اللہ تعالیٰ کی محبت اور عذاب

ج: اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتے ہیں اسی لیے انھوں نے اپنے بندوں کو صالح فطرت دی۔ اسی لیے انہوں نے انبیا بھیجے، اسی لیے انہوں نے کتابیں نازل کیں۔لیکن اگر بندے جانتے بوجھتے اللہ کے مقابلے میں سر کشی کریں اور اللہ انھیں عذاب نہ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ ساری آزمایش باطل ہو گئی۔ قیامت کے دن وہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وفاداری کا حق ادا کر دیا وہ بھی جنت میں چلے گئے او روہ جو اللہ کے مقابل میں سرکش ہوئے وہ بھی جنت میں چلے گئے اور وہ وہاں بیٹھ کر اہل ایمان کا ٹھٹھا اڑائیں کہ دیکھو، ایسے ہی تم مشقت اٹھاتے رہے، ہم بھی جنت میں آ گئے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ ایسا کرے؟ وہ ایسا نہیں کرے گا۔ وہ جس طرح محبت کرتا ہے، اسی طرح وہ عدل بھی کرتاہے اور کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایاہے ‘کتب علی نفسہ الرحمۃ لیجمعنکم الی یوم القیامۃ’ یہ میری رحمت ہے کہ میں عدل کا وہ دن لاؤں کہ جس دن اپنے بندوں کو جزا و سزا دے کر سرفرازی عطا فرماؤں۔ یہ تووفاکا حق ادا کرنے والوں کے ساتھ بے انصافی ہو گی اور اللہ بے انصافی کیسے کر سکتا ہے۔

(جاوید احمد غامدی)