تجارت کے مسائل

جواب : وہ چیزیں جو صرف پوجا پاٹ اور مشرکانہ مراسم کی ادائی میں استعمال کی جاتی ہیں ان کی تجارت کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے، اس لیے کہ یہ ایک اعتبار سے شرکت و بت پرستی میں تعاون ہے۔ البتہ وہ چیزیں، جنھیں غیر مسلم پوجاپاٹ کے کاموں میں استعمال کرتے ہیں اور ان کے دیگر عام استعمالات بھی ہیں، انھیں دوکان میں رکھ کرفروخت کیا جاسکتا ہے۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

ج: سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ حلال اور مباح چیزوں کی تجارت کی جائے۔دوسری شرط یہ ہے کہ تجارت میں دھوکا نہ دے۔تیسر ی شرط یہ ہے کہ زیادہ منافع کی غرض سے ذخیرہ اندوزی نہ کرے۔چوتھی شرط یہ ہے کہ مال فروخت کرتے وقت سچی جھوٹی قسمیں نہ کھائے۔پانچویں شرط یہ ہے کہ سامان بہت مہنگا نہ بیچا جائے یعنی جائزمنافع لیا جائے ۔چھٹی شرط یہ ہے کہ اپنے مال کی زکوۃ نکالے۔ساتویں شرط یہ ہے کہ تجارت تاجر کو دینی فرائض نماز روزہ حج صلہ رحمی وغیر ہ سے غافل نہ کرنے پائے۔

(علامہ یوسف القرضاوی)