اسلام

جواب: اسلام کا کوئی لباس نہیں ہے۔لوگ جو لباس چاہیں ، پہنیں، صرف اس میں ایک چیز ان کو لازماً ملحوظ رکھنی چاہیے کہ وہ لباس مہذب، شایستہ اور باحیا ہونا چاہیے۔ یعنی آپ ایسا لباس پہنیں، جو اعضا کو چھپانے والا ہو، آپ کو باوقار رکھے، آپ کو نماز پڑھنے میں سہولت دے اور اس میں آپ اپنے قومی تشخص کے ساتھ نمایاں ہوں۔ یہ باتیں پسندیدہ باتیں ہیں۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب: اسلام اس لحاظ سے خدا کی معرفت ہے کہ وہ ہمارا خالق ہے اور ایک دن ہمیں اس کے سامنے جواب دہ ہونا ہے اور یہ جواب دہی اچھے عمل کی بنیاد پر ہو گی۔ پورا message یہ ہے۔ اگر آپ چند لفظوں میں اسلام کی حقیقت بیان کرنا چاہیں تو وہ یہ ہے کہ جس وقت میں یہ تسلیم کر لیتا ہوں کہ میرا ایک خالق ہے، ایک دن مجھے اس خالق کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔ اور یہ جواب دہی کسی اور بنیاد پر نہیں ، علم و عمل کی اصلاح اور میری پاکیزگی کی بنیاد پر ہو گی تو جیسے ہی میں یہ مانتا ہوں تو میں ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے سامنے پیش کر دیتا ہوں۔ اب میں اسلام میں ہوں یعنی ایک مسلمان کی حیثیت سے جی رہا ہوں۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ اس کی تفصیلات ہیں۔ اور تفصیلات کے معاملے میں قرآن نے بڑی صاف بات کہہ دی ہے کہ اس کی تفصیلات کے دو حصے ہیں۔ایک کا تعلق ایمان اور اخلاق سے ہے۔ اور دوسرے کا تعلق قانون سے ہے۔ ایمان اور اخلاق کے معاملے میں نہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ہاں کوئی اختلاف تھا، نہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے ہاں کوئی اختلاف تھا، نہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کوئی اختلاف ہے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ایمان و اخلاق تمام تر یکساں رہے ہیں۔ لیکن شریعت یا قانون ایسی چیز ہے جس میں کچھ قانونی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ یہ حصہ ایسا ہے جو حالات کے لحاظ سے تبدیل بھی ہوتا رہا ہے اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بعض صورتوں میں مختلف بھی رہا ہے۔

(جاوید احمد غامدی)