سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

مصنف : زہرہ نگار

سلسلہ : نظم

شمارہ : مارچ 2010

 

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے، تو وہ حملہ نہیں کرتا
 
سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں، بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسی مان لیتی ہیں
 
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے گھر کو بھول کرکوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے
 
سنا ہے گھونسلے سے جب کوئی بچہ گرے تو
سارا جنگل جاگ جاتا ہے
 
ندی میں باڑ آجائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری، سانپ، چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
 
خداوندا، جلیل و معتبر، دانا و بینا، منصف و اکبر
ہمارے شہر میں اب جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر