نبوت

جواب: ہمارے ہاں جو علم تاریخ کے ماہرین ہیں، وہ دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ایک قبل از تاریخ کا زمانہ ہے اوردوسرا مابعد از تاریخ کا۔یعنی ایک دور وہ ہے جس کی بس کچھ معلومات ہمیں حاصل ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہم روشنی میں کھڑے ہیں۔ اور ایک وہ زمانہ ہے جو بالکل ایسا ہی ہے جیسے آج کے روز و شب گزر رہے ہیں۔ اس زمانے کی سب چیزیں روشنی میں ہیں۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ما بعد از تاریخ کے زمانے کے عین سرے پر ہوئی ہے۔ عین جب وہ روشن دور شروع ہو رہا ہے۔ پہلے دور میں جو قبل از تاریخ کا دور ہے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ انسانوں کے سامنے اللہ کی ایک حجت واضح ہو جائے اور پھر اس کی تجدید کی ضرورت نہ پڑے۔ اس دور میں اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اندر انبیا علیہم السلام بھیجے ، پھر جب انسانیت ذرا تھوڑی روشنی میں آنے لگی تو سیدنا ابراہیم کی ذریت کو منتخب کر کے ایک علاقے کا انتخاب کیا گیا کہ اس علاقے میں دین کاایک مرکز بنایا جائے۔ یہی وہ دور ہے،جس میں سیدنا ابراہیم علیہم السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کی اور بیت المقدس کی تعمیر ہوئی یعنی ان کی نسل سے دو مراکز قائم کیے گئے تاکہ لوگوں کے سامنے دین کی حجت تمام ہو۔ اس پر پھر کوئی دو ہزار سال کے قریب گزرے۔ یہاں تک کہ انسان تاریخ کی روشنی میں آ گیا۔ جیسے ہی روشنی میں آیا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ اب چونکہ انسان تاریخ کی روشنی میں آگیا تھا تو بار بار انبیا بھیجنے کی زحمت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ گویا عالمی سطح پر اللہ تعالیٰ انبیا کے ذریعے سے جو حجت تمام کرنا چاہتے تھے، وہ ہو گئی۔ پیغام پہنچ گیا، دعوت آ گئی۔ قرآن کو محفوظ کرنا ممکن ہو گیا۔ ہر چیز تاریخ کی روشنی میں آ گئی۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ ختم کیا۔

(جاوید احمد غامدی)