ملکیت کا مسئلہ

سوال: یہاں کی ایک دینی تنظیم کا ایک جگہ معمولی تعمیر شدہ دفتر تھا۔ دینی ذہن رکھنے والے ایک بلڈر نے پیش کش کی کہ وہ اپنے والد محترم کے ایصال ثواب کے لیے اپنے خرچ سے تنظیم کی عالی شان عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ تنظیم کے ذمہ داروں نے ان کی یہ پیش کش قبول کر لی اور اعتماد کی فضا میں اپنی زمین اور تعمیرہ شدہ معمولی عمارت ان کے حوالے کر دی، جسے توڑ کر اس زمین پر از سر نو بلڈنگ کی تعمیر کا کام ہونے لگا۔ ساری باتیں زبانی ہوئیں، کوئی تحریری معاہدہ نہیں کیا گیا۔ تعمیر کے دوران ہی بلڈر نے بعض سیاسی و معاشی مصلحتوں کا حوالہ دے کر تنظیم کے ذمہ داروں سے ایک مشترکہ ایگریمنٹ پر دستخط کروا لیے۔ جس کی رو سے نئی تعمیر شدہ عمارت کی دو منزلیں تنظیم کی اور دو منزلیں بلڈر کی قرار پائیں۔ بلڈر نے اس موقع پر تنظیم کے ذمہ داروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے صراحت سے کہا کہ یہ محض بعض قانونی ضوابط کی خانہ پری ہے۔ ورنہ پوری عمارت اصلاً تنظیم کی ملکیت ہو گی۔ لیکن عمارت کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اسے انھوں نے تنظیم کے حوالے نہیں کیا، بلکہ اس کی اوپری دو منزلیں اپنے قبضے میں رکھتے ہوئے اس میں اپنا ذاتی دفتر قائم کر لیا۔ نیز اس میں ایک دینی پروجیکٹ شروع کر دیا۔ تنظیم کے ذمہ داروں نے انھیں سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ وہ پوری عمارت کی ملکیت تنظیم کی تسلیم کرتے ہوئے اسے تنظیم کے حوالے کر دیں، مگر انھوں نے انکار کر دیا۔ مجبوراً تنظیم کے ذمہ داروں نے ان کے سامنے چار تجاویز رکھی ہیں: وہ غیر مشروط طور پر نئی تعمیر شدہ عمارت کو تنظیم کے حوالے کر دیں، اگر وہ اس کا کچھ حصہ کسی مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو تنظیم کے ذمہ داروں سے اس کی باضابطہ اجازت لیں۔ وہ بلڈنگ پر صرف شدہ رقم تنظیم سے لے کر پوری عمارت تنظیم کے حوالے کر دیں یا آخری چارۂ کار کے طور پر زمین کی رقم تنظیم کو لوٹا دیں۔

اس پس منظر میں آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل امور پر فتویٰ دے کر ہماری رہنمائی فرمائیں:

۱۔ تنظیم کے ذمہ داروں کو اعتماد میں لے کر اور اس کا غلط فائدہ اٹھا کر نئی تعمیر شدہ عمارت کی دو مزلیں اپنے نام رجسٹرڈ کروا لینا اور اس پر اپنا دعویٰ کرنا کیا دھوکا نہیں ہے؟ شریعت میں دھوکا دینے والے کے لیے کیا وعید آئی ہے؟

۲۔ بلڈر کبھی عمارت کے نصف حصے پر اپنا دعویٰ کرتے ہیں اور کبھی پوری عمارت پر تنظیم کی ملکیت تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اس کی حوالگی کے لیے مختلف شرائط عائد کرتے ہیں۔ حوالگی کے لیے شرائط کی فہرست دینا شریعت کی رو سے کیا حیثیت رکھتا ہے؟

۳۔ کسی کی عمارت پر بہ زور قبضہ جمائے رکھنا کیا شریعت کی رو سے صحیح ہے؟

۴۔ بلڈر قانونی پیپرز کا حوالہ دے کر عمارت کی دو منزلہ پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ کیا وہ غاصب اور ظالم نہیں ہیں۔ کیا غاصب و ظالم کے دباؤ میں آ کر اس کی کوئی تجویز قبول کر لینا صحیح ہے؟ کیا یہ ظلم کا ساتھ دینا نہیں ہوا؟

۵۔ تنظیم کے ذمہ داروں کے لیے کیا یہ رویہ صحیح ہے؟ وہ حکمت کے ساتھ ظلم کا مقابلہ کریں یا مذکورہ بلڈر سے رقم لے کر معاملہ رفع دفع کر لیں؟

جواب: سب سے پہلے تو میں یہ عرض کر دوں کہ میں کوئی رجسٹرڈ/ سند یافتہ مفتی نہیں ہوں، اس لیے میرے اس جواب کی حیثیت فتوے کی نہیں ہے۔ میں محض اسلامیات کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں۔ صورت مسئلہ کا جو جواب روح دین اور احکام شریعت کی روشنی میں میری سمجھ میں آیا ہے اسے ذیل میں تحریر کر رہا ہوں:

۱۔ دینی تنظیم اور مقامی بلڈر نے باہمی اعتماد کی فضا میں تنظیم کی عمارت کی از سر نو تعمیر کا آغاز کیا۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد باہمی اعتماد کے شفاف آئینہ میں لکیر پڑ گئی۔ فریقین کو غور کرنا چاہیے کہ ان سے غلطی کہاں ہوئی؟ بلڈر نے یہ کام ان کے بقول اپنے مرحوم والد کے ایصال ثواب کے لیے کیا تھا۔ ان کا یہ کام بڑا مبارک ہے۔ بچوں کے لیے یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ وہ اپنے والد کے انتقال کے بعد صدقۂ جاریہ کا کوئی ایسا کام کر دیں جس کا ثواب ان کو برابر پہنچتا رہے۔ حدیث میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ لیکن بعد میں انھوں نے جو رویہ اختیار کیا، انھیں سوچنا چاہیے کہ اگر ان کے والد مرحوم زندہ ہوتے تو کیا وہ خود ایسا رویہ اختیار کرتے؟ یا اپنے صاحب زادگان کو یہ رویہ اختیار کرتے ہوئے دیکھتے تو کیا وہ خوش ہوتے؟ کسی تنظیم سے وابستگی اجتماعیت کی روح کوپروان چڑھاتی ہے۔ اس میں اجتماعی مفاد پر انفرادی مفاد کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ صدقۂ جاریہ کے نام پر کوئی ایسا کام کرنا یا ایسا رویہ اختیار کرنا جس سے اس مرحوم شخصیت کی روح کو، جس کے ایصال ثواب کے لیے وہ کام انجام دیا گیا ہے، تکلیف پہنچے۔ میں اسے کوئی کار خیر نہیں سمجھتا۔ تنظیم کی غلطی یہ ہے کہ اسے ابتدا ہی سے تمام معاملات تحریری شکل میں طے کرنے چاہییں تھے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو بعد میں رونما ہونے والے اختلافات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکتا تھا۔ عموماً دینی حلقوں میں اس معاملے میں کوتاہی پائی جاتی ہے۔ شروع میں معاملات اعتماد کی فضا میں زبانی طے کیے جاتے ہیں، بعد میں اختلاف ہونے کی صورت میں فریقین کے بیانات میں تضاد ہوتا ہے او رمعاملہ الجھ کر رہ جاتا ہے۔ قرآن کریم کی سب سے طویل آیت (البقرہ: ۲۸۲) جسے آیت مداینہ کہا جاتا ہے، اس میں قرض کے لین دین کے معاملے کو ضبط تحریر میں لانے کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ایک ایسے سماج، جہاں لکھنا جاننے والوں کی تعداد اتنی کم تھی کہ انھیں انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا، معاملات کو ضبط تحریر میں لانے کا اتنا تاکیدی حکم کیوں دیا گیا؟

۲۔ آپ نے لکھا ہے کہ بلڈر تعمیر شدہ عمارت کی بالائی دو منزلوں میں سے ایک میں دینی پروجیکٹ چلا رہے ہیں۔ یہ بڑا مبارک کام ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے فروغ دے اور اس کے ذریعے گم کردہ راہ انسانوں کو ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے معاملات میں شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ آپ نے لکھا ہے کہ ابتدا میں انھوں نے اپنے والد مرحوم کے ایصال ثواب کی خاطر اپنے خرچ پر تنظیم کے لیے عمارت تعمیر کرنے کی پیش کش کی، مگر بعد میں انھوں نے تنظیم کے ذمہ داروں کو دھوکے میں رکھ کر ایک مشترکہ ایگریمنٹ کرا لیا اور اب وہ کبھی تعمیر شدہ عمارت کی مشترکہ ملکیت کی بات کہتے ہیں، کبھی تنظیم کی ملکیت تو تسلیم کرتے ہیں، مگر تنظیم کو اس کی حوالگی کے لیے مختلف شرائط عائد کرتے ہیں۔ یہ رویہ قرآن کا پیغام عام کرنے کے مشن کے علمبردار کسی شخص کو زیب نہیں دیتا۔ آدمی کی زبان ہر وقت قرآن کے ذکر اور پیغام کی تبلیغ میں منہمک ہو، لیکن اس کا کردار قرآن کی تعلیمات کی دھجیاں اڑاتا ہو، یہ رویہ کسی حقیقی اور با شعور مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔ لیکن افسوس کہ ایسے کردار کے لوگ پائے جاتے ہیں او رآج ہی نہیں، ہر دور میں پائے جاتے رہے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کی پیش گوئی فرمائی تھی: ‘‘کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر شکار کے اندر سے ہو کر باہر نکل جاتا ہے۔ ’’ (بخاری، ۳۳۴۴، و دیگر مقامات)

احادیث میں دھوکے کی شدید الفاظ میں مذمت آئی ہے۔ ایک موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘جو ہمیں دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔’’ (مسلم، ۱۰۱) ایک حدیث میں آپ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے: ‘‘دھوکا دہی کا انجام جہنم ہے۔’’ (بخاری، کتاب البیوع، باب النجش) ہم میں سے ہر شخص کو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ چند روزہ زندگی میں وہ دوسرے کو دھکا دے کر کچھ مال حاصل کر سکتا یا کسی جائیداد پر قابض ہو سکتا ہے مگر میدان حشر میں بارگاہِ رب العزت کے رو برو جب اس کے اعضا اس کے خلاف گواہی دیں گے تو وہاں اس کے لیے حسرت و ندامت ہو گی اور اس وقت کی ندامت اس کے کچھ کام نہ آئے گی۔

۳۔ آپ نے لکھا ہے کہ تنازع کو حل کرنے کے لیے تنظیم کے ذمے داروں نے بلڈر کے سامنے چار تجاویز رکھی ہیں:

(الف) وہ غیر مشروط طور پر بلڈنگ تنظیم کے حوالے کر دیں۔

(ب) بلڈنگ پر تنظیم کی ملکیت تسلیم کرتے ہوئے اپنا پروجیکٹ چلانے کے لیے ذمہ داران تنظیم سے تحریری اجازت لیں۔

(ج) بلڈنگ پر صرف شدہ رقم تنظیم سے لے کر بلڈنگ اس کے حوالے کر دیں۔

(د) زمین کی رقم تنظیم کو لوٹا دیں۔

ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو چوتھی تجویز سے اتفاق نہیں۔ آپ کا خیال ہے کہ بلڈر نے دھوکا دے کر عمارت کی دو منزلیں اپنے نام رجسٹرڈ کروا لی ہیں، وہ غاصب اور ظالم ہیں، زمین کی رقم لے کر پوری عمارت کو ان کے حوالے کر دینا ظلم کا ساتھ دینا ہے۔ اس لیے ان سے رقم لے کر معاملے کو ختم کرنے کے بجائے حکمت کے ساتھ آخر دم تک ظلم کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ذمہ داران تنظیم نے مذکورہ تجاویز پیش کر کے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ اگر ابتدائی دو تجاویز فریق مخالف کے نزدیک اس کے ظلم و جبر اور دھاندلی کی بنا پر درخور اعتنا نہیں ہیں تو آخری دو تجاویز میں سے کسی ایک پر باہم متفق ہو کر معاملہ حل کیا جا سکتا ہے۔ ذمہ داران مصالح تنظیم کو پیش نظر رکھ کر جس تجویز کو اس کے حق میں بہتر سمجھیں، اختیار کر لیں۔ صلح حدیبیہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس موقع پر کفار قریش کی طرف سے جو شرائط پیش کی گئی تھیں، وہ سراسر ظالمانہ اور ایک طرفہ تھیں۔ اسی بنا پر بہت سے جلیل القدر صحابہ ان پر کسی طرح رضا مند نہ ہوتے تھے۔ مگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قبول کرنے میں مصلحت سمجھی تو انھی پر معاہدہ کر لیا۔ ہجرت مدینہ کے موقع پر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی اور مشرکین کو چیلنج کیا کہ جو شخص بھی اپنی بیوی کو بیوہ اور بچوں کو یتیم بنانا چاہتا ہے، وہ مجھے روک کر دیکھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خفیہ طور پر چھپ چھپا کر ہجرت فرمائی۔ حضرت عمرؓ کا عمل بھی صحیح تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی غلط نہ تھا۔ بلکہ آپ کے اس اسوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر موقع پر عزیمت، جرأت اور جواں مردی کا مظاہرہ کرنا مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ بسا اوقات بہ ظاہر دب کر معاملات سلجھا لینا ہی حکمت و مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں چوتھی تجویز کے حق میں ہوں۔ میرا کہنا بس یہ ہے کہ تیسری اور چوتھی دونوں تجویزیں قابل اختیار ہیں۔ ذمہ داران تنظیم رفقا کے مشورے سے اور مصالح تنظیم کو پیش نظر رکھ کر کسی کو بھی قبول کر سکتے ہیں۔ البتہ میرے نزدیک تنظیم کی قانونی پوزیشن کمزور ہے۔ مشترکہ ایگریمنٹ پر ذمہ دار تنظیم نے بھی دستخط کیے ہیں۔ اگر فریق مخالف کی نیت میں فتور تھا اور اس نے غلط بیانی اور فریب دہی کے ساتھ اس ایگریمنٹ پر دستخط کروائے ہیں تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہ روز قیامت اس سے نمٹ لے گا۔ لیکن دنیا میں معاملات کا فیصلہ نیت پر نہیں، بلکہ ظاہر اعمال پر ہوتا ہے۔

ہر مسلمان کو یہ حقیقت ہر لمحہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ دنیوی زندگی چند روزہ ہے۔ یہاں وہ جو کچھ اچھا یا برا کام کرے گا، اس کا انعام یا انجام آخرت میں پائے گا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ‘‘جس شخص نے کسی کی ایک بالشت زمین پر ناحق قبضہ کیا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس طرح کی سات زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈال دے گا۔’’ (بخاری: ۳۱۹۸، مسلم: ۱۶۱۰)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

(بشکریہ ماہنامہ ‘‘زندگی نو’’ نئی دہلی، نومبر 2009ء)

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)