درود

جواب۔ ہماری آفاقیت یہ ہے کہ ہم جس نبی کا بھی نام لیتے ہیں، اُس کے نام کے ساتھ ‘علیہ السلام ’ کے الفاظ بولتے ہیں یعنی اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔ یہ اُس نبی کا ہم پر حقِ دعا ہوتا ہے، جسے ہم ادا کرتے ہیں۔ یہ بات اِسی وجہ سے ہے کہ ہم سب نبیوں کو ماننے والے ہیں اور ہم اُن کے مابین اِس طرح سے فرق نہیں کرتے کہ ایک کو اللہ کا نبی مانیں اور دوسرے کو نہ مانیں۔درود اصل میں ہم پر نبی ﷺ کا حق ہے، اِسے ادا کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ ہم نبی ﷺ کے دور میں پیدا ہوئے ہیں اور ہم اُن کی اُمت میں ہیں، ہم پر اُن کے بے شمار احسانات ہیں ۔ ہم موسٰی علیہ السلام کی اُمت نہیں ہیں، ہم اُن کی محنت سے اُس طرح مستفید بھی نہیں ہو رہے جیسے ہم نبی ﷺ کی محنت سے مستفید ہو رہے ہیں۔پس فطری طور پر ہمارا رویہ موسٰی ؑ سے بہت اچھا ہونے کے باوجود اُس رویے سے کم ہو گا جو رویہ نبی ﷺ کے ساتھ ہو گا۔اب یہود کے نبی بھی محمد ﷺ ہی ہیں۔ اُنھیں اُن پر ایمان لانا چاہیے اور اُن پر درود بھجنا چاہیے۔آفاقی ہونے کا یہ مطلب ہی نہیں کہ ہم نبی ﷺ کے اپنے اوپر احسانات کو موسٰی ؑ کے اپنے اوپر احسانات کے ہم پلہ قرار دے دیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو یہ بے انصافی ہو گی۔جیسا کہ ماضی کے یہود پر نبی ﷺ کے احسانات نہیں ہیں۔ کیونکہ آپؐ تو اُس وقت دنیا میں تشریف ہی نہیں لائے تھے۔ اُن پر موسٰی علیہ السلام کے احسانات ہیں، کیونکہ وہ تو اُنہیں دین سکھانے کی خاطر طرح طرح کی تکلیفیں اٹھارہے تھے۔یہ ایک صاف سی بات ہے اِس میں کیا غلطی ہے۔

(محمد رفیع مفتی)