استقرار حمل

جواب : تخلیقِ انسانی کا عمل کس طرح انجام پاتا ہے اس کی طرف قرآن کریم کی ایک آیت میں یوں اشارہ کیاگیا ہے: انَّا خَلَقنَا الاِنسَانَ مِن نّْطفَۃ اَمشَاج۔ (الدھر:۲)

‘‘ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا ہے’’۔

یہ مخلوط نطفہ مرد کے مادہ منویہ (Sperm) اور عورت کے بیضہ (Ovum) کے اتصال سے ترکیب پاتا ہے۔ دونوں کا اتصال رحم (Uterus) کے بالائی دونوں سروں پر پائے جانے والے ٹیوب جسے فلوپین ٹیوب کہتے ہیں میں ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں عمل بارآوری (Fertilization) انجام پاتا ہے۔ پھر یہ بارآور بیضہ رحم میں داخل ہوتا ہے، جہاں جنین کی شکل میں اس کی نشوونما ہوتی ہے-97 بسااوقات جنسی اعضاء میں سے کسی عضو میں کوئی نقص ہوتا ہے جس کی بنا پر مرد کے مادہ منویہ اور عورت کے بیضہ کا اتصال و امتزاج نہیں ہوپاتا، مثلاً مرد کے مادہ منویہ کو خصیوں سے عضو تناسل تک لانے والی رگیں مسدود ہوگئی ہوں، یا عورت کے خصیہ الرحم سے کسی سبب سے بیضہ کا اخراج نہ ہوپا رہا ہو، یا فلوپین ٹیوب پیدائشی طور پر موجود نہ ہوں یا کسی مرض کے سبب مسدود ہوگئے ہوں۔ اس صورت میں مرد کا مادہ منویہ اور عورت کا بیضہ حاصل کرکے دونوں کو ایک ٹیسٹ ٹیوب میں بارآور کیا جاتاہے، پھر ایک متعین مدت کے بعد اس مخلوط نطفہ کو عورت کے رحم میں منتقل کردیاجاتا ہے۔ اگر فطری طریقے سے استقرارِ حمل نہ ہوپا رہا ہو تو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی تکنیک اختیار کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ شوہر کے نطفے اور بیوی کے بیضے کے اختلاط و امتزاج سے بارآوری کا عمل انجام دیاجائے۔

جدید میڈیکل سائنس نے اس تکنیک کو بہت ترقی دی ہے۔ مثلاً اگر شوہر کا مادہ منویہ ناکارہ ہو تو کسی دوسرے کا مادہ منویہ حاصل کرلیا جاتا ہے، اس کے لئے ‘اسپرم بینک’ قائم ہوگئے ہیں۔ اگر بیوی کے خصیہ الرحم سے بیضہ خارج نہ ہورہا ہو تو دوسری عورت سے بیضہ حاصل کیاجاتا ہے۔ اگر بیوی کے رحم میں کسی خرابی کی بنا پر اس میں استقرار حمل اور جنین کی پرورش ممکن نہ ہوتو کسی دوسری عورت کا رحم اس کام کے لئے کرایہ پر لے لیاجاتاہے۔ اس چیز نے عالمی سطح پر ایک منافع بخش انڈسٹری کی شکل اختیار کرلی ہے۔اسلامی شریعت کی رو’ سے یہ تمام صورتیں ناجائزہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: لَا یَحِلّْ لامریٍ یْو مِنْ بِاللّٰہِ وَالیَومِ الآخِرِ اَن یَّسقِیَ مَاوْہْ زَرعَ غَیرِہ (ابوداود: ۸۵۱۲)

‘‘کسی شخص کے لئے، جو اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتا ہو، جائز نہیں کہ اپنے پانی (مادہ تولید) سے کسی دوسرے کے کھیت (یعنی غیر عورت) کو سیراب کرے’’۔

خلاصہ یہ کہ ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے عمل بار آوری کی صرف وہ صورت جائز ہے جس میں شوہر کے نطفے اور بیوی کے بیضے کو استعمال کیاگیا ہو۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)