انسانیت

جواب۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم اپنا صحیح مقام پہچانیں۔ کوئی انسان ایسا نہیں ہے جو یہ کہہ سکے کہ اگر ہم نہ ہوتے تو فلاں فلاں انسان تو کافر ہی مر جاتے، اللہ نے اُس کی ہدایت تو بس میرے وجود پر منحصر کر رکھی تھی یا کسی کے بارے میں وہ یہ سمجھے کہ أُس کی ہدایت تو بس میرے اوپر منحصر ہے۔ ہدایت خدا کی جانب سے ملتی ہے، وہ اپنی حکمت اور اپنے علم سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ وہ ہدایت کے لیے سیکڑوں چیزوں میں سے جس کو چاہتا ہے ذریعہ بنا دیتا ہے۔ اُس نے کائنات اور انسان کا اپنا وجود بھی اپنی نشانیوں سے بھر دیا ہے۔ چنانچہ کسی انسان کو یہ روا نہیں کہ وہ خود کو دوسرے کی ہدایت کا واحد ذریعہ سمجھے۔ البتہ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے اوپر دوسرے کا یہ حق سمجھنے سے بھی عاری ہو جائے کہ اُسے حق بات اور اُس پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی جائے۔ ہر انسان کا دوسرے پر یہ حق ہے کہ وہ اُسے حق اور حق پر ثابت قدمی کی تلقین کرے اور بس، اُس کے حوالے سے اپنے آپ کو کوئی اہمیت نہ دینے لگ جائے۔

(محمد رفیع مفتی)