جوا اور لاٹری

جواب۔ جوا ایک معروف و معلوم چیزہے۔ اِس میں بغیر حق کے ایک آدمی کی رقم دوسرا آدمی محض اتفاق کی بنا پر حاصل کرلیتا ہے۔ جیسے آسمان پر اڑتے ہوئے پرندے کو دیکھ کر کوئی یہ کہے کہ اگر یہ دائیں طرف مڑ گیا تو تم مجھے سو روپیہ دے دینا اور اگر بائیں طرف مڑا تو میں تمہیں سو روپیہ دوں گا۔ رقم کا اِس طرح کا لین دین جوا ہے۔ جوا ، لاٹری پانسہ تیر سب شیطانی کام ہیں اور حرام ہیں آج یہ نئی نئی شکلوں میں ظاہر ہو رہے ہیں، بہرحال یہ جس شکل میں بھی ظاہر ہوں، صریح حرام ہوں گے۔ آج کل اِن کی جوشکلیں رائج ہیں ، اِن میں سے بعض کو ہم سٹہ بازی ،لاٹری ، بعض انعامی سکیموں اور اِس طرح کی دوسری چیزوں کی شکل میں دیکھتے ہیں۔

(محمد رفیع مفتی)

جواب۔ ریفل ٹکٹ وغیرہ کام عوام کی بہبود کے لیے کیے جائیں یا اُن کی بربادی کے لیے،جب یہ اصولاً جوئے کی شرائط پر پورا اترتے ہیں تو جوا ہی ہیں۔

(محمد رفیع مفتی)

جواب۔ لاٹری اور جوئے سے حاصل کیے ٹکٹ سے حج و عمرہ کرنا ناجائز ہے۔قرض لے کر حج و عمرہ کرنے کا ہمیں کہا نہیں گیا ۔ حج فرض ہی تب ہوتا ہے جب آدمی اُس کی استطاعت رکھتا ہو۔

(محمد رفیع مفتی)