‘کنہار ’کے دیس میں

مصنف : سید عمر فاران بخاری

سلسلہ : سفرنامہ

شمارہ : دسمبر 2009

            بارہ برس بیت چلے، جب ہم نے پہلی بار سوات کی وادی جنت نظیر کو دیکھا تھا۔ تب سے لے کر آج تک یہ خواہش ہر برس گرمیوں کی چھٹیوں میں بار بار سر ابھارتی رہی کہ اس وادی کو پھر سے دیکھا جائے اوراب جب کہ اس برس اس خواہش کے پورا ہونے کے اسباب نظر آئے تو معلوم ہوا کہ سوات اب وہ سوات نہیں رہا جو ہم نے دیکھا تھا۔ اب یہ گولی کا ، ڈنڈے کا، کرفیو کا، بارود کا ،اور بد امنی کا گھر ہے اور اس وادی کو اس انجام تک کسی اور نے نہیں ہم سب نے مل کر خود ہی پہنچایا ہے ۔ چنانچہ ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کے بجائے اس جھیل کی طرف سفر کیا جائے جس کے بارے میں سنا ہے کہ اس کے دامن میں پریاں اترتی ہی ۔یعنی جھیل سیف الملوک

             ہماری پوری فیملی لاہور کے ایک بس سٹینڈ پر ‘‘پریوں کے مسکن’’ کی جانب روانہ ہونے کے لیے بے قرار تھی…… مگر سفر تھا کہ شروع ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ حسب روایت ایک گھنٹے کی تاخیر سے بس روانہ ہوئی یعنی رات بارہ کے بجائے ایک بجے ۔

ہمارے رویے

            دوران سفر ہماری خود غرضی اور بے حسی کا‘ شاندار’ مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ ہماری سے اگلی اور اسی طرح پچھلی نشستوں پر براجمان مسافر نہایت فراخدلی سے اپنی اپنی نشستوں کو ‘بستر’ بنانے میں مصروف رہے اور درمیان میں‘ہم بے چاروں’ کی ٹانگیں پیٹ میں دھنستی رہیں مگر برا ہو اس‘مروت اور شرافت’ کا ، جو ہمیں ورثے میں ملی ہے، جس کی بدولت ہم ‘روایتی احتجاج’بھی نہ کر سکے۔ اپنے تئیں بہتیری کوشش کی کہ انہیں اس بات کی نزاکت کا ادراک ہو جائے کہ جناب آپ دونوں کے درمیان کوئی اور بھی ہے جس کی ٹانگیں پیٹ میں دھنستی جا رہی ہیں مگر بے سود……مرتے کیا نہ کرتے ، یوں ہی سوتے جاگتے ہمارا سفر جاری رہا۔

پرانے مہربانوں کے جلو میں

            اللہ اللہ کر کے یہ سفر مانسہرہ میں اپنے اختتام کو پہنچا اور ہم اپنے ٹھکانے پر پہنچے۔ تقریباً آٹھ برس پہلے کے بہت سارے مناظر نگاہوں میں گھوم گئے۔ ہم اپنے میزبان رشید صاحب کے خلوص سے اندر تک بھیگ گئے۔ اس مادہ پرستی کے دور میں ایسے پر خلوص لوگوں کا وجود ہی کائنات کے باقی رہنے کا جواز بنتاہے ورنہ تو…… رشید صاحب کو دیکھ کر ان پر بے انتہا رشک آیا۔ ستر برس کی عمر میں بھی اللہ کریم نے انہیں کیا خوب صحت سے نوازرکھا ہے اور کیوں نہ نوازے ، وہ ہیں ہی اس قابل کہ انہیں نوازا جائے۔

احساس شرمندگی

            تازہ دم ہوئے تو انکل (رشید صاحب) سے ہلکی پھلکی بات چیت ہوئی۔ ان کے معمولات کے بارے میں دریافت کیا تو پتا چلا کہ روزانہ قرآن پاک کی تلاوت ان کا دستو رہے اس تناظر میں جب خود پہ نگاہ ڈالی تو سوائے شرمندگی کے اور کچھ ہاتھ نہ آیا۔

            جولائی کے آخر میں بھی مانسہر ہ کا موسم انتہائی خوش گوار تھااور اس قیام کی خوش گواری میں مزید اضافہ انکل کی مہمان نوازی نے کر دیا۔

بیتے دن

            انکل کو دیکھ کر بہت سے مناظر ذہن میں تازہ ہو گئے ۔مجھے یا د آیا کہ انکل جب لاہور میں تھے تو ایک شعر پڑھا کرتے تھے۔‘‘چکور خوش ہے کہ بچوں کو اڑنا آگیا ۔ اور اداس بھی ہے کہ بچھڑنے کی رت آ پہنچی۔ مجھے یہ دیکھ کر طمانیت ہوئی کہ ‘‘چکور ’’خوش ہے اگر چہ بچے ‘‘اڑ’’ چکے ہیں۔

            اسی طرح وہ دن بھی یاد آیا ہے کہ جب ابوچالیس دن کے لیے تبلیغی جماعت کے ساتھ گئے تھے مگر پھر یہ چالیس دن بہت لمبے ہو گئے تھے ۔ اور اس سار ے عرصے میں انکل نے جس طرح ہمارا ساتھ دیا تھا وہ مجھے رہ رہ کر یا د آ رہا تھا۔ مجھے یا د آیا کہ اگرچہ اس وقت میں آٹھ یا نو سال کا تھا لیکن نیند نہ آ سکی تھی۔ دادی امی کی پریشانی بھی ان کی آنکھوں سے جھلک رہی تھی ۔ امی کو تو کسی پل قرار نہیں ملتا تھا۔ ابو نے آج سر شام واپس آنا تھا مگر رات گئے تک بھی نہ پہنچے تھے ۔ سارا گھر سراپا انتظار تھا۔ مگر انتظار طویل ہو تا جارہا تھا۔ سردیوں کی یخ بستہ طویل رات ہمارے لیے قیامت کی رات بنتی جا رہی تھی۔ ہمیں بہلا پھسلا کر امی نے سلا ہی دیامگر نماز فجر سے پہلے آنکھ کھلی توپھر بھی ابو کو موجود نہ پاکر ایک عجیب سی بے یقینی ہوئی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ ابو وعدہ پورا کیا کرتے ہیں ۔ آج تو انہوں نے آنے کا وعدہ کیا تھا۔ہم بھائی ،کاشف بھائی( میرے کزن) کے ساتھ مسجد میں گئے تو جناب منظور (ابو کے چلّے کے ساتھی )کو مسجد میں پا کر خوشی سے گھر کو بھاگے آئے مگر گھر آئے تو ابو پھر بھی نہ تھے۔امی کو ہم نے جب بتایا کہ منظور صاحب تو آگئے ہیں ، ابو کیوں نہیں آئے توان کی رہی سہی ہمت بھی جاتی رہی۔ کاشف بھائی مسجد سے آئے تو انکے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑ رہی تھیں ، معلوم ہوا کہ ابوکا خوفناک ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ۔خیر یہ الگ سے ایک کہانی ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ آزمایش کے ان دنوں میں جو کم از کم ڈیڑھ سال پر محیط تھے جن ناخداؤں نے ہم بچوں کا بھر پور ساتھ دیا ان میں انکل رشید کا نام بھی بہت نمایاں ہے اسی طرح ایک دوسرے آپریشن کے دوران میں بھی انکل اور حسن بھائی نے جس طرح ابو کو ہسپتال میں سنبھالا وہ بھی میرے لیے یادگار ہے۔

            رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی یاد آیا کہ جب تراویح کی نماز میں میری ایک جانب ابو کھڑے ہوتے تو دوسری جانب رشید صاحب۔ میں ذرا سا ادھر کھسکتا توابو کہنی سے مجھے سیدھا کر دیتے اور دوسری طرف ہوتا تو انکل ۔

            خیر یہ تو پرانی باتیں تھیں۔ رات کے کھانے کے بعد محفل جمی تو وہ انتہائی سہانا منظر تھا۔ ایک جانب مون سون کی بارش زوروں پر تھی تو دوسری جانب پرانی یادیں۔ کچھ اہل جنوں کے بارے میں۔

            اس ‘‘پریوں کے مسکن’’ کی سیر کو جانے کے لیے ہمارے ساتھ مجاہد صاحب اور ناصر صاحب کی فیملیاں بھی موجود تھیں۔ دونوں ہی صاحبان کی فطرت میں خدا کی قدرت کو دیکھنے اور پھر اس کو جذب کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ دونوں اپنی اس بے کلی کو دور کرنے کے لیے اکثر ادھر ادھر گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور اس بار گھومنے کے لیے انہوں نے ہمارا ساتھ منتخب کیا تھا۔یہ ان کی عنایت تھی۔

مانسہرہ سے ناران تک

            ان اہل جنوں کی رفاقت میں اگلے روز صبح ہم سب ناران کی جانب عازم سفر ہوئے۔ گاڑی اپنی ہی بک کروالی تھی تاکہ مانسہرہ سے ناران تک کے سفر میں کوئی دقت نہ ہو۔ یہ دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی کہ اس سفر میں بہترین سڑک موجود ہے۔

            مانسہرہ سے ناران جاتے ہوئے ہمارا پہلا پڑاؤ بالاکوٹ تھا۔ بالا کوٹ شہر میں چار سال گزرنے کے باوجود بھی زلزلے کے بہت واضح آثار موجود ہیں۔ کٹی پھٹی زمین ، ایسے معلوم پڑتا ہے جیسے کسی نے ان پہاڑوں کا فخر و تکبر ملیامیٹ کر کے رکھ دیا ہو۔ بالاکوٹ کے بازار میں سے گزرتے ہوئے ایک جانب وین ٹھیرائی گئی اور ہم دعا کے لیے سید احمد شہیدؒ کے مزار پر حاضر ہوئے۔ ہاتھوں کو بارگاہ ایزدی میں کیا بلند کیا کہ آنکھیں دھندلا گئیں اور یوں محسوس ہوا کہ وادی کے کوہ و دمن بھی اشک بار ہیں اور کیوں نہ ہوں کیا کبھی کسی نے ایسا ظلم دیکھا ہو گا…… سیدؒ نے برصغیر کا عرق کشید کیا تھا او راس عرق کو لے کر سید نے طاغوت کے خلاف آواز بلند کی تھی ۔ جن کو سیدؒ کے پاؤں دھو دھو کر پینے چاہییں تھے انہی نے تاریخ مسلم کو ایسا چرکا لگایا کہ برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ آج تک نہیں سنبھل سکی۔ کیا نہیں تھا سیدؒ کے پاس، سبھی کچھ تو تھا مگر پھر بھی انہیں مسیحائی کا شوق تھا۔ وہ تو ‘‘دیوانے’’ تھے ، انہیں سمجھنا چاہیے تھا کہ دیوانوں کی یہاں کوئی جا نہیں۔ میری آنکھیں آج بھی اشک بار ہیں اس ظلم پر جو بالاکوٹ کے کوہ و دمن میں ڈھایا گیا۔ مسلمانوں نے اپنے مسیحا کے ساتھ ایسی ‘‘مسیحائی’’ کی کہ الامان الحفیظ۔ ایک وہ منظر تھا جب سیدؒ کے ساتھ اسی ہزار کا لشکر تھا مگر تھے منافق اور ایک آج کا منظر ہے ، ہیں تو مٹھی بھر مگر یہ مٹھی بھر برصغیر پاک و ہند کا عطر ہیں جو آج بالاکوٹ میں امر ہو گیا…… جس کی لحد کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے صدیوں سے کنہار رواں دواں ہے، پہاڑ ایسے ایستادہ ہیں گویا سلامی دے رہے ہوں۔

            اپنوں کی ‘‘مسیحائی’’ سے شرمندہ، ‘‘مسیحا’’ کی آرامگاہ پہ پشیماں دل اور نم آنکھوں سے فاتحہ پڑھی اور اس کے بعد دریا کی جانب بڑھے۔ دریا کے پل پر ایک تصویر لی جو کہ آج تک ہماری فیملی کی بہترین تصویر ہے ۔ اس کے ساتھ ہی کیمرے کی آنکھ نے اس خوبصورت نظارے کو امر کر دیا۔

وادی کاغان

            یہاں سے پریوں کے مسکن کی حامل وادی یعنی وادی کاغان کا سفر شروع ہوتا ہے۔ ناران اور کاغان دو وادیاں نہیں بلکہ وادی ایک ہی ہے یعنی وادی کاغان جبکہ ناران اس کا ایک مقام ہے۔بالاکوٹ وادی کاغان کا دروازہ ہے ۔ اس سے پہلے کہ ہم اس دروازے سے گزر کر گھر یعنی وادی کاغان میں داخل ہوں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے مکینوں کا تعارف بھی ہو جائے۔ یاد رہے کہ یہ تعارف بھی ہم نے ہر سفر نامہ لکھنے والے کی طرح مختلف کتابوں سے اکٹھا کیا ہے تا کہ ہماری معلومات کا رعب بیٹھ جائے ۔

            ‘‘ وادی کاغان پاکستان کی خوبصورتی کا چمکتا ہوا ایک دل کش ستارہ ہے۔ وادی کے آسمان کو چھوتے ہوئے برف پوش پہاڑ اور ان پہاڑوں میں سے جھانکتی ہوئی جنت نظیر وادی انتہائی دل کش اور قدرتی رعنائیوں سے مزین ہے۔ تقریبا 800 مربع کلومیٹر میں پھیلی ہوئی یہ وادی انتہائی خوبصورتی سے برف کی چادر اوڑھے ہوئے ہے۔ ہر سو پھیلی ہریالی ، پھول ہی پھول اور اونچے اونچے درخت اور ان پر بیٹھے میٹھے میٹھے گیت گاتے ، خدائے رب العزت کی ثنا بیان کرتے پرندے ، گونجتی آوازیں ، اونچے نیچے بل کھاتے راستے ، نیلگوں پانی کی جھیلیں اور چھن چھن کرتی آبشاریں ہر آنے والے سیاح کو اپنے سحر میں ایسا جکڑتی ہیں کہ وہ واپسی کا راستہ ہی بھول جاتا ہے۔ سیاح ان نظاروں کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتے۔ وادی کاغان کی اونچائی تقریبا 2800 فٹ سے شروع ہو کر 13700 فٹ تک بابو سر تک پہنچ جاتی ہے۔ وادی کا سانپ کی طرح بل کھاتا جھومتا ہوا یخ پانی کا دریا، کنہار ، جھیل لالو سر سے نکلتا ہوا پوری وادی میں گھومتا ہے جس میں دوسری جھیلیں اور آبشاریں بھی شامل ہوتی رہتی ہیں۔ دریائے کنہار کی سب سے بڑی سوغات ٹراوٹ مچھلی ہے جو نہایت لذیذ ہے۔ دریائے کنہار اور وادی کاغان کی ایک اور خاصیت یہاں پر water sports کی ابتدا ہے ۔

            وادی کاغان کا سفر اب نہایت آرام دہ ہے کیونکہ انتہائی اچھی سڑک موجود ہے۔ وادی کاغان کے لیے اسلام آباد سے سفر کا آغاز پشاور روڈ سے کریں تو حسن ابدال سے دائیں طرف ہری پور کی طرف سے ہوتے ہوئے ایبٹ آباد اور مانسہرہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں سے کاغان روڈ شاہراہ ریشم سے الگ ہو کر جابہ پاس کے جنگلات سے گزرتی دریائے کنہار کے سنگ سنگ وادی بالاکوٹ جا پہنچتی ہے۔ بالاکوٹ وہی شہر ہے جہاں مئی 1831 میں سکھوں کے ساتھ فیصلہ کن معرکہ لڑا گیا اور جس میں حضرت سید احمد ؒ بریلوی اور شاہ اسماعیلؒ شہید نے جام شہادت نوش کیا اور یہیں مدفون ہوئے۔ بالاکوٹ و ادی کاغان کا گیٹ ہے ۔ یہاں پر ہر طرح کا کاروبار ہے ۔ سیاحوں کے لیے تمام سہولتیں دستیاب ہیں۔ بالاکوٹ سے تقریبا 24 کلومیٹر کے فاصلے پر کیوائی کا قصبہ ہے جہاں سے ایک سڑک شوگراں کی طرف جاتی ہے جو کہ یک دم سیدھی اوپر کی جانب اٹھتی ہے ۔ شوگراں سطح سمندر سے تقریبا 7700 فٹ کی بلندی بہت خوبصورت جگہ ہے۔ شوگراں کی خوبصورتی کا اصل راز سری اور پائے کی کشش ہے ۔ شوگراں سے پیدل یا جیپ کے ذریعے 6 کلومیٹر کی دوری پر واقع سری کا حسین و جمیل سرسبز علاقہ ہے ۔ یہاں پر ایک چھوٹی سی جھیل اور ریسٹ ہاؤس ہے۔ سری سے صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر پایہ کا حسین و دل کش مقام ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریبا 10100 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہ دراصل کوہ مکڑا کا دامن ہے۔

            شوگراں کی بجائے اگر کاغان روڈ پر سفر کریں تو کیوائی سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر پارس کا علاقہ ہے ۔ پارس سے ایک سڑک دریا کے پار بل کھائی ہوئی کوئی تقریبا 15 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے 7870 فٹ بلندی پر واقع مقام شٹراں جاتی ہے۔ گھنے جنگلات میں واقع یہ پرسکون مقام بالکل غیر آباد اور تنہائی پسند لوگوں کے لیے بہت ہی پرکشش اور آرام دہ مقام ہے ۔ یہاں پر ایک ریسٹ ہاؤس بھی ہے۔ یہ مقام پہاڑ موسی کا مصلی کے نیچے دامن میں واقع ہے ۔ ہر طرف خوبصورت نظاروں کے ساتھ ساتھ چیتے اور ریچھ بھی پائے جاتے ہیں ہے۔ کاغان روڈ پر پارس سے چند کلومیٹر پر ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش گاہ شینو کا علاقہ ہے۔ شینو کے بعد جرید کا مقام آتا ہے۔ یہ علاقہ لکڑی کے دیدہ زیب کا م کے لیے مشہور ہے۔ یہاں سے آگے مہانڈری کا مقام ہے۔ مہانڈری ایک خوبصورت قصبہ ہے ، یہاں پر درہ منور سے آنے والا نالہ دریائے کنہار سے ملتا ہے ۔ مہانڈری سے درہ منور گلی ، بیاڑی اور کچ گلی کے لیے پیدل راستے نکلتے ہیں ۔ مہانڈری سے مزید آگے کھنیاں اور ڈنہ میڈوز جیسے خوبصورت چھوٹے چھوٹے مقام آتے ہیں ۔ کھنیاں سے تقریبا 5 کلومیٹر پر کاغان کا قصبہ آتا ہے ، وادی کا نام بھی اسی قصبے کا نام پر ہے۔ اس قصبے میں کھانے پینے کی ہر چیز دستیاب ہے اور یہاں پر معیاری ہوٹل بھی ہیں۔ اپریل میں سیزن شروع ہونے پر ناران کا راستہ بند ہونے کی بدولت لوگ یہاں پر قیام کرتے ہیں ۔ کاغان روڈ خوبصورت چھوٹی چھوٹی آبشاروں ، خوبصورت نظاروں سے مزین ناران پہنچتی ہے ۔ ناران کاغان سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور سطح سمندر سے تقریبا 8000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔ یہ وادی کا قلب ہے اور اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سیزن کے دنوں میں یہاں پر کھوے سے کھوا چھلتا ہے ۔ ناران سے مختلف مقامات کی جانب راستے نکلتے ہیں۔ ناران کے مشہور ہونے کی وجہ یہاں سے پریوں کے مسکن (جھیل سیف الملوک) کی قربت ہے۔ جھیل ناران سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر سطح سمندر سے 10100 فٹ بلندی پر واقع ہے ۔ یہ ایک شہرہ آفاق افسانوی ، رومانوی اور سحر انگیز جھیل ہے۔ جھیل پر ملکہ پربت کا عکس عجیب سماں باندھتا ہے ۔ اس جھیل سے پریوں کے تعلق کی بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ سیف الملوک سے پیدل راستہ آنسو جھیل کی طرف جاتا ہے جو کہ پرخطر ہے۔ آنسو جھیل سارا سال برف سے ڈھکی رہتی ہے ، اس کی بلندی 13500 فٹ ہے۔ سیف الملوک سے آنسو جھیل جانے کے لیے تقریبا آدھا دن درکار ہے۔ آنسو جھیل سے بیاڑی اور درہ منور گلی بھی جا سکتے ہیں۔ کاغان روڈ پر ناران سے 16 کلومیٹر کے فاصلے پر بٹہ کننڈی کا قصبہ ہے جہاں سے پھولوں کی سرزمین لالہ زار تک پیدل یا جیپ سے جا سکتے ہیں ۔ لالہ زار سطح سمندر سے 10500 فٹ بلند ہے ۔ لالہ زار واقعی لالہ زار ہے اور یہ نہایت دلنشیں تتلیوں کا مسکن ہے۔ بٹہ کنڈی سے 13 کلومیٹر کے فاصلے پر بڑوہی کا مشہور قصبہ ہے جہاں پر ایک ریسٹ ہاؤس موجود ہے۔ یہاں سے 13 کلومیٹر کے فاصلے پر جلکھڈ کا غیر آباد مگر پرسکون علاقہ ہے ۔ جلکھڈ سے مشرق کی جانب ایک سڑک نوری ٹاپ پر جاتی ہے جو کہ آگے جا کر آزاد کشمیر میں داخل ہوتی ہے ۔ جلکھڈ ہی سے ایک سڑک سیدھی اوپر کی جانب بیسل چلی جاتی ہے جو کہ پتھریلا علاقہ ہے ۔ بیسل سے ایک راستہ جھیل دودی پٹ سر کو جاتا ہے جو کہ یہاں سے 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ راستہ انتہائی دشوار گزار ہے اور راستے میں گلیشئرز بھی ہیں ۔ یہ جھیل 12500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔ یہ ایک بہت ہی جادوئی نیلگوں پانی کی جھیل ہے ۔ یہاں سے سرال گلی اور رتی گلی کو بھی راستے جاتے ہیں ۔ بیسل ہی سے 2 کلومیٹر کے فاصلے پر لالو سر جھیل موجود ہے جو کہ سطح سمندر سے 11000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔ اس جھیل کا ماحول بہت ہی جادوئی اور ڈراؤنا ہے ۔ ہر جانب ایک ہیبت ناک خاموشی ہے۔ لالو سر سے 9 کلومیٹر آگے گیتی داس کا گاؤں ہے یہاں پر گرمیوں میں چلاسی لوگ آباد ہو جاتے ہیں ۔ دریائے کنہار کا ماخذ بھی یہی جھیل یعنی کہ لالوسر ہے۔ گیتی داس سے کے سرسبز میدان ختم ہوتے ہی چلاس کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے یہاں سے بابو سر تک جایا جا سکتا ہے یہ بالاکوٹ سے 162 اور ناران سے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سطح سمندر سے 13700 فٹ بلند ہے ۔ یہاں سے دائیں جانب کشمیر کا علاقہ نظر آتا ہے اور اگر موسم بالکل صاف ہو تو شمال مشرق کی جانب نانگا پربت کے دل کش نظارے سے بھی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے ۔ وادی کاغان کرہ ارض پر واقعی کسی جنت سے کم نہیں۔’’

مقامی ثقافت

            یہاں کے مقامی لوگ گجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور صدیوں سے یہاں پر آباد ہیں مگر ان کی بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ صدیوں سے یہاں پر آباد ہونے کے باوجود وہ کسی اور کے مرہون منت ہیں…… انہیں اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے بھی اپنے وڈیروں سے اجازت طلب کرنا ہوتی ہے۔ ایک خاندان بلاشرکت غیرے اتنی بڑی وادی کا مالک ہے۔ اس خاندان کے لوگ ہمیشہ اسمبلی میں موجود رہتے ہیں اور وزارتوں کے مزے بھی لوٹتے ہیں ۔ یہ انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ اتنے خوبصورت خطہ زمین کے خوبصورت مکین حق ملکیت سے محروم ہیں……

            یہاں کے لوگ سادہ ہیں۔ آبادیاں بہت کم ہیں۔ لوگ پہاڑوں پر رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ایک گھر بالکل نیچے واقع ہے تو دوسرا گھر پہاڑ کے وسط میں تو تیسرا گھر پہاڑ کی چوٹی کے قریب۔ پہاڑوں کی ڈھلوانیں انتہائی پرخطر ہیں مگر یہاں کے مقامی لوگ بلا کسی جھجک کے اوپر نیچے آتے جاتے ہیں جو ہم جیسے کسی شخص کے لیے ناممکن ہے۔

            یہاں کے مقامی لوگوں کی معیشت کا انحصار زراعت پر یا گلہ بانی پر ہے۔ اکثر گھروں کے سربراہ بیرون ملک ہیں۔ یہ لوگ یہاں پر صرف گرمیوں کے چند ماہ گزارتے ہیں اور فصل حاصل کرنے کے بعد یہاں سے میدانی علاقوں کی جانب کوچ کر جاتے ہیں۔ یہ سال کا بیشتر حصہ میدانی علاقوں میں گزارتے ہیں۔ جیسے ہم نے اپنی جیپ کے ڈرائیور سے پوچھا کہ وہ سردیوں میں کیا کرتا ہے تو اس نے بتایا کہ وہ سردیوں کے موسم میں پنجاب میں ڈرائیونگ کرتا ہے۔

بالاکوٹ سے ناران

            بالاکوٹ سے ناران کی جانب گامزن ہوئے ۔ راستے میں دو ایک جگہ پر رک کر تصویریں اتاریں۔ غالباً مہانڈری کے مقام پر ایک نہایت یخ اور خوبصورت چشمہ ہے جہاں پر ناصر صاحب اور مجاہد صاحب وغیرہ نے باقاعدہ غسل شروع کر دیا۔ ہماری تو یہ دیکھ کر ہی جان نکل گئی کجا کہ ایسی کوشش کرتے ۔ پانی نہایت یخ بستہ تھا۔ خیر کچھ دیر یہاں قیام کے بعد آگے کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں مختلف جگہ رکتے رہے اور چلتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ خدائے رب العزت کی اس صنعت پر اس کا شکر ادا کرتے رہے مگر ساتھ ہی ساتھ دل بھی کڑھتا رہا کہ آخر ہماری حکومت ایسی خوبصورت جگہوں سے بیرونی دنیا کو کیوں نہیں روشناس کراتی جس سے ہمیں بے تحاشا زر مبادلہ حاصل ہو سکتا ہے ۔ صرف سیاحت ہی سے وطن عزیز کو اتنا عزیز زر مبادلہ حاصل ہو سکتا ہے کہ یہ‘‘ کیری لوگر’’ ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکیں مگر اس کے لیے ہمت بھی درکار ہے اور غیرت بھی۔ یونہی راستے میں ایک اور جگہ کچھ دیر کے لیے قیام کیا اور یہ دیکھ آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں کہ ایک پوری نہر کی نہر سڑک کے اوپر رواں دواں ہے۔ یہ انتہائی خوبصورت چھوٹا سا گلیشئر ہے اور واقعی قابل دید ہے۔ یہاں پر گرماگرم پکوڑے کھائے تو طبیعت ہشاش بشاش ہو گئی۔ شام ڈھلنے کو تھی اور صبح ہی سے عازم سفر تھے سو جلدی جلدی وہاں سے عازم سفر ہوئے اور شام کے دھندلکے پھیلنے تک ناران پہنچ ہی گئے۔

ناران

            ناران انتہائی خوبصورت جگہ ہے۔ یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہیں رہتی کہ اتنے تنگ پہاڑوں کے دامن میں اتنی چوڑی وادی…… اس وادی کا پاٹ بہت ہی چوڑا ہے جو کہ سیاح کے لیے بہت ہی حیرت انگیز اور پرلطف ہے۔ ناران میں اب بے شمار ہوٹل موجود ہیں۔ بازار کافی بڑا ہے۔ بازار میں رش بہت زیادہ ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے گویا لاہور کی انارکلی میں پہنچ گئے ہوں۔ ناران اب ایک مہنگا علاقہ ہے۔

خوفناک رات

            سرشام ناران پہنچے تو خواتین اور بچوں کو سامان کے پاس چھوڑ کر ہوٹل کی تلاش میں نکلے تو ہوٹل ملنا ہی مشکل ٹھہرا۔ مہنگائی بہت زیادہ تھی۔ ساتھ ہی ہلکی ہلکی پھوار بھی شروع ہو گئی جس سے موسم کی دلکشی و خنکی میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ بڑی مشکل سے وادی کے آخری سرے پر ایک چھوٹے سے ہوٹل میں سر چھپانے کو جگہ ملی۔ بارش ہونے کے باعث ایک خالی وین والے سے درخواست کی کہ ہمیں ہوٹل تک چھوڑ آئے تو یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وین والے نے آدھا کلومیٹر کا فاصلہ 100 روپے میں بھی طے کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ یہ سیزن کا مہینہ تھا۔ خیر پیدل مارچ کر کے ہوٹل پہنچے اور کمرے میں پہنچے تو یہ دیکھ کر تسلی ہوئی کہ کمرہ بہر حال مناسب تھا۔

            ناران پہنچ کر یہ اطلاع ملی کہ یہاں پر سرے سے لائٹ موجود ہی نہیں…… یہ سن کر سمجھ میں نہ آیا کہ روئیں یا ہنسیں۔ ہوٹل میں سامان رکھ کر شام کو باہر نکلے تو ہوٹل کے سامنے ہی جامع مسجد واقع تھی ۔ مسجد میں نماز مغرب ادا کی ۔ مسجد کی عمارت دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا، نہایت خوبصورت اور وسیع و عریض مسجد ہے مگر لائٹ نہ ہونے کے سبب اندھیرے ہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ نماز کے بعد ہوٹل واپس آئے تو پیٹ میں نجانے کیا کچھ دوڑ رہا تھا…… رات کو باہر بازار میں نکلے کہ بھوک کا کوئی ساماں ہو مگر باہر کے نرخ جان کر لگا کہ شاید یہاں پر صبر شکر کر کے روزہ ہی رکھنا ہو گا مگر مرتے کیا نہ کرتے ‘‘سستی خوراک’’ ڈھونڈ ہی لی ، یہاں پر یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے کوئی معرکہ سر کر لیا ہو۔ کھانا کھانے کے بعد واپس ہوٹل کی جانب چلے ، رات کو بالکل ایسے ہی سردی تھی جیسی اب لاہور میں دسمبر میں ہوا کرتی ہے۔ اور پانی تو ایسے تھا کہ مریض کو بے ہوشی کوٹیکہ لگانے کی ضرورت ہی نہیں ر ہتی۔ آپ جسم کے کسی حصہ پر پانی انڈیلیں اور اس کے بعد بھول جائیں کہ جسم کا وہ حصہ کبھی موجود بھی تھا۔

            ہوٹل واپس آئے تو چاہاکہ سونے کی رسم بھی پوری کر ہی لیں حالانکہ حقیقت میں وہاں جا کر سونے کو جی نہیں چاہتا۔ نجانے کیا وقت تھا جب آنکھ لگی ۔ نیند میں ایسا محسوس ہوا جیسے شور برپا ہے ، چیخ وپکار ہو رہی ہے ، لوگ مدد کو بلا رہے ہیں۔ کچھ دیر تک یہی سلسلہ رہا ، لگتا تھا جیسا خواب ہے مگر جب آہ وپکار بڑھی تو یک دم آنکھ کھل گئی۔ حواس کی دنیا میں کیا آئے کہ حواس ہی جاتے رہے ۔دیکھا تو ابو ، امی اور سبھی جاگ رہے تھے رات کوئی تین بجے کا وقت تھا۔ ہوٹل کے کمرے سے کچھ سائے سے محسوس ہو رہے تھے ، جونہی کمرے کے روشندان سے باہر نگاہ پڑی تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا…… خوف کی لہر ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کرتی چلی گئی اور پہلے تو سمجھ میں نہ آیا کہ یہ آگ…… کہاں لگی ہوئی ہے ، ایسا معلوم پڑتا تھا جیسے ہمارے کمرے کے بالکل ساتھ آگ کا سمندر موجزن ہے۔ خیر خدا خدا کر کے سانس کو سانس سے جوڑا تو یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ کیا کیا جائے۔ فوراً نیچے اترے ، لائٹ تو تھی نہیں اندھیرے ہی میں ہوٹل والوں کا جگانا چاہا مگر وہ تو نجانے گھوڑوں کے ساتھ اور کیا کیا بیچ کر سو رہے تھے…… خود ہی ہوٹل کا دروازہ کھولا اور باہر کی جانب بھاگے ۔ باہر جو نکلے تو دیکھا کہ آگ تو پہاڑوں کی چوٹیوں کا مقابلہ کرنے کو تلی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ ایک تندور تھا جس سے آگ بھڑک اٹھی اور اب سارے ہوٹل اور کیمپ کو جلانے پر تلی ہوئی ہے ۔شکر خدا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ خوف سب کی آنکھوں میں نمایاں تھا۔ ۔ رات نہایت یخ تھی۔ کمبل میں بھی سردی لگتی رہی مگر جو یہ منظر دیکھا تو سردی وردی سب حواس جاتے رہے ۔ سردی کا تو نام و نشاں بھی باقی نہ بچا۔ وہاں کا عجیب منظر یہ تھا کہ لوگ بالکل تیار حالت میں گاڑیاں سٹارٹ کر کے اپنے اپنے کیمرے نکال کر ویڈیو بنانے میں مصروف ہیں کہ کہیں یہ منظر بھی کیمرے میں مقید ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ اس قیامت کی گھڑی میں بھی لوگوں کو ایسا سوچنے کا موقع تھا…… سب تیاری مکمل تھی بھاگ نکلنے کی ، بس دعائیں کر رہے تھے کہ خدایا اس آگ کو بجھا دے ورنہ اگر وہ آگے مزید بھڑک اٹھتی تو خدانخواستہ سارے کا سارا شہر ہی راکھ کا ڈھیر بن کر رہ جاتا کیونکہ مکمل شہر لکڑی کا بنا ہوا ہے۔ ایک طرف بھاگ نکلنے کا فکر دامن گیر تھا تو دوسری جانب سیف الملوک نہ دیکھنے کا غم تھا۔ مگر جوں جوں فجر کا وقت قریب آتا گیا رحمت خداوندی نازل ہوتی گئی اور آگ مدھم پڑتی گئی۔ نماز کے بعد سورج نکلنے تک وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔

صبح دل بہار

            مجاہد صاحب پہلے بھی یہاں آچکے تھے ۔ انہوں نے ہمیں ناران کی صبح کی نہایت دل کش منظر کشی کی تھی۔ ہم نماز کے بعد ان کا انتظار کر تے رہے کہ کب وہ آئیں اور کب ہم طلوع سورج سے پہلے دریا تک پہنچ جائیں مگر وہ تو نجانے کتنے خرگوش کھا کر اور کتنے گھوڑے بیچ کر سوئے تھے کہ خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے…… خیر ہم خود ہی نماز کے بعد وادی کے باہر کو چل دیے مگر اس وقت تک سورج طلوع ہو چکا تھا۔ معلوم تو تھا نہیں یونہی سیدھے چلتے گئے ، آگے پل آیا تو پل کے ساتھ ساتھ دائیں جانب چل پڑے ، اوپر سے بہت تیز پانی شور مچاتا بہتا آرہا تھا ۔ جہاں تک جا سکتے تھے اوپر نالے کے ساتھ ساتھ چلتے رہے اور پھر کچھ دیر کے بعد واپس لوٹ آئے۔ واپس آئے تو مجاہد صاحب کو منتظر پایا۔ خیر ان کی معیت میں دوبارہ ابو اور امی کو لے کر دریا کی جانب چلے، اب کے ہم پل پار کر کے سیدھا آگے بڑھ گئے، آگے جا کر PTDC کا ہوٹل نظر آیا جبکہ دریا نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا ، ہوٹل کے بالکل ساتھ سے بائیں جانب اندر کی جانب چلتے چلے گئے، آگے جا کر جو دیکھا اس سے تو میری روح بھی سرشار ہو گئی ، اتنا دل لبھانے دینے والا منظر کہ الفاظ نہیں، دریا کا پاٹ انتہائی چوڑا جیسے کہ میدانی دریا ہوتے ہیں اور بالکل ایسے ہی پرسکون۔ وہاں پر فضا میں روئی کے گالے اڑتے پھرتے ہیں، یہ سب دیکھ آپ اپنے آپ میں نہیں رہتے ، آپ کہیں ا ور ہی جا پہنچتے ہیں۔ اس بات کا افسوس ہمیشہ رہے گا کہ وقت کی کمی کے باعث اس منظر سے ابھی صحیح طرح سرشار بھی نہ ہونے پائے تھے کہ مجبوراً واپس آنا پڑا۔ میرا من تو یہاں سے جانے کو چاہتا ہی نہ تھا بس جی کرتا تھا کہ اپنی ساری زندگی یہیں بیٹھا بیٹھا گزار دوں……

پریوں کے مسکن میں

            مجبوراً دریائے کنہار سے واپسی ہوئی اور ناشتہ کیا ۔ ناشتے کے فورا ًبعد سیف الملوک کی جانب عازم سفر ہوئے۔ لوگوں سے بہت سنا تھا کہ راستہ بہت خطرناک ہے۔ یہ دیکھ کر تو بالکل ہی حواس جاتے رہے کہ ڈرائیور نے جیپ کا ٹائر بدلا جو کہ بالکل ہی فلیٹ تھا۔ صدائے احتجاج بلند کی مگر بے سود۔ خیر سوئے سیف الملوک چلے۔ راستہ انتہائی خراب تھا۔ جیپ اچھل اچھل جاتی تھی۔ کافی دشوار گزار راستوں پر چلتے ہوئے دو ایک چھوٹے چھوٹے گلیشئرز پر سے بھی گزرے۔ راستہ اتنا خطرناک نہیں مگر سڑک جیسی چیز کا نشان بھی نہ ہونے کے سبب ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں جیپ الٹ نہ جائے۔ ایک جگہ پر ایک گلیشئر کے اندر سے گزرنا پڑتا ہے ، گلیشئر یوں شیر کی مانند منہ کھولے کھڑا ہے ، وہ جگہ بہت نرم اور بیٹھی ہوئی ہے، وہاں سے جو جیپ گزری تو جیپ کے ساتھ میرا دل بھی بالکل ہی بیٹھ گیا۔ بڑی مشکل سے خدا خدا کر کے جھیل تک پہنچے ، جونہی جھیل کا پہلا نظارہ ہوا تو حیرت بھی خود پہ حیران رہ گئی کہ خدایا یہ تو نے کیا بنا ڈالا……

            تب اس بات کا ادراک ہوا کہ واقعی سیف الملوک پہ پریاں اترتی ہیں ، یوں معلوم ہوا جیسے جھیل پر پریاں برابر قطار اندر قطار نازل ہوئے جاتی ہیں ۔ کیا خوب صورت اور کیا دل نشیں نظارہ تھا ، اس کو بیان کرنے کے لیے شاید الفاظ بھی خود پہ شرمندہ ہیں کہ کیسے بیان کیا جائے۔ ہمیں تو جو خوشی ہوئی سو ہوئی لیکن ابو جان کو جو خوشی ہوئی اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں کہ ایک انتہائی غریب گھرانے میں آنکھ کھولنے والا لڑکا ، جس کی ماں کو دہی بھی میسر نہ آتا ہو ، جو بے چاری مرچوں کے ساتھ روٹی کھانے پر مجبور ہو ، وہ بچہ جس کو کبھی عید پر بھی کپڑے نہ ملے ہوں مگر اس لڑکے نے خواب دیکھنا نہ چھوڑے ہوں اور ان خوابوں میں ایک سیف الملوک بھی ہو تو اس خواب کی تعبیر پاکر وہ بچہ جو آج خود ایک سایہ دراز درخت ہے ، کیا محسوس کرتا ہو گا، اس کی خوشی کا کیا ٹھکانہ ہو گا ، سب ہی تصور کر سکتے ہیں……

            جھیل کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ یہ کوئی بہت بڑی جھیل نہیں مگر دو گھنٹے میں ہم اس کا شاید 10 فی صد حصہ بھی نہ دیکھ سکے۔ کیا کیجیے کہ ہر جگہ مجبوریاں انسان کا دامن نہیں چھوڑتیں سو دو گھنٹے بعد واپسی ہوئی۔ وہاں پر جیپ والوں کا ٹائم مقرر ہے ۔ وہ دو گھنٹے سے زیادہ نہیں رکتے ہاں مگر ان کی جیب اور گرم کی جائے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کی جیب گر م کرتے تو ہماری ٹھنڈی ہو جاتی۔ سو جھیل سے واپس آئے۔ ظہر اور عصر کی نماز پڑھی ، کھانا کھایا اور کچھ دیر کو آرام کیا۔

شام دل فریب

            جھیل سے واپسی پر میں نے شور مچایا کہ فورا ًواپس چلا جائے کیونکہ میرے امتحان نزدیک تھے لیکن کسی نے میری ایک نہ سنی ۔ چند لمحوں بعد جو کچھ میں نے سنا ، میں تو کیا سبھی حیران رہ گئے۔ بات ہی کچھ ایسی تھی ، ابو بھی ابھی یہاں سے جانا نہیں چاہتے تھے اور یہ نہایت اچھنبے کی بات تھی کیونکہ ابو کا دل کہیں بھی نہیں لگتا مگر پریوں کے جمال نے ابو کو بھی اتنا سحر زدہ کر دیاتھا کہ ابو بھی یہیں کے ہو کر رہ گئے تھے ۔ خیر کچھ دیر آرام کے بعد سہ پہر کو ہم سب بہن بھائی ناران کے دوسرے کنارے کی جانب چلے تاکہ ناران کی شام دل فریب سے لطف اندوز ہوا جا سکے ۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ہماری چھوٹی اور لاڈلی بہن جو کہ عام حالات میں پانچ منٹ بھی پیدل نہیں چل سکتی وہ بھی بڑی ثابت قدمی سے ہماراساتھ دے رہی تھی اور اس سے زیادہ مزید حیرت اس وقت ہوئی جب وہ ہمارے ساتھ قریباً کوئی دو گھنٹے تک مسلسل پیدل چلتی رہی ، پہلے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ سیف الملوک پہ اور بعد میں دو گھنٹے شام میں ، شاید اس کے وجود میں بھی پریوں نے ڈیرہ ڈال دیا تھا کیونکہ وہ نہایت ہی تر چاک و چوبند اورخوش و خرم تھی۔ ہم سب پیدل چلتے اترائی اترتے ناران شہر سے باہر نکل گئے ، وہاں پر برف کے بڑے بڑے تودے سارا سال موجود رہتے ہیں جو کہ سیاحوں کے لیے نہایت تفریح کا سامان ہیں ۔ ہمارا رخ بھی اسی جانب تھا، وہاں جا کر ایک عجیب سا خیال من میں آیا کہ پہاڑ کی چوٹی تک جایاجائے چنانچہ میں اور علی اپنے جُنوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر برف سے ہوتے ہوئے اوپر کی جانب چلے مگر بمشکل کوئی دس گز اوپر جاکر ہاتھ پاؤں پھول گئے کیونکہ ڈھلوان نہایت ہی خطرناک تھی اور پورا پورا امکان تھا کہ ہم نے اگر مزید کوئی قدم اٹھانے کا شوق فرمایا تو ہم منہ کے بل اڑتے ہوئے اوربرف سے ہوتے ہوئے شاید دریا تک جا پہنچیں سو جان تو سب کو پیاری ہوتی ہے ، اس واسطے بڑی مشکلوں سے واپسی کا سفر اختیار کیا۔ یہاں برف سے ایک اور بات یاد آئی۔ سیف الملوک پر جابجا آپ کو برف کے تودے نظر آئیں گے اور اگر آپ کے اردگرد برف ہی برف ہو تو قدرتی طور پر آپ کا من شرارت کرنے کو چاہتا ہے سوہمارے چھوٹے بھائیوں نے برف کے گولے مار مار کر ہم دونوں بڑوں کا حشر کر دیا خیر یہ سب تو بہت حسین یادیں ہیں…… برف کے تودے سے نیچے اترے تو ایک چشمہ اوپر سے نہایت زور وشور سے آکر دریا سے ملتا دکھائی دیا۔ کچھ دیر وہاں بیٹھ کر بر فیلے پانی کا لطف اٹھایا اور پھر وادی کے چوڑے پاٹ کو عبور کرتے ہوئے دریا کی جانب چلے ۔ باقی سب تو دریا پہ جا کر تصویریں بناتے رہے ، عثمان نے تو سارے خوف بالائے طاق رکھتے ہوئے ، سخت بیماری کے باوجود، بیچ دریا میں موجود ایک بڑے پتھر کو اپنا مسکن بنا لیا ، مجھ میں تو یہ سب کرنے کا حوصلہ نہ ہوا ۔ میں وہیں دریا کے کنارے ایک پتھر پر بیٹھ گیا ، دریا کی لہریں آتیں اور میرے پاؤں چومتے ہوئے آگے بڑھ جاتیں مگر تازگی کا ایک ایسا احساس دے جاتیں جو روح کی گہرائیوں تک اترتا چلا جاتا نجانے کب تک وہاں بیٹھے رہے ۔ وقت گزرنے کا کوئی احساس تک نہ ہوا ۔ مجھ کو تو یہ بھی احساس نہ ہوا کہ میرے اردگرد بہت سے لوگ بھی بیٹھے ہیں مگر میں تو شاید کہیں اور ہی تھا …… کہاں؟ شاید نانگا پربت کی بلند و بالا برف پوش چوٹی سے پرے پریوں کے جلو میں…… یا شاید کہیں اس سے بھی آگے…… مگر انہماک اس وقت ٹوٹا جب فون کی گھنٹی سنائی دی ، ا بو کا فون تھا ، سو ڈھلتے سورج کی کرنوں کو سمیٹتے ہوئے ہوٹل کی جانب گامزن ہوئے۔ جب تک ہوٹل پہنچے ، سورج اپنی لطیف کرنوں کو سمیٹے کہیں روپوش ہو گیا تھا۔ ناران میں تو سورج بھی نہایت لطافت کا مظاہرہ کرتا ہے کہ کہیں پریوں کے نازک اندام اجسام جھلس ہی نہ جائیں…… نماز مغرب کے بعد کچھ دیر چہل قدمی کے لیے بازار میں نکلے اور دو چار تحائف بھی خریدے ، رات کا کھانا کھایا اورنیند کی آغوش میں پرسکون ہوتے چلے گئے۔

ناران سے مانسہرہ

            صبح اٹھے ، نماز پڑھی ، ناشتہ کیا اور اس کے بعد اپنا سامان اکٹھا کیا اور ہوٹل کو خیر باد کہا۔ اب کے واپسی کے لیے پھر سے مکمل وین لے لی لیکن اس بار وین والی نے اتنی تیزی دکھائی کہ ہم حیران کن رفتار سے صرف چار گھنٹے میں مانسہرہ پہنچ گئے۔ ڈرائیور نے ایسی زبردست ڈرائیونگ کی کہ پسلیاں واپس اپنی اصل جگہ بیٹھ گئیں جو کہ سیف الملوک جاتے ہوئے آگے پیچھے ہو گئیں تھیں۔

            شام کو لاری اڈے گئے تاکہ رات کو مانسہرہ سے واپس لاہور چلا جائے مگر شاید رشید صاحب کی دعائیں رنگ لے آئیں اور باوجود بے حد کوشش کے کوئی گاڑی نہ مل سکی ، سو وہ رات بھی وہیں انکل کے ہاں قیام کیا ۔ رات کو انکل کے کچھ رشتہ داروں سے ملاقات ہوئی ۔

ہم کیوں ترقی کریں؟

            حالات حاضرہ پر بات چل نکلی ۔ دل تو سبھی کے زخمی تھے لیکن وہاں ایک ایسی بات کا علم ہوا کہ اذیت ناقابل برداشت ہو گئی۔ انکل کے ایک عزیز وکیل ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سوات اور مالاکنڈ کے بے گھر لوگوں کی امداد کے لیے مختلف مخیر حضرات او ر غیر ملکی این جی اوز نے مانسہرہ کا رخ کیا تو مانسہرہ کے دوکانداروں اور ہوٹل والوں نے بے غیرتی کی ساری حدیں ہی پھلانگ ڈالیں۔ میں معذرت خواہ ہوں کہ میرے پاس اس سے کم تر شدت کا کوئی لفظ موجود نہیں۔ بجائے اس کے کہ نیک دل لوگوں کو سہولت مہیا کی جاتی ، الٹا مانسہرہ کے ہوٹل مالکان نے صبح کا ناشتہ 5000 روپے اور ڈنر 15000 روپے فی کس کر دیا۔ ناشتہ میں صرف ڈبل روٹی اور انڈہ ، اس کو اگر بے غیرتی نہ کہیں تو کیا کہیں…… مکان کا ایک مہینے کا کرایہ تین لاکھ روپے ۔ ایسی اخلاقیات والی قوم اگر ترقی کے خواب دیکھے تو کیا اسے ایسے خواب دیکھنے کا کوئی حق یا جواز حاصل ہے ؟؟؟

 گھر سے گھر تک

            صبح ناشتہ کیا اور رشید صاحب اور ان کی پوری فیملی کے انمول خلوص تلے دبے دبے ان کو خدا حافظ کہا اور شام تک واپس گھر پہنچ گئے۔ آخر میں وادی جنت نظیر اور وہاں گزارے ہوئے وقت کے بارے میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ

اے میری مہ جبیں ، پری جمال

تیری رفاقت میں گزرے ماہ و سال

تھے بڑے بے مثال …… !!!