بالاکوٹ ، جوایک شہر تھا

مصنف : محمد صدیق بخاری

سلسلہ : سفرنامہ

شمارہ : جنوری 2006

            ۲۷، نومبر۲۰۰۵ کی دوپہر ، بالاکوٹ کی طرف میراتیسرا سفر تھا۔ پہلا سفر دس سال قبل سید کے مزارکی زیارت کے لیے ہوا تھا۔اور اس کامحرک آباد شاہ پوری کی کتاب ‘‘سید بادشاہ کا قافلہ ’’ تھی۔بالاکوٹ کی اس وادی میں سید کے قافلے پر جو گزری اسکا ذکر آباد نے یوں کیا تھا:

            ‘‘تاریخ کا مسافر دریائے کنہارکے مغربی کنارے سرنگوں بیٹھاہے ۔پہاڑ کی دو متوازی دیواریں شمالاً جنوباً چلی گئی ہیں۔ کنہاران دیواروں کے درمیان کوئی آدھ میل چوڑے خلامیں پیچ و خم کھاتا محو سفر ہے شوریدہ سری کے عالم میں کبھی وہ مشرقی دیوار سے جا ٹکراتا ہے اورکبھی مغربی دیوار سے ۔ دریا جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے ، دائیں بائیں سے کئی برساتی نالے پہاڑوں سے اتر کر اس سے ہم آغوش ہوتے چلے جاتے ہیں۔ شمال میں جہاں دریا وادی کاغان سے گزرتے ،اپنی راہ میں آنے والی ایک عظیم دیوارسے راستہ بناتے ہوئے نئی وادی میں قدم رکھتا ہے ۔وہاں اونچے پہاڑ کے نشیب و فراز پر آباد بالاکوٹ اور گردونواح پر سکوت مرگ طاری ہے ۔ سورج دن بھر ایک خونچکاں المیے کانظارہ کرنے کے بعد پہاڑ کی اوٹ میں غائب ہو چکاہے اور وادی میں اندھیرا پھیلتا جا رہا ہے۔بالاکوٹ کے درودیوار سے اٹھنے والے شعلے اور دھوئیں کے مرغولے اب دم توڑ چکے ہیں اور اب فضا دھرتی کے سینے سے اٹھنے والی آہوں سے دھواں دھواں ہے ۔تاریخ کا مسافر محسوس کرتاہے کہ یہ آہیں نیزوں کی تیز نکیلی انیاں ہیں جو اس کے سینے میں پیوست ہوئی جاتی ہیں۔تاریخ کے کتنے ہی دردناک منظر اس نے دیکھے ہیں ، ان مناظر نے اس کا دل سنگ خارا میں بدل ڈالا ہے ۔وہ بڑا کٹھور دل ہے لیکن کچھ منظرایسے بھی ہیں جنہیں دیکھ کر یہ کٹھو ر دل بھی موم کی طرح پگھل جاتا ہے اورخون آنکھوں سے بہہ نکلتا ہے ۔ آج ایسا ہی ایک منظراس کے سامنے ہے ۔اس کا دل لہو لہو اورجگر قاش قاش ہے ۔اشکوں میں ڈوبی ہوئی نگاہیں کنہار کے خوں رنگ چہرے پر جمی ہیں۔ کبھی کبھی اٹھتی ہیں اور مٹی کوٹ گاؤں کے دامن میں بلند پست پہاڑی کھیتوں پر جا پڑتی ہیں۔ جومٹی کوٹ نالے سے لے کر ست بنے نالے سے پرے تک چلے گئے ہیں۔ ان کھیتوں میں لاشیں ہی لاشیں بکھر ی پڑی ہیں۔ان غیریب الدیار اہل جنوں کی لاشیں جو رائے بریلی کے ایک خدا پرست مر ددرویش سید احمد کی آوازپر لبیک کہتے ہوئے حق کاکلمہ بلند کرنے اٹھے تھے ۔فضا دھواں دار ہے تاریکی پھیل رہی ہے اس تاریکی میں بالا کوٹ ہی نہیں برصغیر میں مسلمان قوم کا مستقبل بھی لپٹتا جا رہا ہے ۔بالا کوٹ خاموش ہے ۔سرحد کے کوہ ودمن خاموش ہیں۔لاشیں دور دور تک بکھر ی ہوئی ہیں۔’’

            یہ سب کچھ پڑھ کر رہانہ گیا اوریہ خیال دامن گیر ہوا کہ ۶مئی ۱۸۳۱ کے اس دن سید کی رفاقت توہماری قسمت میں نہ تھی لیکن اس جگہ کی زیارت تو بس میں ہے ۔انسان کی طبیعت بھی عجب ہے ۔پیاروں کی نسبت جس جس چیزسے بھی ہو وہ چیز بھی پیاری ہوجایا کرتی ہے ۔آج لاکھوں لوگوں کو بالاکوٹ سے پیار صرف سید کے مشہد کی نسبت سے ہے۔یادگاریں بھی عجب تسکین کا سامان ہوا کرتی ہیں۔لوگ یادگاریں مٹا کر سمجھتے ہیں کہ ہم شرک کاخاتمہ کر رہے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ اصل میں تار یخ کا خاتمہ کر رہے ہیں۔

            بالاکوٹ کی طرف میرادوسرا سفر ۹ سال قبل ہوا تھا کیونکہ پچھلے برس سید کے مزار پر تو حاضر ی ہو گئی تھی مگر بوجوہ شاہ کا مزار رہ گیا تھا جو سید سے تقریبا ڈیڑھ کلومیٹر دور پہاڑ پرواقع ہے ۔

            دونوں بار بالاکوٹ کا شہر دیکھنا مقصد نہ تھا مگر ۲۷ نومبر کی دوپہر بالاکوٹ کی طرف جو تیسراسفر ہوا اس کامقصد بالاکوٹ کا شہر دیکھنا تھا ، شاید نہیں ، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ شہر، جو کبھی شہر ہوا کرتا تھا۔

             ۸۔اکتوبرکی صبح تک یہ واقعی ایک ہنستا بستا شہر تھا ۔ اس کے بازارپر رونق ،اس کے گھر آباد،اس کی گلیاں روشن،اور اس کے کوچے بھی زندہ تھے ۔کیوں؟ کیوں کہ اس کے لوگ، اس کے باسی،اس کے شہری، اس کے مکیں زندہ تھے ۔لیکن ۸، اکتوبر شام ہونے سے پہلے پہلے یہ شہر پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکاتھا۔

            میں تو ۸، اکتوبرسے ہی ارادہ کررہا تھا مگر ارادہ باندھتا تھا اورتوڑدیتا تھا، باندھتا تھا اورتوڑ دیتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ کمزور لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا کر تا ہے مگر اللہ بھلا کرے برادر عزیز لطیف الرحمن اوربرادرمکرم عارف حسین کا، کہ انہوں نے ہمت دلائی اور میں بھی ان کے سنگ چل پڑا۔اس سے احساس ہوا کہ کسی کا سنگ ہونا بھی کتنا ضروری ہے ۔مضبوط لوگوں کا سنگ ہو تو میرا جیسا کمزور بھی خواہ مخواہ خود کو مضبوط سمجھنے لگتا ہے ۔اسی طرح اچھوں کاسنگ نصیب ہوجائے تو انسان بھی خود کواچھا اچھا سا لگنے لگتا ہے ۔میرے ساتھ بھی اس دن یہی معاملہ تھا کہ میرے ساتھی مضبوط بھی تھے اور اچھے بھی ۔

            وقت ظہرجب ہم وہاں پہنچے توہلکی ہلکی بارش شروع ہوچکی تھی ۔ہمیں پہاڑ پر سے سر کے بل گری چھتوں، الٹے مکانوں ، زمین میں دھنسے پلازوں، بکھرے سامانوں ، جا بجا دکانوں اور مکانوں کی جگہ پتھرکے ڈھیروں کے سواکچھ نظر نہ آتا تھا۔ ایک مارکیٹ اللہ عزوجل نے البتہ اپنے قادرمطلق ہونے کی نشانی کے طور پر چھوڑ رکھی تھی۔میرے ساتھ بھی عجیب تماشاہوا ۔شہر زند ہ تھا تو میں شہر نہ دیکھ سکا اور آج جب شہر مردہ تھا تومیں شہردیکھ رہا تھا۔میں نے سوچا شاید شہر دیکھنا میری قسمت میں نہیں چلوآؤ پھر شہیدکامزار ہی دیکھتے ہیں کہ یہ بذات خود ایک شہر ہے ۔اللہ اکبر، کنہار کنارے شہید کا مزار صحیح سلامت باقی تھا۔ساتھ کی مسجدبھی غائب ہو چکی تھی اورچار دیواری بھی گری ہوئی تھی مگر مزار کے پاس نہ زمین پھٹی تھی نہ سنگ مرمر کے کتبے میں کوئی دراڑ آئی تھی اورنہ ہی قبر شکستہ ہوئی تھی۔

            دکانوں اور مکانوں کے ملبے اوپر چلنا یوں ہی تھا جیسے ہم ہزاروں لوگوں کے خون ، گوشت اور ہڈیوں کے اوپر چل رہے ہیں کہ یہ سب ہی اصل میں اب مدفن تھے ۔ بالاکوٹ اب ایک بڑ ی سی قبر ہے۔

            آبادشاہ پوری نے جس طرح ۶ مئی ۱۸۳۱ کی شام کو چشم تصور سے دیکھا تھا تو میں بھی ۲۷ نومبر کی اس دوپہر ۸ اکتوبر۲۰۰۵ کی شام کو اورپھر بعد میں آنے والی کئی صبحوں اورشاموں کو چشم تصور ہی سے دیکھ سکتا تھا مجھے یو ں محسوس ہوا، کہ وہ جو ایک پوری نسل سکولوں کی عمارتوں تلے زندہ دفن ہو گئ، اس میں سے بچا، ایک بچہ کہیں ملبے کے ڈھیرپہ کھڑاجیسے یوں کہہ رہا ہو!

‘‘مرے رخسار پر جو جمے خوں کی لکیریں ہیں

مری مرتی ہوئی ماں کی محبت کی نشانی ہیں

مرے منہ کونہیں دھونا

مرے بالوں میں تہہ در تہہ جو مٹی اور ریزے ہیں

یہی تو اک گواہی ہے کہ میرے سر پہ بھی اک چھت تھی

مرے سر کو نہیں دھونا۔۔۔۔۔

مرے گاؤں کے میداں میں، نئے خیموں کی بستی میں

مرے رہنے کے ساماں میں میرے اپنے نہیں بستے

وہ جن کے ساتھ رہتا تھا وہ اب اس میں نہیں رہتے

مجھے رہنے کا مت کہنا

کہیں خیمہ نہیں ایسا جہاں پر منتظر ہوماں

 کوئی کوچہ نہیں ایسا جہاں پر کھیلتے ہوں بھائی

جہاں بہنیں نہیں رہتیں وہاں مجھ کو نہیں رہنا

چلو اچھامیں رہ لوں گا میں منہ اور سر بھی دھو لوں گا

مگر اک کام ہے میرا

مرے ٹوٹے کھلونوں کی جھلک مجھ کو دکھا دینا

مرے اپنوں کی لاشیں تو کفن دے کر دبا دینا

مگر اس کام سے پہلے

مرے کپڑوں کے دھبوں کومری آنکھوں کے گوشوں کو

مری زندہ خراشوں کومرے سینے کے تمغوں کو

مرے زخموں کومت چھونا

 ملبے پر کھڑا تنہا

کوئی بچہ یہ کہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

            اور پھر یوں محسوس ہوا جیسے ملبے کے اس ڈھیر پر بچی کھچی ایک ماں اپنے لال کو یوں لوری سنا رہی ہو!

‘‘مُشکِ دم ساز لیے ، مرہم ِدل دار لیے

چشمِ غم خوار میں شیرینی ِگفتار لیے

ان اندھیروں میں، سسکتے ہوئے ویرانوں میں

رنگ ِگل زار لیے ، مشعل ِانوار لیے

چاروں سمتوں سے سفر کرتی ہوئی باد نسیم

آئی ہے تیرے لیے ابرِ گہر بار لیے

دستِ الفت میں مسیحائی کا پیغام لیے

تھک گئی ہیں تری سانسوں کی طنابیں ، سوجا

مضمحل ہیں تری آنکھوں کی یہ شمعیں ، سو جا

سوجا ، سوجا،

تواکیلی ہے بہت، رنج گراں بار بہت

وقت غم ناک بہت، رُت بھی شرر بار بہت

یاد قاتل ہے ، تری رُوح بہت گھائل ہے

غم سمندر ہے ، مگرچشم بہ رہ ساحل ہے

کنجِ ہم د م سے ابھرتے ہیں دل آرام سحاب

ہے ترے واسطے ہر ہاتھ میں خوش آب گلاب

رات بھاری ہے ، مگر رات گزر جائے گی

زخم کاری ہے ،مگر زخم بھی بھر جائے گا

جانتاہوں، مرا اظہارِ بیاں عاجز ہے

میرا احساس فزوں تر ہے ، قلم عاجز ہے

چشمِ نم ناک مگر میری سناتی ہے پیام

تھک گئی ہیں تری سانسوں کی طنابیں ، سو جا

مضمحل ہیں تری آنکھوں کی یہ شمعیں ، سو جا

سوجا۔۔۔سوجا۔۔۔۔سوجا۔۔۔۔۔’’

            ما ں کا یہ بچہ ہی نہیں بلکہ وہ سب ،جو بچ گئے، وہ بھی ‘‘لوری’’ چاہتے ہیں۔اپنوں کے بغیر بھی زندگی کوئی زندگی ہواکرتی ہے !مگر انہیں لوری کون سنائے گا؟ جنکی مائیں بچ گئیں وہ توانہیں لوری سنا دیں گی مگروہ جن کاکوئی بھی نہ رہا نہ بھائی ، نہ بہن، نہ باپ ، نہ ماں ،انہیں بھی بہرحال زندہ تو رہنا ہے مگر کیسے ؟ اس کاجواب ہم سب کے ذمے ہے۔

            پہلے سفر میں میں نے سید کامزاردیکھاتھا، دوسرے میں ساتھ شاہ اسماعیل کابھی جبکہ تیسرے میں سارے بالاکوٹ کامزار ، اب کون جانتاہے کہ چوتھے سفرمیں مجھے کیادیکھنا ہو گااور یہ کہ، دیکھنابھی ہو گا کہ نہیں!