خیرات

ج: اس کے ناجائز ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔لیکن آدمی کو کوئی ایسا عضو دوسرے کو نہیں دینا چاہیے جس سے خود اُس کے اندر کوئی نقص پیدا ہو جائے۔ مثلاً اللہ نے آپ کو دو آنکھیں دی ہیں، آپ کہیں کہ ایک نکال لیجیے، یہ درست نہیں ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کرتے ہیں کہ آدمی کے اوپر کیا بوجھ ڈالے گئے ہیں۔ لیکن اگر کوئی ایسا عضو ہے جس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا، جیسا کہ عام طور پر اب ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ایک گردہ نکال لینے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتاتو آپ دے سکتے ہیں۔ دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد تو کوئی مسئلہ ہی باقی نہیں رہتا، اس لیے آدمی جو عضو بھی دینا چاہے اُس کے بارے میں وصیت کر سکتا ہے۔

(جاوید احمد غامدی)