بچوں کی تربیت

جواب :آپ کا جذبہ بہت اعلی ہے۔ اس ہدف کے درست ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان کا ایمان اس کی اپنی دریافت ہو۔یہ بات بھی صحیح ہے کہ کسی مسلمان کو اندھا مقلد اور اپنے افکار پر جامد نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سوچ اتنی اچھی ہے کہ اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔لیکن میرے خیال میں بچوں کے حوالے سے آپ کی بات میں کچھ تبدیلیاں ضروری ہیں۔ بچے ہمارے بتانے سے کم اور ہمارے عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ لہذا بنیادی اصول تو یہ ہے کہ جو آپ اپنے بچوں کو بنانا چاہتی ہیں وہ خود بنیں۔ اگر بچے آپ کو دیکھیں گے کہ آپ باتیں تو آزادی فکر کی کرتی ہیں لیکن خود اس پر عامل نہیں ہیں تو آپ کی باتیں تاثیر سے محروم رہیں گی۔ دوسرا انتہائی اہم پہلو یہ ہے کہ تمام بچے یکساں فکری صلاحیت نہیں رکھتے۔ لہذا بچوں کی تربیت اور اٹھان میں ان کی صلاحیت اور طبعی رجحانات ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ممکن ہے آپ کے سارے بچے آپ کی فکری نہج کو اپنا لیں۔ لیکن یہ صرف اسی صورت میں ہونا چاہیے جب آپ یہ دیکھیں کہ وہ اس کے لیے مناسب اہلیت رکھتے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے اور اسے بھی ایک اصول ہی کی حیثیت حاصل ہے کہ انسانی نفسیات خلا میں نہیں جیتی۔ انسانی طبیعت کچھ تصورات اور شخصیات کے ساتھ وابستگی ہی سے اپنے سفر کا آغاز کرتی ہے۔ اگر آپ اس کی رعایت نہیں کریں گی اور بچوں کو شروع ہی میں ان کی ہمت سے باہر کے دائرے میں رد وقبول کی راہ دکھائیں گی تو وہ فکری انتشار اور عملی انحطاط کا شکار ہو جائیں گے۔تعلیم کا اصول یہ ہے کہ بچوں کو نیچرل سائنسز ہوں یا انسان سے متعلق علوم باتیں اسی طرح سکھائی جاتی ہیں جیسے کہ وہ ہر شک وشبے سے پاک ہوں۔پھر ان کی معلومات کے دائرے کو بڑھاتے بڑھاتے اس پوزیشن میں لے آتے ہیں کہ وہ دلائل کی کمزروی اور قوت کو سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد اگر ان میں اہلیت ہو تو وہ خود دریافت کرنے یا ترجیح دینے کے عمل میں کارکردگی دکھانے لگ جاتے ہیں۔ ورنہ ان کا سفر معلوم کے معلوم ہونے تک محدود رہتا ہے۔مذہب میں بھی یہی صورت ہوگی۔ بچوں کو آپ اپنے دینی خیالات اسی طرح سکھائیں گی جیسے کہ وہ ایک حقیقت ہیں۔ پھر انھیں مختلف افکارو نظریات سے آگاہی کا موقع ملے گا۔ یہ وہ وقت ہے جب آپ کو انھیں یہ سکھانا بھی ہے اور اس کا نمونہ بھی بننا ہے کہ ہر بات دلیل کی بنیاد پر مانی اور رد کی جاتی ہے۔مذہب کے حوالے سے یہ حقیقت بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ مذہبی استدلال اور تجرباتی علوم کے استدلال میں فرق ہے۔ لہذا اس فرق کو اگر ملحوظ نہ رکھا جائے تو فکری نتائج بڑے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ نیچرل سائنسز کے غلبے کے اس زمانے میں بعض ذہین لوگ اسی فکری تضاد میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں اور انھیں اس سے نکالنے میں بہت مشکل پیش آتی ہے۔ذہن کا خاصا یہ ہے کہ اسے نئی بات میں کشش محسوس ہوتی ہے۔ مذہب اللہ تعالی کی سکھائی ہوئی باتوں کو ماننے کا نام ہے۔دین کی تعلیم کا کام کرنے والوں کو اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے۔

بچے اپنے والدین اور اساتذہ کو آئیڈیالائز کرتے ہیں۔ آپ بچوں کی تربیت کرتے ہوئے اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیے گا۔ بلکہ اسی کو استعمال کرتے ہوئے ان کی تربیت کا کام کیجیے گا۔ اللہ تعالی آپ کو اپنے مقصد میں کامیابی عطا فرمائیں(آمین)

(مولانا طالب محسن)