یہ سب نحس اور سعد مٹ جائیں گے 

مصنف : اقبال فریدی

سلسلہ : نظم

شمارہ : مئی 2010

 

یہ سب نحس اور سعد مٹ جائیں گے 
کسی دن یہ اعداد مٹ جائیں گے 
 
بنائے ہوئے میرے سارے نقوش
یقینا مرے بعدمٹ جائیں گے 
 
تسلسل میں جاری رہے گی حیات
مگر سارے افراد مٹ جائیں گے 
٭٭٭
وہ بھی ہیں جن کے شانوں پہ بھاری ہے زندگی
اک وہ ہیں جن کو شاہ سواری ہے زندگی
 
الجھے ہوئے بغیر گزاری ہے زندگی
جیتی ہوئی ہے ہم نے نہ ہاری ہے زندگی
 
مائل ہوئے یہ کہہ کے وہ تجویز وصل پر
اچھا پڑی ہوئی ابھی ساری ہے زندگی
 
اب کیا کرو گے اس کو سجا سنوار کر
آخر کو اس طرف کی سواری ہے زندگی
 
ہوش و حواس و صبر و تواں سب ہی جا چکے
کچھ جان لے کہ اب تری باری ہے زندگی
 
افراد مٹتے جاتے ہیں اعداد کی طرح
لیکن محیط وقت میں جاری ہے زندگی
٭٭٭