سکھ اور لمبے بال

جواب: گرو گوبند صاحب نے جب سکھوں کو منظم کیا توانہوں نے ان کی پانچ علامتیں قرار دے دیں۔جس میں یہ ہے کہ ان کے ہاتھ میں کڑا ہوتا ہے ،کرپان ہوتی ہے ۔پھر کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ جن کا ذکراس مہذب مجلس میں موزوں نہیں ۔اور یہ بال بھی انہی علامتوں میں شامل ہیں۔ عام طور پرجب کسی جماعت یا تنظیم یا کسی گروہ کو منظم کیا جاتا ہے تو ان کی امتیازی علامتیں مقرر کر دی جاتی ہیں۔

سکھ بہت باغی لوگ تھے۔اور ان کے خلاف بہت اقدامات بھی ہوتے رہے ۔ احمد شاہ ابدالی نے ان کے اوپربہت سے حملے کیے ۔بلکہ ایک موقعے کے اوپر تو اس نے اسی پنجاب میں پچیس ہزار سکھ ایک ہی دن میں مارے تھے۔پھر اورنگ زیب نے بہت دفعہ ان کا تعاقب کیا ۔او ر اس زمانے میں یہ جنگلوں میں چھپ جاتے تھے اور اس طرح ان کا بہت تعاقب کرنا پڑتا تھا ۔پھر بستیوں پر حملہ آور ہو جاتے تھے۔یہ مزنگ کا چھوٹا قصبہ ہے ۔اس کی تاریخ اگر کبھی آپ پڑھیں تو کم و بیش سات آٹھ دفعہ اس کو سکھوں نے لوٹا۔غارت گری کی وجہ سے ان کے خلاف کارروایاں بھی کرنی پڑتی تھیں۔اسی وجہ سے مسلمانوں میں اور ان میں مخاصمت ہو گئی ورنہ دینی لحاظ سے وہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں سے زیادہ قریب تھے۔تو پھر گرو گوبند سنگھ صاحب نے ان کی تنظیم کی اور ان کو ایک باقاعدہ منظم گروہ میں بدلنا شروع کیا۔اس موقعے کے اوپر یہ مذہب بننا شروع ہواتو اس میں پھر کچھ علامتیں بھی بن گئیں۔

(جاوید احمد غامدی)