عمر خیام

مصنف : پروفیسر خادم علی ہاشمی

سلسلہ : تاریخی شخصیات

شمارہ : فروری 2007

آخری قسط

طبیب، فلسفی، منجم، سائنس دان، ریاضی دان، ماہرفلکیات اور شاعر

خیام کا فلسفہ

            فلسفہ پر خیام کی پانچ معلوم تصانیف موجود ہیں اور اس کی شاعری میں بھی بیشتر فلسفیانہ موضوعات موجود ہیں’ تاہم اس امر کا تعین کرنا ممکن نہیں کہ کائنات کے بارے میں اس کا تصور کیا تھا۔ بہت سے محققین نے اس مسئلے پر طبع آزمائی کی ہے مگر وہ مختلف نتیجوں پر پہنچے ہیں۔ ان نتیجوں کا انحصار بیشتر ان کے اپنے نظریات پر ہے۔ یہ مسئلہ اس لیے بھی الجھ کر رہ گیا ہے کہ بعض جدیدیت پسندوں کے نزدیک اس کی مذہبی اور فلسفیانہ تحریریں اس کی رباعیات سے مختلف تاثر پیش کرتی ہیں اور خود رباعیوں کا تجزیہ بھی ان میں سے ہر ایک کے استناد پر ہے’ یہ بھی ممکن نہیں کہ قطعیت سے کہا جاسکے کہ فلسفیانہ رسائل میں کون سے خیالات خیام کے اپنے ہیں’ کیوں کہ وہ سرکاری سرپرستی میں لکھے گئے تھے۔ احمد سعیدی کے مطابق ایک ہیئت دان اور سائنس دان کی حیثیت سے خیام تخلیق اور اس کے سربستہ رازوں کے بارے میں متشکک تھا۔ زمین’ چاند’ ستارے اور سیارے الغرض جملہ جاندار اور بے جان اشیا قوانین فطرت کے تابع تو ہیں’ لیکن اسے اس امر پر الجھن تھی کہ ان قوانین کے وضع کرنے اور ان کے اطلاق کے محرکات و عوامل کیا ہیں۔ کیسے’ کیوں اور کب کائنات تخلیق کی گئی’ اور کل نظام کی کارکردگی کیسے ہے؟ اس کے مطابق ان سوالوں کے جواب کسی نے نہیں دیے۔ اس کے نزدیک تخلیق کا بھید’ ابدیت اور حتمی انجام’ لامحدودیت’ پیدائش’ نشوونما’ زندگی’ موت اور بے شمار متعلقہ مسائل’ مثلاً مقدار اور اختیار’ روح کی فناپذیری (دوام)’ برائی اور مکافات’ ایسی پہیلیاں ہیں جن کا جواب مشکل ہے۔ سائنسی تحقیقات’ فلسفیانہ خیال آفرینی اور مذہبی خوض’ سبھی ان بنیادی سوالات کے تسلی بخش جوابات دینے میں ناکام رہے ہیں۔ دقت ِ نظر کے حامل ذہن ہمیشہ سے ان سوالوں کی بھول بھلیوں میں گم رہے ہیں۔

             اگر خیام کی جملہ تصانیف کا مع مصدقہ رباعیات کے’ مطالعہ کیا جائے تو اس کا تشخص کائنات کے بارے میں ایک فلسفیانہ نظریہ کے حامل ایک عظیم اسلامی مفکر کے طور پر اُبھرے گا جو فلسفے میں عمومی طور پر ابن سینا کا پیروکار تھا’ تاہم اس کی بعض آزادانہ توضیحات بھی ملتی ہیں۔ وہ ایک عظیم سائنس دان بھی تھا جس کے ریاضی کے فلسفے کے بارے میں اہم نظریات تھے۔ مزیدبرآں وہ ایک شاعر بھی تھا جس نے بہت سے دوسرے اسلامی فلسفیوں اور سائنس دانوں کی طرح توانا منطقی ڈھانچے کے ساتھ مابعد الطبیعیاتی اور غناسطی موضوعات پر شعر بھی کہے۔ وہ بلاشبہ ذاتی طور پر صوفی ازم کی جانب بھی مائل تھا۔ اگر ہم اس کا موازنہ کسی اور اسلامی شخصیت سے کریں جو اس کی مانند ہو تو ہمارے سامنے نصیرالدین طوسی کی شخصیت اُبھرتی ہے’ جو خیام کی طرح ایک ابن سینائی’ مشائی فلسفی اور ایک ریاضی دان تھا اور جس نے شاعری بھی کی اور جو صوفی ازم میں بھی دلچسپی رکھتا تھا اور جس نے ایک رسالہ بھی تصنیف کیا۔ تاہم طوسی دوازدہ امامی شیعہ عالم بھی تھا جو اسماعیلی فلسفہ پر سند تھا’ جب کہ اس کے برخلاف خیام ان موضوعات سے ایک حد تک غیرمتعلق تھا۔خیام کو بطور ایک اسلامی فلسفی اس کا مقام ملنا چاہیے خواہ اس عمل میں جدید عرب’ ترکی اور خصوصاً ایرانی متشککین اور لذتیتوں سے ایک کلچرل ہیرو ہی کیوں نہ چھن جائے۔

خیام کی شاعری

            سعید نفیسی A History of Muslim Philosophyمیں فارسی ادب پر اپنے مقالے میں لکھتے ہیں: ‘‘ایرانی نظم ہو یا نثر ہمیں اس کی اہم ترین خصوصیت یہ نظر آتی ہے کہ ایرانی فلسفی شعوری طور پر یونانی فکر’ لاادریت اور اسلام کی بنیادی تعلیمات کے مابین ایک ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے تصوف کو فلسفہ اور قانون الٰہی سے ہم آہنگ کیا ہے’ اور اس میدان میں فارسی یقینا دنیا کی موزوں ترین زبان ہے۔ایرانی تقریباً ۲۵۰۰ سال قبل سے مختلف قومی تہواروں میں تفریح کے مواقع ملنے کی خوشی میں یزدان کی تعریف کیا کرتے تھے اور یہ خوشی اس قوم کی عادتِ ثانیہ بن گئی تھی۔ بعد کی جنگوں اور یونانی فلسفہ کے زیراثر یہ عیش و عشرت کی دلدادہ قوم غم و اندوہ کی فراوانی کے باعث حزنیہ جذبات کی ترجمان بن گئی اور اکثر ایرانی شعرا کی شاعری میں قنوطی انداز بیان در آیا۔ خیام کی شاعری ان جذبات کی ترجمانی میں فلسفیانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی ملتی ہے۔ ایک طرف تو اس کے خیالات غم و اندوہ’ موت و فنا کے احساسات اور دوسری طرف خوشی اور لذتیت کا اظہار واشگاف الفاظ میں کرتے ہیں۔

فارسی

خیام اگر زبادہ مستی خوش باش

گر با صنمی دمی نشستی خوش باش

پایان ہمہ عمر جہان نیستی

پندار کہ نیستی چو ہستی خوش باش

اُردو

خیام اگر ہے شغل مستی خوش باش

کرتا ہے جو محبوب پرستی خوش باش

جب آخرکار ہے فنا ہی ہوجانا

یہ جان کہ نیستی ہے ہستی خوش باش

            خیام نے ایک مرتبہ یہ کہا تھا کہ اس کی قبر ایسی جگہ ہوگی جہاں اس پر پھولوں کی بارش ہوتی رہے گی۔ آج اس کا مزار ایک باغ کے کنج میں واقع ہے اور وہ اکثر پھولوں سے ڈھکا رہتا ہے’ مگر میں تو اس سے آگے کہوں گا کہ خیام کی رباعیوں کے پھول دنیا بھر کے لاکھوں اعلیٰ و ادنیٰ’ تعلیم یافتہ یا جاہل لوگوں کے دل و دماغ میں کھلے ہوئے ہیں۔

            رباعی وہ صنف سخن ہے جس میں چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔ رباعی کے اور بہت سے نام ہیں’ مثلاً دو بیتی’ ترانہ’ چہار بیتی’ قول اور زیادہ مزے کی بات ہے کہ غزل! سب اہل الرائے متفق ہیں کہ رباعی مختلف ناموں کے پردے میں اس غرض سے کہی جاتی ہے کہ اسے گایا جائے۔ بعدازاں یہ ہر موضوع سخن کے لیے وسیلۂ اظہار بن گئی۔ صوفی ہوں یا فلسفی’ درویش ہوں یا نغمہ گو’ سبھی نے اپنے دقیق متصوفانہ تصورات’ فلسفیانہ خیالات اور عشقیہ جذبات کے اظہار کا وسیلہ رباعی ہی کو بنایا۔ رباعی کا ہیئتی ڈھانچہ سیدھا سادہ ہے۔ اس کے چار مصرعے ہوتے ہیں۔ لازم ہے کہ پہلے’ دوسرے اور چوتھے مصرعے میں قافیہ موجود ہو۔ قدیم رباعیوں میں البتہ تیسرے مصرعے میں بھی قافیہ ملتا ہے۔ رباعی ایران کی وہ قدیم صنف سخن ہے جو اپنے اسلوب و ابلاغ اور پیرایۂ اظہار میں موسیقی کی دھنوں سے بہت قریب ہے۔ بالفاظ دیگر اس کے الفاظ کی نشست اور اس کے زحافات کی خوبصورتی وزن کے آہنگ کے ساتھ مل کر اسے نہایت مترنم اور خوش آہنگ چیز بنا دیتی ہے۔ یہ کہہ دینے میں کوئی ہرج نہ ہوگا کہ معانی اور مطالب سے قطع نظر رباعی کے لیے مترنم’ خوش آہنگ اور نغمہ آفریں ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اچھی رباعی حشو و زوائد سے پاک ہوتی ہے اور الفاظ شیریں اور معانی لطیف پر مشتمل ہوتی ہے اور اس میں عام واردات و تجربات کا بیان کرنا ممنوع ہوتا ہے۔ان اصولوں کے علاوہ رباعی میں بتدریج کلام کی نوک پلک بڑھتی چلی جانی چاہیے’ یعنی رباعی کے پہلے دو مصرعے اگرچہ معنی خیز ہوتے ہیں’ اور سخن سرا کی سخن سنجی کا ثبوت مہیا کرتے ہیں’ لیکن تیسرا مصرع کلاسیکی سنگیت کے چڑھے سُرکی طرح تیور اور شوخ ہوتا ہے’ چوتھا مصرع تو گویا جانِ کلام ہوتا ہے’ کہ جو کچھ سخن سرا کو کہنا ہوتا ہے’ دراصل بہ اختصار و ایجاز چوتھے مصرع ہی میں کہتا ہے۔ رباعی ایک متخصص کا فن ہے’ مثال کے طور پر عہدسلاجقہ میں جو شعرا رباعی کہتے تھے وہ اس فن کے متخصص تھے اور ان کی شہرت کا دارومدار گنتی کی چند رباعیوں پر ہے۔ مثال کے طور پر عمرخیام’ ابوسعید’ ابوالخیر’ عبداللہ انصاری اور بابا طاہر عریاں۔ بعد کے فارسی گو شعرا نے بھی اگرچہ تفریحاً رباعی کہی مگر کسی کو ان شعرا کا مقام حاصل نہ ہوسکا۔ ان چاروں میں بھی کسی کو بحیثیت رباعی گو عمر خیام کا مرتبہ حاصل نہ ہوا۔

            اُردو میں رباعی گو شعرا میں انیس’ اقبال’ جوش اور فراق کا نام لیا جاسکتا ہے۔ اقبال نے بالِ جبریل اور ارمغانِ حجاز میں فلسفیانہ خیالات کے اظہار کے لیے رباعی کی صنف کو منتخب کیا۔ رباعی کی مندرجہ بالا تعریف اور خصوصیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارا ممدوح عمرخیام’ فلسفی بھی ہے’ طبیب بھی’ ریاضی دان اور ہیئت دان بھی اور وہ موسیقی پر بھی ایک رسالہ مرتب کرچکا ہے’ تو لازماً اس کے فارغ اوقات کا مشغلہ اگر شاعری ہے تو وہ صرف اور صرف رباعی ہی کو ذریعۂ اظہار بنائے گا۔ ایک نابغۂ روزگار’ عالم بے دل’ فلسفی’ سائنس دان اور طبیب اپنے معاشرے کی اچھی اور بری باتوں سے بے بہرہ نہیں رہ سکتا۔ وہ معاشرے کا نہ صرف عکاس ہوتا ہے بلکہ اس کا نباض بھی۔ عمرخیام ایک پُرآشوب دور میں رہ رہا تھا۔ اس نے قتل و غارت گری’ انسانی معاشرے میں لوگوں اور طبقوں کے عروج و زوال کے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے’ ایسے میں وہ اپنے محسوسات کیسے دبا سکتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی جذباتی کیفیات کو منظوم کرنا شروع کردیا۔ ہر صنف ادب کا اپنا مزاج اور انداز ہوتا ہے۔ ایک عظیم فلسفی اور ریاضی دان اپنے اظہار و بیان کے لیے ایسا ذریعہ استعمال کرے گا جو ریاضی کی مانند واضح اور مختصر’ اور مفہوم کے لحاظ سے جامع ہو’ نیز اس میں فلسفیانہ مضامین کی رمزیت بھی آسکے۔ اس مقصد کے لیے رباعی سے بہتر کوئی صنف ادب نہیں ہوسکتی۔ رباعی میں ریاضی کی مانند اختصار’ مصرعوں میں توازن اور مفہوم میں جامعیت پیدا کی جاسکتی ہے۔ رباعی کے مضامین میں تنوع اور فلسفیانہ خیالات کی فراوانی ہوتی ہے۔ لہٰذا عمرخیام نے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے رباعی کی صنف ہی کو منتخب کیا۔ ریاضی اور فلسفہ کی طرح رباعی کے دو حصے ہوتے ہیں’ پہلے حصہ میں ایک دعویٰ پیش کیا جاتا ہے اور دوسرے میں دلیل یا ثبوت دیا جاتا ہے۔ لہٰذا عمرخیام کا رباعی کو اظہارِ خیال کا ذریعہ بنانا ایک فطری امر تھا۔ تاہم خیام کے نام سے لاتعداد رباعیوں کے مجموعے منظرعام پر آئے ہیں جن میں سے بعض میں ایسے خیالات و جذبات کی ترجمانی کی گئی ہے اور ایسے مضامین باندھے گئے ہیں جو خیام ایسے زیرک سائنس دان کے مزاج سے بعید ہیں اور اسی وجہ سے خیام سے منسوب رباعیوں کے بارے میں ہمیشہ شک و شبہ کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ لہٰذا خیام کی رباعیوں کا استناد بذاتِ خود ایک تحقیق کا موضوع بن گیا ہے جس پر نقادوں نے بہت کاوشیں کی ہیں اور وسیع پیمانے پر خیام کی اپنی رباعیوں کے تعین کے لیے تحقیقات کی جاتی رہی ہیں۔ رباعی چونکہ صرف چار مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے’ لہٰذا اکثر کاتب رباعیاں نقل کرتے ہوئے اپنی طرف سے شعر موزوں کرکے اضافے کرتے رہے۔ چنانچہ خیام سے منسوب بہت سی الحاقی رباعیاں بیشتر مجموعوں میں ملتی ہیں۔ فضل اللہ رضا کے مطابق تقریباً پچاس سے ساٹھ رباعیاں متفقہ طور پر خیام کی مانی گئی ہیں’ ان کے علاوہ تقریباً ایک سو مزید رباعیاں ایسی ہیں جو اکثر فارسی ایڈیشنوں میں ملتی ہیں’ اور مشکوک ہیں’ باقی ماندہ سیکڑوں رباعیاں ناقابلِ قبول ہیں۔سائنس کے معروف مؤرخ اور فلسفی’ حسین نصر اپنی کتاب Science and Civilization in Islamمیں عمرخیام کی شاعری اور سائنسی کارناموں کے بارے میں لکھتے ہیں:

            اس کی رباعیات کا خوبصورت مگر آزاد ترجمہ کر کے فٹزجیرالڈ نے اسے مغرب میں مشرق کی معروف ترین ادبی شخصیت کے طور پر متعارف کرا دیا ہے’ مگر اس کے ساتھ اسے ‘کھاؤ، پیو اور عیش کرو’ کے فلسفہ کے علم بردار کی حیثیت سے پیش کیا ہے ’ جب کہ حقیقت میں وہ ایک صوفی اور غناسطی (Gnostic) تھا۔ اس نے رباعیات ایقان کے حصول کے امکان کی نفی کے لیے نہیں بلکہ مذہبی ریاکاری کی جو حقیقت مطلق کے متبادل تصورات پیش کرتی ہے’ اصلاح کے لیے کہیں۔ خیام کی بظاہر تشکیک کے پس منظر میں مطلق سچ کی حقیقت جھلکتی ہے۔ اسلامی دنیا میں خیام کا سب سے زیادہ اثر ریاضی میں تھا اور فلسفے کے میدان میں اس کے خیالات کا تعین اس کی مابعد الطبیعیاتی اور فلسفیانہ تصانیف سے کیا گیا جو اسے ایک حکیم کامل کے طور پر پیش کرتے ہیں’ اور اس کی یہی حیثیت اس کی رباعیات سے عیاں ہے جن میں حیاتِ انسانی کے مختلف پہلو اُجاگر ہوتے ہیں اور صحیح تناظر میں دیکھنے پر اس کے غناسطی خیالات کی تائید ہوتی ہے نہ کہ تردید۔ تاریخ میں خیام شاید واحد شخصیت ہے جو بیک وقت ایک عظیم شاعر اور بہت بڑا ریاضی دان ہے۔ اسلامی دنیا نے کچھ اور بھی ایسی شخصیات پیدا کی ہیں جو دونوں میدانوں میں مہارت کی حامل ہیں’ لیکن ان میں سے کوئی بھی عمرخیام کے برابر درخشاں نہیں ہے۔احمد سعیدی نے خیام کی رباعیوں کو موضوعات کے لحاظ سے درج ذیل دس عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔

۱- گل و بہار

۲- شاہد و شراب

۳- آتش نوائی

۴- واسوخت و طنز

۵- تخلیق کا راز

۶- بے ثباتی حیات

۷- حکمت وضرب المثال

۸- عدمِ اطمینانی

۹- صوفیانہ کلام

۱۰- مراقبہ’ غوروخوض

            ذیل میں ہم ان عنوانات کے حوالے سے خیام کی رباعیوں سے مثالیں اور ان کا منظوم اُردو ترجمہ پیش کرتے ہیں:

گل و بہار

خورشید کمند صبح بر بام افکند

کیخسروِ روز بادہ در جام افکند

می خور کہ منادیِ سحر گہ خیزاں

آوازہ زسر تو در ایام افکند

ترجمہ

جاگ ساقی کہ حجلۂ شب میں

ایسا کنکر سحر نے مارا ہے

جان درویش کی بساط ہی کیا

جام سلطاں بھی پارا پارا ہے

شاہد و شراب

وقتِ سحر است’ خیز ای مایۂ ناز

نرمک نرمک بادہ خور و چنگ نواز

کانہا کہ بیایند نمانند دراز

وانہا کہ شدند’ کس نمی آید باز

ترجمہ

نیند سے جاگ اے ستارہ جبیں

بادۂ نرم پی ، رباب اُٹھا

زیست اک نکہت گریزاں ہے

شیشۂ آب گل شتاب اُٹھا

آتش نوائی

ناکردہ گناہ در جہان کیست بگو

آن کس کہ گنہ نکرد چون زیست بگو

من بد کُنم و تو مکافات دہی

پس فرق میانِ من و تو چیست بگو

ترجمہ

ہے کون گُنہ جس نے نہ کوئی بھی کیا

بے لغزش مستانہ یہاں کون جیا

کرتا ہوں میں جرم اور تو دیتا ہے سزا

اے واہ رے ستار و خطا پوش پیا

واسوخت و طنز

در مسجد اگرچہ با نیاز آمدہ ایم

حقا کہ نہ از بہر نماز آمدہ ایم

زینجا روزی سجادۂ دزدیدیم

آن کہنہ شدہ است ، باز آمدہ ایم

ترجمہ

صحنِ مسجد میں ایک دو حاجی

دین کی تکمیل کرنے آئے ہیں

صف چُرا کر جو لے گئے تھے کبھی

اس کو تبدیل کرنے آئے ہیں

تخلیق کا راز

آنہا کہ محیط فضل و آداب شدند

در کشفِ علوم شمع اصحابِ شدند

رہ زین شب تاریک نہ بُردند برون

گفتند فسانۂ و در اصحاب شدند

ترجمہ

وہ جو شمع رُخ زمانہ ہوئے

فضل و آداب میں یگانہ ہوئے

رات ان کی بھی چین سے نہ کٹی

خواب میں بات کی’ فسانہ ہوئے

بے ثباتی حیات

ہر سبزہ کہ بر کنار جوئی رستہ است

گویا ز لب فرشتہ خوئی رستہ است

پا بر سر سبزہ بخواری نہ نہی!

کان سبزہ ز خاک لالہ روئی رستہ است

ترجمہ

ساحل جو کے سنبھل و ریحاں

حسرت رفتگان کے ڈیرے ہیں

پاؤں آہستہ رکھ کہ رستے میں

دردمندوں نے دل بکھیرے ہیں

حکمت و ضرب الامثال

از جملہ رفتگانِ این راہِ دراز

باز آمدۂ کو کہ بہ ما گوید راز

زنہار درین سراچہ از روی نیاز

چیزے نگذاری کہ نمی آئی باز

ترجمہ

جانے والا نہ کوئی بھی لوٹا!

پوچھتے کس سے حال رستے کا

مل ملا کے عزیز یاروں سے

جاں گزا ہے ملال رستے کا

عدمِ اطمینانی

افسوس کہ سرمایہ ز کف بیرون شُد

در دستِ اجل ، بسی جگرہا خون شُد

کس نامد ازان جہان کہ تا پُرسم از وی

کاحوال مسافران عالم چون شُد

ترجمہ

پوچھا پیر مغاں سے جب میں نے

جانے والوں کی کچھ خبر آئی!

گِر گیا آہ بھر کے پیمانہ!!

اور صراحی کی آنکھ بھر آئی!

صوفیانہ کلام

جانا! من و تو نمونۂ پرگاریم

سر گرچہ دو کردہ ایم یک تن داریم

بر نقطہ روانیم کنون دائرہ وار

تا آخرکار سر بہم باز آریم

ترجمہ

نیک دل آدمی نمونے ہیں

ایک مرکز کی دو لکیروں کے

آخرکار مٹ ہی جاتے ہیں

اختلافات ہم ضمیروں کے

مراقبہ ، غورخوض

گویند بہ حشر گفتگو خواہد بود!

وان یار عزیز تند خو خواہد بود

از نیکی محض جز نکویی ناید

خوش باش کہ عاقبت نکو خواہد بود

ترجمہ

حشر میں بھی وہ مہرباں ہوگا

اس کی بیداد دل نشیں ہوگی

ہے قیامت اسی کا نام

عاقبت کس قدر حسیں ہوگی (۲۰)

            بیسویں صدی میں انسان نے کرۂ ارضی سے باہر قدم کھا توا پنی ان تمام کامیابیوں کو بجاطور پر ماضی و حال کے عظیم مفکروں’ سائنس دانوں’ ریاضی دانوں’ ہیئت دانوں’ فلسفیوں’ ادیبوں’ فنکاروں اور دانشوروں کی اعلیٰ خدمات کا ثمر مانتے ہوئے’ چاند کی سطح کے مختلف حصوں کے نام ان عظیم علما کے نام پر رکھے۔ چاند کی سطح پر جو گڑھے یا غار نظر آتے ہیں انھیں (crater) کہتے ہیں۔ سیکڑوں کریٹروں کو بیشتر سائنس دانوں کے نام دیے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ خلانوردوں (مثلاً گیگارین’ آرمسٹرانگ) مصنفین (چوسر’ دانتے) دیومالائی کردار وغیرہ کے ناموں پر بھی کریٹروں کے نام رکھے گئے ہیں۔ ان ناموں میں کچھ خواتین کے نام بھی ہیں (کیرولین’ ہرشل’ میری سکولودوسکا’ کیوری)۔ چنانچہ چاند پر ایک کریٹر کو ‘‘عمرخیام’’ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ ضروری نہیں کہ کسی شخصیت کے عظمت کے حساب سے اس کا نام کا کریٹر بھی بڑا ہو’ چنانچہ نیوٹن اور گیلیلو کے نام کے کریٹر چھوٹے اور غیرنمایاں ہیں۔

            ۱۰۹۲ء میں عمرخیام کا دوست اور مربی’ نظام الملک قتل ہوگیا۔ اس کے چند ماہ بعد جلال الدین ملک شاہ بھی انتقال کرگیا’اور ملک شاہ کی دوسری بیوی ترکان خاتون نے اپنے کم عمر بیٹے کی سرپرست کے طور پر حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھال لی۔ ترکان خاتون کا ملک شاہ کے جانشین کے سلسلے میں نظام الملک سے اختلاف رائے تھا۔ چنانچہ اس کے منظور نظر افراد کی دربار سے چھٹی کردی گئی۔ خیام بھی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا۔ رصدگاہ کی سرپرستی ختم کردی گئی اور وہاں ہونے والی سرگرمیاں منسوخ ہوگئیں۔ کیلنڈر کی اصلاحات ابھی مکمل طور پر نافذ نہ ہوئی تھیں۔ نیز خیام کی رباعیوں میں پیش کردہ آزادی کی وجہ سے بعض دینی حلقے بھی اس سے خفا تھے اور اس کے لیے پریشانی کا باعث تھے۔ خیام کا قریباً اٹھارہ برس کا رصدگاہ سے وابستگی کا عرصہ جو خوش حالی اور علمی طور پر کامیاب زمانہ تھا اختتام پذیر ہوا۔ القفطی (۱۲۳۹-۱۱۷۲ء) کے خیال میں اس دور میں کفروالحاد کے الزامات کو دھونے کی غرض سے خیام نے حج بھی کیا۔ان سب واقعات کے باوجود خیام نے سلجوقی دربار میں رہ کر ملک شاہ کے جانشینوں سے رصدگاہ کی سرپرستی بحال کرانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ اس دور میں اس نے نوروزنامہ تصنیف کیا جس میں اس نے قدیم ایرانی حکمرانوں کی علوم و فنون کی سرپرستی اور قدیم ایرانی شمسی سالِ نو کے تہوار کا ذکر ہے۔ اس میں اس نے شمسی سال کی تاریخ بیان کرتے ہوئے نوروز کے تہوار کی سرگرمیاں بیان کیں۔ خصوصی طور پر اس نے قدیم ایرانی حکمرانوں کو فیاض’ علم و فن کے سرپرست’ تعمیر وترقی کے دلدادہ اور اہلِ علم کے قدردانوں کی حیثیت سے پیش کیا۔ خیام نے سلطان سنجر کے عہد میں اصفہان کو خیرباد کہا اور کچھ عرصہ مرو (ترکمانستان) میں گزارا جہاں اس نے میزان الحکم اور فی القسطاس المستقیم) تصنیف کیں’ جو اس نے شاگرد الخازنی نے اپنی تصنیف میزان الحکم میں نقل کیں۔ خیام نے میزان میں کسی جڑاؤ زیور میں خالص سونے اور چاندی کی مقدار کا تعین کرنے کے لیے کثافتِ اضافی معلوم کرنے کے الجبرے کے طریقوں کا استعمال کیا۔ فی القسطاس بیلنس میں متحرک اوزان اور متغیر پیمانوں کے استعمال کے بارے میں ہے۔

            خیام ایک فلسفی اور ریاضی دان تھا جو طبیعیات اور فطری علوم کی گتھیاں سلجھاتا رہا۔ اس کی جمالیاتی حس اسے شاعری پر اُکساتی تو کبھی کبھار رباعی کہہ کر اپنے جذبات کی ترجمانی کرلیتا۔ وہ ایک صوفی اور غناسطی تھا۔ اس کے باوجود اس کی اپیقوری شناخت جو بیشتر اس کی شاعری کے سطحی تاثر کی بنا پر مغرب میں اور بعض دوسرے حلقوں میں پیش کی گئی’ بے حد مبالغہ آمیز ہے۔

            فٹزجیرالڈ کے ترجمے کے بعد رباعیت کی مغرب کی عیش و عشرت کی دلدادہ اقوام نے خیام کے نام کو خمریات کی علامت بنا دیا۔ چنانچہ مغربی ممالک میں اس کے نام سے شراب خانے’ جواخانے’ نائٹ کلب وغیرہ عام ہیں۔ اس کی طلسماتی شخصیت پر کئی ناول لکھے گئے۔ تین خاموش فلمیں اور ۱۹۵۰ء میں ہالی وڈ کی معروف فلم اس کی زندگی پر تیار کی گئی۔ اس وقت بھی رباعیات کے کم از کم نو مختلف ایڈیشن صرف امریکہ میں دستیاب ہیں۔ حال ہی میں ایک پانچویں فلم The Keeper: The Legend of Omar Khayyamکے نام سے جون ۲۰۰۵ء میں لاس اینجلس میں نمائش کے لیے پیش کی گئی جسے ایرانی نژاد امریکی فلم ساز کیوان مشائخ نے لکھا’ ہدایات دیں اور پروڈیوس کیا۔ نئی فلم میں آسکر ایوارڈ یافتہ ایکٹریس ونیسا ریڈگریو (Vanessa Redgrave)نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ فلم کے بیشتر مناظر سمرقند اور بخارا میں فلمائے گئے۔ یہ فلم ۲۰۰۵ء کے ماسکو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے لیے منتخب کی گئی۔فلموں کے علاوہ امریکہ میں عمرخیام کی زندگی اور رباعیات پر متعدد گانے اور ڈرامے لکھے گئے۔ کارٹون Rocky and Bullwinkle جس میں چوہا اور گلہری The Ruby Yacht of Omar Khayyam کی تلاش میں نکلتے ہیں۔

            آسمان علم و فن کا یہ بادشاہ نیشاپور میں محواستراحت ہے’ پہلے اس کی لحد پر پھولوں کی چادر بچھی رہتی اور شبنم اس پر نچھاور ہوتی رہتی۔ ۱۹۳۴ء میں عالمی تعاون سے عمرخیام کا مقبرہ تعمیر کیا گیا۔ مقبرے کی ساخت ایستادہ خیمے کی شکل میں ہے۔ محراب در محراب بلند و بالا مقبرہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ محرابوں پر اس کی رباعیاں کندہ ہیں۔ وہ لحد میں بھی شکوہ کناں تو ہوگا۔

مرا یارانِ غزل خوانی شمردند!