غلاف کعبہ

جواب :آپ نے غلاف کعبہ کے بارے میں پوچھا ہے کہ کیا اس کا ہر سال بدلنا ضروری ہے اور اس خطیر رقم کو دوسرے کاموں میں صرف نہیں کیا جا سکتا۔جہاں تک قرآن وحدیث کا تعلق ہے اس میں غلاف کعبہ کے بارے میں کوئی بات بیان نہیں ہوئی۔ اس کا تعلق ہمارے جذبہ عقیدت سے ہے۔ ہم ہر سال بھی غلاف تبدیل کر سکتے ہیں اور چاہیں تو وقفہ بھی کر سکتے ہیں۔ غلاف سادہ بھی بن سکتا ہے اور قیمتی بھی۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ غلاف کعبہ کی روایت بہت قدیم ہے اور بعض آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ قبل اسلام سے ہے۔ روایات اگر درست نہج پر ہوں تو ان کے قیام و استحکام ہی میں خیر ہے۔ امت کی سطح پر غلاف کعبہ کا اہتمام کوئی بڑا خرچ نہیں ہے۔ امت مسلمہ کے پاس بہت وسائل ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ انھیں منصفانہ طور پر امت کی فلاح و بہبود پر صرف کرنے والی لیڈرشپ نہیں ہے۔ چنانچہ افراد امت کے دگرگوں حالات دیکھ کر ہمیں خیال ہوتا ہے کہ فلاں کام نہ ہو یا اس طرح ہو تو شاید یہ مسئلہ حل ہو جائے۔ حالانکہ آپ بھی سمجھتے ہیں کہ غلاف کعبہ نہ بنے تب بھی غریب مسلمانوں کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اصل ضرورت امت کی مجموعی معاشی ترقی کے ایسے اقدامات کی ہے جس کے نتیجے میں ہر ہر فرد کے لیے اچھی روزی کمانے کے حالات پیدا ہوں۔   

(مولانا طالب محسن)