قطب اور ابدال

ج : اللہ تعالی کے نظام تکوین میں کچھ ہستیاں شریک ہیں۔ یہ تصور بالعموم دو صورتوں میں سامنے آتا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالی نے کچھ ہستیوں کو خود سے کچھ کاموں میں شریک کر رکھا ہے یا وہ شریک ہی کی حیثیت سے ہمیشہ سے موجود ہیں۔ یہ شرک کی وہ صورت ہے جو تمام مشرکانہ مذاہب میں بیان کے فرق کے ساتھ موجود ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کچھ ہستیاں عبادت و ریاضت سے اپنے آپ کو مقبول بارگاہ بنا لیتی ہیں اور اس طرح اللہ تعالی ان کو کچھ امور کا ذمہ دار بنا دیتا ہے۔ قرآن مجید میں یہ دونوں طرح کے شرک زیر بحث آئے ہیں اور ان پر ایک ہی تنقید کی ہے کہ ان کے پاس کوئی سلطان (authority) نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات وحی کے سوا کسی طریقے سے معلوم نہیں ہو سکتی کہ اللہ نے کچھ شرکا بنا رکھے ہیں یا امور تکوینی تک رسائی کا کوئی قاعدہ بنا رکھا ہے۔ چونکہ خدا کی کسی کتاب میں نہ صرف یہ کہ اس طرح کی کسی بات کی طرف اشارہ بھی موجود نہیں ہے بلکہ صریح الفاظ میں ان کی تردید ہوئی ہے اس لیے ان کے باطل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔آپ نے جو صورت بیان کی ہے وہ بھی اس تصور پر مبنی ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے ان تک پیغام رسانی ہوتی ہے۔ یہ بات دو پہلوؤں سے ناقابل قبول ہے۔ ایک یہ کہ کچھ ریاضتوں سے انسان مخاطبہ الہی کا اہل ہو جاتا ہے۔ یہ بات اوپر والی بات ہی کی طرح بے بنیاد ہے۔ دوسرا یہ کہ ختم نبوت کا تصور اس کے نتیجے میں باطل ہو جاتا ہے اور نبوت کی حقیقت یہی ہے کہ کسی انسان کو مخاطبہ الہی کا مقام حاصل ہو جائے۔ قطب و ابدال جیسے تصورات درحقیقت اسی بنیاد پر باطل ہیں اور ان کے ماننے سے خدائی میں شرکت کا تصور پیدا ہوتا ہے اور ان تصورات کو ماننے والوں کے ہاں اس کے آثار واضح نظر آتے ہیں۔آپ نے ستاروں کے اثرات کے ماننے کے شرک ہونے پر بھی تعجب ظاہر کیا ہے۔ قرآن مجید نے جبت کو جرم قرار دیا ہے۔ جبت کا مطلب یہ ہے کہ اوقات اور اشیا کے ماورائی اثرات مانے جائیں۔ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے اور اس تصور کی بھی الہامی لٹریچر سے کوئی بنیاد نہیں ملتی۔ یہ بھی انسانوں ہی کے بنائے ہوئے تصورات ہیں اور انسان کو سعی وجہد کرنے والا اور خدا پر بھروسا کرنے والا بنانے کے بجائے توہم پرست بناتے ہیں۔ قرآن مجید نے جبت کو گناہ قرار دیا ہے اور ستاروں کے اثرات ماننا جبت ہی کے تحت آتا ہے۔

(مولانا طالب محسن)