جہاد

ج: بعض چیزیں صرف حکمرانوں تک محدود رہتی ہیں۔ جس طرح علما اجتہاد کر کے لوگوں کو سزائیں (مثلاً چور کا ہاتھ کاٹنا ، قاتل کو قتل کرناوغیرہ)نہیں دے سکتے اسی طرح جہاد بھی نہیں کرسکتے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج:یہ بات قرآن کے ایک بنیادی اصول پر مبنی ہے اور وہ بات یہ ہے کہ قرآن نے جو احکام اقتدار قائم ہونے کے بعد دیے ہیں ، ان کے بارے میں اہل علم یہ جانتے ہیں کہ وہ اقتدار کے ساتھ مشروط ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں یہ بیان ہوا ہے کہ بدکاری کرنے والوں کو سو کوڑے مارو ، وہاں یہ نہیں لکھا ہوا کہ یہ کام حکومت کرے گی لیکن چونکہ یہ حکم حضور کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد ملا ہے ،اس لیے اس کاتعلق اہل اقتدار سے ہو گا۔ قرآن کا فہم رکھنے والے جانتے ہیں کہ کون سی بات کس سے متعلق ہے ۔ قرآن میں باقاعدہ اصرار ہے کہ جب تک اللہ کی طرف سے اذن نہیں ہوا ، جہاد کی اجازت نہیں دی گئی اور اس کا اذن نبیﷺ کو ایک باقاعدہ حکومت حاصل ہونے کے بعدملا ہے۔ پچھلی چود ہ صدیوں میں یہ بات بالکل واضح بات تھی اور کسی صاحب علم نے اس سے اختلاف نہیں کیا ، اس پر اختلاف اسی صدی کی بات ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: اس کا مطلب یہ ہے کہ قتال اور جہاد اسلامی قانون کا حصہ ہے ۔ اس کے جب مواقع پیدا ہوتے ہیں تو مسلمان تلوار اٹھاتے ہیں اوراٹھاتے رہیں گے۔ یہ چیز رک نہیں سکتی ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر وقت لڑتے رہیں گے ۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ہمارے قانون کاحصہ ہے اور جب بھی کسی زمانے میں حالات کا تقاضا ہو گا مسلمان شریعت کی شرائط کے تحت جہاد کریں گے کوئی چیز اس میں مانع نہیں بن سکتی۔ یہ روایت ان لوگوں کے فتنے کااستیصال کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ جہاد کا حکم منسوخ ہو گیا ۔جہادخدا کی شریعت کے اندر موجود ہے اور ہمیشہ رہے گا اور جب موقع ہو گا مسلمان اپنے رب کی آواز پر لبیک کہتے رہیں گے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: آدمی کے اندر کسی بھی سعادت کو حاصل کرنے کا جذبہ ہوتا ہے تو اس کا طریقہ یہ نہیں کہ اس کو غلط طریقے سے حاصل کرنا شروع کر دے ۔ آپ کی نیت آپ کا جذبہ یہی آپ کے لیے اجر کا باعث بن جائے گا ۔ جب کبھی اس کا موقع شریعت کی حدود اور قیود کے مطابق پیدا ہو جائے تو ضرور جہاد کے لیے جائیے ۔ ایسا موقع نہ آئے تو پھر یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ چھڑی پکڑ کر دوسروں کو مارنے نکل کھڑے ہوں ۔ شہادت کی آرزو رکھیے اور اس جذبے کے ساتھ زندگی بسر کیجیے ، امید ہے اللہ تعالی اس کو جذبے کی حد تک قبول فرما لے گا ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: یہ بات ٹھیک ہے کہ جہاں ظلم ہو رہا ہو وہاں جہاد کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے اور بھی بہت سی باتیں دیکھنی پڑتی ہیں۔ مثلاً آپ کی طاقت کیا ہے اور کیا آپ اس وقت مدد کرنے کی پوزیشن میں بھی ہیں کہ نہیں۔ اس کے بعد آپ کا ضمیر مطمئن ہو کہ ظلم ہو رہا ہے تو آپ جہاد کر سکتے ہیں ۔ جہاد فرض اس وقت ہوتا ہے کہ جہاں کہیں ظلم ہو رہا ہے وہاں دشمن کی طاقت اور آپ کی طاقت کے درمیان مناسب نسبت تناسب بھی موجود ہو ۔جنگ بدر کے زمانے میں یہ نسبت تناسب ایک اور دس کی تھی یعنی مسلمان کفار کے مقابلے میں دس گنا کم بھی ہوں تو ٹکر لے سکتے تھے لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے یہ نسبت ایک اور دو کی کر دی۔اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ اب صحابہ کے اندر ایمان کی وہ کیفیت نہیں رہی تھی جو پہلے تھی۔ کیونکہ نئے ہونے والے مسلمان صحابہ کی جماعت میں شامل ہو گئے تھے۔ چنانچہ تمام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے ۔لیکن اس کے باوجود ایک شخص اپنے طور پر مطمئن ہو کہ حالات جہاد کے متقاضی ہیں اور وہ جہاد کے لیے چلا جاتا ہے تو امید ہے کہ اللہ اس کی نیت پر فیصلہ فرمائیں گے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: تو اس کا نتیجہ بھی وہی نکلتا رہا ہے ،جو نکلنا چاہیے۔ مہدی سوڈانی کے جہاد کا کیا نتیجہ نکلا ، سید احمد شہید صاحب کے جہاد کا کیا نتیجہ نکلا ، حافظ ضامن کی قیادت میں وسط ہند میں جو جہاد ہوا اس کا نتیجہ کیا نکلا، 1857 کا نتیجہ کیا نکلا ، اللہ تعالی کا قانون تو غیر متبدل ہے ، وہ اپنے طریقے پر کام کرے گا۔ آپ کو تناسب میں آنا پڑے گا۔ورنہ اللہ تعالی کے ہاں Key word جہاد نہیں ، صبر ہے اور قرآن میں یہ دونوں لفظ بڑی وسعت سے استعمال ہوئے ہیں بلکہ اللہ تعالی نے جتنی صبر کی تلقین کی ہے اتنی جہاد کی نہیں کی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کو بعض اوقات اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ صبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: ایسا نہیں ہے کہ زیادہ لوگ نہیں سمجھ سکے بلکہ زیادہ لوگ تو سمجھ گئے تھورے لوگ نہیں سمجھ سکے اور وہ بھی اس زمانے میں۔ ہمارے جلیل القدر علما نے ان کا مدعا سمجھنے میں بالعموم غلطی نہیں کی ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: دنیا پر اتمام حجت ، جہاد کے ذریعے سے لوگوں سے جزیہ طلب کرنااور ان کو مغلوب رکھنا صحابہ سے خاص تھا ۔ ان کے خاص حقوق ان کے منصب شہادت سے پیدا ہوئے تھے۔

(جاوید احمد غامدی)