ایسی کتاب نہیں ملتی جس میں نئی تہذیب کے بنیادی اصول و قواعددرج کر دیے گئے ہوں۔ میں انھیں سیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘وہ مسکرائے ’’ارے یہ کون سی مشکل ہے سب سے پہلا اور اہم اصول تو یہی ہے کہ دقیانوسی اخلاقی تصورات کو ذہن سے جھٹک دیجیے۔ یہ عورت غریب کو جانوروں کی طرح باندھ کررکھنا، یہ پردہ، یہ داڑھی ان سب چیزوں کے بارے میں مہذب ممالک کا عمل آپ کے سامنے ہے۔ عورت اور مرد کو شاید قرآن میں بھی ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ پھر یہ کہاں کی شرافت ہو گی کہ ان دونوں کے خلا ملا پر پابندیاں لگائی جائیں۔‘‘’’ٹھیک ہے جناب میں خود بھی بارہا اسی طرح سوچتا ہوں مگر ماسٹر صاحب ہمارا دقیانوسی سماج تو قدم قدم پر روڑے اٹکاتا ہے۔‘‘’’سماج کے ٹھوکر مار دیجئے۔‘‘
’’ماری تھی ماسٹر صاحب۔ مگر اپنا ہی انگوٹھا ٹوٹ گیا۔ ظالم سماج کا کچھ نہیں بگڑا۔‘‘
نرگس کھلکھلا کر ہنسی۔ ماسٹر بھی مسکرائے۔
’’آپ کا مطلب؟‘‘ انھوں نے سوال کیا۔
’’اب کیابتاؤں ماسٹر صاحب۔ میری ایک خالہ زاد بھتیجی ہے، وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔ ایک مرتبہ ہم دونوں سینما چلے گئے تھے، وہاں ہمیں ایک گانا بہت پسند آیا جو ہیرو ہیروئن نے گایا تھا۔ ایک دن اس کے سب گھروالے کہیں گئے ہوئے تھے تو ہم دونوں نے اسی گانے کی نقل شروع کر دی۔ اتنے میں اس کا بڑا بھائی آ گیا اسے بڑا غصہ آیا۔ میں نے کہا بھائی غصہ مت کرو ہم تو فقط نقل کر رہے ہیں۔ اس پر اس نے ایک بڑی خراب بات کہی۔ پھر وہ طیش میں آ کر اپنی بہن کی طرف بڑھا۔ میں نے اس موقع پر فلم ’’پھول رہی سرسوں‘‘ کاایک مکالمہ دہرا دیا ’’ظالم! تو ہمیں مار بھی ڈالے تو ہماری محبت مرنے والی نہیں۔ ہمارے خون کے ایک ایک قطرے سے ہمیشہ یہی آواز آتی رہے گی کہ محبت امر ہے محبت امر ہے۔‘‘
اس مکالمہ کو سن کر وہ آگ بگولہ ہو گیا اور پھر مجھے نہیں معلوم کتنے چانٹے اور مکے اس نے میرے رسید کیے ۔ بہت پٹ جانے کے بعد میں نے بے خیالی میں اس کے ایک گھونسہ رسید کر دیا۔ اس کے نتیجے میں اس کے سارے دانت باہر آ گئے اور پھر عدالت سے مجھے ایک مہینے کی سزا ہوئی۔‘‘وہ دونوں ہنسے۔’’وہ آپ کی خالہ زاد بھتیجی کا بھائی یقیناًجاہل اور گنوار ہو گا۔‘‘ ماسٹر صاحب نے اس انداز سے کہا جیسے وہ سچ مچ میرے بھی ماسٹر ہوں۔ ’’مہذب لوگوں میں رومانس اور ذاتی معاملات میں اس تنگ دلی کا کوئی وجود نہیں۔آخر آپ خود سوچیے، انسان کے فطری تقاضوں کے بہاؤ کو روکنا اعصاب کے لیے کس قدر مضر ہو گا۔ نئی تہذیب انسان کو اس کے پیدائشی حقوق دیتی ہے۔ آزادی دیتی ہے۔ دنیا کی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیتی ہے۔‘‘’’زندہ باد زندہ باد‘‘ میں احمقوں کی طرح لہرایا ’’آپ جیسا مہذب آدمی آج پہلی بار مجھے ملا ہے جی ہاں اب سماج سے بغاوت کروں گا۔ فرسودہ اخلاق سے بغاوت کروں گا۔‘‘’’یقین کیجئے میں مشورہ دوں گا کہ اس کی ابتدا اسی وقت سے ہو جائے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے ماسٹر صاحب نے ملائن کے برقعہ پر شاید بیسیوں بار نظر ڈالی تھی۔’’کیوں نرگس کیا تم بھی مولانا کو یہی مشورہ نہیں دو گی؟‘‘’’ہاں مولانا۔ ہم سبھی کو مل جل کر تہذیب و تمدن کی زلفیں سنوارنی ہیں۔ مجھے دیکھیے اکیلی سفر کر رہی ہوں۔ کون میرا کیا بگاڑ لے گا۔‘‘’’میں۔۔ میں آپ ہی کو دیکھ رہا ہوں مس نرگس۔۔ یہ آپ کے بازوکتنے دل کش ہیں۔‘‘ یہ کہتے کہتے میں نے اس کے عریاں بازو کو انگلیوں سے چھوا۔ وہ چمک گئی۔ ماسٹر صاحب نے بھی برا سا منہ بنایا۔’’یہ آپ کیا کرتے ہیں ‘‘ نرگس منمنائی۔’’کیا کرتا ہوں‘‘ میں نے حیرت سے آنکھیں چورائیں۔ ’’آپ لوگ جو کچھ تعلیم دے رہے ہیں اسی پر عمل شروع کرتا ہوں کیا مجھ سے آپ کا مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی؟‘‘’’نہیں نہیں‘‘ ماسٹر صاحب نے دوستانہ لہجے میں کہا۔ سمجھنے میں آپ نے غلطی نہیں کی۔ منشا یہ ہے کہ نئی تہذیب میں بھی بے تکلفی کے کچھ مراتب ہیں جن میں تدریج کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے ابھی آپ اور مس نرگس میں بے تکلفی نہیں ہے۔‘‘’’ہو جائے گی۔ ابھی میں ان سے پیار کی میٹھی میٹھی باتیں کروں گا تو ہو جائے گی ، ویسے میں نے سنا ہے کلبوں اور بال روموں میں نئے نئے مرد نئی نئی عورتوں کے بازوؤں میں بازو ڈال کر ڈانس کرتے ہیں ابھی آپ ہی فرما رہے تھے کہ فطری تقاضوں کے بہاؤ کو روکنا اعصاب کا ستیاناس کر دیتا ہے۔‘‘
انھوں نے تشویشناک نظروں سے مجھے گھورا۔ شاید وہ اپنی اس رائے پر نظرثانی کرنا چاہتے تھے جو انھوں نے میرے بارے میں قائم کی تھی۔ میرے چہرے پر اب بھی سنجیدگی نہیں تھی شاید حماقت ہی کے طوفان امنڈ رہے تھے۔’’آپ لوگ عجیب ہیں۔‘‘ میں نے حیرت کے انداز میں کہا ’’ابھی تو فرسودہ اخلاق اور ظالم سماج سے بغاوت کا درس دے رہے تھے۔ کیا اس کا مطلب صرف اتنا ہی تھا کہ مجھے اپنی داڑھی مونڈ کر بیوی کا برقعہ نوچ ڈالنا چاہیے۔‘‘
انھوں نے الجھن بھری نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔’’مس نرگس!‘‘ میں لہرایا۔ ’’آپ سوچیے یہ مردوں کے صبر و ضبط کو چیلنج دینے والا چست اور نیم عریاں لباس آپ نے کیوں پہناہے یہ چہرے پر غازے اور سرخی کا لیپ کیوں ہے۔ یہ آپ کے بدن سے سینٹ کی بھینی بھینی خوشبو کیوں آ رہی ہے اور ماسٹر صاحب آپ بھی سوچیے جب آپ جیسا روشن خیال انگلیوں کا فقط لمس بھی اپنی شاگردہ کے بازوؤں پر برداشت نہیں کر سکا حالاں کہ یہ بازو اسی لیے برہنہ کیے گئے ہیں کہ دیکھنے والے ان سے بقدر ظرف استفادہ کر سکیں۔ تو بتائیے اس غریب بھائی کو جاہل اور گاؤدی کہنے کا آپ کو کیا حق ہے جس نے فلمی گانے کی نقل برداشت نہیں کی تھی۔‘‘’’آپ نہایت چار سو بیس معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ ماسٹرصاحب بھنا گئے ’’شرم نہیں آتی داڑھی لگا کر ایسی باتیں کرتے ہیں۔‘‘’’شرم ایک اضافی چیز ہے ماسٹر صاحب۔ آپ کو مس نرگس کے ساتھ ایزوبیلا کا ننگا ناچ دیکھتے ہوئے شرم نہیں آئے گی تو میں آخر داڑھی پر کیوں شرماؤں معاف کیجئے گا سماج کے جتنے بھی دشمن آج تک مجھے ملے ہیں وہ سب آپ ہی کی طرح نازک مزاج تھے۔ ان کی بھی یہی خواہش تھی کہ میں اپنی بیوی کا برقعہ نوچ کھینچوں لیکن جب وہی حق میں نے استعمال کرنا چاہا جو وہ خود استعمال کرنا چاہتے تھے تو وہ بکھر گئے۔ مرنے مارنے پر تل گئے کیا یہ بھی نئی تہذیب کا کوئی بنیادی قاعدہ ہے؟‘‘’’آپ تاریک خیال ہیں۔ عیاش ہیں۔ خود غرض ہیں۔‘‘ ان کی آواز
میں شعلے لپک رہے تھے، چہرہ مارے تاؤ کے لمبوترا ہو گیا تھا۔’’کمال ہے صاحب‘‘ میں استعجاب کی شان قائم رکھتے ہوئے بڑبڑایا۔ ’’آپ ایک ہی چیز کو سیاہ بھی کہہ رہے ہیں اور سفید بھی۔ عیاشی تو نئی تہذیب کا پہلا سنگ بنیاد ہے پھر اسے آپ تاریک خیالی کیسے کہہ سکتے ہیں۔‘‘ان کے چہرے پر ایسے آثار تھے کہ شاید ہاتھ چھوڑ دیں۔ مگر مجھے کوئی فکر نہیں تھا کیوں کہ ان کے بازوؤں کا کس بل میں پہلے ہی تول چکا تھا۔ بہت ہوتا تو بس یہ ہوتا کہ پہلے ہی دہلے میں وہ ایک دو ہاتھ رسید کر جاتے مگر اس کے بعد انہیں سانس لینے کی مہلت بھی شاید ہی ملتی۔ دفعتاً وہ دونوں یہاں سے اٹھ کر اپنی پہلی جگہ پر جا بیٹھے ’’ڈیر ماسٹر صاحب میری ماچس؟‘‘ میں مسکرایا۔انھوں نے بوکھلا کر ماچس جیب سے نکالی اور میری طرف پھینک دی۔’’آپ خفا ہو گئے جناب‘‘ میں نے لجاجت سے کہا ’’حالاں کہ فدوی تو آپ کی شاگردی پر ہمہ تن آمادہ تھا۔‘‘’’شٹ اپ‘‘ وہ تڑخے ’’خواتین کی موجودگی میں لڑائی بھڑائی شائستگی کے خلاف ہے ورنہ۔۔۔ ورنہ۔۔۔‘‘
’’ہاں ہاں ورنہ کیا آپ پسند کریں تو میری بیوی اور مس نرگس بیت الخلاء میں چلی جائیں گی۔ پھر آپ مجھے کھڑکی سے باہر پھینک دیجئے گا۔‘‘’’چْپ رہو‘‘ وہ حلق کے بل چیخے۔ نرگس کی آنکھوں میں خوف جھانک رہا تھا۔ ملائن کا ٹمپریچر شاید ایک سو دس ہو، وہ کئی بار کہنی اور گھٹنے کی زبان سے مجھے خاموشی اختیار کرنے کا حکم دے چکی تھی۔ مگر دیوانگی کی اس رو میں، میں کیا کرتا جو کبھی کبھی میری کھوپڑی میں کالی ناگن کی طرح لہراتی ہے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ کم سے کم ایک ٹکر ماسٹر صاحب سے ضرور ہو اور انھیں یہ نکتہ سمجھا سکوں کہ جبڑے پر پڑے ہوئے ایک فولادی گھونسے سے بڑھ کر سچا آرٹ کوئی نہیں۔
لیکن گاڑی ایک اسٹیشن پررکی اور وہ دونوں اتر گئے اور اتر کر وہ کسی دوسرے کمپارٹمنٹ میں جا بیٹھے ہوں گے۔ ایک سیکنڈ کلاس اسی گاڑی میں اور بھی تھا، شاید اسی لیے نئے مسافر ادھر آ بھی نہیں رہے تھے۔
اب ملائن کا گھٹا ہواطوفان ابلا۔ گاڑی چلتے ہی اس نے نقاب الٹ دیاآنکھیں شعلے برسا رہی تھیں رخسار لال بھبوکا تھے۔
ہائے میرے اللہ۔ آپ کا دماغ آخر کس قسم کا ہے۔ نوج ایسا غیر ذمہ دار کوئی ہو۔‘‘
’’پروا مت کرو میں اپنے دماغ سے خود عاجز ہوں۔‘‘’’اب اگر وہ ماسٹر پولیس کو بلالایا تو؟‘‘’’ہم دونوں جیل جائیں گے۔ وہاں مفت کی روٹیاں توڑا کریں گے۔‘‘
’’خدا کے لیے سنجیدگی اختیار کیجئے میرا تو دل سینے سے نکلا جا رہا ہے۔‘‘’’ہائیں۔ یعنی جانتی ہو اس کا کیا مطلب ہوتاہے۔‘‘ ’’بھاڑ میں گیا مطلب۔ مجھے خبرہوتی تو کبھی بھی آپ کے ساتھ سفر نہ کرتی۔ دیکھ لیجیے گا اگلے ہی اسٹیشن پر پولیس ضرور آئے گی۔‘‘
’’بلا سے آئے۔ میں تمھارے سوا دنیا میں کسی سے نہیں ڈرتا۔ تمھاری ہی وجہ سے تمھارے بھیا کا بھی رعب مانتا ہوں۔‘‘
’’وہی بلاوجہ کی باتیں۔ اللہ ہی ہے جو آج عزت رہ جائے۔‘‘’’عزت اور ذلت تو ہمیشہ سے اللہ ہی کے قبضے میں ہے بھاگوان سچ جانو وہ دونوں خود ڈر رہے ہوں گے کہ کہیں پولیس کو نہ بلا لاؤں۔‘‘’’کیوں؟‘‘
شاگردہ کو ننگا ناچ دکھانے کا پروگرام بنانا ابھی ہمارے پس ماندہ ملک میں لائق دست اندازی پولیس ہو سکتاہے۔ حالاں کہ داڑھی اور برقعہ ابھی تک جرم نہیں ہیں۔‘‘’’وہ تو یہ رپورٹ کریں گے کہ آپ نے لڑکی پر دست درازی کی تھی۔‘‘’’ہرگز نہیں کریں گے۔ انہیں کسی بکھیڑے میں پڑنے کی فرصت کہاں ہے۔ بہت ممکن ہے وہ اپنے اپنے اسٹیشنوں تک سفر کرنے کے بجائے قریب ہی کے کسی جنکشن پر اتر جائیں۔ ماسٹر شاگردہ کو سمجھائے گا کہ ڈیر بے بی یہ مولانا نہایت خبیث قسم کاانسان معلوم ہوتا ہے، پتا نہیں کیاجھگڑاکھڑا کر دے، آؤ ہم یہ گاڑی چھوڑ کر شہر چلیں۔ وہاں پکچر دیکھیں گے اور پھر کسی اور گاڑی سے سفر کریں گے۔‘‘’’آپ کا دماغ تو ہر وقت آسمانوں میں اڑتا رہتا ہے۔ میں نے تو کان پکڑے جو آئندہ آپ کے ساتھ سفر کروں۔‘‘(بشکریہ ،تجلی، جون ۱۹۶۳ )

***