عبادات اور دینی امور میں لاوڈ اسپیکر کااستعمال

جواب : لاوڈ اسپیکر کے استعمال میں احتیاط ملحوظ رکھنی چاہئے۔ اگر اس کا استعمال مسجد میں باجماعت نماز کے لیے ہورہا ہو تو اسے اسی وقت لگایا جائے جب مجمع اتنا بڑا ہو کہ بغیر اس کے تمام نمازیوں تک امام صاحب کی آواز نہ پہنچ سکتی ہو۔ لیکن اگر صرف چند نمازی ہوں تو لاوڈ اسپیکر کے استعمال کی کوئی ضرورت نہیں۔

مسجد یا کسی ہال میں کوئی دینی اجتماع ہورہا ہو تو لاوڈ اسپیکر کی آواز اتنی تیز رکھنی چاہئے کہ وہاں موجود لوگ اچھی طرح سن سکیں۔ وہاں ہونے والے خطبات ومواعظ کی آواز کو آبادی میں دور دور تک پہنچانے کے لئے لاوڈاسپیکر کا Volumeتیز رکھنا مناسب نہیں۔ اس لیے کہ آبادی میں ایسے لوگ بھی ہوسکتے ہیں، جن کے معمولات میں تیز آواز سے خلل ہو یا انہیں اذیت پہنچے۔ اسی طرح پبلک مقامات، شاہ راہوں اور چوراہوں پر مذہبی اجتماعات یا دیگر پروگرام منعقد کرتے وقت بھی خیال رکھنا چاہئے کہ راہ چلنے والوں یا آس پاس میں رہنے والوں کو کسی طرح کی زحمت نہ ہو اور وہ تکلیف یا پریشانی محسوس نہ کریں۔ اس سلسلے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد گرامی اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے: مَن کَانَ یْومِنْ بِاللّٰہِ وَالیَومِ الاٰخِرِ فَلَا یْوذِ جَارَہ۔(بخاری :۸۱۰۶، مسلم ۳۸۱)

‘‘جو شخص اللہ اور روز آخرت پرایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچائے۔’’

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے۔ راستے میں وہ کسی اونچے مقام پر چڑھتے یا کہیں نشیبی جگہ میں اْترتے تو زور زور سے نعرہ تکبیر بلند کرتے، اسی طرح جب وہ واپس ہوئے تو مدینہ سے قریب پہنچنے پر بھی بلند آواز سے نعرے لگانے لگے۔ اس موقع پر آپ نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: اَیّْھَا النَّاسْ، اربَعْوا عَلٰی اَنفْسِکْم، اِنَّکْم لَیسَ تَدعْونَ اَصَمَّ وَلَاغَائِبًا، اِنَّکْم تَدعْونَ سَمِیعًا قَرِیبًا وَھْوَ مَعَکْم۔ (بخاری، ۶۳۲۶، مسلم،۷۳۰۷)

‘‘لوگو، ٹھہرو، تم کسی بہرے یا غیرحاضر کو نہیں پکار رہے ہو، تم جس ذات کی کبریائی بیان کررہے ہو، وہ ہر بات سننے والا اور قریب ہے اور وہ ہر وقت تمہارے ساتھ ہے۔’’

اگر آبادی مخلوط ہو اور ساتھ ہی دیگر مذاہب کے ماننے والے رہتے ہوں تو اس معاملے میں مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں لاپروائی سے بسااوقات نہ صرف دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی اور نفرت پیدا ہوتی ہے، بلکہ کبھی معاملہ اشتعال انگیزی اور تنازعہ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)