ولیمہ

جواب : حضرت عبدالرحمن بن عوف کا نکاح ہوا۔ اس کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا تو آپ نے انھیں مبارکباد دی اور فرمایا: اَولِم وَلَوبشاۃبخاری: ۸۴۰۲ ، مسلم: ۷۲۴۱ ‘‘ولیمہ کرو ، خواہ ایک بکری کے ذریعے’’

آپ نے خود بھی اس پر عمل کرکے دکھایا۔ چنانچہ روایات میں ہے کہ حضرت زینب بنت حجش سے نکاح کے موقع پر آپ نے بکری ذبح کروائی تھی اور لوگوں نے شکم سیر ہوکر گوشت روٹی کھائی تھی۔ بخاری: ۱۷۱۵، مسلم: ۸۲۴۱

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ولیمہ میں گوشت کھلانا ضروری ہے۔ دعوت میں کچھ بھی کھلایا جاسکتا ہے۔ غزوہ خیبر کے بعد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ سے نکاح کیا تو ولیمہ میں صحابہ کو ‘حیس’ کھلایا تھا بخاری: ۵۱۶۹، مسلم: ۱۳۶۵ ‘حیس’ اس کھانے کو کہتے تھے جسے کھجور ، پنیر اور گھی ملاکر تیار کیاجاتا تھا۔

 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضر ت صفیہ سے نکاح کے موقع پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ صحابہ کرام کو ولیمہ کے لیے بلاکر لاؤ۔ اس موقع پر گوشت روٹی کا اہتمام نہیں کیاگیا تھا۔ صحابہ آئے تو دسترخوان بچھا دیاگیا اور اس پر کھجور ، پنیر اور گھی رکھ دیاگیا ’’۔ بخاری: ۵۸۰۵ حضرت صفیہ بنت شیبہ بیان کرتی ہیں کہ بعض ازواج مطہرات سے آں حضرت کے نکاح کے موقع پر ولیمہ میں صرف دومْد ایک پیمانہ جَو کا استعمال کیاگیا تھا۔ بخاری: ۲۷۱۵

نکاح ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی اس موقع پر اپنی خوشی میں اپنے اعزہ اور احباب کو شریک کرے۔ اب یہ اس کے اوپر ہے کہ وہ ان کی ضیافت اور لذتِ کام ودہن کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق جو چاہے انتظام کرے۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

ج- ولیمے میں نمود و نمائش کرنا، قرض لے کر زیر بار ہونا اور اپنی وسعت سے زیادہ خرچ کرنا منع ہے، نیز اس موقع پر فقراء و مساکین کو بھی کھلایا جائے، حدیث میں ارشاد ہے کہ:

‘‘عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: شر الطعام طعام الولیمۃ یدعٰی لھاا اللاغنیاء ویترک الفقراء۔’’ (مشکوٰۃ ص:۸۷۲) بدترین کھانا ولیمے کا وہ کھانا ہے جس میں اغنیاء کی دعوت کی جائے اور فقرا کو چھوڑ دیاجائے (صحیح بخاری و مسلم)

آج کل جس انداز سے ولیمے کئے جاتے ہیں ان میں فخر و مباہات اور نام و نمود کا پہلو غالب ہے، سنت کی حیثیت بہت ہی مغلوب نظر آتی ہے، حدیث میں ہے کہ:

‘‘عن عکرمۃ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما: عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھٰی عن طعام المتبارئین یوکل۔ رواہ ابو داود۔’’ (مشکوٰۃ ص:۹۷۲)

 ‘‘آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فخر و مباہات والوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے۔’’

 اس لئے ایسے ولیمے کی دعوت کا قبول کرنا بھی مکروہ ہے جس میں نمود و نمایش اور فخر و مباہات ہو ۔علاوہ ازیں آج کل ولیمے کی دعوتوں میں مردوں اور عورتوں کا بے محابا اختلاط ہوتا ہے، یہ بھی جائز نہیں۔

(مولانا یوسف لدھیانویؒ)

ج- ولیمہ صحیح ہے، میاں بیوی کی یکجائی کے بعد ولیمہ کیا جاسکتا ہے، ہم بستری شرط نہیں۔

(مولانا یوسف لدھیانویؒ)

ج- ولیمہ سنتِ نبوی ہے، اور بقدر سنت ادائیگی اب بھی ہوسکتی ہے۔ البتہ ولیمے کے نام سے جو نام و نمود اور فضول خرچی ہوتی ہے وہ حرام ہے، حکومت نے اس کو بند کیا ہے تو کچھ بْرا نہیں کیا۔

(مولانا یوسف لدھیانویؒ)